اردو | العربیہ | English



اردو | العربیہ | English

یورپی یونین سے انخلا کیلیے برطانیہ کو 31 جنوری تک مہلت مل گئی

ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے


WhatsApp
456



تبدیلی کے خواہاں مایوس نہ ہوں پتلی تماشہ شروع ہو چکا ہے

عظیم دانشور ، ادیب، شاعر، سیاستدان اور اسٹیج کے فی البدیہہ مقدر شورش کاشمیری کی معروف نظم کے اشعار حالاتِ حاضرہ کی شاندار عکاسی کر رہے ہیں:
شمع روشن ہوئی محفل میں پتنگے ناچے
واہ رے تہذیب تیری بزم میں ننگے ناچے
اہل تمدّن کی فسوں کاری سے
بن کے اشراف سٹیجوں پر لفنگے ناچے
اس پر صرف یہی کہا جا سکتا ہے کہ ۔۔۔
پڑھتا جا ۔۔۔ شرماتا جا۔۔۔
سینیٹ کے سابقہ الیکشن کے موقع پر بھی یہ غلغلہ سنائی دیتا رہا ہے کہ سینٹیرز کے چناؤ میں بولی لگی۔۔۔ خاص طور پر اعلیٰ ترین اور مقدس ترین ایوان کے اراکین کے چناؤ کے حوالے سے ایسی خبر نہ صرف شرمناک ہیں بلکہ نہائیت ہی تکلیف دہ بھی ۔۔۔ جس سے با ضمیر اور مخلص اہل وطن نالاں و بیزار ہوئے۔ یوں دکھائی دینے لگا ہے کہ:
’’ اس حمام میں سبھی ننگے ہو چکے ہیں‘‘
فاتح و مفتوح دونوں گروپس نے معزز ترین اراکین کی قیمت کروڑوں میں بتائی اور اپنی اپنی پارٹی کے ممبرز پر الزام تراشی کرتے دکھائی دیے، جس طرح کہا جاتا ہے کہ ’’ ریاست کے اندر ریاست‘‘ اسی طرح ہر جماعت ہی نہیں بسا اوقات کئی جماعتیں ہوتی ہیں جس کے شواہد وقت گذرنے کے ساتھ واضح ہو رہے ہیں، ہر پارٹی نے جماعتی احتساب کے دعوے کیے ، جو دھول کی طرح بیٹھ چکے ہیں اور کوئی ضمیر فروش ابھی تک پکڑا نہیں گیا، ایک جماعت نے تو اپنے ’’حاجیوں‘‘ کے بکنے کی بد اندیشی کا اظہار بھی کر دیا تھا جو کہ سیاسی فضاؤں میں آج تک ’’زیر گردش ‘‘ ہے۔اب تو حالت یہ ہے کہ چار سدہ کے ناکام امیدواروں نے وہ رقوم مانگنا شروع کر دی ہیں جو انہوں نے اس مقصد کے لیے تقسیم کی تھیں۔
چناؤ کے طریقہ کار پر بحث جاری ہے، سابقہ دور میں فاٹا ممبرز کی بولی لگنے کی بات ہوئی تو ممتاز دانشور انور مقصود نے ایک ٹی وی پروگرام میں اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ آپ کی رائے میں سینیٹرز کا چناؤ کس طرح کیا جانا چاہیے تو آپ نے جواب میں فرمایا تھا کہ:
’’ میرے خیال میں ان سینیٹرز کو بالکل اسی طرح چنا جائے جیسے اکبر بادشاہ نے انار کلی کو چنا تھا۔‘‘
(اکبر بادشاہ نے انار کلی کو زندہ ہی اینٹوں کی دیواروں میں چن دیا تھا)
اب تو بات یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تمام پارٹی سربراہان سے سینیٹ الیکشن میں فلور کرانسنگ اور ووٹ خریدو فروخت کے ثبوت مانگ لیے ہیں، تاہم کسی پارٹی نے ابھی تک کوئی ثبوت پیش نہیں کیا، الیکشن کا اعلان ہو چکا ، پرانے فیصلے تمام ہوئے۔۔۔ پھرصورتحال اس وقت دوبارہ زیر بحث بنی اور گرم جوشی پکڑ گئی جب وزیر اعظم پاکستان نے سینیٹ کے چیئرمین کی حیثیت کو چیلنج کیا اور کہا کہ جو چیئرمین ووٹ خرید کر بنا ہو ہم اسے نہیں مانتے، اس پر چیئرمین پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کو درخواست دی کہ وزیر اعظم کو طلب کیا جائے اور وضاحت مانگی جائے کیونکہ سینیٹ الیکشن میں دھاندلی وزیر اعظم کا انکشاف بھی ہے اور اعتراف بھی کیا ، الزام تراشی کے اس کھیل میں کسی کے چہرے سے نقاب نہیں اترا بلکہ یہ حقیقت آشکار ہو رہی ہے کہ بطنِ جمہوریت سے ایسے ہی جمورے جنم لیتے ہیں، جنکی ڈوریں کسی ’’پاٹے خان ‘‘نے ہلانی ہوتی ہے۔ ضمیر فروشی کی اس منڈی میں قوم محسن نقوی مرحوم کا صرف یہ شعر ہی گنگنا سکتی ہے:
میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
کہ سارے شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے
یہ تمام ایشوز اب ردی کی ٹوکری میں ہیں، کسی نئے شوشے کا غوغہ بلند ہونے تک قوم اسی سانحہ کے واقعات کی جگالی کرے۔ یہی جمہوریت کا بہترین انتقام ہے، کیا خوب فرمان ہے:
تبدیلی کے خواہاں مایوس نہ ہوں
پتلی تماشہ شروع ہو چکا ہے
سیاسی جماعتوں سے کٹنے والی’’ پتنگوں ‘‘، ’’لوٹوں‘‘، ’’مرغابیوں‘‘ ، ’’ڈریکون ‘‘ کی جماعتی وابستگیاں تبدیل کرنے والوں کی منڈی لگی ہے۔ اس پر ستم ظریفی اور اخلاق کا جنازہ نکل رہا ہے کہ اس ’’معزز‘‘ سیاسی کرداروں کا نئی جماعتوں میں بھرپور استقبال ہو تا ہے، ہر جماعت اپنا نظریہ اور منشور سمیت ماضی کی تمام روایات کو بالائے طاق رکھ رک اقتدار کی سر بلند چوٹی تک ہر قیمت پر پہنچنا چاہتی ہے، یہی سب کی اوّلین ترجیح بن چکی ہے، ضرب المثل مشہور ہے کہ’’دوست کا دشمن بھی دشمن جبکہ دشمن کا دشمن دوست ہو تا ہے‘‘ Electasleکی منڈی سجی ہے۔
اب نگران حکومت کا دور دورہ ہے ، لیکن وفاداریاں تبدیل کرنے کی منڈی اب بھی سجی ہے، پارٹی ٹکٹ بھی بک رہے ہیں۔ ورکرز ناراض ہو کر دفاتر پر حملے کر رہے ہیں، عدم برداشت اور تبدیلی کے حیرت انگیز مناظر قوم دیکھ رہی ہے۔ جذبات کے بحرِ بیکراں لہروں نے بھٹو کے’’جیالے ازم‘‘ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ جمہوریت اپنی پوری آب و تاب سے جلوہ افروز ہے۔ سابقہ حکمران پیشیاں بھگت رہے ہیں، جو کل تک ’’نیب زادے‘‘ تھے قسمت کی ستم ظریفی دیکھیے کہ اب وہ نیب زدہ ہو چکے ہیں ، ان کو وقت ملے تو الیکشن مہم چلا پائیں گے ورنہ عدالت ، نیب اور تفتیش کی بھٹی میں ہی کندن بن پائیں گے۔
اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں
ایک سیاسی ہا ہا کار مچی ہوئی ہے، عام آدمی محض تماشا دیکھ رہا ہے، کون کون جیل جاتا ہے،کس کے سرپر ہما بیٹھے گی؟؟ کس کی امیدیں دم توڑ جائیں گے، کون قصہ ماضی بن جائے گا؟؟
ایک تیز رفتار تبدیلی کا آغاز دکھائی دیتا ہے، لیکن عام پاکستانی کی زندگی بھی تبدیل ہو گی، یہ سوال ابھی تشفہ ہے، آگے آگے دیکھیے ہو تا ہے کیا؟؟
’’ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے


WhatsApp




متعلقہ خبریں
عمران خان نے انیس سو انتالیس کے میونخ کا حوالہ ... مزید پڑھیں
بلوچستان سے خلائی سائینسدان کا ظہور ... مزید پڑھیں
ٹیم اور کپتان ... مزید پڑھیں
بھٹو کیوں زندہ ہے؟ ... مزید پڑھیں
شاہ سلمان کی آمد ۔۔۔بہار کی آمد ... مزید پڑھیں
افغان باقی، کہسار باقی ... مزید پڑھیں
اقلیتوں کا عالمی دن۔۔۔تجزیہ ... مزید پڑھیں
ارض حرمین پر منڈلاتی گھٹائیں ... مزید پڑھیں
سانپ اور سیڑھی کا کھیل ... مزید پڑھیں
اسرائیلی تاریخ ... مزید پڑھیں
آسیہ" نامی عیسائی عورت اور ہمارا قانون ... مزید پڑھیں
ارضِ حرمین پر منڈلاتی گھٹائیں ... مزید پڑھیں
حکمرانوں کے تابناک اور روشن کردار ... مزید پڑھیں
فاطمہ بنت پاکستان کا مقدمہ ... مزید پڑھیں
یہ رہی تمہاری تلاش ... مزید پڑھیں
اقوام متحدہ کے اجلاس کی روداد ... مزید پڑھیں
متعلقہ خبریں
سیاست کے کھیل کا بارہواں کھلاڑی
عمران خان نے انیس سو انتالیس کے میونخ کا حوالہ کیوں دیا؟
بلوچستان سے خلائی سائینسدان کا ظہور
ٹیم اور کپتان
بھٹو کیوں زندہ ہے؟
شاہ سلمان کی آمد ۔۔۔بہار کی آمد
افغان باقی، کہسار باقی
اقلیتوں کا عالمی دن۔۔۔تجزیہ
ارض حرمین پر منڈلاتی گھٹائیں
سانپ اور سیڑھی کا کھیل

مقبول خبریں
ویڈیو گیلری

آزادی کی تحریکوں کو دبایا تو جا سکتا ہے لیکن ختم نہیں کیا جا سکتا : پاکستانی ہائی کمشنرعبدالباسط

بھارتی اشتعال انگیزی کا ذمہ داری سے جواب دے رہے ہیں ،عاصم باجوہ

پاکستان اورسعودی عرب حقیقی بھائی ہیں،علما اکرام مسلم امت کے اتحاد میں کردار ادا کریں:امام کعبہ

بڈگام میں بھارتی فوج کی فائرنگ، مزید 8 کشمیری شہید، پاکستان کا شدید احتجاج

فرانس میں فائرنگ کرکے 3 افراد کوقتل کرنے والے حملہ آورکی ہلاکت کی تصدیق

سپورٹس
انٹرنیشنل کرکٹ چاہیے بھلے ’بی ٹیم‘ ہی سہی
اکتوبر 1990 میں نیوزی لینڈ کی ٹیم کو پاکستان کے دورے پہ مزید پڑھیں ...
ویب ٹی وی
ٹورازم
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔ posted by Abdur مزید پڑھیں ...
انٹرٹینمینٹ
وینا اداکاری سے گلوکاری کا سفر
وینا ملک کو زیادہ تر لوگ بطور اداکارہ و ماڈل جانتے ہیں مزید پڑھیں ...
مذہب
بیویاں شوہروں کو طلاق دے سکیں گی والا نکاح نامہ زیرغور نہیں، اسلامی نظریاتی کونسل
اسلام آباد(ویب ڈیسک) اسلامی نظریاتی کونسل کا کہنا ہے کہ مزید پڑھیں ...
بزنس
10 بینکوں کو80 کروڑ روپے سے زائد جرمانہ
10 بینکوں کو80 کروڑ روپے سے زائد جرمانہ، کون کونسے بینک مزید پڑھیں ...