اردو | العربیہ | English



اردو | العربیہ | English

ٹوائلٹ میں بچہ جنم دینے والی ماں 18 ماہ قید کے بعد رہا

انڈین سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستی کو قانونی قرار دے دیا


WhatsApp
87



انڈین سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستی کو قانونی قرار دے دیا

دہلی (ویب ڈیسک) انڈیا کی سپریم کورٹ نے ملک میں ہم جنس پرستی کو جرائم کے زمرے سے خارج کرنے کا تاریخی فیصلہ سنا دیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت اب ملک میں ہم جنس پرستوں کا جنسی تعلق جرم نہیں رہا ہے۔یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے سنایا جو چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی میں قائم کیا گیا تھا۔جمعرات کو سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں سنہ 2013 کے ایک عدالتی فیصلے کو کالعدم قرار دیا ہے۔ اس فیصلے میں ہم جنس پرستی کو جرم کے زمرے میں شامل کرنے والے قانون کو آئین کی روشنی میں درست قرار دیا گیا تھا۔

دہلی میں بی بی سی کے نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی میں پانچ ججوں کے ایک آئینی بنچ نے ہم جنسی پرستی سے متعلق اپنے اہم فیصلے میں کہا کہ ’ایک ہی صنف کے دو بالغ لوگوں کے درمیان باہمی رضامندی سے جنسی تعلق جرم نہیں ہے

نامہ نگار کے مطابق عدالت عظمیٰ نے کہا کہ انتخاب کرنے کا ہر فرد کو بنیادی حق حاصل ہے اور قانون کی دفعہ 377 فرد کے اس حق سے متصادم ہے۔ تاہم عدالت نے اس دفعہ کی اس شق کو برقرار رکھا ہے جس کے تحت جانوروں کے ساتھ جنسی عمل کو جرم مانا گیا ہے۔‏سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ’کسی فرد کا جنسی رجحان اس کا انفرادی اور فطری معاملہ ہے اور جنسی رجحان کی بنیاد پر کسی سے تفریق برتنا اس شحص کے اظہار آزادی کے حق کی خلاف ورزی ہے۔‘

‏عدالت نے مزید کہا کہ 'فرد کے انتخاب کا احترام آزادی کی روح ہے۔ ہم جنس پرست برادری کو ملک کے دیگر شہریوں کی طرح آئین کے تحت برابر کا حق حاصل ہے۔ دفعہ 377 کی شقوں کے تحت مرد اور مرد یا عورت اور عورت کے درمیان سیکس کو جرم قرار دیا گیا تھا جو کہ فرد کی آزادی اظہار کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

برطانوی دور میں بننے والے اس قانون کے تحت ایک ہی صنف کے دو افرار کے درمیان سیکس جرم تھا اور اس کے لیے دس برس تک کی قید کی سزا ہو سکتی تھی۔ اس دفعہ کا استعمال سزا کے لیے اگرچہ شاذ و نادر ہی ہوتا تھا، لیکن ہم جنس پرستوں کو ہراساں کرنے کے لیے اکثر اس کا استعمال کیا جاتا تھا۔
اس فیصلے پر ہم جنس پرستوں اور حقوق انسانی کی تنظیموں نے زبردست خوشی کا اظہار کیا ہے۔ ملک کے مذہبی رہنما ہم جنسیت کے خلاف ہیں۔ معاشرے میں بھی ایک بڑی تعداد ہم جنس پرستی کے رشتوں کو قبول نہیں کرتی اور اسے غیر فطری سجھتی ہے۔

سیاسی جماعتیں بھی معاشرے کے رحجان کے پیش نظر کوئی واضح موقف اختیار کرنے سے گریز کرتی رہی ہیں۔ خود حکومت نے سپریم کورٹ میں کوئی پوزیشن نہ لیتے ہوئے اسے عدالت عظمی کی دانش پر چھوڑ دیا تھا۔‏عدالت عظمی نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کوئی بھی معاشرہ اکثریت کی اخلاقیات سے نہیں چلتا ۔ عدالت نے کہا کہ ’ایک آئینی معاشرہ تخلیق کرنے کا بنیادی مقصد اس معاشے کو ایک روشن خیال معاشرے میں تبدیل کرنا ہے۔‘
انڈیا میں تعزیرات ہند کی دفعہ 377 کے تحت ہم جنس پرستی جرم تھی لیکن انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کا دیرینہ الزام ہے کہ پولیس یہ شق ہم جنس پرستوں کو پریشان کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔

اس دفعہ کو پہلی مرتبہ 1994 میں چیلینج کیا گیا تھا اور 24 برس اور متعدد اپیلوں کے بعد یہ فیصلہ سامنے آیا ہے۔سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی درخواست پانچ ہم جنس پرستوں نے دائر کی تھی جن کا کہنا تھا کہ وہ خوف کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔

خیال رہے کہ سنہ 2009 میں دلی ہائی کورٹ نے ایک تاریخی فیصلے میں کہا تھا کہ دو بالغ اگر اپنی مرضی سے کوئی رشتہ قائم کرتے ہیں تو اسے جرم نہیں کہا جاسکتا لیکن چار سال بعد سنہ 2013 میں سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر سپریم کورٹ کی دو رکنی بنچ نے کہا تھا کہ دہلی ہائی کورٹ نے ہم جنس پرستی کو جرم کے زمرے سے نکال کر غلطی کی تھی۔
ہائی کورٹ کے فیصلے کو ہندو، عیسائی اور مسلم مذہبی تنظیموں نے چیلنج کیا تھا۔ ان کا موقف تھا کہ ہم جنس پرستی غیر فطری عمل ہے اور اسے جرم کے زمرے میں ہی شامل رہنا چاہیے۔

اس فیصلے پر انڈیا کی نامور شخصیات نے اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ بالی وڈ فلم ساز و ہدایت کار کرن جوہر نے اسے ایک 'تاریخی فیصلہ 'قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ملک کو آج اس کی آکسیجن واپس مل گئی ہے۔

سیکشن 377 کیا ہے؟
یہ 157 سال پرانا برطانوی دور حکومت کا ایک قانون ہے جس کے تحت مخصوص جنسی روابط کو 'غیرقدرتی جرائم' قرار دیا گیا ہے اور اس کی سزا دس سال قید ہے۔اس قانون کے مطابق 'کسی مرد، خاتون یا جانور کے ساتھ قدرتی اصولوں کے خلاف جنسی تعلق کا قیام' جرم ہے۔
ہم جنس پرست کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس قانون کا استعمال ہم جنس پرست اور ٹرنس جینڈر کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کو ہراساں کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔مساوی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنان نے بھی یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ایسے کسی قانون کی موجودگی صنفی بنیادوں پر امتیازی سلوک کا ثبوت ہے۔

دنیا بھر میں ہم جنس پرستی کی صورتحال
اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں 76 ممالک ایسے ہیں جہاں ہم جنس پرستی کے خلاف امتیازی قوانین رائج ہیں۔کچھ ممالک میں ہم جنس پرستی کی سزا موت ہے۔
تاہم حالیہ چند برسوں میں ہم جنس پرستی کی قبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ آسٹریلیا نے حال ہی میں ہم جنس پرستوں کی شادی کو قانونی طور پر تسلیم کیا ہے جبکہ برمودا میں ہم جنس پرستوں کی شادیوں کے خلاف قانون کو تبدیل کیا گیا ہے۔موصول ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2017 تک دنیا بھر میں 25 کے قریب ممالک میں ہم جنس پرستانہ تعلق کو قانونی طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔
















WhatsApp




متعلقہ خبریں
آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی... رسمِ دعا یاد ہو نہ ... مزید پڑھیں
اسرائیل ایک جعلی ملک؟ ... مزید پڑھیں
عدالتی نظام کو اوورہالنگ کی ضرورت ہے ... مزید پڑھیں
ہم سرسری سوچ والے ... مزید پڑھیں
بھارت میں چنگاری ،، کرتارپور راہداری ... مزید پڑھیں
آئیڈیاز 2018 اسپیشل: پاکستان کی دفاعی پیداوار ... مزید پڑھیں
ممبئی حملوں کا ڈرامہ وطن عزیز پاکستان، فوج اور ... مزید پڑھیں
بدلتے ’’ورلڈ آرڈر‘‘ میں پاکستان کا مقام ... مزید پڑھیں
اسرائیل نامنظور کیوں؟ ... مزید پڑھیں
بھارتی فوج میں خواتین کی بطور سیکس ورکر بھرتی کا ... مزید پڑھیں
مولانا سمیع الحق کی سیاسی و دینی خدمات پر ایک ... مزید پڑھیں
آسیہ بی بی کی رہائی: اسلامی انصاف کی خوش آئند ... مزید پڑھیں
جدید دور کی سفاک سچائی افغانستان میں خون سستا پانی ... مزید پڑھیں
کشمیر پر قبضے کا نیا پلان ... مزید پڑھیں
عورت کی آزادی : عزت یا ذلت؟ ... مزید پڑھیں
یہ کیسی تبدیلی ہے؟ ... مزید پڑھیں
متعلقہ خبریں
مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے: سانحہ اے پی ایس کے غازی احمد نواز کا عزم
آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی... رسمِ دعا یاد ہو نہ ہو
اسرائیل ایک جعلی ملک؟
عدالتی نظام کو اوورہالنگ کی ضرورت ہے
ہم سرسری سوچ والے
بھارت میں چنگاری ،، کرتارپور راہداری
آئیڈیاز 2018 اسپیشل: پاکستان کی دفاعی پیداوار
ممبئی حملوں کا ڈرامہ وطن عزیز پاکستان، فوج اور آئی ایس آئی کو بدنام کرنے کیلئے رچایا گیا :ہوشربا انکشافات“
بدلتے ’’ورلڈ آرڈر‘‘ میں پاکستان کا مقام
اسرائیل نامنظور کیوں؟

مقبول خبریں
ویڈیو گیلری

آزادی کی تحریکوں کو دبایا تو جا سکتا ہے لیکن ختم نہیں کیا جا سکتا : پاکستانی ہائی کمشنرعبدالباسط

بھارتی اشتعال انگیزی کا ذمہ داری سے جواب دے رہے ہیں ،عاصم باجوہ

پاکستان اورسعودی عرب حقیقی بھائی ہیں،علما اکرام مسلم امت کے اتحاد میں کردار ادا کریں:امام کعبہ

بڈگام میں بھارتی فوج کی فائرنگ، مزید 8 کشمیری شہید، پاکستان کا شدید احتجاج

فرانس میں فائرنگ کرکے 3 افراد کوقتل کرنے والے حملہ آورکی ہلاکت کی تصدیق

سپورٹس
یاسر شاہ نے ٹیسٹ کرکٹ کا 82 سالہ ورلڈ ریکارڈ توڑدیا
ابوظہبی(ویب ڈیسک) لیگ اسپنر یاسر شاہ نے نیوزی لینڈ کے خلاف مزید پڑھیں ...
ویب ٹی وی
ٹورازم
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔ posted by Abdur مزید پڑھیں ...
انٹرٹینمینٹ
بھارتی کے بجائے پاکستانی ہوتا توبہترتھا، سونونگم
ممبئی(ویب ڈیسک) بالی ووڈ کے مایہ ناز گلوکار سونو نگم کا مزید پڑھیں ...
مذہب
بیویاں شوہروں کو طلاق دے سکیں گی والا نکاح نامہ زیرغور نہیں، اسلامی نظریاتی کونسل
اسلام آباد(ویب ڈیسک) اسلامی نظریاتی کونسل کا کہنا ہے کہ مزید پڑھیں ...
بزنس
ملک میں سونے کی قیمت بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
کراچی(ویب ڈیسک) صرافہ مارکیٹ میں سونے کی فی تولہ قیمت 1 مزید پڑھیں ...