اردو | العربیہ | English



اردو | العربیہ | English

یمن میں فریقین کو جنگ بندی کے لیے اقوام متحدہ کی تنبیہ

یوم یکجہتی کشمیر کا تاریخی تعاقب و اہمیت


WhatsApp
111



’’ قبر میں لیٹا وانی زندہ وانی سے زیادہ مجاہد تیار کرے گا۔‘‘

انسانی تاریخ میں شائد ہی بردہ فروشی اور غلاموں کی تجارت کا اس سے بڑا کوئی واقعہ رونما ہوا ہو جو کشمیری قوم کو راجہ گلاب سنگھ نے انگریزوں کے ہاتھوں 75لاکھ شاہی نانک میں فروخت کر کے انجام دیا۔گویا فی کشمیری سات روپے میں فروخت ہوا۔۔۔
وہ قوم آج تک غلامی کی زنجیروں سے آزادی کی جدو جہد جاری رکھے ہوئے ہے۔ہندوستان میں فرنگی راج کے خلاف جلیانوالہ باغ کا جلسہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا جب درندہ صفت جرنیل ڈائیر نے سیاسی احتجاج کرنے والوں کے خلاف اِس باغ میں نہتے لوگوں کا قتل عام کروایا تھا ۔
ایسی ہی ایک المناک داستان کشمیری نہتوں کی ہے جب 13جولائی 1935ء کو سری نگر جیل میں 22افراد کا قتل عام ہوا۔ اس کی تحقیقات اور انصاف کے حصول کے لیے کشمیر کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا پھر یہیں سے سیاسی پلیٹ فارم کی داغ بیل ڈلی۔
آج کی جدید دہشت گردی کی نام نہاد جنگ میں جو سلوک افغانستان میں تورا بورا اور دیگر مقامات پر عوام الناس کے ساتھ کیا گیا ، جس طرح عراقی عوام پر ایک سفید جھوٹ گھڑ کر وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تلاش کے بہانے خون بہایا گیا،ا س کے تانے بانے اور اثرات کشمیری قوم کی جدو جہد آزادی میں بھی صاف دکھائی دیتے ہیں۔
83برس قبل 1934ء میں پہلی بار اظہار یک جہتی منایا گیا۔ پاکستان میں پہلی بار جرنل ضیا ء الحق کے دور میں1982ء میں کشمیری عوام کے ساتھ یوم یکجہتی منایا گیا۔ 23اگست1947ء نیلہ بٹ کے مقام پر جلسہ عام منعقد ہوا جس کی صدارت امیر المجاہدین مولانا فضل الہٰی نے کی۔ کشمیری قوم نے الحاق کشمیر ‘ کشمیر بنے گا پاکستان کے حق میں ووٹ دیا۔
بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے سری نگر کا دورہ کیا ، پوری قوم میں جوش و خروش تھا ۔ بانی پاکستان کا ہر جگہ زبردست استقبال کیا گیا لیکن مہاراجہ ہری سنگھ نے زیادتی کی اور کشمیر کا ہندوستان سے الحاق کر لیا، اس بناء پر ہندوستان کو فوج کشی کا بہانہ مل گیا۔
مجاہدین نے اس جبری تسلط سے آزادی کی جنگ لڑی ، جنرل گریسی کی تاریخی نافرمانی اور پنڈت جواہر لال نہرو اقوام متحدہ میں ثالثی کی درخواست لے کر چلا گیا۔اکثریت نے کشمیری عوام کے حق میں فیصلہ دیا اور ان کو آزادانہ استصواب رائے کا حق دے دیا گیاکہ وہ آزادی سے فیصلہ کر لیں کہ وہ پاکستان یا بھارت میں سے کس ملک کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں۔70برس گذر گئے، یہ قوم آزادی کا سورج طلوع ہونے کی منتظر ہے اور مسلسل قربانیاں دے رہی ہے۔
1948ء،1980ء،1990ء میں مسلح تحریکیں برپا ہو چکی ہیں جن میں ایک لاکھ سے زائد شہادتیں 23ہزار سے زائد خواتین کی عصمت دری اوردو لاکھ سے زائد بچے یتیم ہو چکے ہیں، سوا لاکھ سے زائد مکانات تباہ کر دیے گئے یا نذر آتش ہو گئے۔ معذور ہونے والوں اور بے آسرا ہو جانے والوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے جبکہ اجتماعی قبریں جا بجا دکھائی دیتی ہیں ۔
8جولائی 2016ء برہان مظفر وانی کی شہادت سے شروع ہونے والی تحریک سب سے زیادہ منظم بھرپور اور جاندار دکھائی دیتی ہے۔ اس مرتبہ پوری قوم یک جان و یک قالب دکھائی دے رہی ہے، تازہ جدوجہد کی یہ تحریک تیسرے برس میں داخل ہو چکی ہے، ایک ہی قوم سات لاکھ بھارتی فوج کے مقابل کھڑی ہے، انسانی حقوق کی پامالی روز مرہ کا معمول بن چکا ہے۔ سری نگر کا چوک’’ کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ او ر ’’ پاکستان سے رشتہ کیا‘ حافظ سعید سے رشتہ کیا؟؟لا الہ الا اﷲ‘‘ کے نعروں سے گونج رہا ہے، کوئی درخت، کوئی کھمبا ،کوئی دیوارایسی دکھائی نہیں دیتی جس پر پاکستانی پرچم دکھائی نہ دے۔
ایک ارب 27کروڑ انسانوں کے ملک میں سنگھ پریوار(یعنی قوم پرست ہندو جماعتوں کا اتحاد) اور بی جے پی کی حکومت ہندو توا کے قیام اور اقتدار کی طوالت کی خاطر اپنی سر زمین سے انصاف و مساوات ، رواداری اور اخلاقی اقدار کو دیس نکالا دینا چاہتی ہے۔
جبری طور پر اقلیتوں کو اپنا غلام بنائے رکھنا اور ان کو ہندو بنانا ان کا ایجنڈا ہے، مذہبی ہندو جنونیت سیاسی لبادہ اوڑھ کر معاشرے میں پروان چڑھ رہی ہے۔ ریاضی کے استاد پرنسپل مظفر وانی کا ہونہار بیٹا برہان مظفر وانی سوشل میڈیا کی بدولت عالمی شہرت حاصل کر چکا ہے، اسے لوگ ’’ٹائیگر وانی‘‘ کہہ کر بھی پکارتے تھے اس نے بھارتی افواج کے مظالم کو سوشل میڈیا کے ذریعے اقوام عالم تک پہنچایا،یہی کوشش اُس کا جرم بن گیا۔
اس کی شہادت نے جلتی پر تیل کا کام کیا، ہر کشمیری آزادی کی بات کرنے لگا، فاروق عبد اﷲ کو بھی مظفر وانی کی شہادت پر دو لاکھ افراد کو جنازہ میں شریک دیکھ کر کہنے پر مجبور ہونا پڑا کہ :
’’ قبر میں لیٹا وانی زندہ وانی سے زیادہ مجاہد تیار کرے گا۔‘‘
کشمیری نوجوانوں نے قلم و کتاب کو چھوڑ کر اسلحہ اٹھانے کی ٹھانی ،یہ تحریک اتنی خالص ہے کہ اس پر بیرونی مداخلت کا اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا، یہ آزادی کی گونج ہر گلی، ہر محلہ، ہر بستی، ہر اسکول، کالج اور یونیورسٹی سے اٹھ رہی ہے۔۔۔ کشمیری گولیوں کے جواب میں پتھر برسا رہے ہیں،حالات یہ ہیں کہ رفیع اﷲ بٹ جیسے استاد بھی اس تحریک کو اپنے لہو سے رنگیں کرنے لگے ہیں۔
تحریک کی ابتدا ء میں ایک سینئر اخبار نویس نے وادی کا دورہ کیا اور پھر اپنے تاثرات اور ایک خط بھارتی خویر المسطح کو لکھا ، جس میں وہ لکھتا ہے :
’’ وادی کے ہر گھر، ہر کھمبے، ہر درخت اور عمارت پر پاکستانی پرچم لہرا رہا ہے، وہ مزید لکھتا ہے کہ ہر فرد کے ہاتھ میں پتھر ہے اور جس کے ہاتھ میں پتھر نہیں اس کے دل میں پتھر ہے۔‘‘
شام میں بچے کیمیکل زدہ ہیں جب کہ فلسطین میں کھلونا بم سے معصوم بچوں کو ہلاک کیا جاتا رہا ہے، جب کہ شیطانی ٹرائیکا (امریکہ،انڈیا، اسرائیل) نے نہتے کشمیری نوجوانوں کے خلاف اسرائیلی ساختہ پیلٹ گن کابے ساختہ استعمال کیا ۔
اس کی بیرل سے بیک وقت800چھرے نکلتے ہیں جو ایک ہی وقت میں8 بہت سے جسموں کو نشانہ بناتے ہیں اور جسم کے اندر دھنستے چلے جاتے ہیں، یہ چھرا، اگر کسی آنکھ میں لگ جائے تو نکالا نہیں جا سکتا اور اس کے بعد انسان ہمیشہ کے لیے بینائی سے محر وم ہو جاتا ہے۔اس گن کا شکار ہونے والوں کی تعداداب ہزاروں میں ہے جن میں اکثریت نوجوانوں کی ہے جو اپنی بینائی کھو چکے ہیں، انسانوں کی بینائی چھیننے والی اس گن کے استعمال پر شدید احتجاج کیا گیا جس نے بہت سے نونہالوں سے ان کی آنکھوں کی روشنی چھین لی ،لیکن۔۔۔ ظلم کی سیاہ رات اب تک چھٹ نہیں پائی۔
ڈنمارک میں انٹرنیشنل کشمیر کانفرنس منعقد ہوئی ہے جس میں دنیا بھر سے 500سے زائد عالمی مبصرین و نمائندگان نے شرکت کی جن کا تعلق عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور این جی اوز سے تھا ۔ انہوں نے کشمیر میں جاری مظالم کی نہ صرف مذمت کی بلکہ ان کو روکنے کا بھر پور مطالبہ کیا ، اس کانفرنس میں بتایا گیا کہ اب تک ہزاروں افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور مہلک ہتھیار پیلٹ گن کا استعمال انسانیت کے خلاف جرم ہے جس سے لوگوں کی بینائی چھینی جا رہی ہے اس کے علاوہ اس بات پر بھی مذمت کی قرارداد پاس کی گئی کہ بی جے پی کی مرکزی حکومت اور پی ڈی پی کی مقامی حکومتیں مل کی کشمیر کی ڈیمو گرافی تبدیل کرنے کی سازش میں ملوث ہیں جس کا مقصد کشمیری عوام کی عددی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا ہے حکومت بڑی اکثریت میں ہندو خاندانوں کو ڈومیسائل جاری کر کے کشمیر میں بسانا چاہتی ہے اس طرح کا تجربہ یہودی اسرائیل میں جبری یہودی بستیاں آباد کر کے کر چکا ہے جس پر امریکہ سمیت عالمی برادری نے قراردادیں پاس کیں لیکن UNOاس بات پر اب تک خاموش تماشائی بن رہا ہے۔
ہندوستان کی حکومت اب تک تو UNOکی وہ تمام قراردادیں جن میں انسانی حقوق کی پامالی، حق رائے دہی کی فراہمی، بین الاقوامی سرحدات کی مسلسل پامالی اور انٹرنیشنل بارڈر توڑنا ردی کی ٹوکری میں ڈال دیتا ہے اور ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی، عالمی قوتوں کی پشت پناہی کا حامل ہندوستان اب سلامتی کونسل کا مستقل رکن بننے کی سازش بھی کر رہا ہے جو ایک عالمی بھونڈا مذاق ہے، اس کے علاوہ اسے ایشیا ء کا تھانے دار بنانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔۔۔
ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈر تنظیم نے بھی ایک سروے کیا جس کے مطابق 105ملین افراد اس بھیانک اور دلخراش صورتحال میں ڈپریشن کا شکار ہو چکے ہیں جن کے جوان بچے گم ہو چکے ہیں یا ہلاک ہو چکے ہیں، ان کا ذہنی توازن بگڑ گیا ہے ، بوڑھے ماں باپ اپنے غائب شدہ بیٹوں کو تلاش کر تے پھر رہے ہیں اب تک لاپتہ افراد کی تعداد دس ہزار ہو چکی ہے جن کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں۔۔۔غیر شناخت شدہ قبروں کی تعداد دن بدن بڑھتی جا رہی ہے ، ہر قبرستان میں اجتماعی قبریں بڑھتی جا رہی ہیں 2009ء میں بھی بہت سی اجتماعی قبریں دریافت ہوئی تھیں ، یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہو چکا ہے ، اغواء کر کے تشدد کے ذریعے ہلاک کر دینا اور ان کی لاشوں کو گڑھوں میں دفنا دینا انسانیت کش جرم ہے ، جو جاری ہے ، عالمی برادری تماشا دیکھ رہی ہے ، این جی اوز کے دفاتر میں لوگ اپنے گمشدہ بیٹوں کو تلاش کرنے کے لیے مارے مارے پھرتے ہیں کہ کوئی ان کی مدد کرے۔
رات کو انڈین ٹروپس کسی بھی گاؤں میں داخل ہو جاتے ہیں تمام خاندانوں کو کھلی فضاء ، ٹھٹھرتی سردی میں کسی کھلی جگہ کھڑا کر دیتے ہیں اور سرچ آپریشن کے نام پر درندگی کا مظاہرہ شروع ہوتا ہے ۔ معصوم بچوں ، خواتین، بیماروں اور ضعیفوں تک کو معاف نہیں کیا جا تا ، علاج معالجہ کی سہولیات کی عدم دستیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سری نگر میں شری مہاراج ہری سنگھ اور SKIM سرکاری ہسپتال میں اور پیلٹ گن کے زخمیوں کا صرف ایک ہاسپٹل میں ہوتا ہے۔
آپریشن کی باری نہ آنے کی وجہ سے بہت سے لوگ اپنی بینائی سے محروم ہوجاتے ہیں، بہت سے جواں سال ہیں جن کی دونوں آنکھیں ضائع ہو چکی ہیں، گذشتہ دو برس سے کئی مرتبہ نہ صرف کاروبار زندگی معطل رہی بلکہ تعلیمی ادارے بھی بند رہے ہیں۔ اب تک متعدد سکول و کالج نذر آتش کیے جا چکے ہیں تاکہ اگلی نسل کو علم و ہنر سے دور رکھا جائے، حتیٰ کہ ہائیکورٹ کو مداخلت کر کے مقامی حکومت کو تعلیمی اداروں کی حفاظت کا حکم جا ری کرنا پڑا، لیکن حالات اب بھی مخدوش ہیں۔
برہان وانی کی شہادت نے اس تحریک کو نئی طرح بخشی ہے ،پوری قوم کوایک صفحہ پر یک جا کر دیا ،حریت بقاء اور حقوق کے حصول کی جنگ اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھنے لگی ۔2018ء کا یوم یکجہتی ایک ایسے موقع پر منایا گیا جب وادی آزادی کے نعروں سے گونج رہی ہے، کشمیری قوم سر بکف ہے، دنیا میں نئے اتحاد جنم لے رہے ہیں ۔ ماضی میں UNO مسئلہ کشمیر پر مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے ، ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان بھی اپنے تاریخی و اصولی مؤقف کو بھر پور آواز کو دبنے نہ دے اور ہر سطح پر انکا مقدمہ لڑے۔
اگر مغربی ممالک اور عالمی برادری یوگو سلاویہ سے کوسووایہ، سوڈان سے مشرقی تیمور بنا سکتی ہے تو کشمیر کا قضیہ تو طے شدہ ہے محض ان قراردادوں پر عمل درآمد کرانے کی ضرورت ہے جن سے علامہ اقبال کا کشمیر جنت نظیر اور بقول قائد شہہ رگ پاکستان کے لیے روشن مستقبل کی راہیں ہموار ہو سکتی ہیں۔
عالمی برادری کشمیر کو پاکستان اور ہندوستان کے مابین فلش پوائنٹ قرار دیتی ہے اور اس کی وجہ دونوں ممالک کا ایٹمی طاقت ہو نا ہے۔ عالمی دہشت گردی کی لہریں اور دونوں ممالک کے حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ باہمی تنازعات کا حل بات چیت سے تلاش کیا جائے ، کشمیریوں کو ان کا جائز حق دیا جائے، باہمی دہشت گردی اور سرجیکل سٹرائک کے شوشے چھوڑنے کی بجائے زمینی حقائق پر توجہ دی جائے ۔
ہندوستان کی عوام کی اکثریت بنیادی حقوق سے محروم چلی آرہی ہے، ٹائلٹ کی عدم دستیابی بھی ایساگھمبیر مسئلہ ہے جس سے ہندو ستان کی حکومت کو عالمی سطح پر مسلسل خفت کا سامنا ہے۔حکومت ہند کو 23سے زائد علیحدگی کی مسلح تحریکوں کا سامنا ہے۔
دلت(یعنی سکھ، عیسائی اور چھوٹی جاتوں کے ہندو) تحریک بھی انگڑائی لینے لگی ہے، سکھ دوبارہ منظم ہونے لگے ہیں ، کشمیر میں تازہ تحریک کسی صورت تھمتی دکھائی نہیں دیتی، انڈین قیادت کو نوشہ دیوار پڑھ لینا چاہیے، اب ’’ بغل میں چھری منہ میں رام رام‘‘ کی سیاست نہیں چلے گی۔
پاکستانی قیادت اور اسٹیک ہولڈرز بھی ہندوستان سے دوستی کی پینگیں بڑھاتے ہوئے ہوش کے ناخن لیں ۔ ماضی میں ہندو کردار سقوط بنگلہ دیش، جنگوں کا مسلط کیے جانا، بلا اشتعال بارڈر کاروائیاں ، افواج کے اجتماع ، چانکیہ سیاست اور پاکستان کو بدنام و تنہا کرنے کی سازشیں مد نظر رکھنا ہوں گی، ہماری خارجہ پالیسی میں جب تک مسئلہ کشمیر کا حل اولین ترجیح نہ ہو گا، اس وقت تک مضبوط پاکستان کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔
لبرل ازم کی شوشہ بازی، قرارداد مقاصد سے فرار کی روش، کشمیر تنازعہ پر سیاست اور تاریخی مؤقف سے دستبرداری تباہی کا راستہ ہے ، یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ کشمیریوں کو ملنے والی آزادی پاکستان کے خلاف جاری تمام سازشوں کا دم توڑ دے گی۔نئےUNOسیکرٹری کی ثالثی کی پیش کش بھی نئی سازش دکھائی دیتی ہے، عالمی برادری 70برس قبل فیصلہ دے چکی ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جنرل سیکرٹری صاحب استصواب رائے کروا دیں ، تاکہ دنیا میں انصاف کا بول بالا ہو اور آزادی کے نئے چراغ روشن ہوں، اسی میں عالمی امن کی ضمانت مضمر ہے، پاکستان اور چین کی اکانومک کاریڈور اور ہندستان کا منی سپر پاور بننے کا خواب بقائے باہمی اور امن و آتشی کا متقاضی ہے ۔
ڈیڑھ ارب نفوس کا خطہ بارود کے ڈھیر پر کھڑا ہے، ایک چنگاری سب کو خاکستر کر سکتی ہے، دنیا میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیاں اور لاینحل مسائل کے انبار UNOکے ادارے کی بقاء پر بھی سوالیہ نشان ہیں جو ادارہ70برس میں اپنی پاس کردہ قراردادوں پر عمل کرنے سے قاصر ہے تو وہ گلوبل وارمنگ کے خطرات سے کیا خاک نمٹے گا۔۔۔عالمی آلودگی سے بڑا خطرہ ممکنہ ایٹمی جنگ کا آغاز ہے جس کے شعلے کسی وقت بھی بھڑک سکتے ہیں۔ہندوستان کا پانی روک کر ڈیم بنانا اور معاہدات پانی کی خلاف ورزی ، تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔
یوم جمہوریہ کا یہی پیغام ہے ،اس چنگاری کو ہمیشہ کے لیے بجھا دیا جائے اور امن و آشتی کے نئے چراغ روشن کیے جائیں، جبر اور غلامی کی زنجیریں توڑ کر آزادی اور خوشحالی کی راہیں ہموار کی جائیں، اب تک UNOمشرق وسطیٰ اور افریقہ میں شروع ہونے والی تازہ خون کی ہولی کو روکنے میں بری طرح ناکام دکھائی دیتی ہے۔
معصوم بچوں پر کیمیائی دہشت گردی کا آزادانہ استعمال، اسرائیل بردار جنگی طیاروں کی بمباری قیامت صغریٰ سے کم نہیں ، ایشیاء میں اگر چہ دیگر آزادی کی تحریکیں برپا ہیں، لیکن ان میں جس تحریک کو عالمی برادر ی مسلم اخلاقی قوانین اور فیصلہ کن قراردادوں کا جواز دے چکی ہے، وہ تحریک آزادی کشمیر ہے ۔ہندستان کا جبری تسلط ختم کرنا یو این کی بنیادی ذمہ داری ہے ، کشمیر ی قوم جس پر ماضی میں بزدلی اور کم ہمتی کے طعنے برسائے جاتے تھے، آج کس قدر اولعزم ،بہادر، مستقل مزاج اور سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہے کہ سات لاکھ سے زائد انڈین آرمی کی گنیں، پیلٹ گنوں کے زہر آلود چھرے، فضائی بمباری، کیمیائی حملے، گرفتاریاں ، تشدد ، بیروزگاری ، بھوک ، بیماریاں اور جنازے ایک قدم بھی تو نہیں روک پا رہے ، ہر شہید پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر کفنایا جا رہا ہے ، ہر ریلی میں پاک پرچم لہرایا جا رہا ہے ہر زبان پر ہر سو ایک ہی پکار سنائی دیتی ہے۔۔۔
’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘
’’ پاکستان سے رشتہ کیا لا الہ الا اﷲ ‘‘
آزادی کی صبح نو طلوع ہونے والی ہے، شہیدوں کا لہو رنگ لاکر رہے گا، آزادی کی فضائیں ضرور چھائیں گی، غلامی کی زنجیریں ٹوٹیں گی،کیونکہ جنت نظیر کسی کافر کی جاگیر نہیں رہ سکتی۔۔۔


WhatsApp




متعلقہ خبریں
سانپ اور سیڑھی کا کھیل ... مزید پڑھیں
اسرائیلی تاریخ ... مزید پڑھیں
آسیہ" نامی عیسائی عورت اور ہمارا قانون ... مزید پڑھیں
ارضِ حرمین پر منڈلاتی گھٹائیں ... مزید پڑھیں
حکمرانوں کے تابناک اور روشن کردار ... مزید پڑھیں
فاطمہ بنت پاکستان کا مقدمہ ... مزید پڑھیں
یہ رہی تمہاری تلاش ... مزید پڑھیں
اقوام متحدہ کے اجلاس کی روداد ... مزید پڑھیں
القدس اپنے محافظ کی تلاش میں ... مزید پڑھیں
یوم یکجہتی کشمیر کا تاریخی تعاقب و اہمیت ... مزید پڑھیں
بنیادی حقوق کا’’سراب‘‘ ... مزید پڑھیں
ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے ... مزید پڑھیں
سانپ اور سیڑھی کا کھیل ... مزید پڑھیں
استادِ محترم کو میرا سلام کہنا ... مزید پڑھیں
استعمای عزائم اور دفاع وطن کے تقاضے ... مزید پڑھیں
بچوں کا اغوا،ا عضاء فروشی اور افواہوں کا بازار ... مزید پڑھیں
متعلقہ خبریں
ارض حرمین پر منڈلاتی گھٹائیں
سانپ اور سیڑھی کا کھیل
اسرائیلی تاریخ
آسیہ" نامی عیسائی عورت اور ہمارا قانون
ارضِ حرمین پر منڈلاتی گھٹائیں
حکمرانوں کے تابناک اور روشن کردار
فاطمہ بنت پاکستان کا مقدمہ
یہ رہی تمہاری تلاش
اقوام متحدہ کے اجلاس کی روداد
القدس اپنے محافظ کی تلاش میں

مقبول خبریں
نیب جیسا ہے ویسا ہی رہنا چاہیے ہم بھگت چکے باقی بھی بھگتیں، نواز شریف
یمن میں فریقین کو جنگ بندی کے لیے اقوام متحدہ کی تنبیہ
یاسر شاہ نے ٹیسٹ کرکٹ کا 82 سالہ ورلڈ ریکارڈ توڑدیا
پاکستان نے پہلے ٹی ٹوئنٹی میں ویسٹ انڈیز کو 9 وکٹوں سے شکست دے دی
ایمن اور منیب نے شادی کی معدوم ہوتی فضول رسمیں ایک بار پھر زندہ کردیں
ارض حرمین پر منڈلاتی گھٹائیں
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
ایک دن ورزش کے اثرات کئی دن تک برقرار رہتے ہیں
کاسمیٹک سرجری کے شوق نے خاتون کی جان لے لی
صرف دو ڈالر کی چوری کے سراغ کے لیے پولیس نے 600 ڈالر خرچ کردیئے
صرف دو ڈالر کی چوری کے سراغ کے لیے پولیس نے 600 ڈالر خرچ کردیئے
چین نے آگ میں پھنسے لوگوں کو بچانے والا خود کار ڈرون ڈیزائن کرلیا
شرح پیدائش پنجاب میں کتنی ہے اور خیبر پختونخوا میں کتنی؟ اعدادوشمار سامنے آگئے
بیویاں شوہروں کو طلاق دے سکیں گی والا نکاح نامہ زیرغور نہیں، اسلامی نظریاتی کونسل
عدالتی نظام کو اوورہالنگ کی ضرورت ہے
ویڈیو گیلری

آزادی کی تحریکوں کو دبایا تو جا سکتا ہے لیکن ختم نہیں کیا جا سکتا : پاکستانی ہائی کمشنرعبدالباسط

بھارتی اشتعال انگیزی کا ذمہ داری سے جواب دے رہے ہیں ،عاصم باجوہ

پاکستان اورسعودی عرب حقیقی بھائی ہیں،علما اکرام مسلم امت کے اتحاد میں کردار ادا کریں:امام کعبہ

بڈگام میں بھارتی فوج کی فائرنگ، مزید 8 کشمیری شہید، پاکستان کا شدید احتجاج

فرانس میں تیز رفتار گاڑی فوجیوں پر چڑھ دوڑی، 6 زخمی

سپورٹس
یاسر شاہ نے ٹیسٹ کرکٹ کا 82 سالہ ورلڈ ریکارڈ توڑدیا
ابوظہبی(ویب ڈیسک) لیگ اسپنر یاسر شاہ نے نیوزی لینڈ کے خلاف مزید پڑھیں ...
ویب ٹی وی
ٹورازم
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔ posted by Abdur مزید پڑھیں ...
انٹرٹینمینٹ
ایمن اور منیب نے شادی کی معدوم ہوتی فضول رسمیں ایک بار پھر زندہ کردیں
گزشتہ کئی روز سے سوشل میڈیا پر پاکستانی اداکارہ ایمن خان اور مزید پڑھیں ...
مذہب
بیویاں شوہروں کو طلاق دے سکیں گی والا نکاح نامہ زیرغور نہیں، اسلامی نظریاتی کونسل
اسلام آباد(ویب ڈیسک) اسلامی نظریاتی کونسل کا کہنا ہے کہ مزید پڑھیں ...
بزنس
روپے کی بے قدری، ڈالرملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پرجا پہنچا
کراچی(ویب ڈیسک) انٹربینک میں پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں امریکی ڈالرتاریخ مزید پڑھیں ...