اردو | العربیہ | English



اردو | العربیہ | English

سعودی اور اماراتی وزرائے خارجہ کس مشن پر پاکستان آئے؟

’امریکی جاسوس برسوں تک روسی صدر کی رہائش گاہ میں ملازم رہا‘


WhatsApp
17




’امریکی جاسوس برسوں تک روسی صدر کی رہائش گاہ میں ملازم رہا‘
روسی امریکی تعلقات کو اس بات سے دھچکا لگا ہے کہ ایک مبینہ امریکی جاسوس دو سال پہلے تک کریملن میں کام کرتا رہا تھا۔ روس نے بھی تصدیق کر دی ہے کہ سی آئی اے کا یہ مبینہ جاسوس صدر پوٹن کی سرکاری رہائش گاہ میں کام کرتا تھا۔

روس میں ماسکو اور امریکا میں واشگٹن سے منگل دس ستمبر کو ملنے والی مختلف نیوز ایجنسیوں کی رپورٹوں کے مطابق امریکی ذرائع ابلاغ نے اپنی رپورٹوں میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے کریملن میں کام کرنے والے ایک جاسوس کو روسی صدر پوٹن کے قریبی حلقوں تک رسائی حاصل تھی۔ اس امریکی جاسوس کو دو سال پہلے 2017ء میں اس لیے کریملن سے نکال لیا گیا تھا کہ تب اس کی اصل شناخت سامنے آ جانے کے خدشات پیدا ہو گئے تھے۔

دوسری طرف روسی دارالحکومت میں صدر پوٹن کی کریملن کہلانے والی سرکاری رہائش گاہ کی طرف سے منگل کے روز تصدیق کر دی گئی کہ یہ مبینہ امریکی جاسوس ماسکو میں روسی صدارتی دفتر کی انتظامیہ کے لیے کام کرتا رہا تھا۔ کریملن کے ترجمان دیمیتری پیسکوف نے کہا، ''اس شخص کو صدر پوٹن تک کوئی براہ راست رسائی حاصل نہیں تھی اور وہ ایک نچلے درجے کا سرکاری اہلکار تھا۔‘‘

روسی نیوز ایجنسی تاس نے پسیکوف کے اس بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اس شخص کو 'کئی سال پہلے نوکری سے نکال دیا گیا تھا‘۔
اس کے ساتھ ہی کریملن کے ترجمان نے مزید کہا، ''اس شخص کی ملازمت کسی سینیئر سرکاری درجے کی پوزیشن نہیں تھی۔‘‘ دیمیتری پیسکوف نے یہ بھی کہا کہ انہیں ایسی کوئی اطلاع نہیں کہ یہ شخص امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے لیے کام کرتا رہا تھا۔

'جاسوس کے بےنقاب ہو جانے کا خطرہ‘
دیمیتری پسیکوف نے یہ باتیں آج ماسکو میں اس پس منظر میں کہیں کہ امریکی نشریاتی ادارے سی این این اور اخبار نیو یارک ٹائمز کی رپورٹوں کے مطابق یہ مبینہ جاسوس کریملن میں سی آئی اے کے لیے کام کرتا تھا، جسے 2017ء میں اس کی اصلیت سامنے آ جانے کے خوف اور اس کی سلامتی کو درپیش خطرات کے باعث پیدا ہونے والے خدشات کے باعث وہاں سے نکال لیا گیا تھا۔

امریکی میڈیا کا یہ دعویٰ چونکہ روس کے لیے سیاسی اور سفارتی سطح پر شرمندگی کا باعث سمجھا جا سکتا تھا، اس لیے کریملن کے ترجمان نے اس بارے میں کہا، ‘‘امریکی میڈیا میں کیے جانے والے یہ تمام دعوے کہ اسے جلدی سے نکال لیا گیا تھا، اور اسے کس سے بچانے کی کوشش کی گئی تھی، یہ سب ایسی کہانیاں ہیں، جو من گھڑت اور محض زیب داستاں کے لیے ہیں۔‘‘

'سی آئی اے کے قیمتی ترین روسی اثاثوں میں سے ایک‘
ان روسی دعووں کے برعکس سی این این اور نیو یارک ٹائمز نے اپنی رپورٹوں میں کہا ہے کہ سی آئی اے کا یہ اثاثہ (اس کے لیے کام کرنے والا مخبر) کئی سال تک روسی حکومتی ڈھانچے کے اندر موجود تھا اور اسے کریملن میں اعلیٰ حکام تک رسائی حاصل تھی۔‘‘

نیو یارک ٹائمز کے مطابق اس امریکی جاسوس کو روسی صدر پوٹن کے قرب و جوار تک ملنے والی رسائی اتنی اہم تھی کہ اس نے اس شخص کو 'سی آئی اے کے قیمتی ترین روسی اثاثوں میں سے ایک‘ بنا دیا تھا۔
جریدے نیو یارک ٹائمز کے مطابق اس جاسوس کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس نے مبینہ طور پر امریکی انٹیلیجنس اداروں کو صدر پوٹن کے اس حکم نامے سے متعلق شواہد بھی مہیا کیے تھے، جس میں مبینہ طور پر 2016ء کے امریکی صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹ امیدوار ہیلری کلنٹن کے مقابلے میں ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کا ذکر کیا گیا تھا۔

اس جاسوس کو کریملن سے نکالا کیوں گیا
امریکی میڈیا رپورٹوں کے مطابق سی آئی اے نے اپنے اس اثاثے کو کریملن سے نکالنے کی کوشش 2016ء میں اس وقت کی تھی، جب امریکی صدارتی الیکشن میں روس کی مبینہ مداخلت کی بہت سی تفصیلات سامنے آ گئی تھیں اور یوں یہ خدشہ پیدا ہو گیا تھا کہ کریملن میں امریکا کا یہ جاسوس پرخطر انداز میں بےنقاب بھی ہو سکتا تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس جاسوس نے 2016ء میں اپنے 'کریملن سے نکلنے‘ سے انکار کر دیا تھا۔ تاہم ایک سال بعد جب 2017ء میں سی آئی اے نے اس پر دوبارہ دباؤ ڈالا، تو اس نے یہ تجویز قبول کر لی تھی۔

خفیہ معلومات سے متعلق ٹرمپ کی 'لاپروائی‘
امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے بتایا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے ذرائع کے بقول اس امریکی جاسوس کو کریملن سے نکالنے کی وجوہات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی کابینہ کے ارکان کی وجہ سے پیدا ہونے والے تحفظات بھی تھے۔ ان ذرائع کے مطابق ٹرمپ اور ان کی کابینہ نے خفیہ معلومات کو محفوظ رکھنے سے متعلق مبینہ لاپروائی کا مظاہرہ کیا تھا۔
ان میں سے ایک واقعہ 2017ء میں اس وقت پیش آیا تھا جب صدر پوٹن سے ایک نجی ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ نے ایک مترجم کے تحریری نوٹس بھی زبردستی اپنے قبضے میں لے لیے تھے۔

دوسری طرف وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری اسٹیفنی گریشم نے سی این این کی اس حوالے سے رپورٹ پر اپنے ردعمل میں کہا ہے، ''سی این این کی رپورٹنگ نہ صرف یہ کہ غلط ہے بلکہ اس میں یہ امکان بھی پایا جاتا ہے کہ اس کی وجہ سے انسانی جانیں خطرے میں پڑ جائیں۔‘‘
اس کے علاوہ خود سی آئی اے نے بھی ان امریکی میڈیا رپورٹوں کی تردید کی ہے۔


WhatsApp




متعلقہ خبریں
فلپائن: ایک پادری جسے دولت اسلامیہ کے لیے بم بنانے ... مزید پڑھیں
’امریکی جاسوس برسوں تک روسی صدر کی رہائش گاہ میں ... مزید پڑھیں
داعش کے روپوش سربراہ ابوبکر البغدادی علیل ہوگئے ہیں ... مزید پڑھیں
مسئلہ کشمیر افغان امن عمل کو متاثر کر سکتا ہے، ... مزید پڑھیں
ساؤتھ ایشیا اسپیکر کانفرنس میں مسئلہ کشمیر اٹھانے پر بھارتی ... مزید پڑھیں
مقبوضہ کشمیر میں مظالم پر بھارتی بیوروکریٹ نے احتجاجاً استعفیٰ ... مزید پڑھیں
بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے ماہرین کو داخلہ ... مزید پڑھیں
امریکی اخبار نے مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار کی سازش ... مزید پڑھیں
خلیجِ عمان کے آئل ٹینکر حملوں میں ایران ملوث ہے: ... مزید پڑھیں
سری لنکا میں گرجا گھروں اور ہوٹلوں میں 6 دھماکوں ... مزید پڑھیں
سری لنکا میں6 بم دھماکوں میں 42 افراد ہلاک، 300 ... مزید پڑھیں
بھارتی بحریہ کا جنگی ہیلی کاپٹر سمندر میں گر کر ... مزید پڑھیں
پاکستانی فوج سے وابستہ کئی فیس بک اکاؤنٹس ڈیلیٹ ... مزید پڑھیں
ٹرمپ کا شمالی کوریا سے تمام جوہری ہتھیار امریکا کے ... مزید پڑھیں
افغانستان کے نائب صدر عبدالرشید دوستم پر قاتلانہ حملہ : ... مزید پڑھیں
ڈھاکا میں کثیر المنزلہ عمارت میں آگ لگنے سے 19 ... مزید پڑھیں
متعلقہ خبریں
سعودی اور اماراتی وزرائے خارجہ کس مشن پر پاکستان آئے؟
فلپائن: ایک پادری جسے دولت اسلامیہ کے لیے بم بنانے پر مجبور کیا گیا
’امریکی جاسوس برسوں تک روسی صدر کی رہائش گاہ میں ملازم رہا‘
داعش کے روپوش سربراہ ابوبکر البغدادی علیل ہوگئے ہیں
مسئلہ کشمیر افغان امن عمل کو متاثر کر سکتا ہے، امریکی تھنک ٹینک
ساؤتھ ایشیا اسپیکر کانفرنس میں مسئلہ کشمیر اٹھانے پر بھارتی وفد آگ بگولہ
مقبوضہ کشمیر میں مظالم پر بھارتی بیوروکریٹ نے احتجاجاً استعفیٰ دیدیا
بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے ماہرین کو داخلہ کی اجازت دے، اقوام متحدہ
امریکی اخبار نے مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار کی سازش کا پول کھول دیا
خلیجِ عمان کے آئل ٹینکر حملوں میں ایران ملوث ہے: امریکی وزیر خارجہ

مقبول خبریں
بھارت کو خوفزدہ کرنے والی پاکستانی آبدوز کی پراسرار تباہی کی کہانی
سعودی اور اماراتی وزرائے خارجہ کس مشن پر پاکستان آئے؟
مصباح الحق کے چیک پر بڑی رقم لکھنے میں بورڈ ہچکچاہٹ کا شکار
پی ایس ایل 4؛ شریک پلیئرز کو2 دن آرام کا موقع میسر آ گیا
وینا اداکاری سے گلوکاری کا سفر
بلوچستان سے خلائی سائینسدان کا ظہور
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
پانی میں نورو وائرس شناخت کرنے والی اسمارٹ فون ایپ
’یونیورسٹی تو کیا، پاکستان کی تاریخ میں کسی نے اتنے میڈل نہیں لیے‘
نیکی کا انعام: کروڑوں روپے کی لاٹری نکل آئی!
نیکی کا انعام: کروڑوں روپے کی لاٹری نکل آئی!
نوکیا نے نیے اسمارٹ فونز متعارف کروا دیے
شرح پیدائش پنجاب میں کتنی ہے اور خیبر پختونخوا میں کتنی؟ اعدادوشمار سامنے آگئے
بیویاں شوہروں کو طلاق دے سکیں گی والا نکاح نامہ زیرغور نہیں، اسلامی نظریاتی کونسل
’’بھارتی سپریم کورٹ آرٹیکل 370 ختم کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے‘‘ ، اے جی نورانی
ویڈیو گیلری

آزادی کی تحریکوں کو دبایا تو جا سکتا ہے لیکن ختم نہیں کیا جا سکتا : پاکستانی ہائی کمشنرعبدالباسط

بھارتی اشتعال انگیزی کا ذمہ داری سے جواب دے رہے ہیں ،عاصم باجوہ

پاکستان اورسعودی عرب حقیقی بھائی ہیں،علما اکرام مسلم امت کے اتحاد میں کردار ادا کریں:امام کعبہ

بڈگام میں بھارتی فوج کی فائرنگ، مزید 8 کشمیری شہید، پاکستان کا شدید احتجاج

فرانس میں فائرنگ کرکے 3 افراد کوقتل کرنے والے حملہ آورکی ہلاکت کی تصدیق

سپورٹس
مصباح الحق کے چیک پر بڑی رقم لکھنے میں بورڈ ہچکچاہٹ کا شکار
کراچی(ویب ڈیسک) سابق کپتان پی ایس ایل میں ذمہ داری نہ نبھانے مزید پڑھیں ...
ویب ٹی وی
ٹورازم
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔ posted by Abdur مزید پڑھیں ...
انٹرٹینمینٹ
وینا اداکاری سے گلوکاری کا سفر
وینا ملک کو زیادہ تر لوگ بطور اداکارہ و ماڈل جانتے ہیں مزید پڑھیں ...
مذہب
بیویاں شوہروں کو طلاق دے سکیں گی والا نکاح نامہ زیرغور نہیں، اسلامی نظریاتی کونسل
اسلام آباد(ویب ڈیسک) اسلامی نظریاتی کونسل کا کہنا ہے کہ مزید پڑھیں ...
بزنس
10 بینکوں کو80 کروڑ روپے سے زائد جرمانہ
10 بینکوں کو80 کروڑ روپے سے زائد جرمانہ، کون کونسے بینک مزید پڑھیں ...