اردو | العربیہ | English



اردو | العربیہ | English

یمن میں فریقین کو جنگ بندی کے لیے اقوام متحدہ کی تنبیہ

بنیادی حقوق کا’’سراب‘‘


WhatsApp
96



’’ یہ آئین نہیں لائل پور(فیصل آباد ) کا گھنٹہ گھر ہے۔‘‘

وطنِ عزیز میں آجکل عوام کے کانوں میں روشن پاکستان کا ’’جرس‘‘ گھولا جا رہا ہے اور بنیادی حقوق کا ’’سراب ‘‘ دکھایا جا رہا ہے۔ ’’جرس‘‘ صحرا میں چلتے اونٹ کے گلے میں بندھی گھنٹی کی آواز کو کہا جاتا ہے جو بڑی دور سے کانوں میں رس گھولنے لگتی ہے، جبکہ ’’سراب‘‘ وہ منظر ہے جو تپتے صحرا میں ہموار ریت پر دھوپ میں دور سے دکھائی دیتا ہے، بالکل یوں محسوس ہو تا ہے کہ پانی کھڑا ہے حالانکہ یہ فریبِ نظر سے زیاد ہ کچھ بھی نہیں ہوتا،قریب جا کر یہ منظر غائب ہو جاتا ہے اور ریت ہی باقی رہ جاتی ہے جس کی تپش سے پاؤں بھی جل جاتے ہیں اور اُس میں دھنس بھی جاتے ہیں۔جی ٹی روڈ پر یا موٹر ویز کی ہموار سڑکوں پر تپتی دوپہر میں آپ کو ایسے مناظر سے کبھی نہ کبھی ضرور واسطہ پڑا ہو گا ۔
آج کل ملک میں ’’بنیادی حقوق‘‘ کی بحالی اور ’’احتساب‘‘ کی ہا ہا کار مچی ہوئی ہے، ہمارا موضوع ’’بنیای حقوق ‘‘ ہے کیونکہ ’’ احتساب‘‘ اس قدر نازک اور حساس دفتر ہے کہ ہم اپنا قلم اٹھا لینے میں ہی اپنی عافیت جانتے ہیں، وہاں تو بڑے بڑوں کے پر جل جاتے ہیں۔نئی حکومت سے عوام نے ایک بار پھر امید وں کے سنہرے خواب وابستہ کر لیے ہیں، تبدیلی ، نیا پاکستان، نیا نظام، نوکریاں، گھر ، معاشی انصاف، احتساب، الغرض ہر طرف سبز ہی سبز دکھائی دینے لگا ہے، کانوں میں ترانے رس گھول رہے ہیں:
’’ چلی چلی شفاف چلی، تحریک انصاف چلی، چلو چلو عمران کے ساتھ ، تبدیلی آنی ہے ، تبدیلی آنی ہے۔
جی ہاں! نیا پاکستان، حقوقِ عوام لیکن ماضی کو بھی مدِ نظر رکھیں۔
1973ء کے آئین بارے یہ خوش گمانی پھیلائی جاتی رہی کہ یہ بنیادی حقوق کا محافظ ہے لیکن سادہ لوح عوام کے حقوق پر ماضی میں جب بھی تلوار چلنے کی باری آئی اِن حقوق کو ایک پی سی او(Pco)کے تحت معطل کر دیا جاتا اور ایک غیر محدود عرصہ کے لیے طا قِ نسیاں میں رکھ دیا جاتا رہا ہے ، یہ ہاتھ عوام کے ساتھ باقاعدہ طور پر چار مرتبہ کیا جا چکا ہے۔
1971,1962,1958ء اور1999ء میں طالع آزماؤں نے اچانک قومی نشریاتی رابطے پر قوم سے خطاب کیا اور کہا کہ:
’’میرے عزیز ہم وطنو! ملک سنگین خطرات کا شکار تھا، اندرونی بغاوت اور بیرونی جارحیت کا خطرہ درپیش تھا، ملکی خزانہ خالی ہو چکا تھا، سیاسی ابتری اور خانہ جنگی کے ممکنہ خطرات کے درپیش سابقہ حکومت ختم کر دی گئی ہے، افواجِ پاکستان نے ملک کا اقتدار سنبھال لیا ہے اور عوام کے بنیادی حقوق عارضی طور پر معطل کر دیے گئے ہیںیعنی آئین معطل کر دیا ہے جسے کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا،اب ملک پی سی او یعنی عارضی آئینی حکم کے تحت چلے گا۔
ملکی تاریخ میں یہ مناظر عوام متعدد بار دیکھ چکے ہیں اور بھگت بھی چکے ہیں، اس لیے اب جب بھی ’’بنیادی حقوق‘‘ کی بحالی کی آواز اٹھتی ہے انہیں وہ’’جرس‘‘ کی طرح ہی سنائی دیتی ہے،ترقی و خوشحالی اور تبدیلی کے نعرے ’’سراب‘‘ ہی لگتے ہیں۔1973ء تک قوم متفقہ آئین سے محروم رہی، 1962ء میں جو آئین بنا وہ 1956ء کے بنیادی حقوق پر شبِ خون مار کر بنایا گیا جس میں مقتدر ہستی نے تمام اختیار فر دِ واحد کی ذات میں جمع کر لیے ، لوگ کہنے لگ گئے :
’’ یہ آئین نہیں لائل پور(فیصل آباد ) کا گھنٹہ گھر ہے۔‘‘
1979ء کے مارشل لاء باس نے آئین کو جیب کی گھڑی اور موم کی گڑیا بنا دیا اور1973ء کے متفقہ جمہوری آئین میں اپنا ذاتی نام داخل کر دیا اور اٹھاون ٹو بی ایک ایسی شِق کا اضافہ کیا جس کے تحت جب چاہو منتخب حکومت کو چلتا کر دو، درمیانی مدت میں آئین کی تیرہویں ترمیم کر کے یہ اختیار ختم کیا گیا، بھولے عوام سمجھ بیٹھے کہ اب نہ کوئی آئین معطل کر سکے گا اور نہ ہی ان کے بنیادی حقوق مُعطل ہونگے۔
وائے قسمت 1999ء میں ان کو یہ دن بھی دیکھنا نصیب ہو گیا، ملک واضح طور پردو مکتبہ فکر میں تقسیم رہا، باوردی حکمرانوں کے ساتھ شرکتِ اقتدار پر اکتفا کرنے والے، جبکہ جمہوری حقوق کی بحالی کی جدو جہد جاری رکھنے والے۔۔۔ بنیادی حقوق کی فکر نے کسی کو نہیں ستایا، سب کی منزل ہمیشہ شرکت اقتدار ہی رہی ہے’’برانڈ‘‘ کوئی بھی ہو جائے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، خدا خدا کر کے اب دو جمہوری حکومتیں اپنا پانچ سالہ دور مکمل کر پائی ہیں۔
2018ء جولائی انتخاب کا مہینہ قرار پایا، عوام کو پھر حقوق کی’’جرس‘‘ سنائی دی جانے لگی ، ریاست کے تین ستونوں میں سے ایک ستون’’عدلیہ‘‘ حقوق کی بحالی کے لیے میدان میں بر سرِ پیکار دکھائی دیتی ہے، باقی ’’خلائی مخلوق‘‘ کے ہاتھ ہیں جو بظاہر دکھائی نہیں دیتے ۔۔۔کیا منطقی طور پر یہ بات تسلیم کی جا سکتی ہے کہ صرف ایک ستون پر مضبوط عمارت کھڑی رہ سکتی ہے؟؟
ابراہام لنکن کی بیان کردہ تعریف کے مطابق ہمیں تو اِ س وطن میں بنیادی حقوق کی پاسدار دکھائی دینے والی کوئی جمہوری حکومت نہیں ملی، البتہ دھونس، دھاندلی ، جھوٹ اور جھانسہ کا سہارا لے کر ہر بار عوام کے کندھوں پر سوار ہو کر اقتدار کا ’’ٹل‘‘ چومنے کی دوڑ لگی ہے، دو نہیں ایک پاکستان ، نیا پاکستان، کرپشن فری پاکستان ،ووٹ کو عزت دو، اب کی بار دیانت وغیرہ کے نعرے لے کر پرانے سیاسی مداری انتخابی میدان میں اُترے ۔
اِن مداریوں اور ان کے حواریوں نے جو طاقت کے اصل مراکز تھے، بعض کھلاڑی بھی اتارے جن کی خوبی تھی کہ وہ قابلِ چناؤ(Electable)تھے۔ اِن کا بھیس تبدیل کیا گیا یا پھر اِن پتلیوں(Puppet)کے لیے نیا اسٹیج ہموار کیا گیا، یعنی’’ نئی بوتل سے پرانی شراب اور نئے میلے پر پرانے مداری‘‘۔۔۔بھولے عوام کا وہی حال رہا، پی ٹی آئی کی حکومت تو بن گئی لیکن سادہ اکثریت سے محروم، اب پھر ’’بھان متی‘‘ کا کنبہ ملے گا ۔
پینے کو صاف پانی دستیاب نہیں، کسانوں کی زمینیں آسمانی بارشوں کی منتظر، دریا سوکھ چکے ہیں، دہشت گردی نے عوام کے اعصاب شل کر رکھے ہیں، ڈگری یافتہ نوجوان بے روزگاری کی چکی میں پس رہے ہیں، یہاں تک کہ مائیں فاقوں سے تنگ آکر خود کشیاں کر رہی ہیں، ہسپتالوں میں مریض مکمل علاج معالجے سے محروم ، کمر توڑ مہنگائی دندنا رہی ہے، انصاف کی ہر دہلیز پر فراہمی کے نقارے تو بج رہے ہیں لیکن کچھ ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔الیکشن نتائج کی نا منظوری کے خلاف نگر نگر، شہر شہر احتجاج، ریلیاں، اپیلیں اور اپوزیشن کی تیاری عروج پہ دکھائی دیتی ہے۔دوسری جانب جگر کے ٹکڑے فروخت کرتی مائیں، جسم فروشی پر مجبور ہوتی حوا کی بیٹیاں دکھائی دیتی ہیں، مسجد ،مندر، چرچ ،درگاہ، جنازے، کھیل کے میدان، باراتیں، تعلیمی درسگاہیں، شفا خانے، بس سٹاپ، ریلوے سٹیشن،قبرستان چراہ گاہیں، کوئی بھی جگہ تو محفوظ نہیں رہی۔
آگ، بارود، لوتھڑے،لاشیں اور جسموں کے ٹکڑے اٹھا اٹھا کر قوم کے بازو بھی شل ہو رہے ہیں جبکہ کان پھٹ رہے ہیں اب تو حالت’’ ایں جار سید‘‘ کے قوم کے محافظ بھی غیر محفوظ ہو چکے ہیں، یہ وقت ہے قوم کی ازِ سر نو تعمیر کا،بنیادی خرابیوں کی نشاندہی و علاج ڈھونڈنے کا، پوری قوم کے ایک بیانئے کا ، عجب تماشہ ہوا کہ قوم کو نئی قیادت چننے کا موقع دینے کے نام پر’’الیکشن تماشہ‘‘ ایک مرتبہ پھر برپا ہوا جو مزید نئی تقسیموں کا پیش خیمہ بنتا دکھائی دیتا ہے۔۔۔ قوم واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔
بنیادی حقوق کا نعرہ لگانے والے دو طرح کے ہتھیاروں سے لیس ہو کر میدان میں اُترے، اوّل ’’سبز باغ‘‘ اور دوئم’’جھانسہ‘‘ کون کس کا شکار بنا ہے؟؟آر ٹی ایس سسٹم نے نئی الجھنیں پیدا کر کے انتخابی نتائج کو دھندلا کر دیا، نئی حکومت تو بننے جا رہی ہے لیکن ایک منڈی کا نقشہ بھی دکھائی دے رہا ہے،قانو ن سازی یا حقوق کی فکر کسے ہو گی؟؟
شاعر تو ان سے نا امید ہے اور بد خواہ بھی کیونکہ تجربہ تلخ ہی رہا ہے۔۔۔
وہ خواب ہی تھے چنبلییوں جیسے
جو کر لی حاکم کی بیعت جا کر
جب ہر اِک چنبیلی کی اوٹ میں سے
جو سانپ نکلے تو لوگ سمجھے


WhatsApp




متعلقہ خبریں
سانپ اور سیڑھی کا کھیل ... مزید پڑھیں
اسرائیلی تاریخ ... مزید پڑھیں
آسیہ" نامی عیسائی عورت اور ہمارا قانون ... مزید پڑھیں
ارضِ حرمین پر منڈلاتی گھٹائیں ... مزید پڑھیں
حکمرانوں کے تابناک اور روشن کردار ... مزید پڑھیں
فاطمہ بنت پاکستان کا مقدمہ ... مزید پڑھیں
یہ رہی تمہاری تلاش ... مزید پڑھیں
اقوام متحدہ کے اجلاس کی روداد ... مزید پڑھیں
القدس اپنے محافظ کی تلاش میں ... مزید پڑھیں
یوم یکجہتی کشمیر کا تاریخی تعاقب و اہمیت ... مزید پڑھیں
بنیادی حقوق کا’’سراب‘‘ ... مزید پڑھیں
ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے ... مزید پڑھیں
سانپ اور سیڑھی کا کھیل ... مزید پڑھیں
استادِ محترم کو میرا سلام کہنا ... مزید پڑھیں
استعمای عزائم اور دفاع وطن کے تقاضے ... مزید پڑھیں
بچوں کا اغوا،ا عضاء فروشی اور افواہوں کا بازار ... مزید پڑھیں
متعلقہ خبریں
ارض حرمین پر منڈلاتی گھٹائیں
سانپ اور سیڑھی کا کھیل
اسرائیلی تاریخ
آسیہ" نامی عیسائی عورت اور ہمارا قانون
ارضِ حرمین پر منڈلاتی گھٹائیں
حکمرانوں کے تابناک اور روشن کردار
فاطمہ بنت پاکستان کا مقدمہ
یہ رہی تمہاری تلاش
اقوام متحدہ کے اجلاس کی روداد
القدس اپنے محافظ کی تلاش میں

مقبول خبریں
نیب جیسا ہے ویسا ہی رہنا چاہیے ہم بھگت چکے باقی بھی بھگتیں، نواز شریف
یمن میں فریقین کو جنگ بندی کے لیے اقوام متحدہ کی تنبیہ
یاسر شاہ نے ٹیسٹ کرکٹ کا 82 سالہ ورلڈ ریکارڈ توڑدیا
پاکستان نے پہلے ٹی ٹوئنٹی میں ویسٹ انڈیز کو 9 وکٹوں سے شکست دے دی
ایمن اور منیب نے شادی کی معدوم ہوتی فضول رسمیں ایک بار پھر زندہ کردیں
ارض حرمین پر منڈلاتی گھٹائیں
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
ایک دن ورزش کے اثرات کئی دن تک برقرار رہتے ہیں
کاسمیٹک سرجری کے شوق نے خاتون کی جان لے لی
صرف دو ڈالر کی چوری کے سراغ کے لیے پولیس نے 600 ڈالر خرچ کردیئے
صرف دو ڈالر کی چوری کے سراغ کے لیے پولیس نے 600 ڈالر خرچ کردیئے
چین نے آگ میں پھنسے لوگوں کو بچانے والا خود کار ڈرون ڈیزائن کرلیا
شرح پیدائش پنجاب میں کتنی ہے اور خیبر پختونخوا میں کتنی؟ اعدادوشمار سامنے آگئے
بیویاں شوہروں کو طلاق دے سکیں گی والا نکاح نامہ زیرغور نہیں، اسلامی نظریاتی کونسل
عدالتی نظام کو اوورہالنگ کی ضرورت ہے
ویڈیو گیلری

آزادی کی تحریکوں کو دبایا تو جا سکتا ہے لیکن ختم نہیں کیا جا سکتا : پاکستانی ہائی کمشنرعبدالباسط

بھارتی اشتعال انگیزی کا ذمہ داری سے جواب دے رہے ہیں ،عاصم باجوہ

پاکستان اورسعودی عرب حقیقی بھائی ہیں،علما اکرام مسلم امت کے اتحاد میں کردار ادا کریں:امام کعبہ

بڈگام میں بھارتی فوج کی فائرنگ، مزید 8 کشمیری شہید، پاکستان کا شدید احتجاج

فرانس میں تیز رفتار گاڑی فوجیوں پر چڑھ دوڑی، 6 زخمی

سپورٹس
یاسر شاہ نے ٹیسٹ کرکٹ کا 82 سالہ ورلڈ ریکارڈ توڑدیا
ابوظہبی(ویب ڈیسک) لیگ اسپنر یاسر شاہ نے نیوزی لینڈ کے خلاف مزید پڑھیں ...
ویب ٹی وی
ٹورازم
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔ posted by Abdur مزید پڑھیں ...
انٹرٹینمینٹ
ایمن اور منیب نے شادی کی معدوم ہوتی فضول رسمیں ایک بار پھر زندہ کردیں
گزشتہ کئی روز سے سوشل میڈیا پر پاکستانی اداکارہ ایمن خان اور مزید پڑھیں ...
مذہب
بیویاں شوہروں کو طلاق دے سکیں گی والا نکاح نامہ زیرغور نہیں، اسلامی نظریاتی کونسل
اسلام آباد(ویب ڈیسک) اسلامی نظریاتی کونسل کا کہنا ہے کہ مزید پڑھیں ...
بزنس
روپے کی بے قدری، ڈالرملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پرجا پہنچا
کراچی(ویب ڈیسک) انٹربینک میں پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں امریکی ڈالرتاریخ مزید پڑھیں ...