اردو | العربیہ | English



اردو | العربیہ | English

ایران میں فوجی پریڈ پر مسلح افراد کے حملے میں اہلکاروں سمیت 24 افراد ہلاک

استعمای عزائم اور دفاع وطن کے تقاضے


WhatsApp
111



مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی مداخلت ایک طویل المدتی منصوبہ کا حصہ ہے، جس کا مقصد عرب کو سات حصوں میں تقسیم کرنا ہے۔

امریکی تھنک ٹینک سیموئل ہنگ ٹنگ ٹن نے تو عراق پرا مریکی یلغار کو ’’تہذیبوں کی جنگ‘‘ قرار دیا تھا جب کہ نوم چومسکی نے اسے عالمی وسائل کی بندر بانٹ کہا لیکن سب سے واضح مؤقف امریکی قوم کا دماغ کہلانے والے وزیر خارجہ ہنری کیسنجر نے 2015ء میں دئیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں بیان کیا، انہوں نے کہا:
’’ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی مداخلت ایک طویل المدتی منصوبہ کا حصہ ہے، جس کا مقصد عرب کو سات حصوں میں تقسیم کرنا ہے۔‘‘
یہ تبصرہ اس وزیر خارجہ کا ہے جو صد ر فورڈ اور نکس کی وزارت خارجہ کے قلمدان سنبھال چکا ہے۔ اسی پالیسی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے عالمی استعمار نے کرہ ارض پر پائے جانے والے قدرتی وسائل پر بتدریج قبضہ کرنے کی ٹھانی ، جہاں ممکن ہوا براہِ راست جارحیت کا ہتھیار استعمال کیا جبکہ دیگر قدرتی وسائل سے مالا مال خطوں پر اپنے ہم خیال یا پُتلی (Puppet) حکمران اقتدار پر بٹھانے کی پالیسی جاری رکھی ، اگر ایسا ممکن نہ ہوا تو اس ملک کے اداروں تک رسائی حاصل کر کے اپنے مقاصد کی تکمیل کی راہ ہموار کی ۔
عالمی رائے عامہ کی راہیں ہموار کرنے کے لیے یہودی میڈیا ایک مؤثر ترین ہتھیار کے طور پر استعمال ہو تا ہے، اس وقت یہی کھیل شام سمیت متعدد ممالک میں کھیلا جا رہا ہے، یو این او تیسری عالمی جنگ روکنے میں تو بظاہر کامیاب دکھائی دیتی ہے لیکن اس بد نصیب خطے میں مظلوم اور بے گناہ انسانی ہلاکتوں کو روکنے اور ہنستے بستے شہروں کو کھنڈرات میں تبدیل ہونے سے روکنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔
بڑی قوتیں انسانیت کے خلاف جرائم میں اپنا حصہ بقدر جُثہ ڈال رہی ہیں۔ دوسری جانب اب ذرا دنیا کے گنجان آباد ترین خطے کی صورتحال پر نظر ڈالیں۔
عالمی نقشہ پر تازہ صورتحال یہ ہے کہ امریکی و مغربی جمہوریت کے پنجوں تلے سے ایشیائی ممالک کی سرزمین تیزی سے سرک رہی ہے، دنیا بھر کی نظریں1958ء میں پاکستان میں شامل ہونے والے خطے گوادر پر جمی ہیں ، جس کی گہرائیوں نے عالمی استعمار کے ایوانوں میں بے چینی و حیرانگی کی لہر دوڑا دی ہے۔
افغان قوم چوتھی بار عالمی قوت امریکہ کو افغانستان سے شرمناک پسپائی و ذلت آمیز واپسی پر مجبور کرتی دکھائی دیتی ہے۔سی پیک نے دنیا کی معاشی اور اقتصادی درجہ بندی سمیت نئی صف بندیوں کی داغ بیل ڈال دی ہے جس میں مرکذی و کلیدی مقام واحد اسلامی ایٹمی قوت پاکستان کو حاصل ہو چکا ہے جو اپنی نیو کلئیر صلاحیت کا آزمودہ کار سپاہ اور تسلیم شدہ تاریخی کردار کی بدولت حقیقی معنوں میں ’’ لوہے کا چنا‘‘ بن چکا ہے۔
پاکستانی قوم بلاشبہ اپنی سونا اگلتی زرعی اراضی ، عالمی جغرافیائی اہمیت ، تسلیم شدہ عسکری کردار، توانائی کے سر چشمہ دریاؤں ، ایٹمی تجربہ گاہوں اور جانثار ، بے لوث، محب وطن ، جذبہ قربانی و ایثار سے لبریز سائنسدانوں اور پالیسی سازوں پر فخر کر سکتی ہے، جن کی شبانہ روز محنت کی بدولت عالمی برادری اس کا کردار تسلیم کرنے پر مجبور ہوئی ہے۔ دوسرا پہلو بھی قابل غور اور عاقبت اندیشی کا متقاضی ہے، بیان کردہ حقائق ہی جہاں اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں وہیں اس وطن کو عالمی سطح پر بدنام کرنے ، تنہا رکھنے اور عالمی پابندیوں کا شکار بنانے کی سازشیں بھی زوروں پر دکھائی دیتی ہیں۔شکست خوردہ عالمی قوتوں کواس کی ترقی و خوشحالی ایک آنکھ نہیں بھاتی۔
سمارٹہ اور ڈیگوگارشیا کے درمیان آبی بندرگاہوں کی بتدریج کم ہوتی اہمیت امریکی دماغوں کو چین سے بیٹھنے نہیں دیتی۔ اس پر مزید یہ کہ سی پیک میں چین اور روس کی شمولیت کے بعد امریکہ اور اس کے حواری بھارتیوں کو ہمدردِ انسانیت کے ان نام نہاد دعویدار قوتوں نے ایک مرتبہ پھر پرانی راگنی گانی شروع کر دی ہے، سیاہ فام بنیاد پرستی اور کٹر ہندو و تنگ نظری کا گٹھ جوڑ ایشیا ء میں دکھنے لگا ہے۔شمالی کوریا کو تو رام کر لیا گیا ہے لیکن ایران اس معاہدے کی منسوخی پر سیخ پا ہے جس میں برطانیہ ، جرمنی، چین، روس اور فرانس نے بھی دستخط کر رکھے ہیں۔
ڈونلڈٹرمپ کا ڈھٹائی سے ایران نیو کلئیر معاہدہ ختم کرنا نئی عالمی مہم کا نقار ہ ہے۔ ایران کے بعد اس خطے میں پاکستان باقی رہ گیا ہے، جس کی مسلمہ جوہری صلاحیت اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور اب تین ایٹمی قوتوں کو ملانے والا گوادر کا سی پیک ان قوتوں کی آنکھ میں کانٹا بن کر چبھ رہا ہے جس نے عالمی اقتصادیات کا رخ تبدیل کر دیا ہے، ان حالات میں دنیا بھر کے مسلمانوں کی نظریں پاکستان پر لگی ہیں جو گذشتہ تین دہائیوں سے تمام عالمی اسلامی تحریکوں کا مرکز بن چکا ہے۔
افغانستان میں روسی شکست کے بعد عالمی حریت کی تحریکوں کو بھی اس سرزمین نے وسیع دامنی بخشی۔ یہ بھی ایک تسلیم شدہ امر ہے کہ افواج پاکستان کی حفاظت میں اس کے جوہری پروگرام نے اس ملک کو ’’ لوہے کا چنا‘‘ اور ناقابل تسخیر بنا دیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس وقت پاکستان میں ایک مضبوط سیاسی حکومت ہو، جس کی مربوط ، جامع اور قومی مفادات سے ہم آہنگ خارجہ پالیسی مرتب ہو۔ لیکن حالات اس کے بالکل برعکس دکھائی دیتے ہیں ۔
آج ماضی سے زیادہ مِلّی یک جہتی اور قومی شعور کی بیداری کی ضرورت ہے لیکن ناعاقبت اندیش عناصر ذاتی مفاد پر قومی مفاد کو قربان کرتے دکھائی دیتے نظر آرہے ہیں۔ خدشہ پیدا ہو چکا ہے کہ بیرونی عناصر کو مداخلت کا جواز پیدا ہونے چلا ہے جو ملکی سا لمیت اور ترقی کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے، بروقت اور درست فیصلے بھی قوموں کی زندگی استوار رکھتے ہیں ۔
سب سے پہلے پاکستان، دفاع وطن، نیا پاکستان، خوشحال پاکستان، کرشین قدمی پاکستان کے دعوے کرنے والی قوتوں کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ دیگر مسلم ممالک کے حالات نوشتہ دیوار ہیں ، اداروں کی کشمکش ایک ایسا المیہ ہے جس سے قوم کا بیدار مغز طبقہ شدید ذہنی تناؤ کا شکار ہے۔
اس فکر میں پتے زرد ہوئے
اس غم میں کلیاں سوکھ گئیں
ہر شاخ پہ اُلّو بیٹھا ہے
انجام گلستاں کیا ہوگا


WhatsApp




متعلقہ خبریں
بچوں کا اغوا،ا عضاء فروشی اور افواہوں کا بازار ... مزید پڑھیں
کشمیر ۔۔۔۔۔آزادی کی صبح جلد طلوع ہونے والی ہے ... مزید پڑھیں
پھر نئے طالبان ... مزید پڑھیں
"سیاسی اصطبل کے گدھے " ... مزید پڑھیں
حقوقِ نسواں کا غلط استعمال ... مزید پڑھیں
’’34 ملکوں کا مذاق‘‘ ... مزید پڑھیں
اسلام میں عورت کا مقام ... مزید پڑھیں
غم کی طویل رات ... مزید پڑھیں
گنگو تیلی ... مزید پڑھیں
نیب کا جن بوتل سے باہر ... مزید پڑھیں
اقبال کا پا کستان ( لوہے کا چنا ) ... مزید پڑھیں
پاکستان میں چینیوں کی سیکورٹی، اولیں ذمے داری ... مزید پڑھیں
سی پیک کے بارے میں بدگمانیوں کا نیا سلسلہ ... مزید پڑھیں
پاکستان بمقابلہ حکومت پاکستان ... مزید پڑھیں
سازش ... مزید پڑھیں
برکس مشترکہ اعلامیہ میں لشکر طیبہ اور جیش محمد کی ... مزید پڑھیں
متعلقہ خبریں
استعمای عزائم اور دفاع وطن کے تقاضے
بچوں کا اغوا،ا عضاء فروشی اور افواہوں کا بازار
کشمیر ۔۔۔۔۔آزادی کی صبح جلد طلوع ہونے والی ہے
پھر نئے طالبان
"سیاسی اصطبل کے گدھے "
حقوقِ نسواں کا غلط استعمال
’’34 ملکوں کا مذاق‘‘
اسلام میں عورت کا مقام
غم کی طویل رات
گنگو تیلی

مقبول خبریں
بھارت کا منفی اور تکبر پر مبنی رویہ قابل افسوس ہے، وزیراعظم
ایران میں فوجی پریڈ پر مسلح افراد کے حملے میں اہلکاروں سمیت 24 افراد ہلاک
ایشین چیمئنز ٹرافی میں پاکستان ہاکی ٹیم کی شرکت کے امکانات روشن
پاکستان نے پہلے ٹی ٹوئنٹی میں ویسٹ انڈیز کو 9 وکٹوں سے شکست دے دی
مومنہ مستحسن یوٹیوب پر 100 ملین ویوز حاصل کرنےوالی پہلی پاکستانی گلوکارہ
استعمای عزائم اور دفاع وطن کے تقاضے
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
رولر کوسٹر کی سواری کیجیے، گردے کی پتھری سے چھٹکارا پائیے
امریکہ میں ایسا بل منظور ہو گیا کہ فاحشاؤں نے ٹوئٹر کا استعمال ہی بند کر دیا، اب کون سا سوشل میڈیا استعمال ہوگا ؟
پانی کی پائپ لائن ، جس نے پاکستانی گاؤں میں امن قائم کردیا
پانی کی پائپ لائن ، جس نے پاکستانی گاؤں میں امن قائم کردیا
جرمنی میں ہائیڈروجن سے چلنے والی دنیا کی پہلی ٹرین کا افتتاح
شرح پیدائش پنجاب میں کتنی ہے اور خیبر پختونخوا میں کتنی؟ اعدادوشمار سامنے آگئے
درود پر تنازع‘ جہلم ،مسجد کے منتظم پر توہینِ مذہب کا مقدمہ
استاد: آجر و اجیر کی زنجیروں میں جکڑا مقدس رشتہ
ویڈیو گیلری

آزادی کی تحریکوں کو دبایا تو جا سکتا ہے لیکن ختم نہیں کیا جا سکتا : پاکستانی ہائی کمشنرعبدالباسط

بھارتی اشتعال انگیزی کا ذمہ داری سے جواب دے رہے ہیں ،عاصم باجوہ

پاکستان اورسعودی عرب حقیقی بھائی ہیں،علما اکرام مسلم امت کے اتحاد میں کردار ادا کریں:امام کعبہ

بڈگام میں بھارتی فوج کی فائرنگ، مزید 8 کشمیری شہید، پاکستان کا شدید احتجاج

فرانس میں تیز رفتار گاڑی فوجیوں پر چڑھ دوڑی، 6 زخمی

سپورٹس
ایشین چیمئنز ٹرافی میں پاکستان ہاکی ٹیم کی شرکت کے امکانات روشن
لاہور(ویب ڈیسک) ایشین چیمئنز ٹرافی میں پاکستان ہاکی ٹیم کی عدم مزید پڑھیں ...
ویب ٹی وی
ٹورازم
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔ posted by Abdur مزید پڑھیں ...
انٹرٹینمینٹ
مومنہ مستحسن یوٹیوب پر 100 ملین ویوز حاصل کرنےوالی پہلی پاکستانی گلوکارہ
نامور پاکستانی گلوکارہ مومنہ مستحسن ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ یو ٹیوب پر مزید پڑھیں ...
مذہب
درود پر تنازع‘ جہلم ،مسجد کے منتظم پر توہینِ مذہب کا مقدمہ
جہلم ( ویب ڈیسک) پاکستان کے صوبۂ پنجاب کے ضلع جہلم کی مزید پڑھیں ...
بزنس
حکومت کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ
اسلام آباد: حکومت نے 7 جون تک پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے مزید پڑھیں ...