اردو | العربیہ | English



اردو | العربیہ | English

یمن میں فریقین کو جنگ بندی کے لیے اقوام متحدہ کی تنبیہ

بچوں کا اغوا،ا عضاء فروشی اور افواہوں کا بازار


WhatsApp
202



موت سے ہمکنار وجود ہوا کرتے ہیں، ’’نظریات‘‘اور ’’جذبات ‘‘ کبھی نہیں مرا کرتے

کل مولود یولد علی الفطرۃ
یہ حدیث کے الفاظ ہیں جن کا ترجمہ ہے۔۔۔
’’ ہر بچہ قانون فطرت پر پیدا ہو تا ہے۔‘‘
(بخاری:1385)
دیگر مخلوقات سے بڑھ کر انسان بچوں کی حفاظت کے بارے میں حساس واقع ہوا ہے ، جبلت کا تقاضہ ہے کہ چیل اگر مرغی کا چوزہ لے اڑنے کے لیے جھپٹتی ہے تو جواباً مرغی بھی اس پر حملہ آور ہو تی ہے ، باوجود اس بات کے کہ دونوں کی قوت پرواز کا موازنہ بھی نہیں کیا جا سکتا۔
بچوں کی حفاظت کے بابت حساسیت ایک مسلمہ و متفقہ امرہے جس پر اختلاف کی قطعی گنجائش نہیں بنتی،اسی لیے جدید دور کی مہذب انسانیت بھی اس سے روگردانی نہیں کرتی ۔
ارسطو کو جدید مغربی افکار کا بانی خیال کیا جاتا ہے، یہ حیران کن معلومات ہیں کہ شروع میں وہ بچوں سے نفرت کرتا تھا، اس کا خیال تھا کہ یہ بچے قدرت کی خوبصورتی کوخراب کر تے ہیں، پھول تو ڑتے ہیں، گھاس کو روند دیتے ہیں ، شور مچاتے ہیں اور گندگی پھیلاتے ہیں وغیرہ ، اس نفرت کی انتہا دیکھئیے کہ اس نے اپنے لخت جگر کسی یتیم خانے میں جمع کرا دئیے اور تنہائی کی زندگی بسر کرنے لگا۔
قدرت نے اپنا رنگ دکھایا ، بیمار ہو کر بستر پر گر گیا کوئی سنبھالنے والا نہ رہا، ایک روز اس قدر بے بس ہوا کہ پانی پینے کے اٹھا تو گر پڑا ، اسے اپنی سنگین غلطی کا احساس ہواکہ انسان تو ہرگز اکیلا زندگی نہیں بسر کر سکتا ،یتیم خانے گیا اور اپنے بچوں کو واپس گھر لے آیااور بچوں سے محبت کرنے لگا۔
اس سلسلے میں اس نے کتاب لکھی ’’معاہدہ عمرانی‘‘ (Social contract)جسے عالمگیر شہرت ملی ، جس میں مغرب کے فلسفی اعظم نے مقولہ دیا جو دنیا بھر میں بولا جاتا ہے:
’’ انسان معاشرتی حیوان ہے‘‘
(Man is a social animal)
قدرت کی ایک اور ستم ظریفی آپ ہر روز میڈیا کی کی آنکھ سے دیکھتے ہیں کہ آج آدھے سے زیادہ مغرب کھلونا بم بنا رہا ہے، پیلٹ گن ایجاد کر رہا ہے، تعلیم گاہوں اور ماں کی چھاتی سے دودھ پیتے شیر خوار اس کی ایجاد کردہ جدید ڈرون ٹیکنالوجی کا شکار ہیں، عالمی وسائل اور منڈیوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے اس کے تھنک ٹینک ایسی پالیسیاں بناتے ہیں ۔
بچوں کا اغواء ،اعضاء فروشی اور افواہوں کا بازار:
آج کا’’ مہذب ‘‘انسان بچوں کا اغواء کرتا ہے فروخت کرنے کے لیے،خطرناک ترین کھیلوں میں استعمال کرنے کے لیے، جنسی تشدد کی بھینٹ چڑھانے کے لیے، بھکاری بنا کر در در خوار کرنے کے لیے یا پھر جبری مشقت کی بھٹی میں جھونکنے کے لیے۔۔۔
اگر چہ عالمی اداروں اور نجی این جی اوز کے علاوہ حکومتوں نے ان جرائم کو روکنے کے لیے خاطر خواہ انتظامات کر رکھے ہیں لیکن وائے قسمت کہ یہ معصوم اکثر ان درندہ صفت انسانوں کی بھینٹ چڑھتے رہتے ہیں، ان تمام جرائم میں لرزہ خیز انہ رونگٹے کھڑے کر دینے والا جرم بردہ فروشی ہے جو انسانی اعضاء کی فروختگی کی خاطر کی جاتی ہے، جس کا تصور ہی تڑپا دینے والا ہے ، یہ جرائم عالمی سطح پر پھیلے ہوئے ہیں اور دنیا کا کوئی کونہ ان سے محفوظ نہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ یہ انسانی دنیا کا سب سے بڑا اور گھناؤنا جرم ہے تو بجا نہ ہو گا۔۔۔
جب سے دہشت گردی کا عفریت دنیا میں دندناتا پھرتا اور انسانی گوشت کے لوتھڑے بکھیر رہا ہے ، نت نئی اصطلاحات جنم لے رہی ہیں ، دنیا بھر کی خفیہ ایجنسیاں بندوں کو اغواء کر کے غائب کر دیتی ہے ، اس صورتحال سے سے (Missing Person)یعنی گم شدہ یا اغوا ء شدہ انسانوں کی اصطلاح ’’آئی ڈی پیز‘‘ (اپنے ہی وطن میں با خبر ہو جانے والے) لوگوں کی اصطلاح ’’نان سائبر‘‘ تکنیک وغیرہ ہے۔
انسانوں کو سمگل کرنے والی اصطلاح تو پرانی ہو چکی ہے لیکن اعضا ء انسان فروشی کی مذموم و مردود اصطلاح عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ اس حوالے سے بچوں کا اغواء سنگین صورتحال اختیار کر گیا ہے ، جائزہ لینے سے جو اعداد و شمار بچوں کی گمشدگی کے حوالے سے ریکارڈ پر نظر آتے ہیں ان کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ بچے اعداد و شمار کے لحاظ سے امریکہ میں نظر آتے ہیں۔ حالیہ رپورٹوں میں سے ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد بچے سالانہ گم ہو رہے ہیں، روس45ہزار، آسٹریلیا 20ہزار سے زائد، یوکے 11ہزار سے زائد ، سپین20ہزار سے زائد ،کینیڈا4500۔
امریکہ کے بعد ہندوستان کی باری آتی ہے، جہاں سالانہ 70ہزار سے زائد بچوں کے اغواء کی رپورٹ ہے۔ان بچوں کے اغواء کی وجوہات برائے فروخت جنسی استحصال ، بھکاری بنانا، قتل کرنا اور اعضا ء نکال کر فروخت کرنا بتائی جاتی ہے۔
بچوں کی فروخت کا دھندہ ہندوستان میں اس قدر گھمبیر ہو چکا ہے کہ عالمی میڈیا پر یہ رپورٹس شائع ہو رہی ہیں کہ جسم فروشی کے دھندوں سے منسلک خواتین( اخلاقی زوال کی انتہا ہو چکی ہے کہ اس کومکروہ دھندے کو کاروبار کی ٹرم دی جا چکی ہے اور قبول کیا جا چکا ہے)اب یہ دعویٰ کر رہی ہیں کہ ’’ جسم فروشی سے ان کا کچھ نہیں بنتا‘‘ وہ بچے پیدا کر رہی ہیں اور ان کو فروخت کر رہی ہیں۔انسانیت کہاں تک کھو چکی ہے اور قیامت کس کا نام ہے جو برپا نہیں ہو جاتی۔
1989ء میں نجی سطح پر امریکہ میں ’’ نیشنل سنٹر فار مسنگ چلڈرن‘‘ کی بنیاد رکھی گئی۔بعد میں امریکی حکومت نے 40ملین ڈالر کی خطیر رقم سے ان کی مدد کی۔ چائلڈ پروٹیکشن کی اصطلاح معروف ہوئی۔68ممالک میں آج بھی ماڈل چائلڈ پروٹیکشن لاء نافذ ہے لیکن ان معصوموں کی زندگیاں پھر بھی غیر معروف ہیں۔
’’ بے بی بیک ہوم‘‘نامی ایک عالمی تنظیم بھی بچوں کے لیے کام کر رہی ہے اور گمشدہ بچوں کو ڈھونڈ کر ان کے گھروں یا سویٹ ہومز تک پہنچا دیا جاتا ہے۔
پسِ پردہ حقائق
دنیا میں قتلِ معصوماں کی گھناؤنی ،اندوہناک ، وحشت انگیز اور شرمناک و ناقابل معافی جرم کی بنیاد فراعنہ مصر کے بدنام زمانہ حکمران فرعون راعمسس نے رکھی تھی جسے وقت کے قیافہ گروں نے ڈرا دیا تھا کہ دنیا میں ایک بچہ جنم لینے والا ہے جس کے ہاتھوں تیرا جاہ و جلال ، رعب دبدبہ اور اقتدار مٹ جانے والا ہے، یہ پیشن گوئیاں اﷲ کے جلیل القدر پیغمبر حضرت موسیٰ ؑ کی بابت تھیں اور بنی اسرائیل کو اس ظلم کی سیاہ رات سے نکالنے کی ذمہ داری بھی انہی کو سونپی گئی تھی۔
فرعون نے ہر نوزائیدہ کے قتل کا حکم جاری کر دیا تھا جبکہ مشیت الہٰی کو کچھ اور ہی منظور تھا ۔ اﷲ تعالیٰ ہی اصل اقتدار اعلیٰ کا مالک ہے، دنیا پر صرف اسی کی حکومت ہمیشہ سے قائم و دائم ہے اور رہے گی ، باقی سب کچھ فانی ہے ،اﷲ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ کی پرورش کا انتظام فرعون کے گھر پر کیا بلکہ دنیا نے دیکھا کہ اﷲ کی مرضی کے بغیر دنیا کے کسی حاکم کی منشاء پوری نہ ہوئی اور فرعون نامرادہی رہا۔
فرعون کے گھر حضرت موسیٰ ؑ کی والدہ محترمہ اپنے بچے کودودھ پلاتی رہیں جبکہ قیمت فرعون کو ادا کرنا پڑی۔ جسے اﷲ رکھے اسے کون چکھے؟؟
عالمی نقشہ پر ارض وطن کا ’’ پاکستان‘‘ بن کر ابھرنا ایک معجزہ سے کم نہ تھا، اس کے دشمن روز اول سے ہی اسے مٹانے کی سازشوں کے درپے رہے ہیں لیکن تمام تر مصائب و آلام جھیلنے باوجود اس کا قائم و دائم رہنا محض اﷲ کریم کا فضل ہی ہے، بچوں کے اغواء کا فتنہ بھی اس ریاست کو کمزور کرنے کی سازش نظر آتی ہے۔
دنیا بھر میں جرائم کی شرح کو ہر قیمت پر کنٹرول کرنے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن اس پر مکمل طور پر قابو نہیں پایا جا سکا ۔ بچوں کا اغواء ، قتل تاوان طلبی، ریپ ، حبس بے جا میں رکھنا اور تشدد کا نشانہ بنانے کے علاوہ مختلف انداز میں ان پر ظلم و زیادتی روا رکھی جاتی ہے، اس معاملے میں ساری عالمی برادری متفق ہے کہ یہ جرائم ناقابل معافی ہیں۔
زمانہ قدیم میں معصوم بچیوں کو زندہ درگور کرنا ایسا ہی سنگین جرم تھا جیسا کہ آج کے مہذب معاشرے میں انسانی اعضاء کی فروختگی کی نیت سے بچوں کو اغواء کرنا اور ان کے جسم کے مختلف اعضاء نکال کر ان کو موت کے گھاٹ اتارنا ہے۔
خرکار کیمپوں میں معصوم بچوں سے بیگار لینے کا قصہ تو پرانا ہو چکا ۔ کچھ عرصہ قبل پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ نے بچوں کی اونٹ ریسوں کی غرض سے فروختگی اور اغواء کے ہولناک واقعات رونما ہونے پر سُو موٹو لیا تھا، خلیج میں اونٹ ریس میلے لگتے ہیں جن میں اونٹوں کی دوڑیں لگائی جاتی ہیں ، پاکستان اور دیگر ممالک سے معصوم بچوں کو خریدا جاتا ہے ، ان بچوں کو اونٹ پر بٹھا دیا جاتا ہے ، جب دوڑ شروع ہوتی ہے تو بچہ خوفزدہ ہو کر چیخنا شروع کر دیتا ہے ، جوں جوں بچے کی چیخ و پکار بڑھتی ہے، اونٹ بھی خوفزدہ ہو کر تیز دوڑتا ہے ، اس خونی کھیل تماشے میں اکثر اوقات بچوں کی جان چلی جاتی ہے۔
پاکستان میں بچوں کے خلاف جرائم کی باز گشت ماضی میں بھی سنائی دی جاتی رہی ہے، چائلڈ لیبر اور جبری طور پر کمسنی کی شادی وغیرہ جبکہ گوجرانوالہ سے ایک شخص جاوید اقبال نے بڑی بدنامی پائی جس کے بارے میں کہا گیا تھا کہ اس نے ایک سو سے زائد بچوں کو قتل کیا تھا۔
پاکستان تاریخ کے نازک ترین موڑ پر کھڑا ہے ، دنیا بھر کے نئے اتحاد جنم لے رہے ہیں، جدید دنیا میں فاصلے اپنی اہمیت کھو چکے ہیں لیکن افرادی قوت ، استعداد کار، مضبوط اعتقاد، جذبہ جنوں اور قربانی سے عدم گریز ایسی قوتیں ہیں جو آج اس ملک کو بلند ترین سطح پر لے جا سکتی ہیں ۔
قدرتی وسائل سے مالامال ، چاروں موسموں کا گلدستہ، جنگل،پہاڑ، دریا اور سمندر کی نعمتوں سے بھرا ہوا یہ ملک جسے رب کریم نے معجزاتی طور پر وجود بخشا اور گوادر دنیا کی گہری ترین بندرگاہ ایک لازوال تحفہ بن کر ابھرا ہے۔
سپاہِ وطن نے جدیدتاریخ انسانی کی مشکل ترین جنگ ’’ضرب عضب‘‘ جیت لی ہے ، ایٹمی قوت بن کر ’’لوہے کا چنا‘‘ بن جانے والا یہ نادر وطن ایک لازوال حقیقت بن کر ابھر چکا ہے، پاکستانی بچے دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں ، انتھک محنت اور دعاؤں کے بل بوتے پر اپنا اور اپنے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔
ارفع کریم نے سافٹ وئیر کی دنیا کو ششدر و حیران کر دیا تھا ۔پاکستانی طلبہ Aلیول اورOلیول کے امتحانات میںA+گریڈلے رہے ہیں، آرمی پبلک سکول پشاور پر حملے کے بعد خوفزدہ اور مایوس ہونے کی بجائے وطن سے محبت اور بڑھی ہے اور دوستوں کا اعتقاد بھی مضبوط تر ہوا ہے۔
افواج وطن کی لازوال قربانیاں رنگ لا رہی ہیں ، با ہمت ، مستعد، پر خلوص ، نڈر اور باصلاحیت سالارِ سپاہ وطن جنرل راحیل شریف کی قیادت نے دشمنانِ وطن کے ارادے خاک میں ملا دئیے ہیں ، دہشت گردی کا ہر ڈیزائن اس ملک کو کمزور کرنے کے لیے استعمال ہو چکا ہے، بچوں کے اغوا کا غل غپہ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے لیکن ۔۔۔ دشمن کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ قوم بڑے مضبوط اعصاب کی مالک اور بہت جلد سیسہ پلائی دیوار بن جاتی ہے۔
بچوں کا اغواء اور جرائم کوئی نئی بات نہیں جسے اسقدر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا رہا ہے یہ محض نفسیاتی جنگ کا ایک حصہ ہی دکھائی دیتا ہے۔ اس قوم کے بچے بہت بہادر ہیں جن کا ثبوت حالیہ دہشت گردی کی وارداتوں اورخود کش حملوں میں دیکھا جا چکا ہے۔یہ درست ہے کہ ماضی میں بچوں کے خلاف جرائم ریکارڈ کا حصہ ہیں لیکن موجودہ ہیجانی کیفیت بیدار کرنے کی کوشش میں اس کامذموم حصہ تھے۔
اس کے سوتے تلاش کرنے ہونگے ، بچوں کے اغواء اور اعضاء فروشی اگر کسی سطح پر کی جانے کی کوشش ہے تو اسے جڑ سے اکھاڑنا ہو گا ،قوم کو ذہنی سطح پر ایسے کسی بھی نفسیاتی حملے کے لیے تیار رہنا چاہیے ،دشمن چار سو سازشوں اور اسلحہ کے انبار لگا رہا ہے ۔
قومی پریس کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ ملکی مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے ہیجان ، خوف اور مایوسی پھیلانے والی خبروں سے حتیٰ المقدور احتراز برتا جائے۔
جس قوم کو ہر سو بیرونی و اندرونی خطرات نے گھیر رکھا ہے ، اسے ہر روزمعصوم ہم وطنوں کی لاشوں کا تحفہ دیا جاتا ہو، ہر فرد کی ذمہ داری دوگنی ہو جاتی ہے ، ہر وہ خبر ردی کی ٹوکری کی نظر ہو نی چاہیے جو ملک کی آبرو پر حرف لاتی ہو،یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ ریٹنگ کی دوڑ میں رک کر مقام فکر بھی آتا ہے ۔
دلخراش، سنگین،انسانیت سوزی کی نمایاں خبریں وطن کی کوئی خدمت نہیں، پاکستانی میڈیا اس وقت تک پاکستانی ہے جب تک پاکستان ہے ، اس کی قوم ہے۔ مملکت خداد صرف ایک سوال لیے کھڑی ہے:
’’ حب الوطنی‘‘
موت سے ہمکنار وجود ہوا کرتے ہیں، ’’نظریات‘‘اور ’’جذبات ‘‘ کبھی نہیں مرا کرتے ،کوئی نہ مایوس کر سکتا ہے اور نہ بزدل بنا سکتا ہے ، مگر سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننا پڑتا ہے ، عالمی میڈیا کو بھی اپنی ذمہ داری نبھانی ہو گی، ہم اقوام عالم کی آگ’’دہشت گردی‘‘ سے لڑ رہے ہیں تاکہ باقی سب محفوظ رہ سکیں۔


WhatsApp




متعلقہ خبریں
سانپ اور سیڑھی کا کھیل ... مزید پڑھیں
اسرائیلی تاریخ ... مزید پڑھیں
آسیہ" نامی عیسائی عورت اور ہمارا قانون ... مزید پڑھیں
ارضِ حرمین پر منڈلاتی گھٹائیں ... مزید پڑھیں
حکمرانوں کے تابناک اور روشن کردار ... مزید پڑھیں
فاطمہ بنت پاکستان کا مقدمہ ... مزید پڑھیں
یہ رہی تمہاری تلاش ... مزید پڑھیں
اقوام متحدہ کے اجلاس کی روداد ... مزید پڑھیں
القدس اپنے محافظ کی تلاش میں ... مزید پڑھیں
یوم یکجہتی کشمیر کا تاریخی تعاقب و اہمیت ... مزید پڑھیں
بنیادی حقوق کا’’سراب‘‘ ... مزید پڑھیں
ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے ... مزید پڑھیں
سانپ اور سیڑھی کا کھیل ... مزید پڑھیں
استادِ محترم کو میرا سلام کہنا ... مزید پڑھیں
استعمای عزائم اور دفاع وطن کے تقاضے ... مزید پڑھیں
بچوں کا اغوا،ا عضاء فروشی اور افواہوں کا بازار ... مزید پڑھیں
متعلقہ خبریں
ارض حرمین پر منڈلاتی گھٹائیں
سانپ اور سیڑھی کا کھیل
اسرائیلی تاریخ
آسیہ" نامی عیسائی عورت اور ہمارا قانون
ارضِ حرمین پر منڈلاتی گھٹائیں
حکمرانوں کے تابناک اور روشن کردار
فاطمہ بنت پاکستان کا مقدمہ
یہ رہی تمہاری تلاش
اقوام متحدہ کے اجلاس کی روداد
القدس اپنے محافظ کی تلاش میں

مقبول خبریں
نیب جیسا ہے ویسا ہی رہنا چاہیے ہم بھگت چکے باقی بھی بھگتیں، نواز شریف
یمن میں فریقین کو جنگ بندی کے لیے اقوام متحدہ کی تنبیہ
یاسر شاہ نے ٹیسٹ کرکٹ کا 82 سالہ ورلڈ ریکارڈ توڑدیا
پاکستان نے پہلے ٹی ٹوئنٹی میں ویسٹ انڈیز کو 9 وکٹوں سے شکست دے دی
ایمن اور منیب نے شادی کی معدوم ہوتی فضول رسمیں ایک بار پھر زندہ کردیں
ارض حرمین پر منڈلاتی گھٹائیں
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
ایک دن ورزش کے اثرات کئی دن تک برقرار رہتے ہیں
کاسمیٹک سرجری کے شوق نے خاتون کی جان لے لی
صرف دو ڈالر کی چوری کے سراغ کے لیے پولیس نے 600 ڈالر خرچ کردیئے
صرف دو ڈالر کی چوری کے سراغ کے لیے پولیس نے 600 ڈالر خرچ کردیئے
چین نے آگ میں پھنسے لوگوں کو بچانے والا خود کار ڈرون ڈیزائن کرلیا
شرح پیدائش پنجاب میں کتنی ہے اور خیبر پختونخوا میں کتنی؟ اعدادوشمار سامنے آگئے
بیویاں شوہروں کو طلاق دے سکیں گی والا نکاح نامہ زیرغور نہیں، اسلامی نظریاتی کونسل
عدالتی نظام کو اوورہالنگ کی ضرورت ہے
ویڈیو گیلری

آزادی کی تحریکوں کو دبایا تو جا سکتا ہے لیکن ختم نہیں کیا جا سکتا : پاکستانی ہائی کمشنرعبدالباسط

بھارتی اشتعال انگیزی کا ذمہ داری سے جواب دے رہے ہیں ،عاصم باجوہ

پاکستان اورسعودی عرب حقیقی بھائی ہیں،علما اکرام مسلم امت کے اتحاد میں کردار ادا کریں:امام کعبہ

بڈگام میں بھارتی فوج کی فائرنگ، مزید 8 کشمیری شہید، پاکستان کا شدید احتجاج

فرانس میں تیز رفتار گاڑی فوجیوں پر چڑھ دوڑی، 6 زخمی

سپورٹس
یاسر شاہ نے ٹیسٹ کرکٹ کا 82 سالہ ورلڈ ریکارڈ توڑدیا
ابوظہبی(ویب ڈیسک) لیگ اسپنر یاسر شاہ نے نیوزی لینڈ کے خلاف مزید پڑھیں ...
ویب ٹی وی
ٹورازم
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔ posted by Abdur مزید پڑھیں ...
انٹرٹینمینٹ
ایمن اور منیب نے شادی کی معدوم ہوتی فضول رسمیں ایک بار پھر زندہ کردیں
گزشتہ کئی روز سے سوشل میڈیا پر پاکستانی اداکارہ ایمن خان اور مزید پڑھیں ...
مذہب
بیویاں شوہروں کو طلاق دے سکیں گی والا نکاح نامہ زیرغور نہیں، اسلامی نظریاتی کونسل
اسلام آباد(ویب ڈیسک) اسلامی نظریاتی کونسل کا کہنا ہے کہ مزید پڑھیں ...
بزنس
روپے کی بے قدری، ڈالرملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پرجا پہنچا
کراچی(ویب ڈیسک) انٹربینک میں پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں امریکی ڈالرتاریخ مزید پڑھیں ...