اردو | العربیہ | English



اردو | العربیہ | English

سعودی اور اماراتی وزرائے خارجہ کس مشن پر پاکستان آئے؟

اقلیتوں کا عالمی دن۔۔۔تجزیہ


WhatsApp
292



18دسمبر کو عالمی برادری اقلیتوں کے عالمی دن کے طور پرمناتی ہے

تحریر : جمیل راہی

انگریزی زبان میں اقلیت کو Minorityکہا جاتا ہے جب کہ اکثریت کو Majorityکہا جاتا ہے ،عرفِ عام میں کسی بھی ریاست میں رہنے والی وہ Comunity جو آبائی اور جغرافیائی ، مذہبی اور سیاسی لحاظ سے تعداد میں غالب ہو اکثریت کہلاتی ہے اور دیگر تمام کمیونٹیزاقلیت قرار پاتی ہیں جن کے حقوق و فرائض ، مراعات،تحفظ ،سیاسی ،معاشی و مذہبی حقوق اکثریت کی مرہونِ منت ہوتے ہیں البتہ اقلیت و اکثریت کا پیمانہ زبان و مکان سے تبدیل ہوتا رہتا ہے ۔

یہ باہم معکوس ہیں ، اقلیتوں کا تعلق ایک ہی ملک میں مختلف مذاہب سے ہو سکتا ہے، اس لیے کوئی قوم محض مذہبی لحاظ سے اقلیت خیال نہیں کی جا سکتی۔ یہی وہ غلط عقیدہ ہے جس نے اقوامِ عالم کے لیے بد امنی ، خلفشار اور فساد کو جنم دے رکھا ہے، اسی طرح دوسری وجہ سرحدات کا تصور ہے،سرمایہ دارانہ لہر نے بیسیویں صدی میں نو آبادیاتی نظام کو جنم دیا ۔ کرنسی اور سرحدات نے بھی کرہ ارض پر بسنے والی انسانیت کو اقلیت اور اکثریت میں تقسیم کر رکھا ہے ،بنیادی طور پریہ تصورات انسانی زندگی میں منفی رویوں اور عالمی امن کی تباہ کاریوں کا باعث بھی بنتے ہیں۔

18دسمبر کو عالمی برادری اقلیتوں کے عالمی دن کے طور پرمناتی ہے۔ کس قدر بدقسمتی کی بات ہے تمام آفاقی مذاہب انسانی مساوات ، انصاف ،امن اور خیر سگالی کے بنیادی تصورات پر متفق ہیں لیکن پھر بھی مذہب کی بنیاد پر اقلیتوں کے لفظ کی بنیاد رکھی گئی ہے۔

اس دن کو اقلیتوں کے حقوق و مراعات کے تحفظ کے حوالے سے منایا جاتا ہے جب کہ دوسری طرف اقوامِ متحدہ کی تمام تر ضمانتوں کی دھجیاں بکھیر دی جاتی ہیں اور اقلیتوں کے حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں نہ صرف جاری ہیں بلکہ ان میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ تیسری عالمی جنگ روکنے کے لیے بنایا جانیو الا ادارہ اپنے مقاصد میں ناکام دکھائی دیتا ہے اگر عالمی حالات پر طائرانہ نظر ڈالی جائے تو ہر سو اقلیتوں کو کچلنے کی وارداتیں دکھائی دیں گی۔
کشمیر کی مقبوضہ وادی سے لے کر ، فلسطین میں اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے سے لے کر، شمالی امریکہ، افریقی ممالک کی ریاستوں تک اقلیتی کمیونٹیاں ہی زیر بار نظر آتی ہیں۔

اس دن کو مناتے ہوئے ضرورت اس امر کی ہے کہ اقلیتوں کے تصور کو وسیع معنوں میں جانچا جائے۔ ہر ملک میں اقلیتوں کے حقوق کا باب شامل ہے لیکن شکایتوں کے انبار لگے ہیں۔۔۔ہر ملک نے اقلیتوں کے حقوق عطا کرنے میں مساویانہ رویہ اختیا ر کر رکھا ہے، امتیازی سلوک سے تحفظ دے رکھا ہے،مذہبی آزادی کی ضمانت بخشی گئی ہے ، سیاسی حقوق کی آئینی ذمہ داری لی گئی ہے۔مثلاً ہندوستان کے قانون1992میں’’ نیشنل کمیشن برائے اقلیت‘‘میں چھ اقلیتوں(سکھ،مسلمان،عیسائی،بدھ مت، پارسیوں،جین مت ) کو گذٹ میں رکھا گیا ہے لیکن دنیا بھر میں سب سے زیادہ اقلیتی حقوق کی پامالی اسی سرزمین پر کی جا رہی ہے۔





1984ء میں سکھ اقلیت کو کچل کر خالصتان تحریک کا گلہ دبایا گیا ،1947ء میں وادی کشمیر میں جاری تکمیلِ پاکستان کی تحریک روکتے ہوئے 7لاکھ فوج کشمیر میں برسرِ پیکار ہے۔یو این کی قراردادوں کی دھجیاں بکھیر دی جاتی ہیں لیکن ’’ویٹو‘‘ کی قوت ان کے ساتھ ہے ، عالمی برادری کشمیری قوم کو حقِ خود ارادیت دلانے سے قاصر ہے، ہزاروں گھر،مساجد،سکولز،عبادت گاہیں مسمار کی جا چکی ہیں ، تشدد ،ہلاکت اور غیر قانونی حراست معمول بن چکی ہے لیکن دنیانہتے کشمیری حریت پسندوں کا تماشہ دیکھ رہی ہے۔




اسرائیلی ساختہ’پیلٹ گن‘‘ کے استعمال سے اس قوم کو اندھا کیا جار ہاہے، عالمی حقوق کی تمام معتبر تنظیمیں اور ادارے مقبوضہ وادی کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی پر اپنی رپورٹس متعلقہ عالمی اداروں تک پہنچاتے رہتے ہیں لیکن گذشتہ 71برس سے بات اس سے آگے نہیں بڑھی۔ اس کے علاوہ ’’ہندو توا ‘‘ تحریک زوروں پر ہے ، جبری طور پر لوگوں کو مذہب تبدیلی پر مجبور کیا جار ہا ہے،’’گاؤ کشی‘‘ کو بنیاد بنا کر اقلیتوں کی زندگیاں خطرے میں ڈالی جارہی ہیں محض الزام لگا کر ہجوم کی شکل میں اقلیتوں کے گھروں پر حملے کیے جاتے ہیں اور ان کو جان سے مار دیا جاتا ہے۔ اب تو یہاں تک کہا جانے لگا ہے کہ’’ہندوستان میں اب گائے ہی محفوظ ہے‘‘ ایک جانور کو مقدس قرار دے کر انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ہے، اس ظالمانہ روش کا شکار دیگر اقلیتی اقوام کے مقابل زیادہ شکار مسلمان ہی بن رہے ہیں،متعد د ریاستوں میں گائے اور بھینس کے گوشت پر آئینی طور پر نہ صرف پابندی ہے بلکہ’’گاؤکشی‘‘ کی سزا کو دس برس تا سزائے موت تک بڑھایا جا چکا ہے۔ انسانی حقوق کی پامالی کی اس سے بدترین شکل اور کیا ہو سکتی ہے؟؟ کشمیر سمیت ملک کے دیگر علاقوں سے اجتماعی قبریں دریافت ہو رہی ہیں،بابری مسجد کو رام مندر بنانے کی تحریک ہزاروں بے گناہوں کی موت کا سبب بن چکی ہے، ملک کے متعدد علاقوں سے چرچ جلائے جانے اور پادریوں کے قتل اور ان پر چھوٹے مقدمات قائم کرنا معمول بنتا جار ہا ہے، اس کے مقابل پاکستان میں آئین 1973ء اقلیتوں کو ہر طرح کی مذہبی ،سیاسی،معاشی اور معاشرتی آزادیوں کی ضمانت دیتا ہے۔ دنیا بھر کے اقلیتوں کے حقوق کی آواز بلند کرنے کے ساتھ ساتھ ہمسائیہ ملک ہندوستان میں اقلیتی حقوق کی پامالی اور غیر انسانی رویوں کی نہ صرف مخالفت کی جاتی ہے بلکہ اقلیتوں کے حقوق کی آواز بلند کرنے کے ساتھ ساتھ کشمیری قوم کی علیحدگی کی تحریک کی اصولی طور پر اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں اخلاقی و سیاسی حمایت کی جاتی ہے۔



اسکی تازہ ترین مثال ہندوستان کی سکھ اقلیت کے لیے نارووال بارڈر پر بابا جی گرو نانک جی کی آخری آرام گاہ’’دربار صاحب بابا جی گرونانک‘‘ کرتار پور راہداری کھول دی گئی ہے تاکہ دنیا بھر کے کروڑوں سکھ اس کی یاترا کر سکیں۔ دنیا بھر میں اس یک طرفہ امن کے قیام کی پہل کرنے کو سراہا جا رہا ہے اور اس کی اقلیت پاکستانی قوم کے لیے نیک اور تشکرانہ جذبات کا اظہار کر رہی ہے، اس سے قبل بھی سرحدوں کے دونوں جانب اقلیتی حقوق کی جنگ لڑنے اور قیامِ امن کی جدو جہد میں شامل لوگ امن کی آشا، باہمی تجارت ، سمجھوتہ ایکسپریس ، امن بس اور دیگر کئی منصوبوں پر کام کر چکے ہیں ۔ پاکستان میں بسنے والی تمام اقلیتیں مجموعی طور پر مطمئن و شاداں ہیں، عیسائی معتبر مبلغین تو پاکستان کو تبلیغی مشن کے حوالے سے دنیا کا سب سے زیادہ امن پسند ملک قرار دیتے ہیں،عالمی رپورٹس بھی اس کی تائید کرتی ہیں ماسوائے امریکہ کے جس کے مقاصد سیاسی اور جغرافیائی ہیں، وہ خود افغانستان میں انسانی حقوق کے پرخچے اُڑا رہا ہے ، پاکستان میں عیسائی مشن بلا روک ٹوک تبلیغی پروگرامات منعقد کرتے ہیں، شفائیہ اجتماع کرتے ہیں، اپنی مذہبی رسوم ادا کرتے ہیں جن پر کوئی پابندی نہیں۔اگر چہ اقلیتوں کو بعض حوالوں سے پاکستانی معاشرے کے کچھ انتہا پسند گروہوں سے شکایات بھی ہیں لیکن حالیہ آسیہ مسیح کیس میں جس طرح پاکستانی قوم کے باشعور طبقے، عساکرِ پاکستان ، حکومت، بیوروکریسی ، میڈیا این جی اوز اور عدلیہ نے جس یک جہتی اور انصاف و مساوات کا مظاہرہ کیا اس نے عالمی برادری کو پاکستانی ریاست بارے پھیلائے جانے والے منفی پراپیگنڈہ کی بنیاد پر پائے جانے والے منفی تاثر کو زائل کیا ہے۔



اقلیتی حقوق کی حفاظت کی ایسی کوئی نظیر آج کی بیدار دنیا میں اور کہیں نظر نہیں آتی جس میں پوری قوم ایک صفحہ پر ایک زبان و قالب کھڑی نظر آئی، اس سے عالمی برادری میں اقلیتی حقوق کے حوالے سے پاکستانی قوم کا گراف بہت بلند ہوا ہے اور اُن قوتوں کو دندان شکن جواب ملا ہے جو پاکستا ن کو ایک ناکام ریاست کے طور پر بدنام کرنے کی ناکام سازشوں میں مصروف ہیں، انسانی حقوق کی پاسداری اور دہشت گردی کے خاتمہ کی جنگ میں سب سے زیادہ قربانی پاکستانی قوم نے دی ہے۔ کرتار پور راہداری کھولنے اور آسیہ بی بی کو انصاف دلانے کے دو واقعات سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں ۔ اقوامِ متحدہ کے فورم پر ایسی قرارداد کا پاس کیا جانا لازمی ہو چکا ہے جس میں اس ریاست کے شاندار کردار کو سراہا جائے چونکہ دنیا آج اقلیتوں کا عالمی دن منا رہی ہے۔ اس موقع پر عالمی برادری کے ذمہ یہ قرض بنتا ہے کہ دہشت گردی کی جنگ میں عظیم قربانیوں اور انسانی حقوق کی پاسداری سمیت اقلیتی حقوق کی جنگ جیتنے کو تسلیم کیا جائے اس جنگ میں ہر اول دستہ پاکستانی فوج ہے عالمی برادری اقوامِ متحدہ کے فورم پر اس کی لازوال خدمات کو قبول کرتے ہوئے تہنیتی قرار دار پاس کر ے ۔ یو این اوکے پاس اس سے بہتر موقع اور کوئی نہیں ہو سکتا۔







WhatsApp




متعلقہ خبریں
ٹیم اور کپتان ... مزید پڑھیں
بھٹو کیوں زندہ ہے؟ ... مزید پڑھیں
شاہ سلمان کی آمد ۔۔۔بہار کی آمد ... مزید پڑھیں
افغان باقی، کہسار باقی ... مزید پڑھیں
اقلیتوں کا عالمی دن۔۔۔تجزیہ ... مزید پڑھیں
ارض حرمین پر منڈلاتی گھٹائیں ... مزید پڑھیں
سانپ اور سیڑھی کا کھیل ... مزید پڑھیں
اسرائیلی تاریخ ... مزید پڑھیں
آسیہ" نامی عیسائی عورت اور ہمارا قانون ... مزید پڑھیں
ارضِ حرمین پر منڈلاتی گھٹائیں ... مزید پڑھیں
حکمرانوں کے تابناک اور روشن کردار ... مزید پڑھیں
فاطمہ بنت پاکستان کا مقدمہ ... مزید پڑھیں
یہ رہی تمہاری تلاش ... مزید پڑھیں
اقوام متحدہ کے اجلاس کی روداد ... مزید پڑھیں
القدس اپنے محافظ کی تلاش میں ... مزید پڑھیں
یوم یکجہتی کشمیر کا تاریخی تعاقب و اہمیت ... مزید پڑھیں
متعلقہ خبریں
بلوچستان سے خلائی سائینسدان کا ظہور
ٹیم اور کپتان
بھٹو کیوں زندہ ہے؟
شاہ سلمان کی آمد ۔۔۔بہار کی آمد
افغان باقی، کہسار باقی
اقلیتوں کا عالمی دن۔۔۔تجزیہ
ارض حرمین پر منڈلاتی گھٹائیں
سانپ اور سیڑھی کا کھیل
اسرائیلی تاریخ
آسیہ" نامی عیسائی عورت اور ہمارا قانون

مقبول خبریں
بھارت کو خوفزدہ کرنے والی پاکستانی آبدوز کی پراسرار تباہی کی کہانی
سعودی اور اماراتی وزرائے خارجہ کس مشن پر پاکستان آئے؟
مصباح الحق کے چیک پر بڑی رقم لکھنے میں بورڈ ہچکچاہٹ کا شکار
پی ایس ایل 4؛ شریک پلیئرز کو2 دن آرام کا موقع میسر آ گیا
وینا اداکاری سے گلوکاری کا سفر
بلوچستان سے خلائی سائینسدان کا ظہور
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
پانی میں نورو وائرس شناخت کرنے والی اسمارٹ فون ایپ
’یونیورسٹی تو کیا، پاکستان کی تاریخ میں کسی نے اتنے میڈل نہیں لیے‘
نیکی کا انعام: کروڑوں روپے کی لاٹری نکل آئی!
نیکی کا انعام: کروڑوں روپے کی لاٹری نکل آئی!
نوکیا نے نیے اسمارٹ فونز متعارف کروا دیے
شرح پیدائش پنجاب میں کتنی ہے اور خیبر پختونخوا میں کتنی؟ اعدادوشمار سامنے آگئے
بیویاں شوہروں کو طلاق دے سکیں گی والا نکاح نامہ زیرغور نہیں، اسلامی نظریاتی کونسل
’’بھارتی سپریم کورٹ آرٹیکل 370 ختم کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے‘‘ ، اے جی نورانی
ویڈیو گیلری

آزادی کی تحریکوں کو دبایا تو جا سکتا ہے لیکن ختم نہیں کیا جا سکتا : پاکستانی ہائی کمشنرعبدالباسط

بھارتی اشتعال انگیزی کا ذمہ داری سے جواب دے رہے ہیں ،عاصم باجوہ

پاکستان اورسعودی عرب حقیقی بھائی ہیں،علما اکرام مسلم امت کے اتحاد میں کردار ادا کریں:امام کعبہ

بڈگام میں بھارتی فوج کی فائرنگ، مزید 8 کشمیری شہید، پاکستان کا شدید احتجاج

فرانس میں فائرنگ کرکے 3 افراد کوقتل کرنے والے حملہ آورکی ہلاکت کی تصدیق

سپورٹس
مصباح الحق کے چیک پر بڑی رقم لکھنے میں بورڈ ہچکچاہٹ کا شکار
کراچی(ویب ڈیسک) سابق کپتان پی ایس ایل میں ذمہ داری نہ نبھانے مزید پڑھیں ...
ویب ٹی وی
ٹورازم
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔ posted by Abdur مزید پڑھیں ...
انٹرٹینمینٹ
وینا اداکاری سے گلوکاری کا سفر
وینا ملک کو زیادہ تر لوگ بطور اداکارہ و ماڈل جانتے ہیں مزید پڑھیں ...
مذہب
بیویاں شوہروں کو طلاق دے سکیں گی والا نکاح نامہ زیرغور نہیں، اسلامی نظریاتی کونسل
اسلام آباد(ویب ڈیسک) اسلامی نظریاتی کونسل کا کہنا ہے کہ مزید پڑھیں ...
بزنس
10 بینکوں کو80 کروڑ روپے سے زائد جرمانہ
10 بینکوں کو80 کروڑ روپے سے زائد جرمانہ، کون کونسے بینک مزید پڑھیں ...