اردو | العربیہ | English



اردو | العربیہ | English

یورپی یونین سے انخلا کیلیے برطانیہ کو 31 جنوری تک مہلت مل گئی

یہ رہی تمہاری تلاش


WhatsApp
403



یہ رہی تمہاری تلاش

کم کم ہونگے جو رات کو نکلتے تھے، دبے پاؤں چلتے تھے، کبھی جو غصہ کھا جاتے تھے اور گاہے بگاہے مسکرا کے بات کرتے تھے۔۔۔ تاریخ نے ان سب کو لکھ لیا، وہ بھی ایسے ہی حکمران تھے۔۔۔
حکمران ایسے کہ آدھی دنیا کی حکومت پاؤں تلے دھری رہتی تھی اور خود کسی پتھر کو سرہانہ بنا کر سورہتے تھے۔اس دن بھی تو ایسا ہی ہوا تھا کہ دور سمندروں سے دورپار کا پردیسی آیا،پہلے تو مدینے کو دیکھ کے حیرا ن تھا کہ یہ وہ کچی بستی ہے کہ جس کے مکین ہم پر راج کرتے ہیں، جس کے ہم باج گذار ہیں، پھر پوچھتا پوچھتا مسجد نبویﷺ تک آن پہنچا، آدھی دنیا کے حاکم کا پوچھا کہ دربار کہاں ہیں، آنکھیں نہ پھٹ جاتیں تو کیا کرتیں؟؟
اس کو عادت کہ قیصر کے دربار کو دیکھ دیکھ کر عمر گذاری یہاں یہ جواب کہ کون سا دربار، کہاں کا دربار؟؟
کوئی دربار وربار نہیں بھائی ادھر۔۔۔جب نماز کو آتے ہیں تو ادھر ہی بیٹھ جاتے ہیں اور تم لوگوں کی قسمت کے فیصلے ہوتے ہیں۔
’’اچھا ملیں گے کہاں؟‘‘
حیرتوں کے بیچ اس نے پوچھا۔
’’مدینے کے جوار میں نکل جاؤ،دوپہر ڈھل رہی ہے ، کسی دیوار کے سائے میں آرام کرتے مل جائیں گے۔‘‘
پردیسی بستی کو دیکھنے اور خلیفہ کو کھوجنے نکلا، ایک دیوار کے سائے تلے پتھر کو سرہانہ بنائے ایک طویل القامت ، بہت خوبصورت سا انسان آرام کر رہا تھا، ایک گذرنے والے نے ہولے سے اشارہ کیا کہ یہ رہی تمہاری تلاش۔
بڑھیا کی عمر بیت چلی تھی، مسافر نے احوال پوچھے، رو دی، بڑھاپے کا سیاپاکرنے لگی،کچھ حالات کی خرابی اور کچھ شکوے کرنے کی عمر۔۔۔ سب جگ سے ناراض بڑھیا داستان لے بیٹھی، مسافر نے تحمل سے داستان سنی، واپس مدینے آیا اور مقدور بھر سامان خوردو نوش لیا، کندھے پر رکھا، ساتھ غلام چلا اصرار کر کے کہ:
’’ سامان مجھے دے دیجئیے، اٹھائے لیتا ہوں۔‘‘
ادھر ایک جملہ اور خاموشی کہ:
’’ قیامت کے روز بھی میرا بوجھ اٹھالو گے؟‘‘
سامان بڑھیا کے سامنے جا ڈھیر کیا، تشکر کے آنسو لفظ بن کے بڑھیا کے منہ سے نکلے، دامن پھیلا کے بول اٹھی کہ کاش تو عمرؓ کی جگہ ہمارا خلیفہ ہوتا، مسافر کی آنکھیں چھلک اٹھیں، بس یہی کہا اور چل دئیے کہ کل آپ خلیفہ کے پاس آنا، مجھے ادھر ہی پائیں گی۔بڑھیا نے اگلے روز تجسس کے مارے تلاش کی تو مسافر کو عمرؓ بنا دیکھا، دل نے کہا یہ رہی تمہاری تلاش۔
دو ر دیا ٹمٹما رہا تھا، شاید کسی کی آس کا دیا کہ گاہے بگاہے جلے بجھے اور پھر روشن ہو جائے، خیمے کے باہر مسافر اداس اور تنہا بیٹھا ، تنہائی ہی تنہائی، سوچیں کہ کیوں سفر کو نکلا، اندر خاتون درزہ میں مبتلا ء ، بچے کی ولادت کا وقت ، نہ کوئی ساتھی خاتون ،نہ کوئی مددگار، اجنبی بستی کے جوار میں بیٹھا بستی کی دور ہوتی روشنیوں کو تکا کیے لیکن بے کار، سوچیں کہ عمر کی بستی ہے لیکن اس کو کیا خبر ہمارے حال کی؟
اندھیرے میں ایک سایہ ابھرا، قریب آیا، گوشفقت بھرا لہجہ تھا لیکن تنہائی نے مزاج کی شگفتگی بھی چھین لی ، سوال کے جواب میں بھی الجھ بیٹھا کہ جاؤ بھائی اپنی راہ لو، ممکن ہے اجنبی کے ساتھ کوئی خاتون ہوتی تو وہ یوں نہ الجھتا، لیکن ایک اکیلا خالی ہاتھ کا اجنبی مرد اس کی ایسے میں کیا مدد کر سکتا تھا سو الجھتا نہ تو کیا کرتا ؟؟
اجنبی بھی مگر تکرار پہ مصر تھا، اسے بتاتے ہی بنی، اجنبی خاموشی سے واپس ہو لیا، اسے عجیب سا لگا، کچھ تو کہا ہوتا۔۔۔ امید تو بندھ جاتی،تسکین تو ہو جاتی، وعدہ نہ وفا کرتے ، وعدہ تو کیا ہوتا، مایوسی نے امید کے ساتھ مل کر عجیب رنگ کر دیا تھا، نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں۔
کچھ ہی دیر میں دو سائے اندھیرے کی دیوار سے پھوٹے، قریب آئے تو اجنبی مر دکے ساتھ خاتون بھی تھی، ساتھ میں سامانِ ضرورت، آنے والی خاتون نے آتے ہی چولہا چڑھا دیا، ہوا میں پکتے روغن کی ہلکی ہلکی خوشبو اور ویرانے میں ملنے والے ساتھ نے اس کو پر سکون کر دیا، اس کے دماغ میں کچھ دیر پہلے خیال آیا تھا کہ کاش بستی کے حکمران خلیفہ کو ہماری خبر ہوتی کہ کوئی اجنبی اس اجنبی دیار میں ، حد نگاہ تک کے غبار میں،اس کو یاد کر رہا ہے۔
اب مگر سب بھول گیا تھا، بس ہلکا سا شکوہ کہ ان سے تو یہ اجنبی اچھا ہے، بس ہلکا سا خیال کہ جو نوکِ زبان تک نہ آیا، دماغ میں آیا اور چلا گیا۔ کچھ ہی دیر میں اندر سے خاتون کی آواز آئی:
’’ امیر المومنین! ساتھی کو خوشخبری دے دیجئیے کہ اﷲ نے بیٹا دیا ہے۔‘‘
امیر المومنین؟
امیر المومنین؟
بیٹا بھول گیا، خوشخبری کی کچھ خبر نہ رہی، گھبراہٹ نے آن لیا، اجنبی مگر شفقت بھری مسکان سے کہہ رہا تھا ۔
’’ ساتھی‘‘ گھبرا کیوں رہے ہو، عمر کو تم نے نوکر اسی لیے تو رکھا ہوا ہے کہ تمہاری خبر گیری کرے۔‘‘
دور اندر سے آوازیں آرہی تھیں ۔۔۔
یہ رہی تمہاری تلاش۔۔۔۔۔۔


WhatsApp




متعلقہ خبریں
عمران خان نے انیس سو انتالیس کے میونخ کا حوالہ ... مزید پڑھیں
بلوچستان سے خلائی سائینسدان کا ظہور ... مزید پڑھیں
ٹیم اور کپتان ... مزید پڑھیں
بھٹو کیوں زندہ ہے؟ ... مزید پڑھیں
شاہ سلمان کی آمد ۔۔۔بہار کی آمد ... مزید پڑھیں
افغان باقی، کہسار باقی ... مزید پڑھیں
اقلیتوں کا عالمی دن۔۔۔تجزیہ ... مزید پڑھیں
ارض حرمین پر منڈلاتی گھٹائیں ... مزید پڑھیں
سانپ اور سیڑھی کا کھیل ... مزید پڑھیں
اسرائیلی تاریخ ... مزید پڑھیں
آسیہ" نامی عیسائی عورت اور ہمارا قانون ... مزید پڑھیں
ارضِ حرمین پر منڈلاتی گھٹائیں ... مزید پڑھیں
حکمرانوں کے تابناک اور روشن کردار ... مزید پڑھیں
فاطمہ بنت پاکستان کا مقدمہ ... مزید پڑھیں
یہ رہی تمہاری تلاش ... مزید پڑھیں
اقوام متحدہ کے اجلاس کی روداد ... مزید پڑھیں
متعلقہ خبریں
سیاست کے کھیل کا بارہواں کھلاڑی
عمران خان نے انیس سو انتالیس کے میونخ کا حوالہ کیوں دیا؟
بلوچستان سے خلائی سائینسدان کا ظہور
ٹیم اور کپتان
بھٹو کیوں زندہ ہے؟
شاہ سلمان کی آمد ۔۔۔بہار کی آمد
افغان باقی، کہسار باقی
اقلیتوں کا عالمی دن۔۔۔تجزیہ
ارض حرمین پر منڈلاتی گھٹائیں
سانپ اور سیڑھی کا کھیل

مقبول خبریں
ویڈیو گیلری

آزادی کی تحریکوں کو دبایا تو جا سکتا ہے لیکن ختم نہیں کیا جا سکتا : پاکستانی ہائی کمشنرعبدالباسط

بھارتی اشتعال انگیزی کا ذمہ داری سے جواب دے رہے ہیں ،عاصم باجوہ

پاکستان اورسعودی عرب حقیقی بھائی ہیں،علما اکرام مسلم امت کے اتحاد میں کردار ادا کریں:امام کعبہ

بڈگام میں بھارتی فوج کی فائرنگ، مزید 8 کشمیری شہید، پاکستان کا شدید احتجاج

فرانس میں فائرنگ کرکے 3 افراد کوقتل کرنے والے حملہ آورکی ہلاکت کی تصدیق

سپورٹس
انٹرنیشنل کرکٹ چاہیے بھلے ’بی ٹیم‘ ہی سہی
اکتوبر 1990 میں نیوزی لینڈ کی ٹیم کو پاکستان کے دورے پہ مزید پڑھیں ...
ویب ٹی وی
ٹورازم
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔ posted by Abdur مزید پڑھیں ...
انٹرٹینمینٹ
وینا اداکاری سے گلوکاری کا سفر
وینا ملک کو زیادہ تر لوگ بطور اداکارہ و ماڈل جانتے ہیں مزید پڑھیں ...
مذہب
بیویاں شوہروں کو طلاق دے سکیں گی والا نکاح نامہ زیرغور نہیں، اسلامی نظریاتی کونسل
اسلام آباد(ویب ڈیسک) اسلامی نظریاتی کونسل کا کہنا ہے کہ مزید پڑھیں ...
بزنس
10 بینکوں کو80 کروڑ روپے سے زائد جرمانہ
10 بینکوں کو80 کروڑ روپے سے زائد جرمانہ، کون کونسے بینک مزید پڑھیں ...