اردو | العربیہ | English



اردو | العربیہ | English

روس کے زیرانتظام کریمیا کے کالج میں بم دھماکے سے 18 افراد ہلاک

لہو سے لکھیں گے پاکستان!


WhatsApp
593




’’پاکستان حالت جنگ میں ہے‘‘یہ جملہ پچھلے کئی سالوں سے ہماری سماعتوں سے ٹکراتا چلا آرہا ہے۔پاکستان کی یہ جنگ کس سے ہے؟دہشت گردی اور دہشت گردوں سے۔
اس جنگ میں موجود دونوں فریقین کہاں کھڑے ہیں؟ جیت کس کی مٹھی میں ہے؟کون جرات وشجاعت سے ڈٹا ہو اہے اور کون بزدلی کا مظاہرہ کر رہا ہے؟ان سوالات کے جوابات کے لیے آئیے ایک موازنہ کرتے ہیں۔
کسی بھی جنگ میں جیتنے والا آزاد نقل وحرکت کر تا ہے اورہارنے والا چھپتا پھرتا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ ارض پاک کے ہر شہر ،گلی ،گاؤں میں لوگ آزادانہ گھوم رہے ہیں ہمارے بازاروں میں آج بھی رونق ہے۔ہمارے تعلیمی ادارے اپنا کام کر رہے ہیں۔ہماری شاہراہوں پر گاڑیاں رواں دواں ہیں۔ہمارے تفریحی وسیاحتی مقامات پر لوگوں کے ہجوم اب بھی موجود ہیں۔دوسری طرف ہمارا دشمن اپنی چھپنے کی جگہ ڈھونڈ رہا ہے۔اس کی نقل وحرکت محدود اور خفیہ ہے۔وہ اپنی بقاءکے لیے سہارے ڈھونڈتا پھررہا ہے تو جیت کس کی ہوئی یہ واضح ہے۔

جیتنے والا جائے مقام پر اپنی جیت کے نشان چھوڑتا ہے اور اس جگہ پر قابض ہو جاتا ہے ۔ہمیں اپنے اس پاک وطن میں ایسی کوئی جگہ نہیں ملتی جسے بزدل دہشت گردوں نے بربادکیا ہو اور ہم اسے دوبارہ آباد کرنے میں ناکام رہے ہوں ۔ہم نے آرمی پبلک سکول ،باچا خان یونیورسٹی،پولیس ٹریننگ سنٹر کوئٹہ،آر اے بازار لاہور اور متعدد مقامات سے لاشیں اٹھائیں لیکن ہم نے ان تمام مقامات کو آباد رکھااور آج یہ سب مقامات ہمارے اپنوں سے بھرے ہوئے ہیں۔یہاں قہقہوں کی آوازیں بھی گونجتی ہیں مسکراہٹیں بھی بکھرتی ہیں۔بے خوف وخطر لوگ گھومتے بھی ہیں اور زندگی، امیداور خواب ایک ساتھ سفر بھی کرتے ہیں۔
دوسری جانب دشمن کا کوئی نام ونشان نہیں رہا۔ہاں کچھ تلخ یادیں ضرور وابستہ ہو چکی ہیں۔لیکن وہ تمام مقامات دشمن کے ناپاک وجود سے پاک ہیں۔تو جیت کس کی ہوئی واضح ہے۔

اب آتے ہیں جرات وشجاعت سے مقابلہ کر نے کے سوال کی طرف ۔اس سوال کے جواب کے لیے ہمیں سات سال پیچھے جانا پڑے گا۔ہمیں پاکستا ن کے کسی فوجی جوان یا سکیورٹی ادارے کے مجاہد کی جرات وشجاعت کی دلیل دینے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ہم تو محض چودہ سال کے حسن بن شکران کی دلیری اور عزم وہمت سے ثابت کر دیں گے کہ اس جنگ میں ہم بہت آگے ہیں۔اور ہمارا مقابلہ بہت ہی کمینے اور بزدل ٹولے سے ہے جو محض ہمارے چودہ سال کے بچے حوصلے کا سامنا نہ کر پائے تو پاکستان کوشکست دینے کی باتیں دیوانوں کی بڑھک کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔

یہ 4 دسمبر 2009کادن تھا۔حسن بن شکران اپنے بڑے بھائی سعد اور چھوٹے بھائی اسد کے ساتھ ہی تیار ہوا۔یہ تینوں بھائی کرنل شکران رفیق کے بیٹے تھے۔اورپریڈ لین میں ہی رہائش پذیر تھے۔تینوں تیار ہو کر پریڈ لین کی مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کے لیے چلے گئے ۔نماز کے دوران چار دہشت گردوں نے مسجد پر حملہ کر دیا۔انہوں نے پہلے گارڈز پر ہینڈ گرنیڈ پھینکے اور پھر مسجد میں داخل ہو کر نمازیوں پر حملہ کر دیااور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔اسی دوران دو حملہ آور مسجد میں داخل ہوئے اور خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔مسجد کے ابتدائی حصے میں موجود نمازی بڑی تعداد میں شہید ہو گئے ۔اس کے بعد دیگر دوحملہ آور آگے بڑھے اور مسجد میں بھگدڑ مچ گئی ۔مسجد کے اندر والے احاطے میں ایک ہی دیوار تھی اسے پھلانگ کر وہاں سے باہر کی جانب نکلا جاسکتا تھا ۔لو گ جوق در جوق اسی دیوار کو پھلانگنے لگے ۔وہ دیوار خاصی اونچی تھی۔حسن اور سعد تو اسے پھلانگ سکتے تھے لیکن اسد چھوٹا ہونے کی وجہ سے اسے پھلانگنے سے قاصرتھا۔وہاں حالات بھی کچھ ایسے تھے کہ اسد کو کسی کی مدد سے پار نہیں پہنچایا جاسکتا تھا ۔سعد نے حسن سے کہا حسن تم جاؤ جلدی کر ونکلو!میں اسد کے پاس رکوں گا ،حسن رکا اور بولا نہیں بھائی میں آپ لوگوں کو چھوڑ کر نہیں جاؤں گا۔سعد نے کہا حسن جاؤ جلدی کرو۔حسن آگے بڑھا پھر رکااور بولا بھائی!آپ اسد کو سنبھال لوگے نا؟اسد نے کہا ہاں تم جاؤ ۔۔۔حسن نے دیوار پھلانگی اور دوسری سمت چلا گیا۔

دہشت گرد اندر داخل ہوچکے تھے یہ مسجد کا ہال تھاجہاں سعد ،اسد اور دیگر کئی نمازی اب بھی موجود تھے۔سعد نے اسد کو کور کر لیا۔حملہ آور نمازیوں کی طرف ہینڈ گرنیڈ پھینکتے اور خود ایک طرف ہو جاتے ۔مسجد کے ہال کا منظر بہت خطرناک تھا۔دوسری طرف حسن کو جب مسجد کے ہال سے دھماکوں کی گونج سنائی دی تو اس کے بڑھتے ہوئے قدم رک گئے۔اسے اپنے بھائیوں کا خیال آیااور وہ واپس پلٹ آیا اس نے وہی دیوار پھلانگی اور اپنے بھائیوں کے پاس آگیا۔سعد نے حیرت سے اسے کہا حسن تم واپس کیوں آگئے ہو؟حسن نے کہا بھائی میں آپ لوگوں کو اکیلا چھوڑ کر نہیں جا سکتا۔اسی دوران حملہ آوروں کی جانب سے پھینکے جانے والے گرنیڈ نے سعد اور اسد کو بری طرح سے زخمی کردیا۔تھوڑی دیر ہر طرف دھواں چھاگیا۔لیکن جب دھواں ختم ہوا تو سعد نے قریب ہی حسن کو لیٹے پایا اس کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں۔ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی اور وہ اسی مقام کو حاصل کر چکا تھا کہ

جس کا خواب حضرت خالد بن ولیدؓ جیسی ہستی بھی دل میں لیے اس دنیا سے رخصت ہو گئی۔

تب تک ہماری بہادر فوج آپریشن کر کے ان دوحملہ آوروں کو جہنم واصل کر چکی تھی۔سعد اور اسد کو زخمی حالت میں ہسپتال لایاگیا۔
آپ غور کیجئے !آپ حسن کی ہمت کو داد دیجئے جس پر دہشت گردوں کی ہیبت غالب نہ آئی بلکہ اپنوں کی محبت اسے واپس وہاں پر لے آئی جہاں موت کو رقص کرتا دیکھ کر بڑے سے بڑے بہادر کے قدم بھی ڈگمگا جائیں۔حسن نے مسکراتے ہوئے جام شہاد ت نوش کیا اور ثابت کردیا کہ کوئی دشمن عزم وہمت میں ہمارے بچوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔یہ جنگ ہم جیت چکے ہیں اور اس کا ثبوت ہر حادثے کے بعد ہماری شجاعت اور استقامت سے لبریز داستانوں سے ملتا ہے۔

میں گزشتہ اتوار کرنل شکران رفیق کے روبرو بیٹھا تھا۔ حسن کی زندگی اور اس حادثے کے متعلق مجھے اور میرے ساتھیوں کو بتار ہے تھے ۔ان کے لبوں پر مسکراہٹ تھی۔اور ان کا کہنا تھا کہ میں خوش ہوں کہ جس مقا م کی تمنا میں نے ساری زندگی کی وہ مقام اللہ نے میرے بیٹے کو عطا کر دیا۔
کرنل صاحب سے ملاقات کے بعد واپس جاتے ہوئے میں سوچتا رہا کہ پاکستان کا وجود دائمی ہے ۔یہ ازل تک رہنے کے لیے بنا ہے ۔دنیا کی کوئی طاقت اسے ختم نہیں کر سکتی۔کیونکہ اسے شہیدوں کے لہو سے تعمیر کیا گیا اور اب یہی لہو اس کی حفاظت کے لئے پیش کیا جارہا ہے۔


WhatsApp




متعلقہ خبریں
فاطمہ بنت پاکستان کا مقدمہ ... مزید پڑھیں
یہ رہی تمہاری تلاش ... مزید پڑھیں
اقوام متحدہ کے اجلاس کی روداد ... مزید پڑھیں
القدس اپنے محافظ کی تلاش میں ... مزید پڑھیں
یوم یکجہتی کشمیر کا تاریخی تعاقب و اہمیت ... مزید پڑھیں
بنیادی حقوق کا’’سراب‘‘ ... مزید پڑھیں
ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے ... مزید پڑھیں
سانپ اور سیڑھی کا کھیل ... مزید پڑھیں
استادِ محترم کو میرا سلام کہنا ... مزید پڑھیں
استعمای عزائم اور دفاع وطن کے تقاضے ... مزید پڑھیں
بچوں کا اغوا،ا عضاء فروشی اور افواہوں کا بازار ... مزید پڑھیں
کشمیر ۔۔۔۔۔آزادی کی صبح جلد طلوع ہونے والی ہے ... مزید پڑھیں
پھر نئے طالبان ... مزید پڑھیں
"سیاسی اصطبل کے گدھے " ... مزید پڑھیں
حقوقِ نسواں کا غلط استعمال ... مزید پڑھیں
’’34 ملکوں کا مذاق‘‘ ... مزید پڑھیں
متعلقہ خبریں
حکمرانوں کے تابناک اور روشن کردار
فاطمہ بنت پاکستان کا مقدمہ
یہ رہی تمہاری تلاش
اقوام متحدہ کے اجلاس کی روداد
القدس اپنے محافظ کی تلاش میں
یوم یکجہتی کشمیر کا تاریخی تعاقب و اہمیت
بنیادی حقوق کا’’سراب‘‘
ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے
سانپ اور سیڑھی کا کھیل
استادِ محترم کو میرا سلام کہنا

مقبول خبریں
ویڈیو گیلری

آزادی کی تحریکوں کو دبایا تو جا سکتا ہے لیکن ختم نہیں کیا جا سکتا : پاکستانی ہائی کمشنرعبدالباسط

بھارتی اشتعال انگیزی کا ذمہ داری سے جواب دے رہے ہیں ،عاصم باجوہ

پاکستان اورسعودی عرب حقیقی بھائی ہیں،علما اکرام مسلم امت کے اتحاد میں کردار ادا کریں:امام کعبہ

بڈگام میں بھارتی فوج کی فائرنگ، مزید 8 کشمیری شہید، پاکستان کا شدید احتجاج

فرانس میں تیز رفتار گاڑی فوجیوں پر چڑھ دوڑی، 6 زخمی

سپورٹس
یوتھ اولمپکس؛ پاکستانی ریسلر عنایت اللہ نے امریکی حریف کو شکست دے دی
بیونس آئرس(ویب ڈیسک) پاکستانی ریسلر عنایت اللہ نے یوتھ اولمپکس مزید پڑھیں ...
ویب ٹی وی
ٹورازم
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔ posted by Abdur مزید پڑھیں ...
انٹرٹینمینٹ
علی ظفر معصوم بننے کی کوشش کررہا ہے، میشا شفیع
لاہور(ویب ڈیسک) گلوکارہ میشا شفیع نے علی ظفر پر جنسی مزید پڑھیں ...
مذہب
درود پر تنازع‘ جہلم ،مسجد کے منتظم پر توہینِ مذہب کا مقدمہ
جہلم ( ویب ڈیسک) پاکستان کے صوبۂ پنجاب کے ضلع جہلم کی مزید پڑھیں ...
بزنس
زرمبادلہ کے ذخائر 15 ارب ڈالر کی سطح سے نیچے آگئے
کراچی(ویب ڈیسک) رواں ہفتے زر مبادلہ کے ذخائر میں 10 کروڑ مزید پڑھیں ...