اردو | العربیہ | English



اردو | العربیہ | English

یمن میں فریقین کو جنگ بندی کے لیے اقوام متحدہ کی تنبیہ

آئیڈیاز 2018 اسپیشل: پاکستان کی دفاعی پیداوار


WhatsApp
43



آئیڈیاز 2018 اسپیشل: پاکستان کی دفاعی پیداوار

پاکستان میں نوے کے دہائی کو ملک کےلیے تاریک باب تصور کیا جا تا ہے۔ اس دور میں پاکستان میں سیاسی حکومتیں قائم کرنے کی کوشش کی گئی مگر ہر مرتبہ یہ حکومتیں اپنی مدت سے پہلے ہی ختم ہوتی رہیں۔ اس دہائی میں امریکا کی پاکستان سے ناراضگی اتنی ہی عروج پر تھی جتنی آج کل ہے۔ نوے کے دہائی میں امریکا اور بھارت کے درمیان سیاسی اور سفارتی قربت میں اضافہ ہوا تو بھارت نواز امریکی سینیٹر پریسلر نے ایک ترمیم کے ذریعے پاکستان کو جاری فوجی معاونت بند کردی؛ اور پاکستان کو فروخت کیے گئے ایف 16 لڑاکا طیاروں کو جو ڈیلیوری کےلیے تیار تھے، اچانک روک لیا گیا۔ ان طیاروں کی قیمت پاکستان نے ادا کربھی کردی تھی؛ اور ان طیاروں کے بجائے امریکا نے اپنی ناقص گندم پاکستان کو ارسال کردی۔ سرحد کی دوسری طرف بھارت تیزی سے اپنی دفاعی صلاحیت کو بڑھا رہا تھا اور بھارت نے روایتی جنگی ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ میزائیل ٹیکنالوجی کو فروغ دینا شروع کردیا تھا جس سے پاکستان کو دفاع کے لحاظ سے تشویش لاحق ہوگئی تھی۔

پاکستان میں غیر مستحکم سیاسی حکومتوں نے تمام تر تلاطم کے باوجود ایسی پالیسی مرتب کی جس سے پاکستان کی دفاعی شعبے میں خود انحصاری میں اضافہ ہونے لگا۔ پاکستان نے اپنی ملکی دفاعی ضروریات پوری کرنے کےلیے مقامی صنعتوں کو فروغ دینا شروع کیا۔ اس کی بنیاد ’’ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا‘‘ کو مضبوط تر بنانے سے ڈالی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان نے دفاعی شعبے میں متعدد اہم منصوبوں پر کام شروع کردیا۔ چند ہی سال میں پاکستان نے مقامی ذرائع سے مین بیٹل ٹینک الخالد، لائٹ بیٹل ٹینک الضرار، بکتر بند گاڑیاں تیار کرلیں۔

ایسے میں دوست ملکوں کے تعاون سے پاکستان نے میزائل ٹیکنالوجی پر بھی توجہ دی اور چند ہی سال میں بہتر میزائل متعارف کرائے جن سے بھارت کی خطے میں عسکری برتری تقریباً مساوی ہوگئی۔ اس کے علاوہ پاکستان نے دفاعی تربیت، الیکٹرونک اور ڈیجیٹل وار فیئر، سمیولیٹرز کے ساتھ ساتھ فضائی جنگ کے آلات کی تیار میں نمایاں اہداف حاصل کیے ہیں۔

امریکا کا خیال تھا کہ پاکستان کو پابندیوں میں جکڑ کر اور بھارت کو کھلی چھوٹ دے کر وہ خطے میں طاقت کے توازن کو اپنے سیاسی اور سفارتی اہداف کے حصول میں کامیابی سے استعمال کرلے گا۔ مگر پاکستانی قوم کی بحران سے نمٹنے کی صلاحیت نے امریکا کے اس خواب کو چکناچور کردیا۔

پاکستان نے نوے کی دہائی میں حاصل کرنے والی دفاعی صلاحیت کو دنیا پر اجاگر کرنے کےلیے ’’ڈیپو‘‘ (DEPO) یا ’’ڈیفنس ایکسپورٹ پروموشن آرگنائزیشن‘‘ قائم کی، جس نے نہ صرف بیرون ملک ’’میڈ ان پاکستان‘‘ دفاعی مصنوعات کو متعارف کرایا بلکہ پاکستان میں تیار ہونے والے اسلحے کی نمائش ’’آئیڈیاز‘‘ بھی منعقد کرنا شروع کی۔ اس نمائش کا مقصد دفاعی شعبے میں پاکستان کی پیداواری صلاحیت سے دنیا کو روشناس کرانا تھا اور اسلحے کی عالمی تجارت میں پاکستان کو ایک مقام دلانا تھا۔ سال 2000 سے شروع ہونے والی ’’عالمی دفاعی نمائش و سیمینار‘‘ (آئیڈیاز) کا سفر اب تک جاری ہے؛ اور اس سال آئیڈیاز 2018 منعقد کی جارہی ہے جو اپنے سلسلے کی دسویں نمائش ہے۔

آئیڈیاز 2018 پر نظر ڈالی جائے تو گزشتہ دو دہائیوں میں یہ نمائش کئی گنا بڑھ چکی ہے اور عالمی دفاعی نمائشوں میں اس نے اپنی ایک جگہ بنالی ہے۔ 2000 میں یہ نمائش ایکسپو سینٹر کے چار ہالز میں منعقد ہوئی تھی جس میں مندوبین کی تعداد ایک سو بھی کم تھی۔ مگر اس مرتبہ نمائش ایکسپو سینٹر کے چھ ہالز کے علاوہ تین عارضی ہالز تک پھیل چکی ہے۔ آئیڈیاز میں شرکت کےلیے 50 ملکوں کے 260 سے زائد اعلی سطحی مندوبین شرکت کررہے ہیں جن میں مختلف ملکوں کے وزرائے دفاع، وزرائے دفاعی پیداوار، سیکریٹری دفاع، جوائنٹ چیفس اور آرمی، نیوی اور ایئرفورس کے سربراہاں شامل ہیں۔ اس بار نمائش ہالز کی تعداد بڑھا کر 9 کردی گئی ہے۔

پاکستان کی جانب سے اپنے روایتی ہتھیار بشمول میزائیل، ٹینک، بکتر بند گاڑیاں، اینٹی مائننگ آلات، میزائل بوٹس اور سب سے بڑھ کر جے ایف 17 تھنڈر کو نمائش میں پیش کیا جارہا ہے۔ آپ کہیں گے کہ ان جنگی آلات کی تو پاکستان پہلے بھی نمائش کرتا رہا ہے۔ یہی سوال میں نے گزشتہ نمائش میں ایک اعلی فوجی افسر سے کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجی ساز و سامان جو آئیڈیاز 2000 میں رکھا گیا تھا اب بھی وہی ہے، مگر اس میں بہت سی تبدیلیاں کردی گئی ہیں۔ جنگی آلات کے ڈیزائین ہر سال کی گاڑی کی طرح تبدیل تو نہیں کیے جاسکتے ہی۔ مگر ان کی فتار، صلاحیت، گن کی رینج، استعمال ہونے والے بارود کی صلاحیت، اور متعدد شعبوں میں تحقیق کے ساتھ ساتھ تبدیلی کی جاتی رہی ہے۔ پرانا اور نیا ٹینک بظاہر ایک جیسا لگے گا مگر ان دونوں کی کارکردگی میں بہت فرق ہوگا۔ پاکستان میں بننے والی دفاعی مصنوعات پر مسلسل تحقیق اور انہیں خوب تر بنانے (ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ) کا عمل جاری ہے۔ امریکا نے بھی ایف 16 طیارہ ستر کی دہائی میں بنایا تھا جسے بتدریج اپ گریڈ کیا گیا ہے۔

مگر ایسا نہیں کہ پاکستان نے کوئی دفاعی ٹیکنالوجی اس عرصے میں تیار ہی نہیں کی۔ پاکستان نے نگرانی کےلیے بغیر پائلٹ کے طیاروں پر تحقیق کرکے اچھے یو اے ویز تیار کر لیے ہیں۔ اس مرتبہ نمائش میں بغر پائلٹ کے نگرانی کا طیارہ (جسے فوجی زبان میں یو اے وی اور عام فہم طور پر ڈرون کہتے ہیں) نمائش میں پیش کیا جارہا ہے۔ جی آئی ڈی ایس کا تیار کردہ براق اور عقاب پیش کیے جائیں گے۔ ان کے علاوہ نگرانی، تربیت اور ڈیجیٹل وارفیئر کے متعدد نئے آلات بھی نمائش میں رکھے جائیں گے۔

ڈیپو کے ایئر کموڈور طاہر کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اپنے مشاق طیارے ترکی، قطر، آذربائیجان کو فروخت کیے ہیں جبکہ جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی خریداری میں نائیجریا کی دلچسپی ہے۔ جلد اس پر بھی معاہدہ ہونے کا امکا ن ہے۔

ڈیپو کے ڈائریکٹر کو آرڈینیشن بریگیڈیئروحید کا کہنا ہے کہ بیرون ملک اسلحے کی فروخت ایک مشکل، طویل اورصبر آزما کا م ہے۔ ان معاہدوں کو پختہ ہونے میں کئی سال لگ جاتے ہیں۔ اب تک پاکستان کی دفاعی مصنوعات کی برآمدات 30 کروڑ ڈالر سے تجاوز کرچکی ہیں اور متعدد ملکوں کی جانب سے اس حوالے سے دلچسپی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ پاکستان نے آئیڈیاز کے مسلسل انعقاد سے اسلحہ فروخت کرنے والے ایک اہم ملک کا درجہ حاصل کرلیا ہے۔

اس وقت دنیا میں اسلحے کی تجارت میں تیزی اضافہ ہورہا ہے۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس اینڈ ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے مطابق دنیا میں سالانہ 100 ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت ہوتا ہے۔ گزشتہ پانچ سال میں اسلحے کی عالمی تجارت میں 10 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اسلحے کی خریداری کر کون رہا ہے؟ خطے میں دیکھا جائے تو ایشیا، خلیجی ممالک اور اوشیانا خطے کے ممالک، اسلحے کی خریداری بڑھا رہے ہیں جبکہ امریکا، یورپ اور افریقہ میں اسلحے کی فروخت کم ہورہی ہے۔ اسلحہ فروخت کرنے والے دس بڑے ملکوں میں ہالینڈ، اٹلی، اسرائیل، اسپین، برطانیہ، چین، جرمنی، فرانس، روس اور امریکا شامل ہیں۔ ایشیائی خطے میں بھارت کے جنگی جنون کی وجہ سے پاکستان سمیت تمام بھارتی ہمسائے اپنی عسکری قوت بڑھا رہے ہیں۔ یمن اور شام میں جنگی حالات بھی اسلحے کی خریداری کا اہم سبب ہیں۔اب پاکستان ایسے خطے میں موجود ہے جہاں امریکی اثر و نفوذ کی وجہ سے عسکری تصادم کا خطرہ موجود ہے۔

جیسا کہ اپنی تحریر کا آغاز نوے کی دہائی میں پاکستان کو حاصل ہونے والے اسلحہ سازی کی صلاحیت کا ذکر کیا تھا۔ وہ بھی ایک مشکل صورتحال سے نکلنے کی کوشش تھی۔ اسی طرح جب نئی صدی کے آغاز پر پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دھکیل دیا گیا تو پاکستان نے جس مہارت سے اس پر قابو پایا، وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ تاریخ انسانی میں اس طرح کی جنگ میں بہت کم ملک ہی کامیاب ہوسکے ہیں۔ یہ جنگ کیوں شروع ہوئی اور کیوں ہم پر مسلط ہوئی؟ یہ ایک الگ بحث ہے جس پر بات ہونی چاہیے۔ مگر پاکستان نے جس کامیابی سے اس جنگ میں نتائج حاصل کیے، وہ بھی دنیا کو بتانا ضروری ہے۔ سابق ایئر چیف سہیل امان نے جب پی اے ایف میوزیم میں پاکستان ایئرفورس کے شہداء کی یادگار کا افتتاح کیا تھا، اس موقع پر بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ ہم پر ’’اے سمٹرک وار‘‘ (asymmetric war) مسلط کردی گئی ہے اور اس جنگ کو کیسے لڑنا ہے، یہ ہمیں کوئی سکھاتا بھی نہیں۔ پاکستان نے اپنے تجربوں سے یہ جنگ لڑنا سیکھا ہے۔ اور اب پاکستان نہ صرف سرحدی دفاع بلکہ دہشت گردی اور شورش سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت بھی حاصل کر چکا ہے۔ پاکستان کو دفاعی آلات کی فروخت کے ساتھ ساتھ اپنی اس صلاحیت کو بھی اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔

ایک چینی جنرل اور فلسفی سون زُو (Sun Tzu) نے تقریباً 5000 سال قبل جنگی حکمت عملی کے بارے میں ایک تفصیلی کتاب ’’دی آرٹ آف وار‘‘ تحریر کی تھی۔ اسی فلسفے کی بنیاد پر آج بھی جنگی حکمت عملی کے ساتھ ساتھ کاروباری حکمت عملی بھی مرتب کی جاتی ہے اور دنیا میں جنگ کے حوالے سے ایک بڑا لٹریچر بھی تیار ہوگیا ہے جس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

آئیڈیاز 2018 کی خاص بات سروسز چیفس کانفرنس کا انعقاد بھی ہے۔ جوائنٹ چیف آف اسٹاف تو نمائش کے سیمینار سے خطاب کریں گے، ان کے علاوہ سروسز چیفس کانفرنس میں پاکستان آرمی، نیوی اور ایئرفورس کے سربراہان بھی اپنی اپنی افواج کی صلاحیت اور دیگر موضوعات (بشمول دہشت گردی کے خلاف جنگ، اربن وارفیئر اور سرحدوں پر لڑائی) پر بھی مقالے پیش کیے جائیں گے۔

اس طرح پاکستان نہ صرف دفاعی آلات کی برآمد بلکہ دفاع سے متعلق فلسفے اور اسٹریٹجی کو بھی فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

بشکریہ : راجہ کامران
























WhatsApp




متعلقہ خبریں
ہم سرسری سوچ والے ... مزید پڑھیں
بھارت میں چنگاری ،، کرتارپور راہداری ... مزید پڑھیں
آئیڈیاز 2018 اسپیشل: پاکستان کی دفاعی پیداوار ... مزید پڑھیں
ممبئی حملوں کا ڈرامہ وطن عزیز پاکستان، فوج اور ... مزید پڑھیں
بدلتے ’’ورلڈ آرڈر‘‘ میں پاکستان کا مقام ... مزید پڑھیں
اسرائیل نامنظور کیوں؟ ... مزید پڑھیں
بھارتی فوج میں خواتین کی بطور سیکس ورکر بھرتی کا ... مزید پڑھیں
مولانا سمیع الحق کی سیاسی و دینی خدمات پر ایک ... مزید پڑھیں
آسیہ بی بی کی رہائی: اسلامی انصاف کی خوش آئند ... مزید پڑھیں
جدید دور کی سفاک سچائی افغانستان میں خون سستا پانی ... مزید پڑھیں
کشمیر پر قبضے کا نیا پلان ... مزید پڑھیں
عورت کی آزادی : عزت یا ذلت؟ ... مزید پڑھیں
یہ کیسی تبدیلی ہے؟ ... مزید پڑھیں
شاباش چیف جسٹس ... مزید پڑھیں
حِجاب اور عبایا؛ پردہ یا فیشن؟ ... مزید پڑھیں
عورت کی آزادی یا عورت کی تباہی؟ ... مزید پڑھیں
متعلقہ خبریں
عدالتی نظام کو اوورہالنگ کی ضرورت ہے
ہم سرسری سوچ والے
بھارت میں چنگاری ،، کرتارپور راہداری
آئیڈیاز 2018 اسپیشل: پاکستان کی دفاعی پیداوار
ممبئی حملوں کا ڈرامہ وطن عزیز پاکستان، فوج اور آئی ایس آئی کو بدنام کرنے کیلئے رچایا گیا :ہوشربا انکشافات“
بدلتے ’’ورلڈ آرڈر‘‘ میں پاکستان کا مقام
اسرائیل نامنظور کیوں؟
بھارتی فوج میں خواتین کی بطور سیکس ورکر بھرتی کا انکشاف
مولانا سمیع الحق کی سیاسی و دینی خدمات پر ایک نظر
آسیہ بی بی کی رہائی: اسلامی انصاف کی خوش آئند تصویر

مقبول خبریں
نیب جیسا ہے ویسا ہی رہنا چاہیے ہم بھگت چکے باقی بھی بھگتیں، نواز شریف
یمن میں فریقین کو جنگ بندی کے لیے اقوام متحدہ کی تنبیہ
یاسر شاہ نے ٹیسٹ کرکٹ کا 82 سالہ ورلڈ ریکارڈ توڑدیا
پاکستان نے پہلے ٹی ٹوئنٹی میں ویسٹ انڈیز کو 9 وکٹوں سے شکست دے دی
ایمن اور منیب نے شادی کی معدوم ہوتی فضول رسمیں ایک بار پھر زندہ کردیں
ارض حرمین پر منڈلاتی گھٹائیں
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
ایک دن ورزش کے اثرات کئی دن تک برقرار رہتے ہیں
کاسمیٹک سرجری کے شوق نے خاتون کی جان لے لی
صرف دو ڈالر کی چوری کے سراغ کے لیے پولیس نے 600 ڈالر خرچ کردیئے
صرف دو ڈالر کی چوری کے سراغ کے لیے پولیس نے 600 ڈالر خرچ کردیئے
چین نے آگ میں پھنسے لوگوں کو بچانے والا خود کار ڈرون ڈیزائن کرلیا
شرح پیدائش پنجاب میں کتنی ہے اور خیبر پختونخوا میں کتنی؟ اعدادوشمار سامنے آگئے
بیویاں شوہروں کو طلاق دے سکیں گی والا نکاح نامہ زیرغور نہیں، اسلامی نظریاتی کونسل
عدالتی نظام کو اوورہالنگ کی ضرورت ہے
ویڈیو گیلری

آزادی کی تحریکوں کو دبایا تو جا سکتا ہے لیکن ختم نہیں کیا جا سکتا : پاکستانی ہائی کمشنرعبدالباسط

بھارتی اشتعال انگیزی کا ذمہ داری سے جواب دے رہے ہیں ،عاصم باجوہ

پاکستان اورسعودی عرب حقیقی بھائی ہیں،علما اکرام مسلم امت کے اتحاد میں کردار ادا کریں:امام کعبہ

بڈگام میں بھارتی فوج کی فائرنگ، مزید 8 کشمیری شہید، پاکستان کا شدید احتجاج

فرانس میں تیز رفتار گاڑی فوجیوں پر چڑھ دوڑی، 6 زخمی

سپورٹس
یاسر شاہ نے ٹیسٹ کرکٹ کا 82 سالہ ورلڈ ریکارڈ توڑدیا
ابوظہبی(ویب ڈیسک) لیگ اسپنر یاسر شاہ نے نیوزی لینڈ کے خلاف مزید پڑھیں ...
ویب ٹی وی
ٹورازم
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔ posted by Abdur مزید پڑھیں ...
انٹرٹینمینٹ
ایمن اور منیب نے شادی کی معدوم ہوتی فضول رسمیں ایک بار پھر زندہ کردیں
گزشتہ کئی روز سے سوشل میڈیا پر پاکستانی اداکارہ ایمن خان اور مزید پڑھیں ...
مذہب
بیویاں شوہروں کو طلاق دے سکیں گی والا نکاح نامہ زیرغور نہیں، اسلامی نظریاتی کونسل
اسلام آباد(ویب ڈیسک) اسلامی نظریاتی کونسل کا کہنا ہے کہ مزید پڑھیں ...
بزنس
روپے کی بے قدری، ڈالرملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پرجا پہنچا
کراچی(ویب ڈیسک) انٹربینک میں پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں امریکی ڈالرتاریخ مزید پڑھیں ...