اردو | العربیہ | English



اردو | العربیہ | English

برطانیہ اور یورپی یونین میں بریگزٹ معاہدے پر اتفاق

استعمای عزائم اور دفاع وطن کے تقاضے


WhatsApp
511



مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی مداخلت ایک طویل المدتی منصوبہ کا حصہ ہے، جس کا مقصد عرب کو سات حصوں میں تقسیم کرنا ہے۔

امریکی تھنک ٹینک سیموئل ہنگ ٹنگ ٹن نے تو عراق پرا مریکی یلغار کو ’’تہذیبوں کی جنگ‘‘ قرار دیا تھا جب کہ نوم چومسکی نے اسے عالمی وسائل کی بندر بانٹ کہا لیکن سب سے واضح مؤقف امریکی قوم کا دماغ کہلانے والے وزیر خارجہ ہنری کیسنجر نے 2015ء میں دئیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں بیان کیا، انہوں نے کہا:
’’ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی مداخلت ایک طویل المدتی منصوبہ کا حصہ ہے، جس کا مقصد عرب کو سات حصوں میں تقسیم کرنا ہے۔‘‘
یہ تبصرہ اس وزیر خارجہ کا ہے جو صد ر فورڈ اور نکس کی وزارت خارجہ کے قلمدان سنبھال چکا ہے۔ اسی پالیسی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے عالمی استعمار نے کرہ ارض پر پائے جانے والے قدرتی وسائل پر بتدریج قبضہ کرنے کی ٹھانی ، جہاں ممکن ہوا براہِ راست جارحیت کا ہتھیار استعمال کیا جبکہ دیگر قدرتی وسائل سے مالا مال خطوں پر اپنے ہم خیال یا پُتلی (Puppet) حکمران اقتدار پر بٹھانے کی پالیسی جاری رکھی ، اگر ایسا ممکن نہ ہوا تو اس ملک کے اداروں تک رسائی حاصل کر کے اپنے مقاصد کی تکمیل کی راہ ہموار کی ۔
عالمی رائے عامہ کی راہیں ہموار کرنے کے لیے یہودی میڈیا ایک مؤثر ترین ہتھیار کے طور پر استعمال ہو تا ہے، اس وقت یہی کھیل شام سمیت متعدد ممالک میں کھیلا جا رہا ہے، یو این او تیسری عالمی جنگ روکنے میں تو بظاہر کامیاب دکھائی دیتی ہے لیکن اس بد نصیب خطے میں مظلوم اور بے گناہ انسانی ہلاکتوں کو روکنے اور ہنستے بستے شہروں کو کھنڈرات میں تبدیل ہونے سے روکنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔
بڑی قوتیں انسانیت کے خلاف جرائم میں اپنا حصہ بقدر جُثہ ڈال رہی ہیں۔ دوسری جانب اب ذرا دنیا کے گنجان آباد ترین خطے کی صورتحال پر نظر ڈالیں۔
عالمی نقشہ پر تازہ صورتحال یہ ہے کہ امریکی و مغربی جمہوریت کے پنجوں تلے سے ایشیائی ممالک کی سرزمین تیزی سے سرک رہی ہے، دنیا بھر کی نظریں1958ء میں پاکستان میں شامل ہونے والے خطے گوادر پر جمی ہیں ، جس کی گہرائیوں نے عالمی استعمار کے ایوانوں میں بے چینی و حیرانگی کی لہر دوڑا دی ہے۔
افغان قوم چوتھی بار عالمی قوت امریکہ کو افغانستان سے شرمناک پسپائی و ذلت آمیز واپسی پر مجبور کرتی دکھائی دیتی ہے۔سی پیک نے دنیا کی معاشی اور اقتصادی درجہ بندی سمیت نئی صف بندیوں کی داغ بیل ڈال دی ہے جس میں مرکذی و کلیدی مقام واحد اسلامی ایٹمی قوت پاکستان کو حاصل ہو چکا ہے جو اپنی نیو کلئیر صلاحیت کا آزمودہ کار سپاہ اور تسلیم شدہ تاریخی کردار کی بدولت حقیقی معنوں میں ’’ لوہے کا چنا‘‘ بن چکا ہے۔
پاکستانی قوم بلاشبہ اپنی سونا اگلتی زرعی اراضی ، عالمی جغرافیائی اہمیت ، تسلیم شدہ عسکری کردار، توانائی کے سر چشمہ دریاؤں ، ایٹمی تجربہ گاہوں اور جانثار ، بے لوث، محب وطن ، جذبہ قربانی و ایثار سے لبریز سائنسدانوں اور پالیسی سازوں پر فخر کر سکتی ہے، جن کی شبانہ روز محنت کی بدولت عالمی برادری اس کا کردار تسلیم کرنے پر مجبور ہوئی ہے۔ دوسرا پہلو بھی قابل غور اور عاقبت اندیشی کا متقاضی ہے، بیان کردہ حقائق ہی جہاں اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں وہیں اس وطن کو عالمی سطح پر بدنام کرنے ، تنہا رکھنے اور عالمی پابندیوں کا شکار بنانے کی سازشیں بھی زوروں پر دکھائی دیتی ہیں۔شکست خوردہ عالمی قوتوں کواس کی ترقی و خوشحالی ایک آنکھ نہیں بھاتی۔
سمارٹہ اور ڈیگوگارشیا کے درمیان آبی بندرگاہوں کی بتدریج کم ہوتی اہمیت امریکی دماغوں کو چین سے بیٹھنے نہیں دیتی۔ اس پر مزید یہ کہ سی پیک میں چین اور روس کی شمولیت کے بعد امریکہ اور اس کے حواری بھارتیوں کو ہمدردِ انسانیت کے ان نام نہاد دعویدار قوتوں نے ایک مرتبہ پھر پرانی راگنی گانی شروع کر دی ہے، سیاہ فام بنیاد پرستی اور کٹر ہندو و تنگ نظری کا گٹھ جوڑ ایشیا ء میں دکھنے لگا ہے۔شمالی کوریا کو تو رام کر لیا گیا ہے لیکن ایران اس معاہدے کی منسوخی پر سیخ پا ہے جس میں برطانیہ ، جرمنی، چین، روس اور فرانس نے بھی دستخط کر رکھے ہیں۔
ڈونلڈٹرمپ کا ڈھٹائی سے ایران نیو کلئیر معاہدہ ختم کرنا نئی عالمی مہم کا نقار ہ ہے۔ ایران کے بعد اس خطے میں پاکستان باقی رہ گیا ہے، جس کی مسلمہ جوہری صلاحیت اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور اب تین ایٹمی قوتوں کو ملانے والا گوادر کا سی پیک ان قوتوں کی آنکھ میں کانٹا بن کر چبھ رہا ہے جس نے عالمی اقتصادیات کا رخ تبدیل کر دیا ہے، ان حالات میں دنیا بھر کے مسلمانوں کی نظریں پاکستان پر لگی ہیں جو گذشتہ تین دہائیوں سے تمام عالمی اسلامی تحریکوں کا مرکز بن چکا ہے۔
افغانستان میں روسی شکست کے بعد عالمی حریت کی تحریکوں کو بھی اس سرزمین نے وسیع دامنی بخشی۔ یہ بھی ایک تسلیم شدہ امر ہے کہ افواج پاکستان کی حفاظت میں اس کے جوہری پروگرام نے اس ملک کو ’’ لوہے کا چنا‘‘ اور ناقابل تسخیر بنا دیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس وقت پاکستان میں ایک مضبوط سیاسی حکومت ہو، جس کی مربوط ، جامع اور قومی مفادات سے ہم آہنگ خارجہ پالیسی مرتب ہو۔ لیکن حالات اس کے بالکل برعکس دکھائی دیتے ہیں ۔
آج ماضی سے زیادہ مِلّی یک جہتی اور قومی شعور کی بیداری کی ضرورت ہے لیکن ناعاقبت اندیش عناصر ذاتی مفاد پر قومی مفاد کو قربان کرتے دکھائی دیتے نظر آرہے ہیں۔ خدشہ پیدا ہو چکا ہے کہ بیرونی عناصر کو مداخلت کا جواز پیدا ہونے چلا ہے جو ملکی سا لمیت اور ترقی کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے، بروقت اور درست فیصلے بھی قوموں کی زندگی استوار رکھتے ہیں ۔
سب سے پہلے پاکستان، دفاع وطن، نیا پاکستان، خوشحال پاکستان، کرشین قدمی پاکستان کے دعوے کرنے والی قوتوں کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ دیگر مسلم ممالک کے حالات نوشتہ دیوار ہیں ، اداروں کی کشمکش ایک ایسا المیہ ہے جس سے قوم کا بیدار مغز طبقہ شدید ذہنی تناؤ کا شکار ہے۔
اس فکر میں پتے زرد ہوئے
اس غم میں کلیاں سوکھ گئیں
ہر شاخ پہ اُلّو بیٹھا ہے
انجام گلستاں کیا ہوگا


WhatsApp




متعلقہ خبریں
عمران خان نے انیس سو انتالیس کے میونخ کا حوالہ ... مزید پڑھیں
بلوچستان سے خلائی سائینسدان کا ظہور ... مزید پڑھیں
ٹیم اور کپتان ... مزید پڑھیں
بھٹو کیوں زندہ ہے؟ ... مزید پڑھیں
شاہ سلمان کی آمد ۔۔۔بہار کی آمد ... مزید پڑھیں
افغان باقی، کہسار باقی ... مزید پڑھیں
اقلیتوں کا عالمی دن۔۔۔تجزیہ ... مزید پڑھیں
ارض حرمین پر منڈلاتی گھٹائیں ... مزید پڑھیں
سانپ اور سیڑھی کا کھیل ... مزید پڑھیں
اسرائیلی تاریخ ... مزید پڑھیں
آسیہ" نامی عیسائی عورت اور ہمارا قانون ... مزید پڑھیں
ارضِ حرمین پر منڈلاتی گھٹائیں ... مزید پڑھیں
حکمرانوں کے تابناک اور روشن کردار ... مزید پڑھیں
فاطمہ بنت پاکستان کا مقدمہ ... مزید پڑھیں
یہ رہی تمہاری تلاش ... مزید پڑھیں
اقوام متحدہ کے اجلاس کی روداد ... مزید پڑھیں
متعلقہ خبریں
سیاست کے کھیل کا بارہواں کھلاڑی
عمران خان نے انیس سو انتالیس کے میونخ کا حوالہ کیوں دیا؟
بلوچستان سے خلائی سائینسدان کا ظہور
ٹیم اور کپتان
بھٹو کیوں زندہ ہے؟
شاہ سلمان کی آمد ۔۔۔بہار کی آمد
افغان باقی، کہسار باقی
اقلیتوں کا عالمی دن۔۔۔تجزیہ
ارض حرمین پر منڈلاتی گھٹائیں
سانپ اور سیڑھی کا کھیل

مقبول خبریں
ویڈیو گیلری

آزادی کی تحریکوں کو دبایا تو جا سکتا ہے لیکن ختم نہیں کیا جا سکتا : پاکستانی ہائی کمشنرعبدالباسط

بھارتی اشتعال انگیزی کا ذمہ داری سے جواب دے رہے ہیں ،عاصم باجوہ

پاکستان اورسعودی عرب حقیقی بھائی ہیں،علما اکرام مسلم امت کے اتحاد میں کردار ادا کریں:امام کعبہ

بڈگام میں بھارتی فوج کی فائرنگ، مزید 8 کشمیری شہید، پاکستان کا شدید احتجاج

فرانس میں فائرنگ کرکے 3 افراد کوقتل کرنے والے حملہ آورکی ہلاکت کی تصدیق

سپورٹس
انٹرنیشنل کرکٹ چاہیے بھلے ’بی ٹیم‘ ہی سہی
اکتوبر 1990 میں نیوزی لینڈ کی ٹیم کو پاکستان کے دورے پہ مزید پڑھیں ...
ویب ٹی وی
ٹورازم
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔ posted by Abdur مزید پڑھیں ...
انٹرٹینمینٹ
وینا اداکاری سے گلوکاری کا سفر
وینا ملک کو زیادہ تر لوگ بطور اداکارہ و ماڈل جانتے ہیں مزید پڑھیں ...
مذہب
بیویاں شوہروں کو طلاق دے سکیں گی والا نکاح نامہ زیرغور نہیں، اسلامی نظریاتی کونسل
اسلام آباد(ویب ڈیسک) اسلامی نظریاتی کونسل کا کہنا ہے کہ مزید پڑھیں ...
بزنس
10 بینکوں کو80 کروڑ روپے سے زائد جرمانہ
10 بینکوں کو80 کروڑ روپے سے زائد جرمانہ، کون کونسے بینک مزید پڑھیں ...