اردو | العربیہ | English



اردو | العربیہ | English

اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 43 فلسطینی شہید، 2200 سے زائد زخمی

اپنے محسنوں کے نام


WhatsApp
503




بابا جی اشفاق احمد لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ اٹلی میں ان کا چالان ہوگیا اور وہ چند مصروفیات کی بنا پر وقت پر چالان ادا نہ کر سکے چنانچہ ان کو عدالت کی طرف سے نوٹس ملا اور مقررہ دن پر وہ عدالت میں پیش ہو گئے جج نے چالان جمع نہ کروانے کی وجہ پوچھی تو میں نے جواب دیا ’’سر میں ایک استاد ہوں اور چند مصروفیات کی وجہ سے وقت پر چالان ادا نہ کر سکا‘‘ وہ لکھتے ہیں یہ سنتے ہی جج فورا بولا ’’آ ٹیچر ان دا کورٹ‘‘، "A teacher in the court" اور جج سمیت تمام افراد کھڑے ہو گئے۔ چالان جمع کروانے کی نئی تاریخ دی گئی اور عدالت طلبی پر اسی وقت جج نے معذرت کی۔

میں کبھی غیر اسلامی ملک اور مغرب میں ہونے والا یہ واقعہ پڑھتا ہوں اور کبھی پندرہ دن پہلے چھپنے والا رؤوف کلاسرا صاحب کا وہ کالم جس میں انہوں نے لکھا کہ کیسے ان کے بچوں کی ٹیچر کو اپنے ایک شاگرد سے صرف اس وجہ سے معافی مانگنی پڑی کہ موصوف ایک اعلیٰ حکومتی شخصیت کے راج دلارے تھے اور میڈم نے غلطی سے ایک تھپڑ لگا دیا تھا۔
یہ واقعہ اس ملک کے دارالحکومت کے ایک مہنگے اسکول میں پیش آیا جس میں بسنے والے 90%سے زائد مسلمانوں کو یہ سبق پڑھایا گیاہے کہ جس نے کسی کو ایک لفظ بھی سکھایا تو وہ اپنے استاد کا غلام ہے۔ مگر لگتا ہے کہ اب اس معاشرے میں جیسے بڑے بزرگ اپنی قدر کھو چکے۔ خاندانی نظام کا شیرازہ بکھر چکا ویسے ہی اب ایک عرصہ ہوا قوم کے مستقبل کے معماروں کی عزت بھی ختم ہو گئی۔ وہ دور گیا جب استاد کا ڈر باپ سے بڑھ کر تھا اور استاد باپ سے زیادہ شفیق تھا۔

میں یہ واقعات پڑھ کر مسلسل سوچتا ہوں کہ وہ کونسی وجوہات ہیں جن کی بنا پر ٹاٹ اسکول سے اپنی پڑھائی کا آغاز کرنے والا ایک خالص دیہاتی بچہ کیسے اس قابل بنا کہ اس نے زندگی کے کٹھن ترین مراحل آسانی سے طے کرتے ہوئے ملک کے معتبر ترین تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کی اور آج بھی ملک کی ایک بڑی یونی ورسٹی کے بیک وقت دو شعبہ جات میں تعلیم حاصل کر رہا ہے۔
میرا دل و دماغ صرف ایک نقطہ پر متفق ہے وہ یہ کہ استاد ہی ہیں جنہوں نے راستے میں آنے والے ہر ہر پتھر کو میری راہ میں حائل ہونے کی بجائے میری بنیاد میں چن دیا اور اسی بنیاد پر میں ایک ایک قدم بڑھاتا ہوا آج ملک کے ایک معتبر ترین تعلیمی ادارے کا حصہ ہوں۔

میں جب اس سارے سفر کے بارے میں سوچتا ہوں جو میں نے گاؤں کے گورنمنٹ اسکول سے شروع کیا اور جو کیڈٹ کالج تربیلا، گورنمنٹ کالج لاہور سے ہوتے ہوئے پنجاب یونیورسٹی میں ابھی تک جاری ہے تو میرے ذہن میں وہ تمام تصاویر ایک فلم کی مانند چلتی تھیں اور یہ تصاویر ان لوگوں کی ہیں جو میرے استاد تھے، میرے راہنما تھے جنہوں نے تعلیم ہی نہیں دی بلکہ تربیت بھی کی جنہوں نے سختی تو کی مگر بے انتہا شفیق بھی تھے اور یہ وہ لوگ تھے جن کی خوشی ہماری خوشیوں سے وابستہ تھی اور وہ شاگردوں کے ساتھ کلاس سے باہر ہمیشہ باپ، بھائی اور دوست کے روپ میں ہوتے تھے۔

میں ذہن میں اب پہلی دفعہ پڑھانے والے ماسٹر لیاقت صاحب کی تصویر گھومتی ہے جنہوں نے ہمارے گاؤں کی تین نسلوں کو پڑھایا بلکہ آج بھی پڑھا رہے ہیں۔ میں گاؤں کے مولوی صاحب محمد بشیر کے متعلق سوچتا ہوں جنہوں نے نورانی قاعدہ پڑھانا سکھایا۔ میرے ذہن میں گاؤں کے انگلش اسکول کی مس بشریٰ کی تصویر ہے جنہوں نے پہلی دفعہ ABCپڑھائی اور سکھائی۔
میں راشد منہاس کے راشد نعیم صاحب کے بارے میں سوچتا ہوں جو صبح 6بجے سے رات 11بجے تک ہمارے ساتھ صرف اس لیے جاگتے کہ ہم نکمّے دیہاتی کیڈٹس بن جائیں اور ہماری زندگیا ں بدل جائیں۔ میں کیڈٹ کالج کے ظفر اقبال صاحب کے بارے میں سوچتا ہوں جو پروفیسر ہونے کے ساتھ ہاؤس ماسٹر بھی تھے اور جنہوں نے پہلی دفعہ قیادت کے معاملے میں مجھ پر اعتماد کیا تھا اور ہاؤس کی بھاگ دوڑ مجھے سونپ دی تھی۔ میں مطیع صاحب کے بارے میں سوچتا ہوں جنہوں نے شعر و شاعری میں دلچسپی پیدا کی اور جو گھنٹوں میں صرف اس وجہ سے وقت دیتے کہ گھروں سے دور کیڈٹ کالج کی سخت روٹین میں ہم بوریت کا شکار نہ ہوں۔
میں پنجاب کالج کے سر ریاض کا تا حیات ممنون ہوں جو پوری کلاس سے میرے معاملے میں امتیاز برت جاتے تھے وہ بھی صرف اس وجہ سے کہ میری حوصلہ افزائی ہو سکے میں زاہد چیمہ صاحب کے بارے میں سوچتا ہوں جنہوں نے کیمسٹری میں فیل ہونے کے باوجود والد صاحب کے سامنے میرا یہ کہہ کر دفاع کیا کہ بچہ آرٹس میں بہت اچھا ہے ضرور کچھ بنے گا آپ صبر کریں۔
اب میں یونیورسٹی میں ہوں یہاں بھی مجھے لاء کالج میں سمیع عزیز صاحب ملے جن کی انکساری دیکھ کر لگتا ہی نہیں کہ آپ کسی سینئر ٹیچر سے مل رہے ہیں اور جنہیں آپ جہاں بھی روک لیں وہ آپ کیلئے حاضر ہیں۔ شعبہ ماس کمیونیکیشن میں عاطف مرزا صاحب ملے جو روز یہ یقین دلاتے ہیں کہ آپ کچھ کر سکتے ہیں، کچھ بن سکتے ہیں اور وقار ملک صاحب جیسے شفیق استاد کہ جن کی حوصلہ افزائی نے یہ ہمت پیدا کی کہ اب قلم و کتاب کی طرف متوجہ ہیں۔

میں گاؤں سے نکلا، کیڈٹ کالج سے ہوتا ہوا یونیورسٹی پہنچ گیا، میری سوچ بدلی، میرا ماحول بدلا، میری زندگی بدل گئی لیکن میرا سب کچھ بدلنے والے میرے استاد آج بھی اپنی جگہوں پر نئے شاگردوں کی زندگی بدلنے میں مصروف ہیں۔ میں نے ڈنڈے بھی کھائے اور جھڑکیں بھی لیکن جو بھی ہوا میری زندگی میرے استادوں نے بدلی ان استادوں نے جو آج بھی سائیکل پر اسکول آتے ہیں۔ جو آج بھی روز کیڈٹ کالج میں کسی کے ساتھ مغز کھپا رہے ہوتے ہیں۔ جو آج بھی کسی کو والد کے غضب سے بچا رہے ہیں اور جو آج بھی کسی کو یقین دلا رہے ہیں کہ زندگی میں بہت کچھ ہے صرف محنت کرو آگے بڑھو۔

میرا اپنے آن لائن چینل کے لیے زندگی کا پہلا کالم میرے ان تمام نامور اور گمنام اساتذہ کرام کے نام جنہوں نے مجھے تراشا اور اس قابل کیا جنہوں نے قدم بہ قدم میری راہنمائی کی اور جنہوں نے آگے بڑھ کر مجھے نئی راہیں دکھائیں۔ ان تمام شخصیات کا شکریہ تو میں شاید کبھی بھی ادا نہ کر سکوں لیکن یہ چھوٹی سی کاوش ان کے نام جن سے میرا رابطہ کبھی کبھار ہوتا لیکن وہ میری کامیابی کی کتاب کا سرورق ہیں اور جو ہمیشہ دل اور دعاؤں میں زندہ رہیں گے۔
آپ سب کا بہت شکریہ


WhatsApp




متعلقہ خبریں
"سیاسی اصطبل کے گدھے " ... مزید پڑھیں
حقوقِ نسواں کا غلط استعمال ... مزید پڑھیں
’’34 ملکوں کا مذاق‘‘ ... مزید پڑھیں
اسلام میں عورت کا مقام ... مزید پڑھیں
غم کی طویل رات ... مزید پڑھیں
گنگو تیلی ... مزید پڑھیں
نیب کا جن بوتل سے باہر ... مزید پڑھیں
اقبال کا پا کستان ( لوہے کا چنا ) ... مزید پڑھیں
پاکستان میں چینیوں کی سیکورٹی، اولیں ذمے داری ... مزید پڑھیں
سی پیک کے بارے میں بدگمانیوں کا نیا سلسلہ ... مزید پڑھیں
پاکستان بمقابلہ حکومت پاکستان ... مزید پڑھیں
سازش ... مزید پڑھیں
برکس مشترکہ اعلامیہ میں لشکر طیبہ اور جیش محمد کی ... مزید پڑھیں
در پولیس کو سلام اور سیف سٹی پراجیکٹ کا نوحہ ... مزید پڑھیں
73 روپے کی زندگی ... مزید پڑھیں
پاکستان نے نریندر مودی کے اسرائیلی دورے پر تشویش کا ... مزید پڑھیں
متعلقہ خبریں
پھر نئے طالبان
"سیاسی اصطبل کے گدھے "
حقوقِ نسواں کا غلط استعمال
’’34 ملکوں کا مذاق‘‘
اسلام میں عورت کا مقام
غم کی طویل رات
گنگو تیلی
نیب کا جن بوتل سے باہر
اقبال کا پا کستان ( لوہے کا چنا )
پاکستان میں چینیوں کی سیکورٹی، اولیں ذمے داری

مقبول خبریں
ویڈیو گیلری

آزادی کی تحریکوں کو دبایا تو جا سکتا ہے لیکن ختم نہیں کیا جا سکتا : پاکستانی ہائی کمشنرعبدالباسط

بھارتی اشتعال انگیزی کا ذمہ داری سے جواب دے رہے ہیں ،عاصم باجوہ

پاکستان اورسعودی عرب حقیقی بھائی ہیں،علما اکرام مسلم امت کے اتحاد میں کردار ادا کریں:امام کعبہ

بڈگام میں بھارتی فوج کی فائرنگ، مزید 8 کشمیری شہید، پاکستان کا شدید احتجاج

فرانس میں تیز رفتار گاڑی فوجیوں پر چڑھ دوڑی، 6 زخمی

سپورٹس
پہلی سپر کبڈی لیگ گوادر بہا درز نے میدان مار لیا گجرات واریئر کوشکست
لاہور (ویب ڈیسک) پہلی سپر کبڈی لیگ :گوادر بہا درز نے گجرات مزید پڑھیں ...
ویب ٹی وی
ٹورازم
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔ posted by Abdur مزید پڑھیں ...
انٹرٹینمینٹ
"مجھے بھی ہراساں کیا گیا" مومنہ مستحسن می ٹو مہم میں شامل
لاہور (نیوز ڈیسک) گلوکارہ مومنہ مستحسن بھی می ٹو مہم کا مزید پڑھیں ...
مذہب
درود پر تنازع‘ جہلم ،مسجد کے منتظم پر توہینِ مذہب کا مقدمہ
جہلم ( ویب ڈیسک) پاکستان کے صوبۂ پنجاب کے ضلع جہلم کی مزید پڑھیں ...
بزنس
پیٹرول کی قیمت کم ہونے کا امکان
اسلام آباد(ویب ڈیسک) اوگرا نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید پڑھیں ...