اردو | العربیہ | English



اردو | العربیہ | English

یورپی یونین سے انخلا کیلیے برطانیہ کو 31 جنوری تک مہلت مل گئی

’امریکی جاسوس برسوں تک روسی صدر کی رہائش گاہ میں ملازم رہا‘


WhatsApp
55




’امریکی جاسوس برسوں تک روسی صدر کی رہائش گاہ میں ملازم رہا‘
روسی امریکی تعلقات کو اس بات سے دھچکا لگا ہے کہ ایک مبینہ امریکی جاسوس دو سال پہلے تک کریملن میں کام کرتا رہا تھا۔ روس نے بھی تصدیق کر دی ہے کہ سی آئی اے کا یہ مبینہ جاسوس صدر پوٹن کی سرکاری رہائش گاہ میں کام کرتا تھا۔

روس میں ماسکو اور امریکا میں واشگٹن سے منگل دس ستمبر کو ملنے والی مختلف نیوز ایجنسیوں کی رپورٹوں کے مطابق امریکی ذرائع ابلاغ نے اپنی رپورٹوں میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے کریملن میں کام کرنے والے ایک جاسوس کو روسی صدر پوٹن کے قریبی حلقوں تک رسائی حاصل تھی۔ اس امریکی جاسوس کو دو سال پہلے 2017ء میں اس لیے کریملن سے نکال لیا گیا تھا کہ تب اس کی اصل شناخت سامنے آ جانے کے خدشات پیدا ہو گئے تھے۔

دوسری طرف روسی دارالحکومت میں صدر پوٹن کی کریملن کہلانے والی سرکاری رہائش گاہ کی طرف سے منگل کے روز تصدیق کر دی گئی کہ یہ مبینہ امریکی جاسوس ماسکو میں روسی صدارتی دفتر کی انتظامیہ کے لیے کام کرتا رہا تھا۔ کریملن کے ترجمان دیمیتری پیسکوف نے کہا، ''اس شخص کو صدر پوٹن تک کوئی براہ راست رسائی حاصل نہیں تھی اور وہ ایک نچلے درجے کا سرکاری اہلکار تھا۔‘‘

روسی نیوز ایجنسی تاس نے پسیکوف کے اس بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اس شخص کو 'کئی سال پہلے نوکری سے نکال دیا گیا تھا‘۔
اس کے ساتھ ہی کریملن کے ترجمان نے مزید کہا، ''اس شخص کی ملازمت کسی سینیئر سرکاری درجے کی پوزیشن نہیں تھی۔‘‘ دیمیتری پیسکوف نے یہ بھی کہا کہ انہیں ایسی کوئی اطلاع نہیں کہ یہ شخص امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے لیے کام کرتا رہا تھا۔

'جاسوس کے بےنقاب ہو جانے کا خطرہ‘
دیمیتری پسیکوف نے یہ باتیں آج ماسکو میں اس پس منظر میں کہیں کہ امریکی نشریاتی ادارے سی این این اور اخبار نیو یارک ٹائمز کی رپورٹوں کے مطابق یہ مبینہ جاسوس کریملن میں سی آئی اے کے لیے کام کرتا تھا، جسے 2017ء میں اس کی اصلیت سامنے آ جانے کے خوف اور اس کی سلامتی کو درپیش خطرات کے باعث پیدا ہونے والے خدشات کے باعث وہاں سے نکال لیا گیا تھا۔

امریکی میڈیا کا یہ دعویٰ چونکہ روس کے لیے سیاسی اور سفارتی سطح پر شرمندگی کا باعث سمجھا جا سکتا تھا، اس لیے کریملن کے ترجمان نے اس بارے میں کہا، ‘‘امریکی میڈیا میں کیے جانے والے یہ تمام دعوے کہ اسے جلدی سے نکال لیا گیا تھا، اور اسے کس سے بچانے کی کوشش کی گئی تھی، یہ سب ایسی کہانیاں ہیں، جو من گھڑت اور محض زیب داستاں کے لیے ہیں۔‘‘

'سی آئی اے کے قیمتی ترین روسی اثاثوں میں سے ایک‘
ان روسی دعووں کے برعکس سی این این اور نیو یارک ٹائمز نے اپنی رپورٹوں میں کہا ہے کہ سی آئی اے کا یہ اثاثہ (اس کے لیے کام کرنے والا مخبر) کئی سال تک روسی حکومتی ڈھانچے کے اندر موجود تھا اور اسے کریملن میں اعلیٰ حکام تک رسائی حاصل تھی۔‘‘

نیو یارک ٹائمز کے مطابق اس امریکی جاسوس کو روسی صدر پوٹن کے قرب و جوار تک ملنے والی رسائی اتنی اہم تھی کہ اس نے اس شخص کو 'سی آئی اے کے قیمتی ترین روسی اثاثوں میں سے ایک‘ بنا دیا تھا۔
جریدے نیو یارک ٹائمز کے مطابق اس جاسوس کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس نے مبینہ طور پر امریکی انٹیلیجنس اداروں کو صدر پوٹن کے اس حکم نامے سے متعلق شواہد بھی مہیا کیے تھے، جس میں مبینہ طور پر 2016ء کے امریکی صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹ امیدوار ہیلری کلنٹن کے مقابلے میں ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کا ذکر کیا گیا تھا۔

اس جاسوس کو کریملن سے نکالا کیوں گیا
امریکی میڈیا رپورٹوں کے مطابق سی آئی اے نے اپنے اس اثاثے کو کریملن سے نکالنے کی کوشش 2016ء میں اس وقت کی تھی، جب امریکی صدارتی الیکشن میں روس کی مبینہ مداخلت کی بہت سی تفصیلات سامنے آ گئی تھیں اور یوں یہ خدشہ پیدا ہو گیا تھا کہ کریملن میں امریکا کا یہ جاسوس پرخطر انداز میں بےنقاب بھی ہو سکتا تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس جاسوس نے 2016ء میں اپنے 'کریملن سے نکلنے‘ سے انکار کر دیا تھا۔ تاہم ایک سال بعد جب 2017ء میں سی آئی اے نے اس پر دوبارہ دباؤ ڈالا، تو اس نے یہ تجویز قبول کر لی تھی۔

خفیہ معلومات سے متعلق ٹرمپ کی 'لاپروائی‘
امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے بتایا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے ذرائع کے بقول اس امریکی جاسوس کو کریملن سے نکالنے کی وجوہات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی کابینہ کے ارکان کی وجہ سے پیدا ہونے والے تحفظات بھی تھے۔ ان ذرائع کے مطابق ٹرمپ اور ان کی کابینہ نے خفیہ معلومات کو محفوظ رکھنے سے متعلق مبینہ لاپروائی کا مظاہرہ کیا تھا۔
ان میں سے ایک واقعہ 2017ء میں اس وقت پیش آیا تھا جب صدر پوٹن سے ایک نجی ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ نے ایک مترجم کے تحریری نوٹس بھی زبردستی اپنے قبضے میں لے لیے تھے۔

دوسری طرف وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری اسٹیفنی گریشم نے سی این این کی اس حوالے سے رپورٹ پر اپنے ردعمل میں کہا ہے، ''سی این این کی رپورٹنگ نہ صرف یہ کہ غلط ہے بلکہ اس میں یہ امکان بھی پایا جاتا ہے کہ اس کی وجہ سے انسانی جانیں خطرے میں پڑ جائیں۔‘‘
اس کے علاوہ خود سی آئی اے نے بھی ان امریکی میڈیا رپورٹوں کی تردید کی ہے۔


WhatsApp




متعلقہ خبریں
امریکا کا افغانستان میں طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی حملہ، ... مزید پڑھیں
شام میں تیل کی حفاظت کے نام پر امریکا ’عالمی ... مزید پڑھیں
داعش سربراہ ابوبکر البغدادی حملے میں ہلاک، امریکی میڈیا کا ... مزید پڑھیں
مسئلہ کشمیر عوامی امنگوں اور بات چیت سے حل کیا ... مزید پڑھیں
نریندرمودی جمہوریت اور معیشت دونوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں، ... مزید پڑھیں
ترکی اور روس کی کرد جنگجوؤں کو شامی سرحدی علاقوں ... مزید پڑھیں
برطانیہ میں ٹرک سے 39 لاشیں برآمد، ڈرائیور گرفتار ... مزید پڑھیں
دنیا کی کوئی طاقت چین اور تائیوان کا دوبارہ الحاق ... مزید پڑھیں
ترک فوج اور کردوں کے درمیان جھڑپ میں ترک سپاہی ... مزید پڑھیں
برطانیہ اور یورپی یونین میں بریگزٹ معاہدے پر اتفاق ... مزید پڑھیں
ترکی کا امریکی دھمکیوں کے باوجود شام میں فوجی آپریشن ... مزید پڑھیں
مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر بھارتی سپریم کورٹ مودی ... مزید پڑھیں
جاپان میں سمندری طوفان ’ہگی بس‘ میں ہلاکتوں کی تعداد ... مزید پڑھیں
بھارت میں گیس سیلنڈر دھماکے سے 13 افراد ہلاک ... مزید پڑھیں
سخت سکیورٹی میں افغان صدارتی انتخاب کے لیے ووٹنگ ... مزید پڑھیں
سعودی اور اماراتی وزرائے خارجہ کس مشن پر پاکستان آئے؟ ... مزید پڑھیں
متعلقہ خبریں
یورپی یونین سے انخلا کیلیے برطانیہ کو 31 جنوری تک مہلت مل گئی
امریکا کا افغانستان میں طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی حملہ، 80 جنگجو ہلاک
شام میں تیل کی حفاظت کے نام پر امریکا ’عالمی ڈکیتی‘ کر رہا ہے، روس
داعش سربراہ ابوبکر البغدادی حملے میں ہلاک، امریکی میڈیا کا دعویٰ
مسئلہ کشمیر عوامی امنگوں اور بات چیت سے حل کیا جائے، اقوام متحدہ
نریندرمودی جمہوریت اور معیشت دونوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں، امریکی جریدہ
ترکی اور روس کی کرد جنگجوؤں کو شامی سرحدی علاقوں سے نکلنے کیلیے مزید مہلت
برطانیہ میں ٹرک سے 39 لاشیں برآمد، ڈرائیور گرفتار
دنیا کی کوئی طاقت چین اور تائیوان کا دوبارہ الحاق نہیں روک سکتی، چینی وزیردفاع
ترک فوج اور کردوں کے درمیان جھڑپ میں ترک سپاہی جاں بحق

مقبول خبریں
ویڈیو گیلری

آزادی کی تحریکوں کو دبایا تو جا سکتا ہے لیکن ختم نہیں کیا جا سکتا : پاکستانی ہائی کمشنرعبدالباسط

بھارتی اشتعال انگیزی کا ذمہ داری سے جواب دے رہے ہیں ،عاصم باجوہ

پاکستان اورسعودی عرب حقیقی بھائی ہیں،علما اکرام مسلم امت کے اتحاد میں کردار ادا کریں:امام کعبہ

بڈگام میں بھارتی فوج کی فائرنگ، مزید 8 کشمیری شہید، پاکستان کا شدید احتجاج

فرانس میں فائرنگ کرکے 3 افراد کوقتل کرنے والے حملہ آورکی ہلاکت کی تصدیق

سپورٹس
انٹرنیشنل کرکٹ چاہیے بھلے ’بی ٹیم‘ ہی سہی
اکتوبر 1990 میں نیوزی لینڈ کی ٹیم کو پاکستان کے دورے پہ مزید پڑھیں ...
ویب ٹی وی
ٹورازم
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔ posted by Abdur مزید پڑھیں ...
انٹرٹینمینٹ
وینا اداکاری سے گلوکاری کا سفر
وینا ملک کو زیادہ تر لوگ بطور اداکارہ و ماڈل جانتے ہیں مزید پڑھیں ...
مذہب
بیویاں شوہروں کو طلاق دے سکیں گی والا نکاح نامہ زیرغور نہیں، اسلامی نظریاتی کونسل
اسلام آباد(ویب ڈیسک) اسلامی نظریاتی کونسل کا کہنا ہے کہ مزید پڑھیں ...
بزنس
10 بینکوں کو80 کروڑ روپے سے زائد جرمانہ
10 بینکوں کو80 کروڑ روپے سے زائد جرمانہ، کون کونسے بینک مزید پڑھیں ...