اردو | العربیہ | English



اردو | العربیہ | English

سعودی اور اماراتی وزرائے خارجہ کس مشن پر پاکستان آئے؟

فلپائن: ایک پادری جسے دولت اسلامیہ کے لیے بم بنانے پر مجبور کیا گیا


WhatsApp
18






کیتھولک پادری فادر چیٹو کو تشدد کے خوف میں مبتلا رکھ کر بم بنانے پر مجبور کیا گیا
سنہ 2017 میں دولت اسلامیہ نے جنوبی فلپائن کے شہر ماراوی میں پانچ ماہ کے لیے قبضہ کر لیا تھا۔ دولت اسلامیہ کی قید میں ایک کیتھولک پادری فادر چیٹو بھی تھے جنھیں تشدد کے خوف میں مبتلا رکھ کر بم بنانے پر مجبور کیا گیا۔

یہ ان کے لیے ایک بہت دکھ بھرا تجربہ تھا لیکن پھر بھی ان کو یہ امید تھی کہ مسلم اور عیسائی مل کر باہمی امن سے رہ سکتے ہیں۔

رات کو باٹو مسجد کے تہہ خانے میں 20 لوگ کھانے کے لیے میز پر جمع ہوئے۔ کھانے کی میز کی ایک طرف 15 عسکریت پسند موجود تھے جبکہ دوسری طرف فادر چیٹو سمیت چند عیسائی مغوی براجمان تھے۔

اچانک گن فائر کی آواز نے انھیں الرٹ کر دیا تھا۔

فادر چیٹو فوراً اے کے 47 رائفل پر جھپٹے اور اسے ایک عسکریت پسند کی طرف اچھال دیا۔ عسکریت پسند شخص نے اس رائفل کو کیچ کیا اور اس کے بعد مسجد کے داخلی دروازے پر مستعد ہو کر کھڑا ہو گیا۔

کچھ دیر بعد گن فائر کی آواز کچھ فاصلے پر سنائی دی جانے لگی تو وہ دوبارہ آرام سے کھانے کی میز پر بیٹھ گئے۔

یہ ایک معمول بن چکا تھا۔ فادر چیٹو طویل عرصے کے لیے مغوی تھے۔ وہ یہ تو نہیں کہہ سکتے تھے کہ وہ اپنے اغوا کاروں کو پسند کرتے ہیں لیکن پھر بھی انھوں نے ایک انسانی قربت کا تعلق جوڑ لیا تھا۔

یہ ایک محدود حلقہ ہے جو ایک ساتھ کھانے کھاتا ہے اور ایک ساتھ ہی کام کرتا ہے۔ اور جب انھیں یہ معلوم ہوا کہ ایک عسکریت پسند فلپائن کی آرمی سے لڑتے ہوئے مارا گیا تو فادر چیٹو نے بھی افسوس کا اظہار کیا۔

دولت اسلامیہ سے تعلق رکھنے والے ایک گروپ نے فادر چیٹو کو 23 مئی 2017 کو اغوا کیا تھا۔ یہ وہ دن تھا جب دولت اسلامیہ والوں نے ماراوی شہر پر قبضہ کر لیا تھا۔

اس سے قبل ماراوی ایک بہت خوبصورت شہر تھا جہاں بڑی تعداد میں مکان اور مساجد موجود تھیں۔ ایک کیتھولک عیسائی اکثریتی ملک کے جنوبی مِنڈاناو جزیرے کا یہ مسلم آبادی والا شہر ہے۔

دین اسلام جنوبی فلپائن میں پہلی بار 13ویں صدی میں مشرق وسطی، ملائے اور انڈونیشیا سے آیا۔ جنھوں نے اسلام قبول کرلیا وہ ’مورو‘ کہلاتے تھے۔

سولہویں صدی میں جب سپین نے فلپائن پر قبضہ کرتے ہوئے اسے اپنی کالونی بنایا تو اس وقت بھی سپین کی فوجیں جنوبی فلپائن میں موجود ان مورو لوگوں کو زیر کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی تھیں۔

اس وقت سے بہت سے جنوبی فلپائن والے اپنے آپ کو پسماندہ طبقہ سمجھتے ہیں۔ یہ علاقہ ملک کا سب سے غریب ترین حصہ ہے اور یہاں کیتھولک منیلا سے آزادی حاصل کرنے کی آوازیں اٹھنا شروع ہو چکی تھیں۔

جب پہلی بار 23 برس قبل فادر چیٹو کو ماراوی شہر میں مسلمانوں اور عیسائیوں میں بین المذاہب ہم آہنگی کے پیغام کو عام کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا تو شہر کے لوگوں کی بڑی تعداد نے انھیں اور ان کے ساتھیوں کو خوش آمدید کہا۔

سال 2016 کے ابتدا میں مشرق وسطی سے ماؤت قبیلے سے تعلق رکھنے والے دو بھائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد واپس آبائی علاقے بوتِگ واپس لوٹے۔ یہ قصبہ ماراوی کے جنوب میں واقع ہے۔

ان دونوں نے اسلام کے عسکریت پسندی کے پہلو پر تبلیغ شروع کر دی اور 200 لوگوں پر مشتمل ایک گروپ بنا لیا جنھوں نے علاقے میں موجود حکومتی املاک پر حملے کرنا شروع کردیے۔

سال 2017 میں اس گروپ نے ماراوی شہر کے بہت قریب حملے کرنا شروع کردیے۔

انڈونیشیا اور ملائشیا سے آنے والے مئی میں پہلے سے ہی جہادی گروہوں کا حصہ بن چکے تھے۔ اس کے بعد شہر میں دولت اسلامیہ سے تعلق رکھنے والے ایک اور گروپ ابو سیاف یعنی تلوار والے شہر میں نمودار ہو گئے۔

ماراوی شہر پر قبضے کا منصوبہ بن چکا تھا۔
دوپہر کے وقت فادر چیٹو گولیوں کی گن گرج میں نیند سے بیدار ہوئے۔ اس کے بعد انھوں نے دیکھا کہ ان کے موبائل فون، ٹیبلٹ اور کیمپیوٹر پر ان کے عیسائی اور مسلمان دوستوں کے پیغامات کی بھرمار تھی اور وہ یہ سب یہی مشورہ دے رہے تھے کہ جتنا جلدی ممکن ہو سکتا ہے ماراوی شہر سے باہر نکل جائیں۔

شہر سے نکلنے کے بجائے فادر چیٹو نے عبادت شروع کردی۔ فادر چیٹو کا کہنا ہے کہ’میں نے اپنے آپ کو کہا کہ جب سب کچھ خدا کے ہاتھ میں ہے تو پھر مجھے کسی صورت یہاں سے نکلنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘

شام ساڑھے پانچ بجے شہر میں سناٹا طاری ہو گیا۔

ماراوی کی گلیاں ویران ہو گئیں، کھڑکیاں اور لائٹیں بند جبکہ ہر طرف اندھیرا چھا گیا۔ عسکریت پسندوں نے ہسپتال کی چھت پر دولت اسلامیہ کا سیاہ پرچم لہرا دیا جبکہ اس کے برابر میں واقع پولیس سٹیشن کو جلا دیا۔

اس کے بعد عسکریت پسند، کیتھڈرل چرچ کے دروازے پر پہنچ گئے۔

جیسے ہی فادر چیٹو گیٹ تک پہنچے تو دو افراد نے ان پربندوقیں تان لیں۔ انھوں نے دیکھا کہ دو افراد کے پیچھے بھی سو سے زائد مسلح افراد کھڑے تھے۔

فادر چیٹو کو ان کے پانچ دوستوں سمیت گاڑی کے پچھلے حصے میں دھکیل دیا گیا جہاں انھوں نے پوری رات ایسے ہی گزاری۔ شدت پسندوں نے مغویوں کے سامنے اپنے نظریے کی تبلیغ کی۔

’شام کے اوقات میں وہ ہمارے سامنے اپنے نظریے کی ترویج کرتے تھے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ وہ ماراوی شہر کو پاک کرنے کے ارادے سے آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کہنے کو تو یہ ایک مسلم شہر ہے لیکن یہاں منشیات، بدعنوانی، شراب اور موسیقی کا راج ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم یہاں خلافت قائم کرنے کے لیے آئے ہیں۔‘

وہ مسجد جہاں فادر چیٹو کو مغوی رکھا گیا
شہر میں ہزاروں شہری پھنس کر رہ گئے جو دولت اسلامیہ کے اتحادیوں کی حکمرانی کو تسلیم کرنے پر کسی صورت آمادہ نہیں تھے۔

شہر پر قبضے کے پہلے دن ہر طرف افراتفری پھیلی ہوئی تھی۔ لوگ اپنے گھروں میں پھنسے ہوئے تھے، وہ بھاگ نکلنے کے لیے بے تاب تھے لیکن ان پر فائرنگ کا نشانہ بننے کا خوف بھی طاری تھا۔

ٹانگ پیکاسم ٹاؤن ہال میں ملازمت پیشہ تھے، ان کا کام سیلاب اور قدرتی آفات سے متعلق پلان تیار کرنا تھا۔ جب یہ جنگ شروع ہوئی تو ان کا فون بجنا شروع ہو گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ جب ان کو ریسکیو آپریشن سے متعلق پہلی کال موصول ہوئی تو میں نے باہر نکلنے سے قبل کئی بارسوچا کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ اگر میں باہر چلا گیا تو پھر واپس آنے کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے۔

تاہم صورتحال کے پیش نظر زندگی کو لاحق تمام خطرات کے باوجود باہر نکلنے کے علاوہ کوئی اور آپشن موجود نہیں تھا۔

ٹانگ نے ماراوی شہر سے اپنے مسلم دوستوں کی ایک رضاکارانہ ٹیم تیار کی اور اس کے بعد وہ مل کر موت کا خوف نکال کر جنگ والے علاقے میں چلے گئے۔ جیسے جیسے وہ جلتی دیواروں اور ملبے کے ڈھیر کے ساتھ ساتھ آگے بڑھ رہے تھے ان کی گاڑی پر فائرنگ ہوتی جا رہی تھی۔

ٹانگ نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنا غیر جانبدارانہ طور پر تعارف کرائیں گے۔ ان کو یاد ہے کہ سفید رنگ کے تعمیرات کے کام میں استعمال ہونے والے ہیلمٹ سے ان کا دفتر بھرا ہوا تھا۔ پھر انھوں نے زخمیوں کی مرہم پٹی کے لیے میز کے سفید کپڑے کو کاٹ کر پٹیاں بنانی شروع کردیں۔

مقامی میڈیا نے رضاکاروں کی اس ٹیم کو خود کش سکواڈ کہنا شروع کردیا۔
ٹانگ پیکاسم کا کام سیلاب اور قدرتی آفات سے متعلق پلان تیار کرنا تھا
لیکن فادر چیٹو اور دیگر سو مغوی اس خودکش سکواڈ کی پہنچ سے بہت دور تھے۔ ان کو باٹو مسجد کے تہہ خانے میں رکھا گیا تھا جو جہادیوں کا کمانڈ سینٹر بھی تھا۔

ان کو بتایا گیا کہ اگر انھوں نے تعاون نہ کیا تو ان کو انضباطی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

فادر چیٹو جانتے تھے کہ اس کا مطلب تشدد ہے اور انھیں یہ خوف تھا کہ اس کے بعد وہ اپنا ذہنی توازن بھی کھو بیٹھیں گے۔ لہذا انھوں نے جہادیوں کے لیے کام کرنا شروع کردیا، وہ ان کے لیے کھانا بناتے، صفائی کرتے اور حتی کہ انھوں نے دل پر پتھر رکھ کر ان کے لیے بم بھی بنانے بھی شروع کردیے۔

جہادیوں نے شہری گوریلا وار کے طریقوں سے دیواروں میں ایسے خول بنا دیے تھے کہ وہ گرفتاری سے بچ سکیں۔ لیکن امریکہ اور آسٹریلیا کی مدد سے فلپائن کی فوج نے بلا تعطل شدید فضائی بمباری شروع کردی تھی۔

فادر چیٹو فضائی حملوں کے اس طریقہ کار سے بـخوبی واقف ہوچکے تھے۔ دو جہاز آتے تھے جن میں سے ہر ایک چار بم اس طرح فائر کرتا تھا کہ پہلے کے بعد دوسرا بم گرایا جاتا تھا۔

فادر چیٹو نے قید کے چار ماہ میں سو سے زائد فضائی حملوں کو دیکھا جن میں سے کچھ کی خواہش کرتے تھے کہ وہ ان پر گریں اور کچھ سے بچنے کی فکر میں رہتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے دعا کی اور خدا سے کہا کہ اگلا بم مجھے نشانہ بنا لے۔ لیکن بعد میں انھوں نے اپنا ذہن بدل لیا۔ ’نہیں خدایا مجھے نشانہ نہ بنانا، میں (بم کا) نشانہ نہیں بننا چاہتا۔‘

کچھ لمحات ایسے بھی آتے تھے کہ مجھے یہ نہیں معلوم ہوتا تھا کہ میں کیسے دعا کروں۔ میں نے خدا سے یہ شکایت کی کہ اگر میں گناہ گار ہوں اور تو مجھے سزا دے رہا ہے تو یہ بہت ہوگیا ہے۔۔ یہ (عذاب میرے گناہوں سے) مطابقت نہیں رکھتا۔

ستمبر 16 کو فلپائن کی فوج مسجد کے اتنے قریب پہنچ گئی تھی کہ فادر چیٹو ان کی آپس کی باتوں کو سن سکتے تھے۔ جب رات کو اندھیرا گہرا ہوگیا تو انھوں نے اپنے ایک ساتھی کے ساتھ منصوبہ بنایا کہ یہ قید سے بھاگنے کا ایک اچھا موقع ہے اور اس کے بعد وہ آہستہ سے مسجد کے عقب کی جانب سے بھاگنے میں کامیاب ہو گئے۔

دو گلیوں کے بعد ان کو کچھ ایسے مسلح افراد ملے جو ان کو محفوظ مقام پر لے گئے۔

ایک ماہ بعد فلپائن کے سیکرٹری دفاع نے شہر کے محاصرے کے خاتمے کا اعلان کردیا۔

ماؤت برادرز عمراور عبداللہ سمیت جہادی گروپ کے ایک لیڈر ابو سیف مارے گئے اور ان کے دیگر جنگجوؤں کا بھی خاتمہ کر دیا گیا۔

شہر کے پانچ ماہ کے محاصرے میں 1000 سے زائد افراد مارے گئے۔

دو سال بعد بھی شہر کھنڈرات کا منظر پیش کررہا ہے۔

تعمیرات نو کا عمل بہت سست روی کا شکار ہے جبکہ ابھی بھی ایک لاکھ سے زائد لوگ بے گھر ہیں جو کیمپوں میں یا رشتہ داروں کے گھروں میں رہ رہے ہیں۔

شہر کے وسط سے دور ایک سکوائر ہے جسے گراؤنڈ زیرو یا انتہائی متاثرہ علاقہ کہلاتا ہے۔ یہاں رقہ، ادلیب اور موصل جیسی تباہی ہوئی۔

ہر عمارت کو نقصان پہنچا ہے، بہت ساری عمارتیں تقریباً ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں۔ ہم فادر چیٹو کے ساتھ اس علاقے میں سفر کرتے ہوئے کیتھڈرل چرچ تک پہنچے جہاں سے انھیں اغوا کیا گیا تھا۔

جیسے ہی ہم نے دروازہ کھولا تو وہ خوشی سے اس کھڑکی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے چلائے کہ یہ ہمارا چرچ ہے۔ لیکن جسے ہی ہم اندر داخل ہوئے تو موڈ تبدیل ہوتا گیا۔

کتھیڈرل کو کھنڈارت میں بدل دیا گیا تھا۔ دیوار پر گولیوں سے سراغ بنے ہوئے تھے، فرش پر لگی اینٹیں پاؤں کے نیچے ٹوٹ رہی تھیں۔ اس کی چھت اڑی ہوئی تھی صرف لوہے کا ڈھانچہ باقی رہ گیا تھا جو ہوا کے ساتھ خوفناک طریقے سے ہل رہا تھا۔

جیسے میں چرچ میں پڑی اس خاص میز کی طرف بڑھا تو وہاں میری توجہ حضرت عیسی کے مجسمے پر پڑی۔ اس کے پیٹ میں گولیوں سے سراغ بن چکے تھے۔ اس کے ہاتھ کٹ چکے تھے جبکہ ان کا پنکھوں سے بنا تاج ان کے سر پر لٹک رہا تھا۔

فادر چیٹو نے ہمیں کچھ لمحات کے لیے چھوڑ کر عبادت شروع کردی۔ وہ حضرت مریم کے ٹوٹے ہوئے مجسمے کے سامنے ہاتھ باندھ کر خاموشی سے کھڑے ہو گئے اور اس سے پلاسٹر ہٹا کر رونا شروع ہو گئے۔

ٹانگ کا شمار بھی ایسے لوگوں میں ہوتا ہے جنھوں نے اس لڑائی میں اپنا گھر گنوا دیا اور اب انھیں ایک عارضی عمارت دی گئی ہے۔ لیکن اس میں رہنے کے بجائے وہ رشتہ داروں کے پاس رہ رہے ہیں اور اپنے گھر کو اپنے نئے فلاحی تنظیمی نیٹ ورک کے دفتر کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔

اس تنظیم کا مقصد شدت پسندی پر مبنی اسلامی تعلیمات کے فروغ کو روکنا ہے۔ اس کے دفتر کے ایک کونے میں ایک شخص اس تنظیم کے اسی علاقے کے 40 رضا کاروں کے نام پکار کر حاضری لگا رہا ہے۔ وہ محاصرے جیسی صورتحال سے نمٹنے کی غرض سے متعلقہ حکام کو کسی کے ذہن میں پیدا ہونے ولے شدت پسندی کے خیالات کو پہلے مرحلے پر ہی رپورٹ کردیتے ہیں تاکہ ان کی اصلاح یا بحالی کا مرحلہ وقت پر ہی یقینی بنایا جاسکے۔

ماراوی ایک قبائلی معاشرہ ہے اور یہاں خاندانی دشمنیاں ایک عام سی بات ہے۔ ٹانگ کے مطابق محاصرے سے قبل کے برسوں میں شدت پسند گروپوں نے اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے نیٹ ورک کے لیے بھرتیاں کی تھیں۔ اب ٹانگ اور ان کے ساتھی دشمنی بڑھنے سے قبل ہی ثالثی کرتے ہیں تاکہ باہمی اختلافات کو مزید ہوا نہ دی جا سکے۔

شہر کے محاصرے کے بعد ہر طرف خاموشی پھیلی تھی۔ جہادیوں کے پورے گروپ کی بیخ کنی کر دی گئی تھی تاہم جنگ نے اتنی تباہی مچائی کہ اب ہر کسی کی امن اور تعمیر نو کی خواہش تھی۔

لیکن گذشتہ چند ماہ میں کچھ پریشان کن واقعات بھی سامنے آرہے ہیں۔

جن میں مسلح جہادیوں کے دوبارہ منظر پر آنے کے آثار، نوجوان خواتین شدت پسندوں کے کیمپوں سے تعلیم حاصل کرنا اور خاص خاندانوں سے محاصرے کے دوران شدت پسند گروپوں کے لیے بھرتی کرنا شامل ہے۔

ٹانگ کا کہنا ہے کہ شہر میں ایک چھوٹا سا گروپ دوبارہ منظم ہونے کی کوشش میں ہے۔

ماراوی میں پیش آنے والے واقعات ہی اس گروپ کی بنیاد ہیں۔ لوگوں کی زندگیاں برباد ہو کر رہ گئیں۔ اگر تعمیر نو کے کام طویل وقت لیتا ہے تو پھر یقیناً مزید لوگ ایسے گروپوں میں شامل ہوجائیں گے۔

فادر چیٹو اب ماراوی شہر میں نہیں رہ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہاں رہنا بہت خطرناک ہے۔ لیکن وہ کبھی کبھار جم میں ایک عارضی چرچ میں بنی یونیورسٹی میں پڑھانے کے لیے آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شہر میں یہ واحد جگہ ہے جہاں کیتھولک بڑی تعداد میں جمع ہو سکتے ہیں کیونکہ یہاں انھیں تحفظ کا احساس رہتا ہے۔

اب انھیں ایک مقامی ’سیلیبرٹی‘ کا درجہ حاصل ہے۔ چرچ میں سروس کے بعد طلبا ان کے گرد جمع ہو جاتے ہیں اور ان کے ساتھ سیلفیاں بناتے ہیں۔

وہ ناقابل شکست ہیں اور اب بھی مضبوطی کے ساتھ خود پر گزرے انتہائی تلخ لمحات کو یاد کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ مزاح کی حس ہی ہے جو زندگی کو آسان بنا دیتی ہے اور کاموں میں ایک توازن پیدا کردیتی ہے تاکہ انتہائی ذہنی کوفت یا انتہائی دباؤ میں جانے سے بچا جا سکے۔ یہ مشکل اور دردناک تجربات میں توازن پیدا کردیتی ہے۔

ان پر جو گزرا وہ ابھی بھی اپنا نفسیاتی علاج کرا رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ میں پہلے ہی اپنا نفسیاتی توازن کھو بیٹھا ہوں، میں (اندر سے) مکمل تباہ ہو چکا تھا۔ لہٰذا میں خوش ہوں تو میں جی رہا ہوں۔ اگرچہ جسمانی طور پر میرے خوشی کے جذبات میں ابھی بھی کمی ہے۔ وقت بہترین دوا ہے۔ لہٰذا ہمیں (اچھے وقت کا) انتظار کرنا ہے۔

فادر چیٹو اب بھی ماراوی میں مذہبی ہم آہنگی سے متعلق پراُمید ہیں۔

جنگ کے بعد لوگوں کو خوب سبق حاصل ہو جاتا ہے۔ کیونکہ مسلم اور عیسائی یہ جانتے ہیں کہ انتشار میں کسی کی بھی فتح نہیں ہوتی بلکہ سب شکست خوردہ ہو جاتے ہیں۔


WhatsApp




متعلقہ خبریں
فلپائن: ایک پادری جسے دولت اسلامیہ کے لیے بم بنانے ... مزید پڑھیں
’امریکی جاسوس برسوں تک روسی صدر کی رہائش گاہ میں ... مزید پڑھیں
داعش کے روپوش سربراہ ابوبکر البغدادی علیل ہوگئے ہیں ... مزید پڑھیں
مسئلہ کشمیر افغان امن عمل کو متاثر کر سکتا ہے، ... مزید پڑھیں
ساؤتھ ایشیا اسپیکر کانفرنس میں مسئلہ کشمیر اٹھانے پر بھارتی ... مزید پڑھیں
مقبوضہ کشمیر میں مظالم پر بھارتی بیوروکریٹ نے احتجاجاً استعفیٰ ... مزید پڑھیں
بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے ماہرین کو داخلہ ... مزید پڑھیں
امریکی اخبار نے مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار کی سازش ... مزید پڑھیں
خلیجِ عمان کے آئل ٹینکر حملوں میں ایران ملوث ہے: ... مزید پڑھیں
سری لنکا میں گرجا گھروں اور ہوٹلوں میں 6 دھماکوں ... مزید پڑھیں
سری لنکا میں6 بم دھماکوں میں 42 افراد ہلاک، 300 ... مزید پڑھیں
بھارتی بحریہ کا جنگی ہیلی کاپٹر سمندر میں گر کر ... مزید پڑھیں
پاکستانی فوج سے وابستہ کئی فیس بک اکاؤنٹس ڈیلیٹ ... مزید پڑھیں
ٹرمپ کا شمالی کوریا سے تمام جوہری ہتھیار امریکا کے ... مزید پڑھیں
افغانستان کے نائب صدر عبدالرشید دوستم پر قاتلانہ حملہ : ... مزید پڑھیں
ڈھاکا میں کثیر المنزلہ عمارت میں آگ لگنے سے 19 ... مزید پڑھیں
متعلقہ خبریں
سعودی اور اماراتی وزرائے خارجہ کس مشن پر پاکستان آئے؟
فلپائن: ایک پادری جسے دولت اسلامیہ کے لیے بم بنانے پر مجبور کیا گیا
’امریکی جاسوس برسوں تک روسی صدر کی رہائش گاہ میں ملازم رہا‘
داعش کے روپوش سربراہ ابوبکر البغدادی علیل ہوگئے ہیں
مسئلہ کشمیر افغان امن عمل کو متاثر کر سکتا ہے، امریکی تھنک ٹینک
ساؤتھ ایشیا اسپیکر کانفرنس میں مسئلہ کشمیر اٹھانے پر بھارتی وفد آگ بگولہ
مقبوضہ کشمیر میں مظالم پر بھارتی بیوروکریٹ نے احتجاجاً استعفیٰ دیدیا
بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے ماہرین کو داخلہ کی اجازت دے، اقوام متحدہ
امریکی اخبار نے مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار کی سازش کا پول کھول دیا
خلیجِ عمان کے آئل ٹینکر حملوں میں ایران ملوث ہے: امریکی وزیر خارجہ

مقبول خبریں
بھارت کو خوفزدہ کرنے والی پاکستانی آبدوز کی پراسرار تباہی کی کہانی
سعودی اور اماراتی وزرائے خارجہ کس مشن پر پاکستان آئے؟
مصباح الحق کے چیک پر بڑی رقم لکھنے میں بورڈ ہچکچاہٹ کا شکار
پی ایس ایل 4؛ شریک پلیئرز کو2 دن آرام کا موقع میسر آ گیا
وینا اداکاری سے گلوکاری کا سفر
بلوچستان سے خلائی سائینسدان کا ظہور
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
پانی میں نورو وائرس شناخت کرنے والی اسمارٹ فون ایپ
’یونیورسٹی تو کیا، پاکستان کی تاریخ میں کسی نے اتنے میڈل نہیں لیے‘
نیکی کا انعام: کروڑوں روپے کی لاٹری نکل آئی!
نیکی کا انعام: کروڑوں روپے کی لاٹری نکل آئی!
نوکیا نے نیے اسمارٹ فونز متعارف کروا دیے
شرح پیدائش پنجاب میں کتنی ہے اور خیبر پختونخوا میں کتنی؟ اعدادوشمار سامنے آگئے
بیویاں شوہروں کو طلاق دے سکیں گی والا نکاح نامہ زیرغور نہیں، اسلامی نظریاتی کونسل
’’بھارتی سپریم کورٹ آرٹیکل 370 ختم کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے‘‘ ، اے جی نورانی
ویڈیو گیلری

آزادی کی تحریکوں کو دبایا تو جا سکتا ہے لیکن ختم نہیں کیا جا سکتا : پاکستانی ہائی کمشنرعبدالباسط

بھارتی اشتعال انگیزی کا ذمہ داری سے جواب دے رہے ہیں ،عاصم باجوہ

پاکستان اورسعودی عرب حقیقی بھائی ہیں،علما اکرام مسلم امت کے اتحاد میں کردار ادا کریں:امام کعبہ

بڈگام میں بھارتی فوج کی فائرنگ، مزید 8 کشمیری شہید، پاکستان کا شدید احتجاج

فرانس میں فائرنگ کرکے 3 افراد کوقتل کرنے والے حملہ آورکی ہلاکت کی تصدیق

سپورٹس
مصباح الحق کے چیک پر بڑی رقم لکھنے میں بورڈ ہچکچاہٹ کا شکار
کراچی(ویب ڈیسک) سابق کپتان پی ایس ایل میں ذمہ داری نہ نبھانے مزید پڑھیں ...
ویب ٹی وی
ٹورازم
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔ posted by Abdur مزید پڑھیں ...
انٹرٹینمینٹ
وینا اداکاری سے گلوکاری کا سفر
وینا ملک کو زیادہ تر لوگ بطور اداکارہ و ماڈل جانتے ہیں مزید پڑھیں ...
مذہب
بیویاں شوہروں کو طلاق دے سکیں گی والا نکاح نامہ زیرغور نہیں، اسلامی نظریاتی کونسل
اسلام آباد(ویب ڈیسک) اسلامی نظریاتی کونسل کا کہنا ہے کہ مزید پڑھیں ...
بزنس
10 بینکوں کو80 کروڑ روپے سے زائد جرمانہ
10 بینکوں کو80 کروڑ روپے سے زائد جرمانہ، کون کونسے بینک مزید پڑھیں ...