اردو | العربیہ | English



اردو | العربیہ | English

ایران اور عراق میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد400 سے تجاوز کرگئی

گدھے اور ہاتھی کی جنگ میں انتہا پسندی کی فتح


WhatsApp
240




امریکہ میں بھی ہندوستان اور برطانیہ کی طرح قوم پرستی کو فتح حاصل ہوئی۔میڈیا کے سب بین الاقوامی جا ئیزے دہرے کے دہرے رہ گئے۔ نومبر8 امریکی تاریخ و اّ ئین میں بڑی اہمیت کا حامل دن تھا۔جب پوری قوم نے اگلی چار سالہ مدت کے لئے نئے صدر کا اعزاز ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹریمپ کو دیا۔ اس جیت کا جشن جس قدر امریکہ میں منایا جا رہا اس سے بڑہ کر ان ممالک میں منایا جا رہا ہے جہاں قوم پرستی اور انتہا پرستی کا چلن ہے۔ ٹرمپٹ کے واضع اعلانات کی روشنی میں اس بات کے خدشات کی موجودگی پائی جاتی رہی ہے کہ اگر یہ جیت گئے تو ملک میں فرقہ پرستی کو ہوا ملے گی۔ ہیلری کلنٹن ووٹ زائد لیتی ہے جبکہ صدارت ٹرمپتٹ کو ملتی ہےاسے خوش نصیبی کہا جاتا ہے۔امریکی حریف ویٹو پاور روس کی پالیمان میں بھی خوشی منائی گئی اور بڑوی طاقتوں میں ابتدائی مبارکباد دینے والوں میں ولادی میر پوٹن شامل ہیں۔ ۔ہندوستان کی انتہا پسند جماعت شیوسینا بھی اس جشن میں پیش پیش ہے۔عالمی سطح پر فروغ پاتے انتہا پسندی اور قوم پرستی کی ہوا دیکھ کر اس بات کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا تھا کہ اس بار فتح ٹرمپٹ ہی کی ہو گی۔ جیت کا جشن بھی منایا جا رہا ہے تو اس انتخاب کے خلاف احتجاج بھی شروع ہو چکا ہے۔عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ مس گاگا اپنے دیگر ساتھیوں سمیت پہلے ہی روز سڑک پر مظاہرہ کرتی دکھائی دے رہی تھی اور ایک بڑی تعداد اس چناو کےخلاف مظاہروں میں شریک تھی ۔اس انتخاب کو دنیا بھر میں سیاسی تبدیلیوں کا پیش خیمہ قرار دیا جا رہا ہے۔ منتخب صدر نے کہا ہے کہ وہ قوم کو مایوس نہیں کریں گے اور مقابلہ بازی کی بجائے برابری کی سطح پرمل کر کام کریں گے۔

لیپ کے ہر برس نومبر کی پہلی سوموار چھوڑ کر جو منگل آ تا ہےاس روز ہمیشہ الیکشن ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگلی مدت کی تاریخ ہمیشہ سے طے شدہ ہوتی ہے۔ اس امر سے امریکی قوم کی قدامت پرستی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ متعدد امیدوار میدان میں اترتے ہین لیکن آخر پر دو امیدوار ہی میدان میں باقی رہ جاتے ہیں جن کے درمیان اصل مقابلہ ہوتا ہے۔ایک عرصہ سے دو بڑی جماعتیں ڈیمو کریٹ اور ری پبلکن پارٹیاں ہی مقابلے میں دکھائی دیتی ہیں۔ قارئین کی دلچسپی کے لئے یہ بتانا ضروری ہے کہ ڈیموکریٹ کا انتخابی نشان ہاتھی جبکہ ری پبلکن کا نشان گدھاہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یورپ اور امریکہ سمیت مغرب بھر میں گدھے کو بڑی قدرو منزلت اور احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔مزید یہ کہ،، اُ لؑو ،، دانشمندی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
دوسری بڑی جمہوریت ہونے کی دعویدار ریاست ہندوستان میں بھی بندر کو ’’ھنومان‘‘ کہا جاتا ہےاور گائے کو’’ گاو ماتا‘‘ قرار دے کر پوجا کی جاتی ہے۔لیکن ایک سوال آج تک ناقابلِ جواب ہے کہ بیل ـجو کہ گائے کا مذکّر ہے کبھی بھی ’’باپوجی‘‘نہیں کہا گیا۔ آزادی ہند رہنماء کرم موہن داس کرم چند کوالبتہ باپو جی کہا جاتا ہے۔

ہاتھی سب کا ساتھی ـ یہ ڈیمو کریٹ کا انتخابی نشان ہے۔ دیو ہیکل،بھاری بھرکم،بلند قامتی،انسان دوستی،لمبی سونڈ اور قیمتی ہاتھی دانتوں کی وجہ سے بڑی اہمیت کا حامل جانور ہے جسے امریکہ میں بھی اعلیٰ مقام حاصل ہے۔ اس کی ضرب الا مثل مشور ہے
کہ’’ ہاتھی زندہ لاکھ کا اور مرا ہوا سوا لاکھ کا ‘‘۔ انسان کا واسطہ اس سے صدیوں پرانا ہے۔یہ پرامن جانور جنگوں میں بطورِ ہتھیار کام آتا رہا اور کامیابی کی ضمانت خیال کیا جاتا تھا۔جبکہ کئی جنگوں میں اس نے اپنی ہی فوج کو کچل ڈالا ۔راجہ پورس کے ہاتھی تاریخِ انسانی میں بڑی شہرت کے حامل تھے لیکن راجہ داہر کے ہاتھیوں نے محمد بن قاسم کے مقابلے مین اپنی ہی افواج کو کچل ڈالا۔دنیا کی سب سے معتبر،لافانی۔ناقابلِ تبدّل و تغیّر،اور جامع کتاب قراانِ مجید میں بھی اس کا قصّہ ملتا ہےجب ایک ناہنجار نے ابراہیم علیہ سلام کا بنایا ہوا زمین پر اللہ کے پہلے گھر بیت اللہ کو ڈھانے کا قصد کیا تھا۔اس کا انجام دنیا نے دیکھ لیا۔دوسری جانب گدھا بھی عزیر علیہ سلام اور موسیٰ علیہ سلام کی سواری رہی ہے اور آج بھی امریکی قوم نے ان دو جانوروں کو اعلیٰ ترین منصب کیلئے بطورِ علامت چن رکھا ہے۔ دونوں جماعتوں کے ناموں خیال پر غور کیا جائے تو یوں دکھائی دیتا ہے کہ عوام کی جماعتیں،لیکن ایک قدامت پرست جبکہ دوسری قدرے لبرل۔لیکن یہ دو الگ الگ مکتبہ ہائے فکر کے نام ہیں۔عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ امریکی خارجہ پالیسی حکومتوں کی تبدیلی سے زیادہ متاثر نہیں ہوتی۔عالمی حالات کی تبدیلیوں میں زیدہ تر حصہ امریکی پالیسیوں کا ہی رہا ہے کیونکہ ایک بڑی اور سپر طاقت ہونے کی وجہ سے اس کی خارجہ پالیسیان ہی عالمی تبدیلیوں کی وجہ بنتی ہیں۔

امریکہ،برطانیہ اور انڈیا کی خارجی پالیسیوں میں حیرت انگیز حد تک مماثلت پائی جاتی ہے۔تینوں انسانی حقوق کے چمپین،اّزادی رائے،جمہوری اقدار کے محافط اور عالمی امن کے داعی ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔اسرائیل کی ہر سورت حمائیت،دہشت گردی کی جنگ،عالمی وسائل پر اجارہ داری،عالمی فورموں پر ایکدوسرے کی حمائیت یا ممکنہ حد تک طرفداری،یو این او (UNO) سمیت ہر فورم پر اپنا وزن ایکدوسرے کی جھولی میں ڈالنا یوں دکھائی دیتا ہے کہ یہ سب ایک پیج پر ہیں۔ہندوستان ستّر برس سے کشمیری قوم کا حقِ خود ارادیت دبائے بیٹھا ہے اور امریکہ اور برطانیہ اسرائیل کی پشت پر کھڑے ہیں۔اس موقع پر جب دنیا میں نئے اتحاد جنم لے رہے ہیں ،سرد جنگ ٹھنڈی ہو رہی تھی تبدیلیوں کی نئی ہوا چلی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کی تازہ بیان بازی نئی تبدیلیوں کی خبر دے رہی ہے۔مشرقِ وسطیٰ،افریقہ ،عراق اور شام میں جاری آگ اور خون کی دیوالی کا رنگ جمانے والی قوتیں اب اتحاد کا عندیہ دینے لگی ہیں جو دنیا کی کمزور قوتوں کیلئے خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں۔ جو دانشور انتہا پسندی کو مذہبہ سے جوڑتے رہے ہیں انکو اپنے نظریات پر از سرِنو غور کرنا ہو گا۔ نئی تبدیلیوں کی پشت پر عالمی ساہوکاروں اور قوم پرست انتہا پسندوں کا ہاتھ ہے جو ہندوستان میں امبالی اور ٹاٹا گروپ، بی جے پی،شیو سینا اور دیگر انتہا پسند گروہ،برطانیہ میں تجارتی گروپس اور قدامت پرست گورے جبکہ امریکہ میں وال سٹریٹ کے کردار کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

اس بناء پر کہا جا سکتا ہے کہ دو بڑے امریکی حلیف برطانہ اور ہندوستان بھی تیزی سے قوم پرستی اور انتہا پسندی کی لپٹ میں اّئے ہیں بھارتیہ جنتہ پارٹی اور برطانوی کنزرویٹو دونوں قدامت پرستی کی قائل اور پرچارک ہیں۔،بی جےپی ، برٹش کنزرویٹو اور ری پبلکن کی فتح صحیح معنوں میں ایک نیا ٹرئیکا ‘‘ کا قیام ہےجسکی گرہیں بہت جلد کھل جائیں گی۔تینون ممالک دھشت گردی کی نام نہاد عالمی جنگ میں زبردست اتحادی ہیں اور یہ امریکی اقتدار کی تبدیلی نئے دور کا اّغاز ہو گا۔
( جاری )




WhatsApp




متعلقہ خبریں
نیب کا جن بوتل سے باہر ... مزید پڑھیں
اقبال کا پا کستان ( لوہے کا چنا ) ... مزید پڑھیں
پاکستان میں چینیوں کی سیکورٹی، اولیں ذمے داری ... مزید پڑھیں
سی پیک کے بارے میں بدگمانیوں کا نیا سلسلہ ... مزید پڑھیں
پاکستان بمقابلہ حکومت پاکستان ... مزید پڑھیں
سازش ... مزید پڑھیں
برکس مشترکہ اعلامیہ میں لشکر طیبہ اور جیش محمد کی ... مزید پڑھیں
در پولیس کو سلام اور سیف سٹی پراجیکٹ کا نوحہ ... مزید پڑھیں
73 روپے کی زندگی ... مزید پڑھیں
پاکستان نے نریندر مودی کے اسرائیلی دورے پر تشویش کا ... مزید پڑھیں
احساس خوشی ... مزید پڑھیں
مسلم ملٹری الائنس کی مخالفت کیوں ... مزید پڑھیں
بھارت کا شیطانیت کو شرماتا حیا سوز چہرہ ... مزید پڑھیں
’’ب‘‘ ضر ر ’ ’پ ‘‘ پاکستانی ... مزید پڑھیں
عراقی کردستان :ایک آزاد ریاست کی کوشش ... مزید پڑھیں
جیش العدل اور آخری راؤنڈ ... مزید پڑھیں
متعلقہ خبریں
نیب کا جن بوتل سے باہر
اقبال کا پا کستان ( لوہے کا چنا )
پاکستان میں چینیوں کی سیکورٹی، اولیں ذمے داری
سی پیک کے بارے میں بدگمانیوں کا نیا سلسلہ
پاکستان بمقابلہ حکومت پاکستان
سازش
برکس مشترکہ اعلامیہ میں لشکر طیبہ اور جیش محمد کی مذمت
در پولیس کو سلام اور سیف سٹی پراجیکٹ کا نوحہ
73 روپے کی زندگی
پاکستان نے نریندر مودی کے اسرائیلی دورے پر تشویش کا اظہار کیا ہے: رپورٹ

مقبول خبریں
ویڈیو گیلری

آزادی کی تحریکوں کو دبایا تو جا سکتا ہے لیکن ختم نہیں کیا جا سکتا : پاکستانی ہائی کمشنرعبدالباسط

بھارتی اشتعال انگیزی کا ذمہ داری سے جواب دے رہے ہیں ،عاصم باجوہ

پاکستان اورسعودی عرب حقیقی بھائی ہیں،علما اکرام مسلم امت کے اتحاد میں کردار ادا کریں:امام کعبہ

بڈگام میں بھارتی فوج کی فائرنگ، مزید 8 کشمیری شہید، پاکستان کا شدید احتجاج

فرانس میں تیز رفتار گاڑی فوجیوں پر چڑھ دوڑی، 6 زخمی

سپورٹس
ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان نے سری لنکا کو شکست دیکر سیریز اپنے نام کرلی
لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان نے تیسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں مزید پڑھیں ...
ویب ٹی وی
ٹورازم
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔ posted by Abdur مزید پڑھیں ...
انٹرٹینمینٹ
بھارتی فلم انڈسٹری ہندو انتہا پسندوں کی زد میں
ممبئی ( ویب ڈیسک) بھارت میں سنجے لیلا بھنسالی کی متنازعہ فلم مزید پڑھیں ...
مذہب
مذہب سے منسلک امریکی آمدنی، 15ممالک کی مجموعی آمدنی سے بھی زیادہ
(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا میں مذہب سے منسلک آمدنی گوگل مزید پڑھیں ...
بزنس
پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 19 ارب 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر رہ گئے
کراچی(اے پی پی) پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 19 ارب مزید پڑھیں ...