اردو | العربیہ | English



اردو | العربیہ | English

بھارتی بحریہ کا جنگی ہیلی کاپٹر سمندر میں گر کر تباہ

ارضِ حرمین پر منڈلاتی گھٹائیں


WhatsApp
179



ارضِ حرمین کی حفاظت پوری امت کی ذمہ داری ہے

1958ء میں مدینہ میں پیدا ہونے والے جمال خوشجی نے ابتدائی تعلیم اپنے ہی وطن میں حاصل کر کے انڈیانا یونیورسٹی سے بزنس ایڈمنسٹریشن کی ڈگری حاصل کی 1980ء میں صحافت میں قدم رکھا،1980ء تا1990ء روسی جارحیت کے خلاف رپورٹنگ اور اسامہ بن لادن سے براہِ راست تعلقات اور عالمی شہرت کے حامل متعدد وہ انٹرویو اس کی شہرت کا باعث بنے جو اِس دوران لیے گئے۔
1990ء میں وہ مستقل طور پر سعودی عرب منتقل ہو گیا ، عرب نیوز سے منسلک رہا، مذہبی اسٹیبلشمنٹ پر اس کی کڑی تنقید نے اسے متنازعہ بنا دیا۔امریکہ میں تعینات سعودی سفیر شہزادہ ترکی بطور مشیر معاونت کرتے رہے جو کہ سعودی انٹیلی جنس کے سربراہ بھی رہ چکے تھے ۔
2015ء میں الجزیرہ کے مقابل عرب نیوز چینل سے وابستگی اختیار کی جس کا ہیڈ آفس بحرین میں قائم کیا گیا یہ چینل24گھنٹے کے بعدبند ہو گیا۔ انہوں نے عربی ’’الحیات ‘‘ میں اپنا کالم لکھنا شروع کیا جس کے قارئین کی تعداد سوشل میڈیا پر اٹھارہ لاکھ تھی جو کہ گذشتہ برس ان کے کالم پر پابندی لگا دی گئی۔
ان کی وجہ شہرت میں کویت پر صدام حسین کے حملے کی رپورٹنگ بھی تھی ، ان کا شمار حکومت کے مخالف ترین ناقدین میں ہونے لگاتھا،وہ یمن میں سعودی مداخلت پر بھی کڑی تنقیدکرتے تھے، عرب ریاستی و خارجہ امور کے ماہر سمجھے جانے کی بناء پر دنیا بھر کے چینلز ان کی خدمات لیتے تھے۔
شہزادہ محمد بن سلمان کے ولی عہد بننے کے بعد ان کی روشن خیالی پالیسیوں پر صحافیوں اور شہزادوں کے کریک ڈاؤن کے بعد2030ء وژن ایجنڈا سامنے آنے پر جمال خوشجی نے ہر سطح پر تنقید جاری رکھی۔
ایک برس قبل انہوں نے خود ساختہ جلا وطنی اختیار کر کے امریکہ میں سکونت اختیار کر لی اور باقاعدہ طور پر ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ میں کالم لکھنا شروع کیا، وہ2016ء میں سعودی حکومت پر ڈونلڈ ٹرمپ کے والہانہ استقبال کرنے پر کڑی تنقید کر چکے تھے، ایران کے ساتھ کشیدگی اختیار کرنے ، یمن میں مداخلت، کینیڈا سے خارجہ تعلقات کی خرابی اورانتہا پسند انہ نئی اصطلاحات پر کھل کر اپنے کالموں میں مخالفت نے ان کے اور حکومت کے درمیان فاصلوں کو طول دیا۔
صحافیوں اور ناقدین کے کریک ڈاؤن سے خوفزدہ ہو کر امریکہ میں مقیم تھے۔ 2اکتوبر2016ء کی صبح وہ ترکی کے دارلخلافہ استنبول میں قائم سعودی کونسل خانے میں اپنی شادی کے سلسلے میں سابقہ بیوی سے طلاق کے کاغذات لینے داخل ہوا، اس کی ہونیوالی بیوی خدیجہ چنگیز آفس کے باہر اس کا انتظار کر رہی تھی جب کافی وقت گذر گیا تو اسے تشویش ہوئی، معلومات حاصل کرنے پر اسے بتایا گیا کہ وہ دفتر سے فارغ ہو کر جا چکا ہے، اس نے صحافی کی دی ہوئی ہدایت کے مطابق ترکی حکام سے رابطہ کیا، ترکی کی حکومت کو بھی یہی جواب ملا، صدر طیب اردگان نے اپنی خفیہ ایجنسیوں سے معلومات لیں تو اطلاعات اس کے بر عکس تھیں، امریکی حکام بھی اس واقعہ کے سراغ میں لگ گئے اور اعلیٰ سطح پر سعودی عرب پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ صحافی کی گمشدگی کا مُعمّہ حل کیا جائے۔
برطانیہ سمیت یو این او او ر اعلیٰ افسران بھی اس واقعہ پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں ، امریکی کانگریس کے بائیس اراکین نے تحریری طور پر صدر ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ صحافی کی بازیابی یقینی بنائی جائے۔ صدر نے ان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر سعودی حکومت اس کی ذمہ دار نکلی تو نتائج بھگتے گی۔
ترکی خفیہ ادارے دعویٰ کر رہے ہیں کہ ان کے پاس صحافی پر سفارت خانے کے اندر تشدد، تفتیش اور بعد ازاں قتل کیے جانے کے ناقابلِ تردید شواہد ہیں، سعودی حکام ہر سطح پر اس کی تردید کر رہے ہیں، ترکی اور امریکہ کے علاوہ برطانیہ اور یو این او بھی اپنی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں ۔
بلوم برگ کو دئیے گئے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے انٹرویومیں انہوں نے کہا کہ جمال خوشجی سعودی شہری ہے اور اس کی گمشدگی پر حکومت کو بھی شدید تشویش ہے لیکن عالمی برادری اس وضاحتوں پر عدم اطمینان کا اظہار کر رہی ہے ۔
اخوانی پس منظر رکھنے والے صحافی کا ماضی میں القاعدہ سربراہ سے قریبی تعلق رہا ہے اور روسی جارحیت کے دوران ان کے انٹرویوز نے ان کی شناخت بنا دی تھی، شاہی خاندان سے قربت رکھنے اور مختلف ذمہ داریوں پر کام کرنے کی وجہ سے مغرب میں انہیں سعودی اور سمیت عراق ،شام اورافریقی سیاست کا ماہر خیال کیا جاتا تھا۔
شہزادہ ولی عہد کے وژن 2031ء اور ناقدین و صحافیوں سمیت مختلف شہزادوں کی گرفتاریوں پر ان کی تحریروں نے ان کے لیے خطرات میں اضافہ کر دیا تھا جس کی وجہ وہ اپنے ملک کو خیر باد کہنے کی وجہ بتاتے رہے ہیں، وہ نئی تبدیلیوں سے نالاں تھے اور اس کا اظہار کرنا انہوں نے جلا وطنی میں بھی جاری رکھا۔ قطر پر پابندیاں ایران سے خراب تعلقات اور یمن سمیت دیگر مسلم ممالک میں مداخلت پر وہ حکومت پر کڑی تنقید کرتے رہے ہیں۔
سعودی حکومت دباؤ میں دکھائی دے رہی ہے امریکی لہجے میں ترشی ،بادشاہ کو گذشتہ دنوں صدر امریکہ کی ٹویٹ پر دی جانے والی دھمکی کا جس میں سعودی بادشاہ کو باور کرایا جا رہا تھا کہ تمہاری بادشاہت ہماری حمایت کی مرہونِ منت ہے جس پر اُسی سخت لہجہ میں شہزادہ محمد بن سلمان کا جواب سعودی عرب الجیبر کو جرمی ھنٹ کا یہ کہنا کہ:
’’ دوستیاں مشترکہ اقدارپر منحصر ہوتی ہیں۔‘‘
کیا رنگ لانے والی رپورٹس ہیں؟؟ سوال یہ ہے کہ ایک صحافی کے لیے جس قدر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے وہ کس کے ایجنڈے پر گامزن تھا؟؟ کیا عالمی سازشوں کے کھلاڑی کوئی نیا کھیل تیا ر کر رہے ہیں؟؟ وقت آگیا ہے کہ خادمینِ حرمین شریفین اپنی خارجہ پالیسی پر ازِ سر نو توجہ دیں۔
جمال خوشجی کا حکومت سے جس نکتہ پر شدید اختلاف تھا اس کے مطابق موجودہ حکمران اصل انتہا پسند وں کے ساتھ ہیں، یہ نئی سازش بھی ہو سکتی ہے اور ارضِ حرمین کے خلاف خطرے کی گھنٹی بھی۔
شاہ حکمرانوں کو اسلامی برادری پر اعتماد کرتے ہوئے نئی صف بندی کرنا ہو گی جس میں مسلم امہ کے مابین اختلافات کا خاتمہ اور ان کے حقیقی بنیادی مسائل کے حل میں ان کی مدد کرنا شامل ہے، مغرب اور بالخصوص امریکی نہ تو اچھے ثابت ہوتے ہیں اور نہ ہی وفادار اتحادی وہ صرف اپنے مفادات کے مدار کے گرد چکر کاٹتے رہتے ہیں، حکومتِ سعودیہ اپنی مذہبی عقیدت و احترام کو تقریباً دو ارب مسلمانوں سے جب چاہے کیش کروا سکتی ہے، ارضِ حرمین کی حفاظت پوری امت کی ذمہ داری ہے ،یہ نکتہ عالمی نکتہ دانوں کو باور کرانے کی ضرورت ناگذیر بن چکی ہے۔


WhatsApp




متعلقہ خبریں
شاہ سلمان کی آمد ۔۔۔بہار کی آمد ... مزید پڑھیں
افغان باقی، کہسار باقی ... مزید پڑھیں
اقلیتوں کا عالمی دن۔۔۔تجزیہ ... مزید پڑھیں
ارض حرمین پر منڈلاتی گھٹائیں ... مزید پڑھیں
سانپ اور سیڑھی کا کھیل ... مزید پڑھیں
اسرائیلی تاریخ ... مزید پڑھیں
آسیہ" نامی عیسائی عورت اور ہمارا قانون ... مزید پڑھیں
ارضِ حرمین پر منڈلاتی گھٹائیں ... مزید پڑھیں
حکمرانوں کے تابناک اور روشن کردار ... مزید پڑھیں
فاطمہ بنت پاکستان کا مقدمہ ... مزید پڑھیں
یہ رہی تمہاری تلاش ... مزید پڑھیں
اقوام متحدہ کے اجلاس کی روداد ... مزید پڑھیں
القدس اپنے محافظ کی تلاش میں ... مزید پڑھیں
یوم یکجہتی کشمیر کا تاریخی تعاقب و اہمیت ... مزید پڑھیں
بنیادی حقوق کا’’سراب‘‘ ... مزید پڑھیں
ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے ... مزید پڑھیں
متعلقہ خبریں
بھٹو کیوں زندہ ہے؟
شاہ سلمان کی آمد ۔۔۔بہار کی آمد
افغان باقی، کہسار باقی
اقلیتوں کا عالمی دن۔۔۔تجزیہ
ارض حرمین پر منڈلاتی گھٹائیں
سانپ اور سیڑھی کا کھیل
اسرائیلی تاریخ
آسیہ" نامی عیسائی عورت اور ہمارا قانون
ارضِ حرمین پر منڈلاتی گھٹائیں
حکمرانوں کے تابناک اور روشن کردار

مقبول خبریں
عمران خان کا وفاقی کابینہ میں ردوبدل کا فیصلہ
بھارتی بحریہ کا جنگی ہیلی کاپٹر سمندر میں گر کر تباہ
ٹوئنٹی 20 کرکٹ میں گرین شرٹس کی حکمرانی برقرار
پی ایس ایل 4؛ شریک پلیئرز کو2 دن آرام کا موقع میسر آ گیا
شادی کے 11 سال بعد ایشوریا رائے کا ابھیشک بچن سے متعلق اہم انکشاف
بھٹو کیوں زندہ ہے؟
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
جدید طب کا کمال : ماں کے پیٹ میں دل کے مرض میں مبتلا بچی کا علاج
’یونیورسٹی تو کیا، پاکستان کی تاریخ میں کسی نے اتنے میڈل نہیں لیے‘
ہیری پورٹرکی مداح خاتون کا نام گنیزبک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل
ہیری پورٹرکی مداح خاتون کا نام گنیزبک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل
گوگل کی جانب سے ویڈیو گیم اسٹریمنگ کا باضابطہ اعلان
شرح پیدائش پنجاب میں کتنی ہے اور خیبر پختونخوا میں کتنی؟ اعدادوشمار سامنے آگئے
بیویاں شوہروں کو طلاق دے سکیں گی والا نکاح نامہ زیرغور نہیں، اسلامی نظریاتی کونسل
حالیہ پاک۔بھارت بحران کشمیری حریت پسندوں کو کیا پیغام دیتا ہے؟
ویڈیو گیلری

آزادی کی تحریکوں کو دبایا تو جا سکتا ہے لیکن ختم نہیں کیا جا سکتا : پاکستانی ہائی کمشنرعبدالباسط

بھارتی اشتعال انگیزی کا ذمہ داری سے جواب دے رہے ہیں ،عاصم باجوہ

پاکستان اورسعودی عرب حقیقی بھائی ہیں،علما اکرام مسلم امت کے اتحاد میں کردار ادا کریں:امام کعبہ

بڈگام میں بھارتی فوج کی فائرنگ، مزید 8 کشمیری شہید، پاکستان کا شدید احتجاج

فرانس میں فائرنگ کرکے 3 افراد کوقتل کرنے والے حملہ آورکی ہلاکت کی تصدیق

سپورٹس
ٹوئنٹی 20 کرکٹ میں گرین شرٹس کی حکمرانی برقرار
دبئی(ویب ڈیسک) ٹوئنٹی 20 میں کرکٹ پاکستانی حکمرانی بدستور قائم ہے مزید پڑھیں ...
ویب ٹی وی
ٹورازم
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔ posted by Abdur مزید پڑھیں ...
انٹرٹینمینٹ
شادی کے 11 سال بعد ایشوریا رائے کا ابھیشک بچن سے متعلق اہم انکشاف
ممبئی (ویب ڈیسک) بولی وڈ اداکارہ اور سابق حسینہ عالم ایشوریا مزید پڑھیں ...
مذہب
بیویاں شوہروں کو طلاق دے سکیں گی والا نکاح نامہ زیرغور نہیں، اسلامی نظریاتی کونسل
اسلام آباد(ویب ڈیسک) اسلامی نظریاتی کونسل کا کہنا ہے کہ مزید پڑھیں ...
بزنس
سعودی عرب کی پاکستان کو 2 پاور پلانٹس خریدنے کی منہ مانگی پیشکش
لاہور(ویب ڈیسک) سعودی عرب نے پنجاب کے دو پاور پلانٹس بغیر بولی مزید پڑھیں ...