اردو | العربیہ | English



اردو | العربیہ | English

روس کے زیرانتظام کریمیا کے کالج میں بم دھماکے سے 18 افراد ہلاک

گدھے اور ہاتھی کی جنگ میں انتہا پسندی کی فتح


WhatsApp
396




امریکہ میں بھی ہندوستان اور برطانیہ کی طرح قوم پرستی کو فتح حاصل ہوئی۔میڈیا کے سب بین الاقوامی جا ئیزے دہرے کے دہرے رہ گئے۔ نومبر8 امریکی تاریخ و اّ ئین میں بڑی اہمیت کا حامل دن تھا۔جب پوری قوم نے اگلی چار سالہ مدت کے لئے نئے صدر کا اعزاز ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹریمپ کو دیا۔ اس جیت کا جشن جس قدر امریکہ میں منایا جا رہا اس سے بڑہ کر ان ممالک میں منایا جا رہا ہے جہاں قوم پرستی اور انتہا پرستی کا چلن ہے۔ ٹرمپٹ کے واضع اعلانات کی روشنی میں اس بات کے خدشات کی موجودگی پائی جاتی رہی ہے کہ اگر یہ جیت گئے تو ملک میں فرقہ پرستی کو ہوا ملے گی۔ ہیلری کلنٹن ووٹ زائد لیتی ہے جبکہ صدارت ٹرمپتٹ کو ملتی ہےاسے خوش نصیبی کہا جاتا ہے۔امریکی حریف ویٹو پاور روس کی پالیمان میں بھی خوشی منائی گئی اور بڑوی طاقتوں میں ابتدائی مبارکباد دینے والوں میں ولادی میر پوٹن شامل ہیں۔ ۔ہندوستان کی انتہا پسند جماعت شیوسینا بھی اس جشن میں پیش پیش ہے۔عالمی سطح پر فروغ پاتے انتہا پسندی اور قوم پرستی کی ہوا دیکھ کر اس بات کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا تھا کہ اس بار فتح ٹرمپٹ ہی کی ہو گی۔ جیت کا جشن بھی منایا جا رہا ہے تو اس انتخاب کے خلاف احتجاج بھی شروع ہو چکا ہے۔عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ مس گاگا اپنے دیگر ساتھیوں سمیت پہلے ہی روز سڑک پر مظاہرہ کرتی دکھائی دے رہی تھی اور ایک بڑی تعداد اس چناو کےخلاف مظاہروں میں شریک تھی ۔اس انتخاب کو دنیا بھر میں سیاسی تبدیلیوں کا پیش خیمہ قرار دیا جا رہا ہے۔ منتخب صدر نے کہا ہے کہ وہ قوم کو مایوس نہیں کریں گے اور مقابلہ بازی کی بجائے برابری کی سطح پرمل کر کام کریں گے۔

لیپ کے ہر برس نومبر کی پہلی سوموار چھوڑ کر جو منگل آ تا ہےاس روز ہمیشہ الیکشن ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگلی مدت کی تاریخ ہمیشہ سے طے شدہ ہوتی ہے۔ اس امر سے امریکی قوم کی قدامت پرستی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ متعدد امیدوار میدان میں اترتے ہین لیکن آخر پر دو امیدوار ہی میدان میں باقی رہ جاتے ہیں جن کے درمیان اصل مقابلہ ہوتا ہے۔ایک عرصہ سے دو بڑی جماعتیں ڈیمو کریٹ اور ری پبلکن پارٹیاں ہی مقابلے میں دکھائی دیتی ہیں۔ قارئین کی دلچسپی کے لئے یہ بتانا ضروری ہے کہ ڈیموکریٹ کا انتخابی نشان ہاتھی جبکہ ری پبلکن کا نشان گدھاہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یورپ اور امریکہ سمیت مغرب بھر میں گدھے کو بڑی قدرو منزلت اور احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔مزید یہ کہ،، اُ لؑو ،، دانشمندی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
دوسری بڑی جمہوریت ہونے کی دعویدار ریاست ہندوستان میں بھی بندر کو ’’ھنومان‘‘ کہا جاتا ہےاور گائے کو’’ گاو ماتا‘‘ قرار دے کر پوجا کی جاتی ہے۔لیکن ایک سوال آج تک ناقابلِ جواب ہے کہ بیل ـجو کہ گائے کا مذکّر ہے کبھی بھی ’’باپوجی‘‘نہیں کہا گیا۔ آزادی ہند رہنماء کرم موہن داس کرم چند کوالبتہ باپو جی کہا جاتا ہے۔

ہاتھی سب کا ساتھی ـ یہ ڈیمو کریٹ کا انتخابی نشان ہے۔ دیو ہیکل،بھاری بھرکم،بلند قامتی،انسان دوستی،لمبی سونڈ اور قیمتی ہاتھی دانتوں کی وجہ سے بڑی اہمیت کا حامل جانور ہے جسے امریکہ میں بھی اعلیٰ مقام حاصل ہے۔ اس کی ضرب الا مثل مشور ہے
کہ’’ ہاتھی زندہ لاکھ کا اور مرا ہوا سوا لاکھ کا ‘‘۔ انسان کا واسطہ اس سے صدیوں پرانا ہے۔یہ پرامن جانور جنگوں میں بطورِ ہتھیار کام آتا رہا اور کامیابی کی ضمانت خیال کیا جاتا تھا۔جبکہ کئی جنگوں میں اس نے اپنی ہی فوج کو کچل ڈالا ۔راجہ پورس کے ہاتھی تاریخِ انسانی میں بڑی شہرت کے حامل تھے لیکن راجہ داہر کے ہاتھیوں نے محمد بن قاسم کے مقابلے مین اپنی ہی افواج کو کچل ڈالا۔دنیا کی سب سے معتبر،لافانی۔ناقابلِ تبدّل و تغیّر،اور جامع کتاب قراانِ مجید میں بھی اس کا قصّہ ملتا ہےجب ایک ناہنجار نے ابراہیم علیہ سلام کا بنایا ہوا زمین پر اللہ کے پہلے گھر بیت اللہ کو ڈھانے کا قصد کیا تھا۔اس کا انجام دنیا نے دیکھ لیا۔دوسری جانب گدھا بھی عزیر علیہ سلام اور موسیٰ علیہ سلام کی سواری رہی ہے اور آج بھی امریکی قوم نے ان دو جانوروں کو اعلیٰ ترین منصب کیلئے بطورِ علامت چن رکھا ہے۔ دونوں جماعتوں کے ناموں خیال پر غور کیا جائے تو یوں دکھائی دیتا ہے کہ عوام کی جماعتیں،لیکن ایک قدامت پرست جبکہ دوسری قدرے لبرل۔لیکن یہ دو الگ الگ مکتبہ ہائے فکر کے نام ہیں۔عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ امریکی خارجہ پالیسی حکومتوں کی تبدیلی سے زیادہ متاثر نہیں ہوتی۔عالمی حالات کی تبدیلیوں میں زیدہ تر حصہ امریکی پالیسیوں کا ہی رہا ہے کیونکہ ایک بڑی اور سپر طاقت ہونے کی وجہ سے اس کی خارجہ پالیسیان ہی عالمی تبدیلیوں کی وجہ بنتی ہیں۔

امریکہ،برطانیہ اور انڈیا کی خارجی پالیسیوں میں حیرت انگیز حد تک مماثلت پائی جاتی ہے۔تینوں انسانی حقوق کے چمپین،اّزادی رائے،جمہوری اقدار کے محافط اور عالمی امن کے داعی ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔اسرائیل کی ہر سورت حمائیت،دہشت گردی کی جنگ،عالمی وسائل پر اجارہ داری،عالمی فورموں پر ایکدوسرے کی حمائیت یا ممکنہ حد تک طرفداری،یو این او (UNO) سمیت ہر فورم پر اپنا وزن ایکدوسرے کی جھولی میں ڈالنا یوں دکھائی دیتا ہے کہ یہ سب ایک پیج پر ہیں۔ہندوستان ستّر برس سے کشمیری قوم کا حقِ خود ارادیت دبائے بیٹھا ہے اور امریکہ اور برطانیہ اسرائیل کی پشت پر کھڑے ہیں۔اس موقع پر جب دنیا میں نئے اتحاد جنم لے رہے ہیں ،سرد جنگ ٹھنڈی ہو رہی تھی تبدیلیوں کی نئی ہوا چلی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کی تازہ بیان بازی نئی تبدیلیوں کی خبر دے رہی ہے۔مشرقِ وسطیٰ،افریقہ ،عراق اور شام میں جاری آگ اور خون کی دیوالی کا رنگ جمانے والی قوتیں اب اتحاد کا عندیہ دینے لگی ہیں جو دنیا کی کمزور قوتوں کیلئے خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں۔ جو دانشور انتہا پسندی کو مذہبہ سے جوڑتے رہے ہیں انکو اپنے نظریات پر از سرِنو غور کرنا ہو گا۔ نئی تبدیلیوں کی پشت پر عالمی ساہوکاروں اور قوم پرست انتہا پسندوں کا ہاتھ ہے جو ہندوستان میں امبالی اور ٹاٹا گروپ، بی جے پی،شیو سینا اور دیگر انتہا پسند گروہ،برطانیہ میں تجارتی گروپس اور قدامت پرست گورے جبکہ امریکہ میں وال سٹریٹ کے کردار کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

اس بناء پر کہا جا سکتا ہے کہ دو بڑے امریکی حلیف برطانہ اور ہندوستان بھی تیزی سے قوم پرستی اور انتہا پسندی کی لپٹ میں اّئے ہیں بھارتیہ جنتہ پارٹی اور برطانوی کنزرویٹو دونوں قدامت پرستی کی قائل اور پرچارک ہیں۔،بی جےپی ، برٹش کنزرویٹو اور ری پبلکن کی فتح صحیح معنوں میں ایک نیا ٹرئیکا ‘‘ کا قیام ہےجسکی گرہیں بہت جلد کھل جائیں گی۔تینون ممالک دھشت گردی کی نام نہاد عالمی جنگ میں زبردست اتحادی ہیں اور یہ امریکی اقتدار کی تبدیلی نئے دور کا اّغاز ہو گا۔
( جاری )




WhatsApp




متعلقہ خبریں
فاطمہ بنت پاکستان کا مقدمہ ... مزید پڑھیں
یہ رہی تمہاری تلاش ... مزید پڑھیں
اقوام متحدہ کے اجلاس کی روداد ... مزید پڑھیں
القدس اپنے محافظ کی تلاش میں ... مزید پڑھیں
یوم یکجہتی کشمیر کا تاریخی تعاقب و اہمیت ... مزید پڑھیں
بنیادی حقوق کا’’سراب‘‘ ... مزید پڑھیں
ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے ... مزید پڑھیں
سانپ اور سیڑھی کا کھیل ... مزید پڑھیں
استادِ محترم کو میرا سلام کہنا ... مزید پڑھیں
استعمای عزائم اور دفاع وطن کے تقاضے ... مزید پڑھیں
بچوں کا اغوا،ا عضاء فروشی اور افواہوں کا بازار ... مزید پڑھیں
کشمیر ۔۔۔۔۔آزادی کی صبح جلد طلوع ہونے والی ہے ... مزید پڑھیں
پھر نئے طالبان ... مزید پڑھیں
"سیاسی اصطبل کے گدھے " ... مزید پڑھیں
حقوقِ نسواں کا غلط استعمال ... مزید پڑھیں
’’34 ملکوں کا مذاق‘‘ ... مزید پڑھیں
متعلقہ خبریں
حکمرانوں کے تابناک اور روشن کردار
فاطمہ بنت پاکستان کا مقدمہ
یہ رہی تمہاری تلاش
اقوام متحدہ کے اجلاس کی روداد
القدس اپنے محافظ کی تلاش میں
یوم یکجہتی کشمیر کا تاریخی تعاقب و اہمیت
بنیادی حقوق کا’’سراب‘‘
ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے
سانپ اور سیڑھی کا کھیل
استادِ محترم کو میرا سلام کہنا

مقبول خبریں
ویڈیو گیلری

آزادی کی تحریکوں کو دبایا تو جا سکتا ہے لیکن ختم نہیں کیا جا سکتا : پاکستانی ہائی کمشنرعبدالباسط

بھارتی اشتعال انگیزی کا ذمہ داری سے جواب دے رہے ہیں ،عاصم باجوہ

پاکستان اورسعودی عرب حقیقی بھائی ہیں،علما اکرام مسلم امت کے اتحاد میں کردار ادا کریں:امام کعبہ

بڈگام میں بھارتی فوج کی فائرنگ، مزید 8 کشمیری شہید، پاکستان کا شدید احتجاج

فرانس میں تیز رفتار گاڑی فوجیوں پر چڑھ دوڑی، 6 زخمی

سپورٹس
یوتھ اولمپکس؛ پاکستانی ریسلر عنایت اللہ نے امریکی حریف کو شکست دے دی
بیونس آئرس(ویب ڈیسک) پاکستانی ریسلر عنایت اللہ نے یوتھ اولمپکس مزید پڑھیں ...
ویب ٹی وی
ٹورازم
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔ posted by Abdur مزید پڑھیں ...
انٹرٹینمینٹ
علی ظفر معصوم بننے کی کوشش کررہا ہے، میشا شفیع
لاہور(ویب ڈیسک) گلوکارہ میشا شفیع نے علی ظفر پر جنسی مزید پڑھیں ...
مذہب
درود پر تنازع‘ جہلم ،مسجد کے منتظم پر توہینِ مذہب کا مقدمہ
جہلم ( ویب ڈیسک) پاکستان کے صوبۂ پنجاب کے ضلع جہلم کی مزید پڑھیں ...
بزنس
زرمبادلہ کے ذخائر 15 ارب ڈالر کی سطح سے نیچے آگئے
کراچی(ویب ڈیسک) رواں ہفتے زر مبادلہ کے ذخائر میں 10 کروڑ مزید پڑھیں ...