اردو | العربیہ | English



اردو | العربیہ | English

جیسنڈا آرڈرن کا کرائسٹ چرچ حملے کی تحقیقات کے لیے رائل کمیشن بنانے کا اعلان

ملّا عمر، امریکہ اور پاکستان


WhatsApp
16



ملّا عمر، امریکہ اور پاکستان

تحریر : حامد میر

یہ 2013ء کا موسم گرما تھا۔ افغان طالبان کے رہنما ملّا محمد عمر کی وفات کو سترہ دن گزر چکے تھے۔ سترہ دن کے بعد اُن کا بیٹا یعقوب اور بھائی ملّا عبدالمنان زابل میں ملّا محمد عمر کی قبر پر کھڑے تھے اور اصرار کر رہے تھے کہ قبر کھود کر اُنہیں متوفی کا چہرہ دکھایا جائے تاکہ تسلی ہو جائے کہ واقعی ملّا محمد عمر کی وفات ہو چکی ہے۔

ملّا محمد عمر کو اس قبر میں اپنے ہاتھوں سے دفن کرنے والا عبدالجبار عمری بار بار یعقوب اور ملّا عبدالمنان کو بتا رہا تھا کہ اُس نے ملّا محمد عمر کی تدفین کی وڈیو اسی لئے بنائی تھی کہ کسی کو کوئی شک نہ رہے اور آپ نے وڈیو دیکھ بھی لی ہے لیکن جذباتی بیٹا اور بھائی قبر کھودنے پر اصرار کرتے رہے۔

آخرکار قبر کھودی گئی۔ ملّا محمد عمر کا کفن ہٹا کر اُن کا چہرہ دیکھا گیا۔ بیٹے اور بھائی کو تسلی ہو گئی تو ملّا محمد عمر کو لکڑی کے ایک تابوت میں منتقل کرکے دوبارہ دفن کر دیا گیا کیونکہ اس سے قبل وہ صرف ایک کفن میں دفن کئے گئے تھے۔ یہ زابل کا وہ علاقہ تھا جہاں ملّا محمد عمر نے اپنی زندگی کے آخری سال عبدالجبار عمری کے ساتھ گزارے تھے۔

عمری نے ملّا محمد عمر کے بیٹے اور بھائی کو وہ جگہ بھی دکھائی جہاں اس طالبان رہنما نے اپنا وقت گزارا۔ یہاں اُنہیں ملّا محمد عمر کی چار ڈائریاں ملیں لیکن کوئی باقاعدہ وصیت یا خط نہیں ملا۔ یعقوب نے یہ چار ڈائریاں اپنی تحویل میں لے لیں۔ ملّا محمد عمر کی یہ پناہ گاہ زابل میں امریکی فوجی اڈے سے چند میل کے فاصلے پر تھی اور کئی مرتبہ امریکیوں نے اس پناہ گاہ کے آس پاس چھاپے بھی مارے لیکن وہ ملّا محمد عمر کو زندہ گرفتار نہ کر سکے۔

یہ وہ حقائق ہیں جو نیدر لینڈز کی ایک صحافی بیٹ ڈیم کی کتاب ’’دی سیکرٹ لائف آف ملّا عمر‘‘ میں سامنے آئے ہیں۔ بیٹ ڈیم نے یہ کتاب پانچ سال کی تحقیق کے بعد لکھی ہے۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس کتاب میں کئے گئے اس دعوے کی تصدیق کر دی ہے کہ ملّا محمد عمر نے اپنی زندگی کے آخری سال افغانستان کے صوبہ زابل میں گزارے اور وہیں 23اپریل 2013ء کو اُن کا انتقال ہوا تاہم یہ کتاب ڈچ زبان میں شائع ہوئی ہے، اس کا انگریزی ترجمہ ابھی مارکیٹ میں نہیں آیا۔ مجھے اس کتاب کے کچھ صفحات کا انگریزی ترجمہ پڑھنے کا موقع ملا ہے۔

یقیناً بیٹ ڈیم کو عبدالجبار عمری کے ذریعہ ملّا محمد عمر کے آخری ایام کے متعلق اہم تفصیلات ملی ہیں لیکن مجھ سمیت کئی پاکستانی اور افغان صحافیوں کے لئے بیٹ ڈیم کی کتاب میں کوئی ہوشربا انکشاف موجود نہیں ہے۔ افغان حکومت نے اس کتاب میں کئے گئے دعوئوں کو مسترد کر دیا ہے لیکن آنے والے وقت میں نہ صرف طالبان بلکہ امریکہ کو بھی اس کتاب کا بہت فائدہ ہوگا۔ کچھ پاکستانی بھی اس کتاب میں سے فائدہ تلاش کر رہے ہیں۔

یہ کتاب امریکی سی آئی اے کے ان دعوئوں کو تو جھوٹ ثابت کرتی ہے کہ ملّا محمد عمر پاکستان میں روپوش تھے لیکن اس کتاب کے مطابق ملّا محمد عمر کی چار بیویوں سمیت کئی طالبان رہنما پاکستان میں رہتے تھے۔ ملّا محمد عمر کی بیویوں کی تعداد کے بارے میں ڈچ صحافی کا دعویٰ غیر مصدقہ ہے۔

ڈچ صحافی نے یہ بھی لکھا ہے کہ مولانا سمیع الحق مرحوم یہ دعویٰ کرتے تھے کہ ملّا محمد عمر دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک سے فارغ التحصیل تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ مولانا سمیع الحق نے کبھی ایسا دعویٰ نہیں کیا۔ مولانا مرحوم نے اپنی انگریزی تصنیف ’’افغان طالبان، وار آف آئیڈیالوجی‘‘ میں واضح طور پر لکھا کہ اُن کے مدرسے میں ایسا کوئی ریکارڈ موجود نہیں جس سے ثابت ہو کہ ملّا محمد عمر یہاں زیر تعلیم تھے۔

بیٹ ڈیم نے یہ بالکل درست لکھا ہے کہ ملّا محمد عمر نائن الیون سے پہلے صرف ایک آدھ دفعہ پاکستان آئے تھے اور نائن الیون کے بعد کبھی پاکستان نہیں آئے۔ ڈچ صحافی کو اس کتاب کی تکمیل میں افغان حکومت نے بھرپور معاونت فراہم کی اور ملّا محمد عمر کے آخری وقت کے ساتھی عبدالجبار عمری کے ساتھ اُس کی ملاقات بھی افغان انٹیلی جنس کے ذریعہ ہوئی کیونکہ عمری انٹیلی جنس کی حراست میں ہے لیکن بیٹ ڈیم نے افغان حکومت کے مفادات کا کوئی خیال نہیں رکھا بلکہ جو سچ سمجھا وہ لکھ ڈالا۔

کتاب کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ سابق افغان صدر حامد کرزئی اور موجودہ صدر اشرف غنی سمیت افغان انٹیلی جنس کو یہ علم تھا کہ ملّا محمد عمر زابل میں روپوش ہیں اور یہ اطلاعات امریکیوں کو بھی فراہم کی گئیں لیکن وہ ہمیشہ یہ اطلاعات نظر انداز کرتے اور کہتے کہ ملّا عمر پاکستان میں روپوش ہے۔

کیا یہ پاکستان سے امریکی انٹیلی جنس اداروں کی نفرت تھی یا شاہانہ غرور جس کے باعث ایک ’’سپر پاور‘‘ 2001ء سے 2015ء تک یہ جھوٹ بولتی رہی کہ ملّا محمد عمر پاکستان میں ہے؟

کیا پاکستان کی حکومت کبھی باقاعدہ طور پر امریکہ سے یہ پوچھے گی کہ آپ سالہا سال تک ہم پر جھوٹا الزام کیوں لگاتے رہے؟ کیا امریکہ ویسا ہی جھوٹ نہیں بولتا رہا جیسا جھوٹ آج کل بھارت کی طرف سے بالاکوٹ میں جیش محمد کے مدرسے کی تباہی کے بارے میں بولا جا رہا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا ہمیں جواب چاہئے لیکن شاید ہماری حکومت کوئی جواب نہ دے۔ ہمیں یہ جواب خود تلاش کرنا پڑیں گے۔

بیٹ ڈیم کی کتاب کے مطابق عبدالجبار عمری نے بار بار ملّا عمر کو پیشکش کی کہ وہ اُنہیں پاکستان لے جا سکتا ہے لیکن ملّا عمر نے کہا کہ کچھ بھی ہو جائے، میں پاکستان نہیں جائوں گا۔ وہ پاکستان پر اعتماد نہیں کرتے تھے۔ اس کی وجہ نائن الیون کے بعد پاکستانی ریاست کی پالیسیاں تھیں۔

کتاب کے مطابق ملّا محمد عمر نے 5دسمبر 2001ء کو روپوش ہونے سے قبل ملّا عبید اللہ کو اپنا جانشین مقرر کیا۔ یہ وہی ملّا عبید اللہ ہیں جو 2010ء میں پاکستان کی حراست میں موت کا شکار ہوئے۔ بیٹ ڈیم کی کتاب میں کہا گیا کہ افغان طالبان اور القاعدہ کے نظریات میں فرق ہے۔اس کتاب میں ملّا محمد عمر کا تعلق نقشبندی سلسلے کے صوفیاء سے جوڑا گیا ہے اور مصنفہ نے لکھا ہے کہ ملّا محمد عمر زندگی کے آخری ایام میں خود بھی ایک صوفی بن چکے تھے۔

اس کتاب کی مدد سے اقوام متحدہ افغان طالبان پر عائد پابندیاں ختم کر سکتی ہے اور یوں افغان طالبان کے ساتھ امریکہ کا مذاکراتی عمل مزید آگے بڑھ سکتا ہے۔ آج کل امریکی انتظامیہ کی طرف سے افغان طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل میں پاکستان کے مثبت کردار کا بار بار اعتراف کیا جا رہا ہے لیکن پاکستان کو کسی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہئے۔

بیٹ ڈیم کی کتاب کے مطابق جب افغان طالبان کی کوئٹہ میں موجود قیادت یہ فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی کہ قطر میں طالبان کا دفتر کھولا جائے یا نہیں تو ملّا محمد عمر سے رابطہ کیا گیا اور انہوں نے دفتر کھولنے کی حمایت کر دی۔ اس طرح یہ کتاب طالبان اور امریکہ میں مذاکرات کے عمل کو ملّا محمد عمر کی تائید فراہم کرتی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ طالبان قیادت کی کوئٹہ میں موجودگی بھی ثابت کرتی ہے۔

پاکستان کی طرف سے کالعدم تنظیموں کے خلاف کتنی ہی کارروائیاں کر لی جائیں لیکن امریکہ کا پاکستان پر دبائو ختم نہیں ہوگا۔ افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں بریک تھرو کے بعد کابل میں جو بھی حکومت آئے گی امریکہ اُس حکومت کو تعمیر نو کے لئے مالی امداد کے نام پر پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی کوششیں جاری رکھے گا۔

خدارا! یہ مت سمجھئے گا کہ مجھے امریکہ سے کوئی ذاتی بیر ہے۔ بالکل نہیں! میں تو دنیا بھر میں امن چاہتا ہوں لیکن تاریخ یہ بتاتی ہے کہ امریکہ کا اصل مسئلہ طالبان یا کالعدم تنظیمیں نہیں بلکہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام ہے اس لئے خاطر جمع رکھیے۔ ڈچ صحافی کی کتاب کا پاکستان کو کوئی فائدہ نہیں ہونے والا ہے۔ جو اُس نے لکھا وہ ہم 2006ء سے کہہ رہے تھے۔ پاکستان کو امن پسندی کے ساتھ ساتھ اپنے بارے میں جھوٹ بولنے والوں سے ہمیشہ ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ


WhatsApp




متعلقہ خبریں
ملّا عمر، امریکہ اور پاکستان ... مزید پڑھیں
سپاہی چندو بابو لال سے پائلٹ ابھی نندن تک ... مزید پڑھیں
جنوبی ایشیا میں اسرائیلی مداخلت ... مزید پڑھیں
پلوامہ سے ایل او سی۔۔۔عبرتوں کی نئی کتھا ... مزید پڑھیں
انڈیا کو پانی کی جنگ مہنگی پڑے گی ... مزید پڑھیں
محمد بن سلمان نے ولی عہدی تک کا سفر کیسے ... مزید پڑھیں
ساہیوال کا واقعہ: سی ٹی ڈی پنجاب کیا ہے اور ... مزید پڑھیں
امریکی صدر نے افغانستان کی جنگ میں بھارت کے کردار ... مزید پڑھیں
" آپریشن آل آؤٹ "تجزیاتی رپورٹ ... مزید پڑھیں
مقدس مندر میں خواتین داخل‘ تاریخ رقم ، ہنگامے شروع ... مزید پڑھیں
انڈین کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں؟ انڈیا کی ... مزید پڑھیں
مسلمانوں کی خاموشی انڈیا کے مستقبل کے لیے خطرناک ... مزید پڑھیں
طالبان کابل پر قبضے کے لیے تیاری کر چکے ہیں ... مزید پڑھیں
غلط مرد سے محبت: ’پہلے دلت شوہر کو والد نے ... مزید پڑھیں
میکسیکو میں لاپتہ افراد کی لاشیں ڈھونڈتی مائیں ... مزید پڑھیں
افغان مذاکرات میں پاکستان کا کردار ناگزیر کیوں؟ ... مزید پڑھیں
متعلقہ خبریں
بھارت کے میزائل حملے کی دھمکی پر پاکستان کا جواب اور امریکی مداخلت
ملّا عمر، امریکہ اور پاکستان
سپاہی چندو بابو لال سے پائلٹ ابھی نندن تک
جنوبی ایشیا میں اسرائیلی مداخلت
پلوامہ سے ایل او سی۔۔۔عبرتوں کی نئی کتھا
انڈیا کو پانی کی جنگ مہنگی پڑے گی
محمد بن سلمان نے ولی عہدی تک کا سفر کیسے طے کیا اور اب تک ان کی حکومت نے کیا اقدامات کیے ہیں
ساہیوال کا واقعہ: سی ٹی ڈی پنجاب کیا ہے اور کیسے کام کرتا ہے؟
امریکی صدر نے افغانستان کی جنگ میں بھارت کے کردار کا مذاق اڑا دیا
" آپریشن آل آؤٹ "تجزیاتی رپورٹ

مقبول خبریں
غیراخلاقی اشتہارات : آن لائن ٹیکسی سروس کریم کے خلاف درخواست دائر
جیسنڈا آرڈرن کا کرائسٹ چرچ حملے کی تحقیقات کے لیے رائل کمیشن بنانے کا اعلان
ناتواں کندھوں پر بھاری ذمہ داری کا بوجھ : قومی ٹیم آج پریکٹس کا آغاز کرے گی
پی ایس ایل 4؛ شریک پلیئرز کو2 دن آرام کا موقع میسر آ گیا
’مجھے اپنے لبرل اور ماڈرن ہونے پر شرمندگی ہے‘
شاہ سلمان کی آمد ۔۔۔بہار کی آمد
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
آواز اور روشنی کی مدد سے دماغ کی صفائی میں اہم کامیابی ویب ڈیسک بدھ 20 مارچ 2019 شیئر ٹویٹ تبصرے مزید شیئر امریکی جامعات کے ماہرین نے الزائیمرمیں مبتلا چوہوں پر آواز اور روشنی کے تجربات کئے ہیں جس سے حیرت انگیز نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ فوٹو: فائل امریکی جامعات کے ماہرین نے الزائیمرمیں مبتلا چوہوں پر آواز اور روشنی کے تجربات کئے ہیں جس سے حیرت انگیز نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ فوٹو: فائل بوسٹن: ایک نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ روشنی اور آواز سے تحریک دینے سے دماغ سے وہ فاسد مواد خارج ہوجاتا ہے جو الزائیمر کی وجہ بنتا ہے۔ اسی عمل سے دماغی افعال کو درست کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ ہم ایک عرصے سے جانتے ہیں کہ جیسے جیسے دماغ میں بی ٹا ایمائی لوئڈ نامی مادہ جمع ہوتا ہے تو وہ ایک اور زہریلے پروٹین ٹاؤ سے مل کر اعصابی سرگرمیوں کو مزید متاثر کرتا ہے اور یوں الزائیمر جیسی بیماری سر اٹھانے لگتی ہے۔ اب حال ہی میں معلوم ہوا ہے کہ الزائیمر کے شکار مریضوں کی دماغی لہروں میں بھی بے قاعدگی اور خرابی پائی جاتی ہے۔ دماغی خلیات یا نیورونز خاص طرح کی برقی تھرتھراہٹ خارج کرتے ہیں جنہیں دماغی امواج یا brain waves کہا جاتا ہے۔ اس سے قبل تحقیق سے معلوم ہوا تھا کہ الزائیمر کے مریضوں میں سب سے بلند فری کوئنسی والی ’گیما‘ دماغی لہروں میں واضح خلل آتا ہے۔ حالیہ چند برسوں میں کیمبرج اور ایم آئی ٹی کے ماہرین نے ثابت کیا ہے کہ بعض اقسام کی لائٹ تھراپی یا روشنی سے علاج کے بعد الزائیمر کے شکار چوہوں میں گیما لہریں دوبارہ بحال کی جاسکتی ہیں جو ثابت کرتی ہیں کہ دماغ میں بیماری کی وجہ بننے والے بی ٹا ایمائی لوئڈ میں کمی واقع ہورہی ہے۔ اب اسی ٹیم نے بتایا ہے کہ روشنی اور آواز کی مدد سے بعض مریضوں میں دماغی بہتری پیدا کی جاسکتی ہے جس کی تفصیلات جرنل سیل میں شائع ہوئی ہیں۔ ایم آئی ٹی کے پروفیسر لائی ہوائی سائی اور ان کے ساتھیوں نے الزائیمر والے چوہوں کو روزانہ 40 ہرٹز کی روشنی میں ایک گھنٹے تک رکھا۔ اس سے چوہوں میں دماغ کا دشمن بی ٹا ایمائی لوئڈ کم ہوا اور ساتھ ہی زہریلے ٹاؤ پروٹٰین کی مقدار بھی کم ہوئی ۔ اس کے بعد چوہوں کو مسلسل سات روز تک 40 ہرٹز کی آواز ایک گھنٹے تک سنائی گئی تو اس کے بھی اچھے نتائج برآمد ہوئے۔ اس سے نہ صرف دماغ میں آوازوں کے گوشے بلکہ یادداشت کے ایک اہم مرکز ’ہیپوکیمپس‘ سے بھی مضر کیمیکل اور پروٹین میں کمی دیکھی گئی ۔ اسی کے ساتھ دماغ میں خون کا بہاؤ بھی بہت بہتر ہوا جو ایک اضافی فائدہ ہے۔ آواز اور روشنی کی مدد سے دماغ کی صفائی میں اہم کامیابی
وہ خاتون جس کا پیشہ ہی بچے پیدا کرنا ہے
سوشل میڈیا پر 1600 دوست بنائیے اور امتحان میں اے پلس پائیے
سوشل میڈیا پر 1600 دوست بنائیے اور امتحان میں اے پلس پائیے
گوگل کی جانب سے ویڈیو گیم اسٹریمنگ کا باضابطہ اعلان
شرح پیدائش پنجاب میں کتنی ہے اور خیبر پختونخوا میں کتنی؟ اعدادوشمار سامنے آگئے
بیویاں شوہروں کو طلاق دے سکیں گی والا نکاح نامہ زیرغور نہیں، اسلامی نظریاتی کونسل
بھارت کے میزائل حملے کی دھمکی پر پاکستان کا جواب اور امریکی مداخلت
ویڈیو گیلری

آزادی کی تحریکوں کو دبایا تو جا سکتا ہے لیکن ختم نہیں کیا جا سکتا : پاکستانی ہائی کمشنرعبدالباسط

بھارتی اشتعال انگیزی کا ذمہ داری سے جواب دے رہے ہیں ،عاصم باجوہ

پاکستان اورسعودی عرب حقیقی بھائی ہیں،علما اکرام مسلم امت کے اتحاد میں کردار ادا کریں:امام کعبہ

بڈگام میں بھارتی فوج کی فائرنگ، مزید 8 کشمیری شہید، پاکستان کا شدید احتجاج

فرانس میں فائرنگ کرکے 3 افراد کوقتل کرنے والے حملہ آورکی ہلاکت کی تصدیق

سپورٹس
ناتواں کندھوں پر بھاری ذمہ داری کا بوجھ : قومی ٹیم آج پریکٹس کا آغاز کرے گی
پی ایس ایل4 کا میلہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی پہلی ٹائٹل فتح مزید پڑھیں ...
ویب ٹی وی
ٹورازم
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔ posted by Abdur مزید پڑھیں ...
انٹرٹینمینٹ
’مجھے اپنے لبرل اور ماڈرن ہونے پر شرمندگی ہے‘
لاہور (ویب ڈیسک)) پاکستان میں عالمی یوم خواتین کے موقع پر ہونے مزید پڑھیں ...
مذہب
بیویاں شوہروں کو طلاق دے سکیں گی والا نکاح نامہ زیرغور نہیں، اسلامی نظریاتی کونسل
اسلام آباد(ویب ڈیسک) اسلامی نظریاتی کونسل کا کہنا ہے کہ مزید پڑھیں ...
بزنس
سعودی عرب کی پاکستان کو 2 پاور پلانٹس خریدنے کی منہ مانگی پیشکش
لاہور(ویب ڈیسک) سعودی عرب نے پنجاب کے دو پاور پلانٹس بغیر بولی مزید پڑھیں ...