اردو | العربیہ | English



اردو | العربیہ | English

خلیجِ عمان کے آئل ٹینکر حملوں میں ایران ملوث ہے: امریکی وزیر خارجہ

انڈین سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستی کو قانونی قرار دے دیا


WhatsApp
216



انڈین سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستی کو قانونی قرار دے دیا

دہلی (ویب ڈیسک) انڈیا کی سپریم کورٹ نے ملک میں ہم جنس پرستی کو جرائم کے زمرے سے خارج کرنے کا تاریخی فیصلہ سنا دیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت اب ملک میں ہم جنس پرستوں کا جنسی تعلق جرم نہیں رہا ہے۔یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے سنایا جو چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی میں قائم کیا گیا تھا۔جمعرات کو سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں سنہ 2013 کے ایک عدالتی فیصلے کو کالعدم قرار دیا ہے۔ اس فیصلے میں ہم جنس پرستی کو جرم کے زمرے میں شامل کرنے والے قانون کو آئین کی روشنی میں درست قرار دیا گیا تھا۔

دہلی میں بی بی سی کے نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی میں پانچ ججوں کے ایک آئینی بنچ نے ہم جنسی پرستی سے متعلق اپنے اہم فیصلے میں کہا کہ ’ایک ہی صنف کے دو بالغ لوگوں کے درمیان باہمی رضامندی سے جنسی تعلق جرم نہیں ہے

نامہ نگار کے مطابق عدالت عظمیٰ نے کہا کہ انتخاب کرنے کا ہر فرد کو بنیادی حق حاصل ہے اور قانون کی دفعہ 377 فرد کے اس حق سے متصادم ہے۔ تاہم عدالت نے اس دفعہ کی اس شق کو برقرار رکھا ہے جس کے تحت جانوروں کے ساتھ جنسی عمل کو جرم مانا گیا ہے۔‏سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ’کسی فرد کا جنسی رجحان اس کا انفرادی اور فطری معاملہ ہے اور جنسی رجحان کی بنیاد پر کسی سے تفریق برتنا اس شحص کے اظہار آزادی کے حق کی خلاف ورزی ہے۔‘

‏عدالت نے مزید کہا کہ 'فرد کے انتخاب کا احترام آزادی کی روح ہے۔ ہم جنس پرست برادری کو ملک کے دیگر شہریوں کی طرح آئین کے تحت برابر کا حق حاصل ہے۔ دفعہ 377 کی شقوں کے تحت مرد اور مرد یا عورت اور عورت کے درمیان سیکس کو جرم قرار دیا گیا تھا جو کہ فرد کی آزادی اظہار کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

برطانوی دور میں بننے والے اس قانون کے تحت ایک ہی صنف کے دو افرار کے درمیان سیکس جرم تھا اور اس کے لیے دس برس تک کی قید کی سزا ہو سکتی تھی۔ اس دفعہ کا استعمال سزا کے لیے اگرچہ شاذ و نادر ہی ہوتا تھا، لیکن ہم جنس پرستوں کو ہراساں کرنے کے لیے اکثر اس کا استعمال کیا جاتا تھا۔
اس فیصلے پر ہم جنس پرستوں اور حقوق انسانی کی تنظیموں نے زبردست خوشی کا اظہار کیا ہے۔ ملک کے مذہبی رہنما ہم جنسیت کے خلاف ہیں۔ معاشرے میں بھی ایک بڑی تعداد ہم جنس پرستی کے رشتوں کو قبول نہیں کرتی اور اسے غیر فطری سجھتی ہے۔

سیاسی جماعتیں بھی معاشرے کے رحجان کے پیش نظر کوئی واضح موقف اختیار کرنے سے گریز کرتی رہی ہیں۔ خود حکومت نے سپریم کورٹ میں کوئی پوزیشن نہ لیتے ہوئے اسے عدالت عظمی کی دانش پر چھوڑ دیا تھا۔‏عدالت عظمی نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کوئی بھی معاشرہ اکثریت کی اخلاقیات سے نہیں چلتا ۔ عدالت نے کہا کہ ’ایک آئینی معاشرہ تخلیق کرنے کا بنیادی مقصد اس معاشے کو ایک روشن خیال معاشرے میں تبدیل کرنا ہے۔‘
انڈیا میں تعزیرات ہند کی دفعہ 377 کے تحت ہم جنس پرستی جرم تھی لیکن انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کا دیرینہ الزام ہے کہ پولیس یہ شق ہم جنس پرستوں کو پریشان کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔

اس دفعہ کو پہلی مرتبہ 1994 میں چیلینج کیا گیا تھا اور 24 برس اور متعدد اپیلوں کے بعد یہ فیصلہ سامنے آیا ہے۔سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی درخواست پانچ ہم جنس پرستوں نے دائر کی تھی جن کا کہنا تھا کہ وہ خوف کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔

خیال رہے کہ سنہ 2009 میں دلی ہائی کورٹ نے ایک تاریخی فیصلے میں کہا تھا کہ دو بالغ اگر اپنی مرضی سے کوئی رشتہ قائم کرتے ہیں تو اسے جرم نہیں کہا جاسکتا لیکن چار سال بعد سنہ 2013 میں سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر سپریم کورٹ کی دو رکنی بنچ نے کہا تھا کہ دہلی ہائی کورٹ نے ہم جنس پرستی کو جرم کے زمرے سے نکال کر غلطی کی تھی۔
ہائی کورٹ کے فیصلے کو ہندو، عیسائی اور مسلم مذہبی تنظیموں نے چیلنج کیا تھا۔ ان کا موقف تھا کہ ہم جنس پرستی غیر فطری عمل ہے اور اسے جرم کے زمرے میں ہی شامل رہنا چاہیے۔

اس فیصلے پر انڈیا کی نامور شخصیات نے اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ بالی وڈ فلم ساز و ہدایت کار کرن جوہر نے اسے ایک 'تاریخی فیصلہ 'قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ملک کو آج اس کی آکسیجن واپس مل گئی ہے۔

سیکشن 377 کیا ہے؟
یہ 157 سال پرانا برطانوی دور حکومت کا ایک قانون ہے جس کے تحت مخصوص جنسی روابط کو 'غیرقدرتی جرائم' قرار دیا گیا ہے اور اس کی سزا دس سال قید ہے۔اس قانون کے مطابق 'کسی مرد، خاتون یا جانور کے ساتھ قدرتی اصولوں کے خلاف جنسی تعلق کا قیام' جرم ہے۔
ہم جنس پرست کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس قانون کا استعمال ہم جنس پرست اور ٹرنس جینڈر کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کو ہراساں کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔مساوی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنان نے بھی یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ایسے کسی قانون کی موجودگی صنفی بنیادوں پر امتیازی سلوک کا ثبوت ہے۔

دنیا بھر میں ہم جنس پرستی کی صورتحال
اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں 76 ممالک ایسے ہیں جہاں ہم جنس پرستی کے خلاف امتیازی قوانین رائج ہیں۔کچھ ممالک میں ہم جنس پرستی کی سزا موت ہے۔
تاہم حالیہ چند برسوں میں ہم جنس پرستی کی قبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ آسٹریلیا نے حال ہی میں ہم جنس پرستوں کی شادی کو قانونی طور پر تسلیم کیا ہے جبکہ برمودا میں ہم جنس پرستوں کی شادیوں کے خلاف قانون کو تبدیل کیا گیا ہے۔موصول ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2017 تک دنیا بھر میں 25 کے قریب ممالک میں ہم جنس پرستانہ تعلق کو قانونی طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔
















WhatsApp




متعلقہ خبریں
شکست خوردہ داعش جنگجوؤں کے بیوی بچوں کو بے ملک ... مزید پڑھیں
بی آر ٹی کا عذاب ... مزید پڑھیں
بھارت کے میزائل حملے کی دھمکی پر پاکستان کا جواب ... مزید پڑھیں
ملّا عمر، امریکہ اور پاکستان ... مزید پڑھیں
سپاہی چندو بابو لال سے پائلٹ ابھی نندن تک ... مزید پڑھیں
جنوبی ایشیا میں اسرائیلی مداخلت ... مزید پڑھیں
پلوامہ سے ایل او سی۔۔۔عبرتوں کی نئی کتھا ... مزید پڑھیں
انڈیا کو پانی کی جنگ مہنگی پڑے گی ... مزید پڑھیں
محمد بن سلمان نے ولی عہدی تک کا سفر کیسے ... مزید پڑھیں
ساہیوال کا واقعہ: سی ٹی ڈی پنجاب کیا ہے اور ... مزید پڑھیں
امریکی صدر نے افغانستان کی جنگ میں بھارت کے کردار ... مزید پڑھیں
" آپریشن آل آؤٹ "تجزیاتی رپورٹ ... مزید پڑھیں
مقدس مندر میں خواتین داخل‘ تاریخ رقم ، ہنگامے شروع ... مزید پڑھیں
انڈین کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں؟ انڈیا کی ... مزید پڑھیں
مسلمانوں کی خاموشی انڈیا کے مستقبل کے لیے خطرناک ... مزید پڑھیں
طالبان کابل پر قبضے کے لیے تیاری کر چکے ہیں ... مزید پڑھیں
متعلقہ خبریں
حالیہ پاک۔بھارت بحران کشمیری حریت پسندوں کو کیا پیغام دیتا ہے؟
شکست خوردہ داعش جنگجوؤں کے بیوی بچوں کو بے ملک و قوم مستقبل کا سامنا
بی آر ٹی کا عذاب
بھارت کے میزائل حملے کی دھمکی پر پاکستان کا جواب اور امریکی مداخلت
ملّا عمر، امریکہ اور پاکستان
سپاہی چندو بابو لال سے پائلٹ ابھی نندن تک
جنوبی ایشیا میں اسرائیلی مداخلت
پلوامہ سے ایل او سی۔۔۔عبرتوں کی نئی کتھا
انڈیا کو پانی کی جنگ مہنگی پڑے گی
محمد بن سلمان نے ولی عہدی تک کا سفر کیسے طے کیا اور اب تک ان کی حکومت نے کیا اقدامات کیے ہیں

مقبول خبریں
کرپشن کے خاتمے کے لیے فریم ورک بنانا ہوگا: وزیراعظم
خلیجِ عمان کے آئل ٹینکر حملوں میں ایران ملوث ہے: امریکی وزیر خارجہ
ٹوئنٹی 20 کرکٹ میں گرین شرٹس کی حکمرانی برقرار
پی ایس ایل 4؛ شریک پلیئرز کو2 دن آرام کا موقع میسر آ گیا
شادی کے 11 سال بعد ایشوریا رائے کا ابھیشک بچن سے متعلق اہم انکشاف
ٹیم اور کپتان
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
جدید طب کا کمال : ماں کے پیٹ میں دل کے مرض میں مبتلا بچی کا علاج
’یونیورسٹی تو کیا، پاکستان کی تاریخ میں کسی نے اتنے میڈل نہیں لیے‘
ہیری پورٹرکی مداح خاتون کا نام گنیزبک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل
ہیری پورٹرکی مداح خاتون کا نام گنیزبک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل
گوگل کی جانب سے ویڈیو گیم اسٹریمنگ کا باضابطہ اعلان
شرح پیدائش پنجاب میں کتنی ہے اور خیبر پختونخوا میں کتنی؟ اعدادوشمار سامنے آگئے
بیویاں شوہروں کو طلاق دے سکیں گی والا نکاح نامہ زیرغور نہیں، اسلامی نظریاتی کونسل
حالیہ پاک۔بھارت بحران کشمیری حریت پسندوں کو کیا پیغام دیتا ہے؟
ویڈیو گیلری

آزادی کی تحریکوں کو دبایا تو جا سکتا ہے لیکن ختم نہیں کیا جا سکتا : پاکستانی ہائی کمشنرعبدالباسط

بھارتی اشتعال انگیزی کا ذمہ داری سے جواب دے رہے ہیں ،عاصم باجوہ

پاکستان اورسعودی عرب حقیقی بھائی ہیں،علما اکرام مسلم امت کے اتحاد میں کردار ادا کریں:امام کعبہ

بڈگام میں بھارتی فوج کی فائرنگ، مزید 8 کشمیری شہید، پاکستان کا شدید احتجاج

فرانس میں فائرنگ کرکے 3 افراد کوقتل کرنے والے حملہ آورکی ہلاکت کی تصدیق

سپورٹس
ٹوئنٹی 20 کرکٹ میں گرین شرٹس کی حکمرانی برقرار
دبئی(ویب ڈیسک) ٹوئنٹی 20 میں کرکٹ پاکستانی حکمرانی بدستور قائم ہے مزید پڑھیں ...
ویب ٹی وی
ٹورازم
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔ posted by Abdur مزید پڑھیں ...
انٹرٹینمینٹ
شادی کے 11 سال بعد ایشوریا رائے کا ابھیشک بچن سے متعلق اہم انکشاف
ممبئی (ویب ڈیسک) بولی وڈ اداکارہ اور سابق حسینہ عالم ایشوریا مزید پڑھیں ...
مذہب
بیویاں شوہروں کو طلاق دے سکیں گی والا نکاح نامہ زیرغور نہیں، اسلامی نظریاتی کونسل
اسلام آباد(ویب ڈیسک) اسلامی نظریاتی کونسل کا کہنا ہے کہ مزید پڑھیں ...
بزنس
سعودی عرب کی پاکستان کو 2 پاور پلانٹس خریدنے کی منہ مانگی پیشکش
لاہور(ویب ڈیسک) سعودی عرب نے پنجاب کے دو پاور پلانٹس بغیر بولی مزید پڑھیں ...