اردو | العربیہ | English



اردو | العربیہ | English

شام میں امریکی فضائی حملے میں 17 بچے اور 12 خواتین سمیت 40 افراد جاں بحق

فاطمہ بنت پاکستان کا مقدمہ


WhatsApp
64



ولدیت سے انکاریہ مقدمہ خطرے کی گھنٹی ہے

ایپل کمپنی کا شمار دنیا بھر کی ٹاپ ٹین برانڈ میں ہوتا ہے ۔اس کے مالک نے دنیا کو چونکا دیا جب اس نے انکشاف کیا کہ وہ( اسٹیو جابز) بن باپ کا بچہ تھااور اپنی ماں کے ساتھ تنہا زندگی بسر کرتا رہا ہے ۔عمر بھر اسے یہ معلوم ہی نہ ہوپایا کہ اس کا باپ کون تھا ؟؟مغربی دنیا کے بڑے بڑے لوگوں کا یہی حال ہے ۔ “سنگل مدر ” کا کلچر بڑی تیزی سے پنپ رہا ہے اور خاندانی نظام تیزی سے ناپید ہوتا دکھائی دیتا ہے ۔ والدین ،خاندان ،برادری حتی کہ اجتماعی زندگی کا تصور زوال پذیر ہے۔کیتھولک سربراہ پوپ فرانس نے تیزی سے انحطاط پذیر خاندانی نظام کو مکمل تباہی سے بچانے کے لیے ہمہ گیر جدوجہد شروع کررکھی ہے ۔ بات اب جہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اس معاشرے میں کسی کی ولدیت اگر نہ بھی معلوم ہو تو یہ کوئی پریشانی کا امر نہیں ۔بن باپ ہونا ہر گز گالی نہیں سمجھا جاتا ۔سرکاری سطح پر کوئی فام بھرنا درکار ہو تو جلی حروف میں لکھا ہوتا ہے کہ باپ کا نام اگر معلوم ہے تو لکھ دیں بصور ت دیگر کوئی مسئلہ نہیں اور لکھا ہوتا ہے Fathers Name “ “یعنی کہ اگر تمھارا کوئی باپ ہے تو اس کا بھی نام لکھ دیں لیکن یہ لازم نہیں ہے ۔ شادی کے بغیر ماں بننے اور ولد الحرام کو گود میں لیے پھرنا نہ کوئی قانونی جرم ہے اور نہ ہی اخلاقی۔جابجا بن باپ بچے گود میں لیے کنواری مائیں اخلاق باختہ مغربی معاشرے پر مسلسل طمانچے رسید کرر ہی ہیں۔
اس کے برعکس اسلامی معاشرہ حسب ونسب ،خاندان اور تقویٰ و پرہیز گاری پر استوار ہوتا ہے ۔ولد ا لحرام کو جنم دیناتو انتہائی گھناؤنا جرم ہے جبکہ عورت کو نہایت ہی اعلی ترین مقدس رتبوں پر فائز کیاگیا ہے۔
قرارداد مقاصد میں پاکستانی آئین نے تمام شہریوں کو بلاامتیا ز بنیادی حقوق کا تحفظ فراہم کررکھا ہے ۔جسکی پاسداری کے لیے اعلیٰ عدلیہ اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کرتی ہے ۔ماہ ستمبر میں اپنی نوعیت کا ایک انوکھا، دلگیر اور فکر انگیز مقدمہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں سنا گیا جس میں تطہیر فاطمہ نامی 22سالہ ایک طالبہ نے درخواست دی کہ اس کی تمام دستاویزات سے اس کی ولدیت کے خانے سے اس کے والد کا نام ختم کردیا جائے ۔چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے خود اس کی سماعت فرمائی ۔درخواست گزار لڑکی کا موقف تھا کہ کیونکہ اس کے باپ نے اسے بچپن ہی سے لاوارث چھوڑ رکھا ہے اس لیے چونکہ باپ نے نہ تو میرے نان ونفقہ کی ذمہ داری نبھا ئی ہے اور نہ ہی دست شفقت پدرانہ اس کے سر پر رکھا ہے اس لیے میرا باپ یہ حق ہی نہیں رکھتا کہ میرے نام کے ساتھ ولدیت میں اس کا نام پکارا جائے ۔لہذا مجھے اجازت دی جائے کہ میں قانونی طور پر ایسا کرسکوں اور متعلقہ اداروں کو اس سلسلے میں احکامات جاری فرمائے جائیں ۔عدالت کے روبرو یہ سوال اٹھایا گیا کہ کیا کسی بچے کو یہ حق نہیں دیا جاسکتا کہ وہ پاکستان کا شہری ہونے کے ناطے اپنے والدین کی شناخت کیے بغیر ہی رجسٹر کرلیا جائے ؟؟اس مقدمے کی آخری سماعت میں چیف جسٹس نے ڈائریکٹر نادرا ،لا ء سیکریٹری اور محکمہ پاسپورٹ کے اعلیٰ افسران کو بھی طلب کررکھا تھا جن سے عدالت نے معا ونت طلب کررکھی تھی کہ کیا قانوناً ایسا ممکن ہے ؟؟تمام اداروں نے اپنی رپورعٹ نفی میں دی تھی ۔چیف جسٹس پاکستان نے اداروں کے ذمہ داران کی موجودگی میں بچی کے والد کو مخاطب کرکے پوچھا کہ تم آخری بار اپنی بیٹی سے کب ملے تھے ؟اور تم نے اتنے برس اپنی بیٹی سے کیوں رابطہ نہیں رکھا ؟
فاطمہ کے والد نے عدالت کے استفسار پر جواب دیا کہ وہ 2002 میں آخری دفعہ اپنی بیٹی سے ملا تھا جبکہ اس کے بعد وہ آج اسے دیکھ رہا ہے ۔چیف جسٹس صاحب نے حیرانی سے دریافت کیا کہ تم کس قسم کے باپ ہو جو اتنے برس اپنی بیٹی سے دور رہے ؟۔چیف جسٹس نے سخت برہمی کا اظہار فرماتے ہوئے کہا کہ تمہیں شرم آنی چاہیے ۔اس نے عدالت کو بتایا کہ اس نے کئی برتبہ اپنی بیٹی سے ملاقات کی کوشش کی لیکن اس کی والدہ رکاوٹ بنی رہی اوراس نے ملاقا ت نہ ہونے دی ۔ عدالت نے اس پر سوال کیا کہ تم اس سلسلے میں کوئی شہا دت پیش کرسکتے ہو کہ تم نے کس قسم کی کوششیں کیں اپنی بیٹی سے ملاقات کرنے تو باپ نے خاموشی اختیا ر کرلی ۔اعلی ترین عدالت کے چیف جسٹس نے اس خاموشی پر اپنا فیصلہ صادر فرماتے ہوئے کہا کہ تم گزرے ہوئے تمام برسوں کا نان ونفقہ ادا کرنے کے پابند ہو جو کہ آج تک تم ادا کرنے سے قاصر رہے ہو ۔ باپ نے عدالت سے گزارش کی کہ یہ حقیقت نہیں ہے کہ میں نے اس سے ملنے کی کوشش نہیں کی اس کی والدہ ایک بدکردار عورت تھی اس نے رکاوٹیں ڈالے رکھیں اور میری بیٹی کو مجھ سے دور رکھا ۔ میں غریب آدمی ہو ں اور اتنی بڑی رقم ادا نہیں کرسکتا ۔ جج صاحب نے ڈائیریکٹر ایف آئی اے کی ڈیوٹی لگائی کہ اس کی جائیداد کا ریکارڈ عدالت میں پیش کیا جائے ۔ چیف جسٹس نے باپ کو مخاطب کرکے کہا کہ تم ہرصورت تمام برسوں کا خرچہ اپنی بیٹی کو ادا کرنے کے قانونی طور پر پابند ہو چاہے تمہیں اس کے لیے چوری کرکے پیسے لانے پڑیں لیکر آؤ۔اوراگر تم ایسا کرنے میں ناکام رہے تو اس وقت تک جیل میں رہو گے جب تک پیسے جمع نہیں کراتے ۔جج صاحب نے مزید کہا کہ ناکامی کی صورت میں نا صرف تمہارے خلاف فوجداری مقدمہ قائم ہوگا بلکہ میں خود نگرانی کروں گا کہ کس طرح تمہاری بیٹی کو بقایا واجبات کی وصولی ممکن ہے ۔مقدمے کی سماعت فرماتے ہوئے آخر پر جج صاحب نے باپ کو مخاطب کرتے ہوئے بتایا کہ تمہاری بیٹی یہ درخواست لیکر آئی ہے کہ اس کے نام کے ساتھ جو تمہاری ولدیت درج ہے وہ ختم کردی جائے اور وہ اپنا نام فاطمہ بنت پاکستان رکھنا چاہتی ہے ۔چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ پاکستان ہماری ماں بھی ہے اور باپ بھی لیکن قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ باپ کا نام کسی بچے کی ولدیت سے نکال دیا جائے ۔یہ پاکستانی عدلیہ کی تاریخ کا اپنی نوعیت کا واحد ااو انوکھا مقدمہ تھا جسے نمٹا دیا گیا ۔باپ قانونا ً جیت گیا لیکن اخلاق کی ہر سطح پر اسے شکست ہوئی ۔کیسا بدبخت ہے وہ باپ جسے اس کی بیٹی کسی لحاظ سے بھی باپ تسلیم کرنے سے انکاری ہے ۔ یہ ایک سنگین معاشرتی المیہ اور سماجی اقدار کے منہ پر زور دار طمانچہ ہے ۔سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ اگر والدین اپنی سنگ دلی اور ظالمانہ رویے کی بنیا د پر اپنی اولاد سے قطع تعلق کرلیں تو کیا اولاد محض بے بس ہی رہے گی؟ کیا کسی بھی مہذب معاشرے میں اس بات کی گنجائش نکل سکتی ہے ؟انسانی حقوق کی نام نہاد علمبردا ر مغربی تہذیب تواس کا جواب دینے سے عاری ہے کیونکہ ان کےہاں بنیادی طور پر اس تنازعہ کو اہمیت ہی حاصل نہیں ہے ۔ بچوں کی ایک کثیر تعداد بن باپ پائی جاتی ہے جو سرے ہی سے پاکیزہ اور ناگزیر رشتوں کے لمس ہی سے عاری ہے ۔ماں باپ اور بہن بھائیوں کا پیار ،گھرانہ ،خاندان ،برادری ،ہمسائیگی ،رشتہ داری اس کی ڈکشنری میں غیر اہم ہے۔ اس لیے فرد کی بات کی جاتی ہے ۔پرسن کو اہمیت ہے ۔چوپایوں کی مانند بغیر شناخت پیداہونا اور مرجانا ان کی تہذیب و تمدن میں سما رہاہے ۔ یہ اعزاز صرف اسلامی معاشرے نے دیا ہے ۔انسان کو اشرف المخلوقات ہونے کا درجہ بھی اسی کی تعلیمات کا بنیادی درس ہے ۔ایک مرد اور ایک عورت کے فطری ملاپ سے جنم لینے والے انسان کو حسب ونسب کی بنیاد پر شناخت دینے کی گارنٹی صر ف مذہب اسلام نے دی ہے ۔ خاص طور پر بنت حوا (عورت )کو صرف دین اسلام کے عالمگیر نظام میں عافیت ملی ہے ۔ماں ،بہن ،بیٹی ،چادر وچاردیواری ،تحفظ عفت و عصمت ،نان و نفقہ کی ذمہ داری سے آزادی ،فکر معاش سے مکمل چھٹکارا ،باہمی مودت ،مشاورت میں شمولیت ،نرمی و عفو ودرگزر کی سہولیات بہم کی گارنٹی ،تحفظ جان و مال،تربیت ،احترام و تقدس صرف دین اسلام نے بخشا ہے۔مغرب میں عورت رونق محفل نہ بنی تو جنس بازار بنادی گئی ہے ۔خاوند بیزار حوا کی بیٹیاں “سنگل مدر “یعنی ناجائز باپ کےبچوں کی مائیں بن کر خود ساختہ قید تنہائی گزارتی دیکھائی دیتی ہیں ۔اس طرح وہ حالت جنگ میں ہیں برخلاف فطرت یہی ایک سچائی ہے ۔تطہیر فاطمہ کا مقدمہ بہت سے سوال لیے سامنے آیا ہے ۔ ہمیں انسانیت کو حیوانیت کی جبلت سے باہر نکالنا ہے ۔بنت حواصنف نازک ہے اسے ہر صورت ٹوٹنے اور بکھرنے سے بچانا ہے ۔ حیرت ہے مرد کو جن پر حاکم بنایا گیا ہے وہ ان کی ذمہ داریاں نبھانے سے کیوں کترا رہاہے ۔سب کو اپنے حقوق و فرائض ادا کرنے ہونگے ۔ زندگی کی گاڑی مرد و عورت دونوں کے اشتراک سے چلتی ہے وگرنہ فطرت سے جنگ کی کیفیت برپا ہوتی ہے جس کے خوفناک مناظر دنیا میں دکھائی دینے لگے ہیں ۔سپریم کورٹ میں آنے والا ولدیت سے انکاریہ مقدمہ خطرے کی گھنٹی ہے اور تمام والدین کےلیےبہت سے اسباق لیے ہوئے کس کی اولاد کس وقت اعلان بغاوت کردے ۔نقارہ کسی وقت بھی بج سکتا ہے۔
فاعتبروا یا اولی الابصار ؟؟؟


WhatsApp




متعلقہ خبریں
ارضِ حرمین پر منڈلاتی گھٹائیں ... مزید پڑھیں
حکمرانوں کے تابناک اور روشن کردار ... مزید پڑھیں
فاطمہ بنت پاکستان کا مقدمہ ... مزید پڑھیں
یہ رہی تمہاری تلاش ... مزید پڑھیں
اقوام متحدہ کے اجلاس کی روداد ... مزید پڑھیں
القدس اپنے محافظ کی تلاش میں ... مزید پڑھیں
یوم یکجہتی کشمیر کا تاریخی تعاقب و اہمیت ... مزید پڑھیں
بنیادی حقوق کا’’سراب‘‘ ... مزید پڑھیں
ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے ... مزید پڑھیں
سانپ اور سیڑھی کا کھیل ... مزید پڑھیں
استادِ محترم کو میرا سلام کہنا ... مزید پڑھیں
استعمای عزائم اور دفاع وطن کے تقاضے ... مزید پڑھیں
بچوں کا اغوا،ا عضاء فروشی اور افواہوں کا بازار ... مزید پڑھیں
کشمیر ۔۔۔۔۔آزادی کی صبح جلد طلوع ہونے والی ہے ... مزید پڑھیں
پھر نئے طالبان ... مزید پڑھیں
"سیاسی اصطبل کے گدھے " ... مزید پڑھیں
متعلقہ خبریں
آسیہ" نامی عیسائی عورت اور ہمارا قانون
ارضِ حرمین پر منڈلاتی گھٹائیں
حکمرانوں کے تابناک اور روشن کردار
فاطمہ بنت پاکستان کا مقدمہ
یہ رہی تمہاری تلاش
اقوام متحدہ کے اجلاس کی روداد
القدس اپنے محافظ کی تلاش میں
یوم یکجہتی کشمیر کا تاریخی تعاقب و اہمیت
بنیادی حقوق کا’’سراب‘‘
ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے

مقبول خبریں
لسبیلہ یونیورسٹی کے قریب ٹریفک حادثہ، 3 افراد جاں بحق
شام میں امریکی فضائی حملے میں 17 بچے اور 12 خواتین سمیت 40 افراد جاں بحق
پاکستانی فٹبال ٹیم فلسطین سے میچ کیلئے مقبوضہ بیت المقدس جائے گی
پاکستان نے پہلے ٹی ٹوئنٹی میں ویسٹ انڈیز کو 9 وکٹوں سے شکست دے دی
دپیکا اور رنویر کی شادی : تصاویر جاری
آسیہ" نامی عیسائی عورت اور ہمارا قانون
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
تنہا رہنے سے ڈیمنشیا لاحق ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے
آسیہ بی بی کی کہانی انہی کی زبانی
بھارت میں خاتون کے پیٹ سے ڈیڑھ کلو کیلیں، نٹ بولٹس اور سیفٹی پن برآمد
بھارت میں خاتون کے پیٹ سے ڈیڑھ کلو کیلیں، نٹ بولٹس اور سیفٹی پن برآمد
اب فرش اور دیوار کو ٹچ اسکرین میں بدلنا بہت آسان
شرح پیدائش پنجاب میں کتنی ہے اور خیبر پختونخوا میں کتنی؟ اعدادوشمار سامنے آگئے
بیویاں شوہروں کو طلاق دے سکیں گی والا نکاح نامہ زیرغور نہیں، اسلامی نظریاتی کونسل
اسرائیل نامنظور کیوں؟
ویڈیو گیلری

آزادی کی تحریکوں کو دبایا تو جا سکتا ہے لیکن ختم نہیں کیا جا سکتا : پاکستانی ہائی کمشنرعبدالباسط

بھارتی اشتعال انگیزی کا ذمہ داری سے جواب دے رہے ہیں ،عاصم باجوہ

پاکستان اورسعودی عرب حقیقی بھائی ہیں،علما اکرام مسلم امت کے اتحاد میں کردار ادا کریں:امام کعبہ

بڈگام میں بھارتی فوج کی فائرنگ، مزید 8 کشمیری شہید، پاکستان کا شدید احتجاج

فرانس میں تیز رفتار گاڑی فوجیوں پر چڑھ دوڑی، 6 زخمی

سپورٹس
پاکستانی فٹبال ٹیم فلسطین سے میچ کیلئے مقبوضہ بیت المقدس جائے گی
لاہور(ویب ڈیسک) فلسطین سے دوستانہ میچ کھیلنے پاکستانی فٹبال ٹیم مزید پڑھیں ...
ویب ٹی وی
ٹورازم
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔ posted by Abdur مزید پڑھیں ...
انٹرٹینمینٹ
دپیکا اور رنویر کی شادی : تصاویر جاری
روم (ویب ڈیسک) بالی وڈ جوڑے نے شادی کی تقریبات کے لیے مزید پڑھیں ...
مذہب
بیویاں شوہروں کو طلاق دے سکیں گی والا نکاح نامہ زیرغور نہیں، اسلامی نظریاتی کونسل
اسلام آباد(ویب ڈیسک) اسلامی نظریاتی کونسل کا کہنا ہے کہ مزید پڑھیں ...
بزنس
ایشیائی ترقیاتی بینک کا پاکستان کو 4 کروڑ 90 لاکھ ڈالر دینے کا فیصلہ
اسلام آباد(ویب ڈیسک) ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے مزید پڑھیں ...