اردو | العربیہ | English



اردو | العربیہ | English

روس کے زیرانتظام کریمیا کے کالج میں بم دھماکے سے 18 افراد ہلاک

انڈین سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستی کو قانونی قرار دے دیا


WhatsApp
45



انڈین سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستی کو قانونی قرار دے دیا

دہلی (ویب ڈیسک) انڈیا کی سپریم کورٹ نے ملک میں ہم جنس پرستی کو جرائم کے زمرے سے خارج کرنے کا تاریخی فیصلہ سنا دیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت اب ملک میں ہم جنس پرستوں کا جنسی تعلق جرم نہیں رہا ہے۔یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے سنایا جو چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی میں قائم کیا گیا تھا۔جمعرات کو سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں سنہ 2013 کے ایک عدالتی فیصلے کو کالعدم قرار دیا ہے۔ اس فیصلے میں ہم جنس پرستی کو جرم کے زمرے میں شامل کرنے والے قانون کو آئین کی روشنی میں درست قرار دیا گیا تھا۔

دہلی میں بی بی سی کے نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی میں پانچ ججوں کے ایک آئینی بنچ نے ہم جنسی پرستی سے متعلق اپنے اہم فیصلے میں کہا کہ ’ایک ہی صنف کے دو بالغ لوگوں کے درمیان باہمی رضامندی سے جنسی تعلق جرم نہیں ہے

نامہ نگار کے مطابق عدالت عظمیٰ نے کہا کہ انتخاب کرنے کا ہر فرد کو بنیادی حق حاصل ہے اور قانون کی دفعہ 377 فرد کے اس حق سے متصادم ہے۔ تاہم عدالت نے اس دفعہ کی اس شق کو برقرار رکھا ہے جس کے تحت جانوروں کے ساتھ جنسی عمل کو جرم مانا گیا ہے۔‏سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ’کسی فرد کا جنسی رجحان اس کا انفرادی اور فطری معاملہ ہے اور جنسی رجحان کی بنیاد پر کسی سے تفریق برتنا اس شحص کے اظہار آزادی کے حق کی خلاف ورزی ہے۔‘

‏عدالت نے مزید کہا کہ 'فرد کے انتخاب کا احترام آزادی کی روح ہے۔ ہم جنس پرست برادری کو ملک کے دیگر شہریوں کی طرح آئین کے تحت برابر کا حق حاصل ہے۔ دفعہ 377 کی شقوں کے تحت مرد اور مرد یا عورت اور عورت کے درمیان سیکس کو جرم قرار دیا گیا تھا جو کہ فرد کی آزادی اظہار کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

برطانوی دور میں بننے والے اس قانون کے تحت ایک ہی صنف کے دو افرار کے درمیان سیکس جرم تھا اور اس کے لیے دس برس تک کی قید کی سزا ہو سکتی تھی۔ اس دفعہ کا استعمال سزا کے لیے اگرچہ شاذ و نادر ہی ہوتا تھا، لیکن ہم جنس پرستوں کو ہراساں کرنے کے لیے اکثر اس کا استعمال کیا جاتا تھا۔
اس فیصلے پر ہم جنس پرستوں اور حقوق انسانی کی تنظیموں نے زبردست خوشی کا اظہار کیا ہے۔ ملک کے مذہبی رہنما ہم جنسیت کے خلاف ہیں۔ معاشرے میں بھی ایک بڑی تعداد ہم جنس پرستی کے رشتوں کو قبول نہیں کرتی اور اسے غیر فطری سجھتی ہے۔

سیاسی جماعتیں بھی معاشرے کے رحجان کے پیش نظر کوئی واضح موقف اختیار کرنے سے گریز کرتی رہی ہیں۔ خود حکومت نے سپریم کورٹ میں کوئی پوزیشن نہ لیتے ہوئے اسے عدالت عظمی کی دانش پر چھوڑ دیا تھا۔‏عدالت عظمی نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کوئی بھی معاشرہ اکثریت کی اخلاقیات سے نہیں چلتا ۔ عدالت نے کہا کہ ’ایک آئینی معاشرہ تخلیق کرنے کا بنیادی مقصد اس معاشے کو ایک روشن خیال معاشرے میں تبدیل کرنا ہے۔‘
انڈیا میں تعزیرات ہند کی دفعہ 377 کے تحت ہم جنس پرستی جرم تھی لیکن انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کا دیرینہ الزام ہے کہ پولیس یہ شق ہم جنس پرستوں کو پریشان کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔

اس دفعہ کو پہلی مرتبہ 1994 میں چیلینج کیا گیا تھا اور 24 برس اور متعدد اپیلوں کے بعد یہ فیصلہ سامنے آیا ہے۔سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی درخواست پانچ ہم جنس پرستوں نے دائر کی تھی جن کا کہنا تھا کہ وہ خوف کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔

خیال رہے کہ سنہ 2009 میں دلی ہائی کورٹ نے ایک تاریخی فیصلے میں کہا تھا کہ دو بالغ اگر اپنی مرضی سے کوئی رشتہ قائم کرتے ہیں تو اسے جرم نہیں کہا جاسکتا لیکن چار سال بعد سنہ 2013 میں سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر سپریم کورٹ کی دو رکنی بنچ نے کہا تھا کہ دہلی ہائی کورٹ نے ہم جنس پرستی کو جرم کے زمرے سے نکال کر غلطی کی تھی۔
ہائی کورٹ کے فیصلے کو ہندو، عیسائی اور مسلم مذہبی تنظیموں نے چیلنج کیا تھا۔ ان کا موقف تھا کہ ہم جنس پرستی غیر فطری عمل ہے اور اسے جرم کے زمرے میں ہی شامل رہنا چاہیے۔

اس فیصلے پر انڈیا کی نامور شخصیات نے اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ بالی وڈ فلم ساز و ہدایت کار کرن جوہر نے اسے ایک 'تاریخی فیصلہ 'قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ملک کو آج اس کی آکسیجن واپس مل گئی ہے۔

سیکشن 377 کیا ہے؟
یہ 157 سال پرانا برطانوی دور حکومت کا ایک قانون ہے جس کے تحت مخصوص جنسی روابط کو 'غیرقدرتی جرائم' قرار دیا گیا ہے اور اس کی سزا دس سال قید ہے۔اس قانون کے مطابق 'کسی مرد، خاتون یا جانور کے ساتھ قدرتی اصولوں کے خلاف جنسی تعلق کا قیام' جرم ہے۔
ہم جنس پرست کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس قانون کا استعمال ہم جنس پرست اور ٹرنس جینڈر کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کو ہراساں کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔مساوی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنان نے بھی یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ایسے کسی قانون کی موجودگی صنفی بنیادوں پر امتیازی سلوک کا ثبوت ہے۔

دنیا بھر میں ہم جنس پرستی کی صورتحال
اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں 76 ممالک ایسے ہیں جہاں ہم جنس پرستی کے خلاف امتیازی قوانین رائج ہیں۔کچھ ممالک میں ہم جنس پرستی کی سزا موت ہے۔
تاہم حالیہ چند برسوں میں ہم جنس پرستی کی قبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ آسٹریلیا نے حال ہی میں ہم جنس پرستوں کی شادی کو قانونی طور پر تسلیم کیا ہے جبکہ برمودا میں ہم جنس پرستوں کی شادیوں کے خلاف قانون کو تبدیل کیا گیا ہے۔موصول ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2017 تک دنیا بھر میں 25 کے قریب ممالک میں ہم جنس پرستانہ تعلق کو قانونی طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔
















WhatsApp




متعلقہ خبریں
یہ کیسی تبدیلی ہے؟ ... مزید پڑھیں
شاباش چیف جسٹس ... مزید پڑھیں
حِجاب اور عبایا؛ پردہ یا فیشن؟ ... مزید پڑھیں
عورت کی آزادی یا عورت کی تباہی؟ ... مزید پڑھیں
فلسطین کا ایک اور صحافتی سپاہی اس دنیا سے چلا ... مزید پڑھیں
استاد: آجر و اجیر کی زنجیروں میں جکڑا مقدس رشتہ ... مزید پڑھیں
آپریشن دوارکا: پاک بحریہ کی ایک آبدوز نے پوری انڈین ... مزید پڑھیں
بھارت میں بیوی کرائے پر دستیاب ... مزید پڑھیں
یوم فضائیہ؛ پاکستانی شاہینوں کا دن ... مزید پڑھیں
انڈین سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستی کو قانونی قرار ... مزید پڑھیں
انڈیا کی نصف آبادی کو پانی کے بحران کا سامنا ... مزید پڑھیں
فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس کا چھ روزہ اجلاس پیرس میں ... مزید پڑھیں
پاکستان مخالف پراپیگنڈہ آپریشنز کابل سے چلائے جانے کا انکشاف ... مزید پڑھیں
آرمی چیف کا دورہ ماسکو , پاکستان ، روس کا ... مزید پڑھیں
مجھے را نے کہا تھا کہ نواز شریف کو اذیت ... مزید پڑھیں
کشمیری لڑکی کے ریپ کامقدمہ لڑنے والی وکیل دپیکا سنگھ ... مزید پڑھیں
متعلقہ خبریں
عورت کی آزادی : عزت یا ذلت؟
یہ کیسی تبدیلی ہے؟
شاباش چیف جسٹس
حِجاب اور عبایا؛ پردہ یا فیشن؟
عورت کی آزادی یا عورت کی تباہی؟
فلسطین کا ایک اور صحافتی سپاہی اس دنیا سے چلا گیا
استاد: آجر و اجیر کی زنجیروں میں جکڑا مقدس رشتہ
آپریشن دوارکا: پاک بحریہ کی ایک آبدوز نے پوری انڈین نیوی کے چھکے چھڑا دیئے
بھارت میں بیوی کرائے پر دستیاب
یوم فضائیہ؛ پاکستانی شاہینوں کا دن

مقبول خبریں
ویڈیو گیلری

آزادی کی تحریکوں کو دبایا تو جا سکتا ہے لیکن ختم نہیں کیا جا سکتا : پاکستانی ہائی کمشنرعبدالباسط

بھارتی اشتعال انگیزی کا ذمہ داری سے جواب دے رہے ہیں ،عاصم باجوہ

پاکستان اورسعودی عرب حقیقی بھائی ہیں،علما اکرام مسلم امت کے اتحاد میں کردار ادا کریں:امام کعبہ

بڈگام میں بھارتی فوج کی فائرنگ، مزید 8 کشمیری شہید، پاکستان کا شدید احتجاج

فرانس میں تیز رفتار گاڑی فوجیوں پر چڑھ دوڑی، 6 زخمی

سپورٹس
یوتھ اولمپکس؛ پاکستانی ریسلر عنایت اللہ نے امریکی حریف کو شکست دے دی
بیونس آئرس(ویب ڈیسک) پاکستانی ریسلر عنایت اللہ نے یوتھ اولمپکس مزید پڑھیں ...
ویب ٹی وی
ٹورازم
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔ posted by Abdur مزید پڑھیں ...
انٹرٹینمینٹ
علی ظفر معصوم بننے کی کوشش کررہا ہے، میشا شفیع
لاہور(ویب ڈیسک) گلوکارہ میشا شفیع نے علی ظفر پر جنسی مزید پڑھیں ...
مذہب
درود پر تنازع‘ جہلم ،مسجد کے منتظم پر توہینِ مذہب کا مقدمہ
جہلم ( ویب ڈیسک) پاکستان کے صوبۂ پنجاب کے ضلع جہلم کی مزید پڑھیں ...
بزنس
زرمبادلہ کے ذخائر 15 ارب ڈالر کی سطح سے نیچے آگئے
کراچی(ویب ڈیسک) رواں ہفتے زر مبادلہ کے ذخائر میں 10 کروڑ مزید پڑھیں ...