اردو | العربیہ | English



اردو | العربیہ | English

امریکا افغانستان سے اپنی فوجیں نکالنے پر رضامند، الجزیرہ کا دعویٰ

کشمیر ۔۔۔۔۔آزادی کی صبح جلد طلوع ہونے والی ہے


WhatsApp
94



وادی کے ہر گھر، ہر کھمبے ، ہر درخت اور عمارت پر پاکستانی پرچم لہرا رہا ہے۔‘

تحریر:جمیل راہی
برصغیر کے انتہائی شمال میں واقع ہمالیہ کے دامن میں موجود یہ علاقہ ’’ وادی کشمیر ‘‘ کہلاتا ہے۔
پہلے ہزارئیے(Millinum)کے ابتدائی برسوں میں یہ علاقہ ہندو ازم اور بدھ ازم کے زیر اثر رہا ہے۔ بعد ازاں اس علاقے میں شاؤ ازم نے جڑیں پکڑ لیں ۔1313ء تک یہ کھشتریہ کے زیر اثر تھا۔1339ء میں سوات کے رہنے والے مسلمان ’’ شاہ میر‘‘ نے اسلامی حکومت کی داغ بیل ڈالی، یہ اسلامی حکمرانوں کے دورکا آغاز تھا۔
میر صیاد علی ہمدانی کے بیٹے’’سکندر بُت شکن‘‘ کی کوششوں سے اسلامی قوانین کو رائج کیا گیا۔ 1400ء تک وادی کشمیرایک اسلامی ریاست بن چکی تھی ، اسے کشمیر جنت نظیر بھی کہا جاتا ہے ۔
1751-86ء میں یہ علاقہ مغل حکمرانوں کی حکومت کے زیر اثر رہا ہے ۔1820ء میں افغانستان سے ملک گیری کرتے ہوئے دُرّانی حکمرانوں نے اس پر قبضہ کر لیا۔ بعد میں سکھ حکمران رنجیت سنگھ نے کشمیر کی وادی کو اپنی حکومت میں شامل کر لیا ، اس طرح سکھ ازم کا آغاز ہوا۔
1846ء میں بدنام زمانہ’’ معاہدہ امرتسر‘‘ ہوا جو کہ ڈوگرہ راجہ گلاب سنگھ اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے مابین ہوا، اس کی رو سے گلاب سنگھ نے موجودہ کشمیر کو انگریزحکمرانوں کے ہاتھوں 75لاکھ سکھ نانک شاہی روپے یعنی( سکھ کرنسی) میں فروخت کر دیا۔ اس معاہدہ کے تحت گلاب سنگھ کو اس علاقہ کا انگریز وں کے نمائندہ کے طور پر حکمران بنا دیا گیا۔ 1947ء میں تقسیم برصغیر کے موقع پر کشمیر سمیت دیگر ریاستوں کے حکمرانوں کو اختیار دیا گیا تھا کہ وہ اپنی رعایا کی مرضی کے مطابق ہندوستان یا پاکستان جس کے ساتھ چاہیں الحاق کرسکتے ہیں۔
یہی وہ تاریخی موڑ تھا جب کشمیری قوم کو اس کی مرضی کے برعکس ہندو فسطائیت کے حوالہ کر دیا گیا اور راجہ ہری سنگھ نے نہ صرف بھارت سے الحاق کر لیا بلکہ بھارتی فوج کو وادی کشمیر پر قبضہ جمانے کی اجازت بھی دے دی۔انسانی تاریخ میں بردہ فروشی ،قوم فروشی اور غلاموں کی تجارت کا اس سے بڑا اور دلخراش واقعہ آج تک رونما نہیں ہوا، کل کشمیری قوم کا سودا کرنے والا گلاب سنگھ تھا جس نے ہر کشمیری کو سات روپے میں فروخت کر دیا تھا، آج اس کا بیٹا ہری سنگھ اس بدنصیب قوم کو متعصب ہندو قیادت کے حوالے کر رہا تھا۔
اس سے قبل کشمیری قوم سیاسی طور پر نہ صرف بیدار ہو چکی تھی بلکہ آزادی کے حصول کے لیے باقاعدہ تحریک کا آغاز بھی ہو چکا تھا،باغی تحریک کاآغاز13جولائی 1931ء کو سری نگر جیل میں22افراد کے قتل سے پھوٹنے والے فسادات سے ہوا ۔
یہی بالکل جلیانوالہ باغ میں انگریز جنرل ایڈوائر نے کیا تھا جب ایک جلسہ گاہ پر دھاوا بولا گیا اور چاردیواری کے اندر ہزاروں انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ، یہی ظلم سرینگر جیل میں دہرایا گیا ، اس پر کشمیر کمیٹی بنائی گئی ۔ یہی کمیٹی پہلا سیاسی پلیٹ فارم بن کراُبھری اور سیاسی قیادت کو ابھرنے کا موقع ملا۔
84برس قبل 1934ء میں پہلی بار ہندوستان کے مسلمانوں نے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا تھا۔
23اگست 1947ء کو نیلہ بٹ کے مقام پر ایک بڑا جلسہ عام منعقد ہوا جس کی صدارت امیرا لمجاہدین ہند مولانا فضل الہٰی وزیر آبادی نے کی تھی اسی جلسہ میں کشمیری قوم نے الحاق پاکستان کا اعلان کیا تھا ۔ مولانا فضل الہٰی وزیر آبادی کی قیادت میں کشمیری قوم کو آزادی دلانے کے لیے عسکری جدو جہا د کا آغاز ہوا تھا ۔ سردارعبدالقیوم مولانا فضل الہٰی وزیر آبادی کی قیادت میں جہاد کشمیر میں شامل ہو کر ’’ مجاہد اوّل‘ ‘ کا خطاب پا چکے ہیں۔
اسی برس مسلم لیگ کے سربراہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیر کا دورہ کیا، پوری کشمیر ی قوم میں الحاق پاکستان کے لیے جوش و خروش اپنے عروج پر تھا ، جگہ جگہ انکا شاندار استقبال ہوا ۔ ریڈ کلف کی بد دیانتی ، جنرل ماؤنٹ بیٹن کی ہندو نوازی کشمیر پر جبری تسلط کی بنیاد بنی۔ جنرل گریسی نے حضرت قائد اعظم کے حکم کی نافرمانی کرتے ہوئے پاک فوج کو کشمیر میں لانچ نہ کیا وگرنہ اس وقت بڑی تیزی سے علاقے فتح ہو رہے تھے، وہ علاقہ جو انڈین فوج سے واپس چھین لیا گیاتھا ،آج آزاد کشمیر کہلاتا ہے۔
جولائی 2016ء میں برہان مظفر وانی کی شہادت نے اس تحریک کو نیا رنگ دیا جس کا ہر اوّل دستہ نوجوان ہیں۔ اس شہادت نے پوری کشمیری قوم کو یک جا کر دیا ہے جس پرغدار ابن غدار ابن غدارعمرعبد اﷲ بھی چیخ پڑا ہے کہ:
’’ قبر میں لیٹا برہان وانی زندہ وانی سے زیادہ مجاہد تیار کرے گا۔‘‘
کشمیری نوجوانوں نے قلم و کتاب چھوڑ کر اسلحہ اٹھانے کی ٹھان لی ہے،حکومتی مبصرین خود اپنی وزیر اعظم کو رپورٹ میں لکھ رہے ہیں :
’’ وادی کے ہر گھر، ہر کھمبے ، ہر درخت اور عمارت پر پاکستانی پرچم لہرا رہا ہے۔‘‘
ایک سینئر اخبار نویس لکھتا ہے کہ:
’’ وادی میں ہر فرد کے ہاتھ میں پتھر ہے اور جس کے ہاتھ میں پتھر نہیں اس کے دل میں پتھر ہے۔‘‘
انڈین فورسز نے ظلم و تشدد میں بربریت اور جدت کی راہ اختیار کر لی ہے۔ اسرائیلی ساختہ پیلٹ گن کا استعمال کیا جا رہا ہے جس کے چھروں سے انسانی آنکھ کی بینائی ختم ہو جاتی ہے، اس گن نے سینکڑو ں لوگوں کی بینائی ہمیشہ کے لیے چھین لی ہے۔
ڈنمارک انٹرنیشنل کا نفرنس جس میں دنیا بھر سے 500سے زائدمندوبین شریک تھے ، عالمی این جی اوز اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندگان نے کشمیر میں جاری مظالم پر نہ صرف شدید احتجاج کیا ہے بلکہ پیلٹ گنز کے استعمال کو انسانیت کے خلاف بھیانک جرم قرار دیا ۔کشمیر کی ڈیمو گرافی تبدیل کرنے کی بھارتی کوششوں کی مذمت کی گئی ۔
ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرکی رپورٹ کے مطابق 105ملین افراد ڈپریشن کا شکار ہیں ، این جی اوز اور دفاتر میں بوڑھے لوگ اپنے نوجوان بیٹوں کو تلاش کرتے پھرتے ہیں۔
* لاپتہ افراد کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
* اجتماعی قبریں دریافت ہو رہی ہیں، غیر شناخت شدہ قبریں اس بات کی علامت ہیں کہ خاموش قتل عام جاری ہے۔
* رپورٹس کے مطابق انڈین ٹروپس کسی بھی گاؤں میں داخل ہو جاتے ہیں ، سرچ آپریشن کے نام پر درندگی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔
* مقبوضہ وادی میں 1970ء سے جاری تحریک انتفاضہ نے جمہوری شکل اختیار کر رکھی ہے۔ یہ جدو جہد جاری و ساری ہے لیکن حصول حریت کی کوئی بھی شکل انڈین حکومت کو منظور نہیں ۔
* پیلٹ گنوں کا استعمال ، آنسو گیس ، لاٹھی چارج ، ربڑ کی گولیاں تو معمول بن چکا تھا، اب فضائی حملے بھی شروع ہو چکے ہیں۔
* بین الاقوامی کارکنوں کو وادی میں غیر جانبدارانہ رپورٹ لینے کی اجازت نہیں ہے۔
* سیاسی قیادت پر قدغنیں،گرفتاریاں اور تشدد معمول بن چکا ہے۔
* آسیہ اندرابی ، یاسین ملک ،سید علی گیلانی، میر واعظ عمرفاروق، مسرت عالم اور شبیر شاہ سمیت تمام حریت قیادت آئے روز ہاؤس اریسٹ ، جیل،تشدد اور پابندیوں کا شکار رہتی ہے۔
* میڈیا بلیک آؤٹ، اخبارات پر پابندیاں ، غیر جانبدار مبصرین کے داخلے پر پابندیاں معمول بن چکا ہے۔
* کشمیرہویا ہندوستان ، سیاسی و مذہبی جماعتیں سراپا احتجاج رہتی ہیں لیکن ظلم کی یہ رات ڈھلنے کا نام نہیں لیتی۔
* یو این او سمیت انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں، یورپی یونین ، اسلامی ممالک کی سربراہ تنظیم، بیلا روس سمیت ہر ملک انسانی حقوق کی پامالی پر مذمت کر رہا ہے لیکن حالات جوں کے توں ہیں۔
کشمیری قوم جس پرماضی میں بزدلی اور کم ہمتی کی پھبتی کسی جاتی تھی ۔آج وہی قوم دس لاکھ تربیت یافتہ افواج کے سامنے کس قدر اولعزمی ، بہادری اور جانثاری سے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہے۔
ہر طرح کے مظالم، گرفتاریاں، تشدد، بھوک ، بیماری اور جنازے ایک قدم بھی ان کو پیچھے نہیں ہٹا پا رہے۔تحریک مزاحمت کا ہر کارکن جب جام شہادت نوش کر جاتا ہے ، تو اسے پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر دفنایا جاتا ہے۔ہر ریلی پاکستانی پرچموں کی بارات لگتی ہے، ہر زبان پر بدستور ایک ہی پکار جا ری دکھائی دیتی ہے:
’’ کشمیر بنے گا پاکستان‘‘
’’پاکستان سے رشتہ کیا ، لا الہ الا اﷲ‘‘
آزادی کی صبح جلد طلوع ہو نے والی ہے، آزادی کی فضائیں چھانے والی ہیں، غلامی کی زنجیریں ٹوٹ کر رہیں گی، جبر کے دن تھوڑے ہیں ، کیونکہ جنت نظیر کسی کافر کی جاگیر نہیں ہو سکتی۔۔۔


WhatsApp




متعلقہ خبریں
یہ رہی تمہاری تلاش ... مزید پڑھیں
اقوام متحدہ کے اجلاس کی روداد ... مزید پڑھیں
القدس اپنے محافظ کی تلاش میں ... مزید پڑھیں
یوم یکجہتی کشمیر کا تاریخی تعاقب و اہمیت ... مزید پڑھیں
بنیادی حقوق کا’’سراب‘‘ ... مزید پڑھیں
ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے ... مزید پڑھیں
سانپ اور سیڑھی کا کھیل ... مزید پڑھیں
استادِ محترم کو میرا سلام کہنا ... مزید پڑھیں
استعمای عزائم اور دفاع وطن کے تقاضے ... مزید پڑھیں
بچوں کا اغوا،ا عضاء فروشی اور افواہوں کا بازار ... مزید پڑھیں
کشمیر ۔۔۔۔۔آزادی کی صبح جلد طلوع ہونے والی ہے ... مزید پڑھیں
پھر نئے طالبان ... مزید پڑھیں
"سیاسی اصطبل کے گدھے " ... مزید پڑھیں
حقوقِ نسواں کا غلط استعمال ... مزید پڑھیں
’’34 ملکوں کا مذاق‘‘ ... مزید پڑھیں
اسلام میں عورت کا مقام ... مزید پڑھیں
متعلقہ خبریں
فاطمہ بنت پاکستان کا مقدمہ
یہ رہی تمہاری تلاش
اقوام متحدہ کے اجلاس کی روداد
القدس اپنے محافظ کی تلاش میں
یوم یکجہتی کشمیر کا تاریخی تعاقب و اہمیت
بنیادی حقوق کا’’سراب‘‘
ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے
سانپ اور سیڑھی کا کھیل
استادِ محترم کو میرا سلام کہنا
استعمای عزائم اور دفاع وطن کے تقاضے

مقبول خبریں
ویڈیو گیلری

آزادی کی تحریکوں کو دبایا تو جا سکتا ہے لیکن ختم نہیں کیا جا سکتا : پاکستانی ہائی کمشنرعبدالباسط

بھارتی اشتعال انگیزی کا ذمہ داری سے جواب دے رہے ہیں ،عاصم باجوہ

پاکستان اورسعودی عرب حقیقی بھائی ہیں،علما اکرام مسلم امت کے اتحاد میں کردار ادا کریں:امام کعبہ

بڈگام میں بھارتی فوج کی فائرنگ، مزید 8 کشمیری شہید، پاکستان کا شدید احتجاج

فرانس میں تیز رفتار گاڑی فوجیوں پر چڑھ دوڑی، 6 زخمی

سپورٹس
یوتھ اولمپکس؛ پاکستانی ریسلر عنایت اللہ نے امریکی حریف کو شکست دے دی
بیونس آئرس(ویب ڈیسک) پاکستانی ریسلر عنایت اللہ نے یوتھ اولمپکس مزید پڑھیں ...
ویب ٹی وی
ٹورازم
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔ posted by Abdur مزید پڑھیں ...
انٹرٹینمینٹ
کنگنا کا ایک بارپھرکرن جوہرپروار
ممبئی(ویب ڈیسک) بالی ووڈ میں تیزی سے مقبول ہوتی ’می مزید پڑھیں ...
مذہب
درود پر تنازع‘ جہلم ،مسجد کے منتظم پر توہینِ مذہب کا مقدمہ
جہلم ( ویب ڈیسک) پاکستان کے صوبۂ پنجاب کے ضلع جہلم کی مزید پڑھیں ...
بزنس
زرمبادلہ کے ذخائر 15 ارب ڈالر کی سطح سے نیچے آگئے
کراچی(ویب ڈیسک) رواں ہفتے زر مبادلہ کے ذخائر میں 10 کروڑ مزید پڑھیں ...