اردو | العربیہ | English



اردو | العربیہ | English

جنوبی و شمالی کوریا کے درمیان’جوہری ہتھیار تلف کرنے کے معاہدے‘ پر دستخط

افغان طالبان کا امریکی عوام کے نام خط


WhatsApp
156



اے امریکی عوام… عوامی خودمختار تنظیموں کے غیرسرکاری حکام اور کانگریس کے امن پسند نمائندو!


افغان طالبان کا امریکی عوام کے نام خط

اے امریکی عوام… عوامی خودمختار تنظیموں کے غیرسرکاری حکام اور کانگریس کے امن پسند نمائندو!

امید ہے اس خط کا بغور مطالعہ کر کے اس میں درج حقائق کی روشنی میں افغانستان میں امریکی فوج کے مستقبل اور اپنے مفادات و نقصانات کا جائزہ لیا جائے گا!

آپ جانتے ہیں کہ امریکا کے سیاسی رہنماؤں نے سولہ سال قبل افغانستان پر جارحانہ طور پر فوجی شب خون مارا تھا۔ یہ جارحیت خودمختار افغانستان کے شرعی و ملی قوانین اور عالمی قوانین کے خلاف انتہائی ناگوار عمل تھا۔ امریکی حکام نے جارحیت کو جواز دینے کی خاطر تین نعروں کو استعمال کیا
1. افغانستان میں امن و امان مستحکم کرنے کی خاطر (خودساختہ) دہشت گردی ختم کرنا۔
2. ایک قانونی حکومت قائم کر کے قانون نافذ کرنا۔
3. منشیات کا خاتمہ کرنا۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ اس ناجائزجنگ میں آپ کے حکمران ان تینوں نعروں میں کس قدر سچے تھے؟

بدامنی اور لڑائی میں شدت:
جب سابق صدر جارج ڈبلیو بش 2001ء کو افغانستان پر جارحیت کاپروانہ جاری کر رہے تھے تو ظالمانہ جنگ چھیڑنے کی خاطر یہاں صرف طالبان(امارت اسلامیہ) اور القاعدہ کی موجودگی اوران کے خاتمے کو بہانہ بناتے رہے۔ ستره سال تک خونریز لڑائی جاری رکھنے اور اس میں جانی و مالی نقصانات تسلیم کرنے کے باوجود موجودہ صدر ڈونلڈٹرمپ نے افغانستان میں اسی ناجائز جنگ کو جاری رکھنے کے لیےایک امارت اسلامیہ کے علاوہ مزید دیگر گروہوں کی موجودگی کا ڈھنڈورا پیٹنا شروع کر دیا۔ ٹرمپ نے اس دعوے کا اظہار 26اگست 2017ء کو افغانستان اور جنوبی ایشیا کے لیے اپنی جنگی پالیسی کے اعلان کے دوران کیا۔ ستره سال بعد ایک بارپھر افغان عوام کے خلاف ناجائزجارحیت اور جنگ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ امریکی حکمران افغانستان میں متعدد جنگی گروہوں کی موجودگی تسلیم کرتے ہیں۔ اس سے ہمارا دعوی ثابت ہوتا ہے کہ امریکا نے افغانستان پر جارحیت کو دوام دینے اور انتشار پھیلانے کے لیے داعش جیسے گروہوں کو خود پیدا کیا ہے۔
امریکی حکام اس جنگ کو مختلف نام دیتے ہیں۔جب کہ حقیقت یہ ہے کہ امریکی فوج نے خواتین اور بچوں سمیت ہزاروں نہتے افغانوں کو شہید کیا ہے۔ لاکھوں کو زخمی اور ہزاروں کو گوانتاناموبے، بگرام اور دیگر عقوبت خانوں میں قید کر رکھا ہے۔ ان کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کیا جاتا ہے۔ دوسری طرف امریکی فوجی حکام کے اعتراف کے مطابق (3546)امریکی اور نیٹو فوجی ہلاک، جب کہ بیس ہزار سے زائد امریکی فوجی زخمی اور ہزاروں نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہوئے ہیں۔ اگرچہ زمینی حقائق کے مطابق امریکا کا جانی نقصان اس سے زیادہ ہے، جسے حکام نے خفیہ رکھا ہے۔اسی طرح اس جنگ میں آپ کے اربوں ڈالر خرچ ہوئے، نتیجۃً یہ جنگ امریکی تاریخ میں سب سے خونریز، طویل اور معاشی لحاظ سے کمرشکن لڑائی تصور کی گئی۔
لاقانونیت اور عالمی سطح پر بدعنوان نظام:
اگرچہ دیگر ممالک میں قوانین کی بات اور ان کے لیے نظاموں کا قیام امریکا کی ذمہ داری نہیں ہے، مگر جارج ڈبلیو بش کے لیے افغانستان پر جارحیت کا دوسرا بہانہ یہاں ایک قانونی حکومت قائم کرنا تھا۔ امریکا نے اس حوالے سے اپنے ہزاروں فوجی قتل کرا کر بھی ایک ایسی حکومت قائم کی، جس نے کرپشن اور لاقانونیت میں عالم ریکارڈ قائم کیا ہے۔ افغان حکومت انتظامی اور مالی بدعنوانی میں عالمی سطح پر پہلا مقام حاصل کر چکی ہے۔ وہ انسانی حقوق کی پامالی میں عالمی سطح پر انتہائی بدنام ہے۔ عوام املاک پر قبضے اور عالمی امداد میں غبن کی مد میں عالمی سطح پر پہلے نمبر پر ہے۔ عورتوں کے خلاف تشدد کے متعلق انتہا درجے کی ظالم ہے۔ امریکی جارحیت کے نتیجے میں قائم ہونے والی بدعنوان انتظامیہ کی تازہ ترین مثال افغانستان کا وہ نظام ہے، جس کے غیرمثالی طور پر دو سربراہ ہیں۔
منشیات کی پیداوار اور وسعت:
ڈبلیو بش کا تیسرا بہانہ منشیات کی روک تھام تھی۔ اقوام متحدہ کے انسداد منشیات مہم کے ادارے (UNODC) کی معلومات کی بنیاد پر افغانستان پر امریکی جارحیت سے قبل یہاں صرف 185 ایکڑ زمین پر پوست کی کاشت کی جاتی۔ یہ وہ علاقے تھے، جہاں امارت اسلامیہ کے مخالفت گروہوں کا کنٹرول تھا۔ افغانستان میں ہیروئن کےعادی افراد کی تعداد نہ ہونے کی برابر تھی۔ جب کہ افغانستان پر امریکی جارحیت کے بعد پوست کی کاشت کا رقبہ 185 ایکڑ سے بڑھ کر 328 ایکڑ ہوگیا۔فی الوقت یہاں منشیات کے عادی افراد کی تعداد تیس لاکھ تک جا پہنچی ہے۔ اقوام متحدہ کے انسداد منشیات کے ادارے نے 26 دسمبر 2017ء کو رپورٹ شائع کی کہ 2017ء میں منشیات کی پیدوار میں 87٪ فیصد اور کاشت میں 63٪ فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ جس کی رُو سے منشیات کی پیداوار کا پیمانہ نو ہزار 9000 میٹرک ٹن تک جا پہنچا ہے۔
اے امریکی عوام!
آپ دنیا میں خود کے حوالے سے ترقی یافتہ اور مہذب عوام کا دعوی کرتے ہیں۔افغانستان میں جنگ کی آگ آپ ہی کی رضامندی سے لگائی گئی ہے۔ہم اس حوال

ے سے فیصلہ بھی آپ حوالے کرتے ہیں۔ کیا آپ زندہ ضمیر کی رُو سے افغانستان میں قائم کیے گئے نظام اور اس سے منسلک تغیرات، بدامنی، لاقانونیت اور منشیات کی پیداوار میں 87 فیصد اضافے کو اصلاحات سمجھتے ہیں یا انسانیت کے خلاف جرائم؟ آپ کے حکمرانوں کا دعوی ہے کہ انہوں نے افغانستان میں اربوں ڈالر تعمیرنو کے مختلف شعبوں میں خرچ کیے ہیں۔ جب کہ یہ اربوں ڈالر آپ کی وہ رقم ہے، جو سرکاری ٹیکس کے نام پر آپ سے وصول کی گئی ہے۔آپ کا دیا ہوا ٹیکس افغانستان کے ڈاکوؤں اور قاتلوں کی جیبوں میں چلا گیاہے۔ کیا آپ اس پر راضی ہیں کہ آپ کی محنت و مشقت کی رقم افغانستان میں ایک ایسے بدعنوان نظام پر خرچ کی جائے، جسے چلانے والوں کے خلاف عدالت میں کابل بینک سے 900 ملین ڈالر چوری کرنے پر مقدمہ چل رہا ہو؟! کیا آپ کی ثقافت میں قانون لاگو کرنا اِسے کہاجاتا ہے کہ نائب صدر ایسا شخص ہو، جو درجنوں دیگر جرائم کے ساتھ سترسالہ شخص پر جنسی تشدد کے جرم میں ملوث ہو؟ کیا وہ تہذیب، ترقی اور قانونیت ہے، جس کی علم برداری کا آپ نے دعوی کر رکھا ہے! کیا آپ کے 2ہزور 783 فوجی اسی قانون کے نفاذ کی خاطر افغانستان میں مارے گئے؟ کیا آپ کے دانش وروں، سیاست دانوں اور مُنصِف تجزیہ نگاروں کے پاس ہمارے ان سوالات کے جوابات ہیں؟
سمجھنا چاہیے کہ ہمارے عوام ان تمام مصائب و مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔اسی وجہ سے وہ امریکی سرپرستی میں اُن پر مسلط اشرف غنی انتظامیہ کو حکومت نہیں، بلکہ ڈاکوؤں، مافیائی عناصر اور منشیات کے کاروبار میں ملوث گروہ کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ وہ ان کے خلاف مزاحمت اور جدوجہد کو اپنا شرعی، اخلاقی اور ملی فریضہ سمجھتے ہیں۔ جو افراد اس نظام کو قائم کرنے کی خاطر آپ کے ساتھ کھڑے ہیں، وہ افغان عوام کی نگاہ میں قوم اور قومی مفادات کے غدار ہیں۔ اس کے برعکس جو افراد آپ کے اس بدعنوان نظام کے خلاف مسلح جدوجہد کر رہے ہیں، وہ اپنے ملک، قومی مفادات، ملی استقلال، عزت کے حصول اور دفاع کی راہ کے سپاہی ہیں۔ امریکی میڈیا افغان مزاحمت کے خلاف پروپیگنڈا کر رہا ہےکہ یہاں لڑنے والے افراد بیرون سے آئے ہوئے ہیں۔ امریکا یہ نامعقول پروپیگنڈا اپنی شکست چھپانے کی خاطر کرتا ہے۔
اے امریکی عوام!
ہم خط کے اس حصے میں اپنا پیغام دینا چاہتے ہیں:
آج افغان باشندے آپ کی فوج اور ہر جابر و ظالم کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ یہ ان کا شرعی، نظریاتی اور ملک و ملت کے تحفظ کی ذمہ داری ہے۔اگر اس مزاحمت میں آپ کی فوج جتنی بھی طاقت ور اور جدید اسلحے سے لیس ہو جائے، ہم اپنے اس دینی، شرعی اور ملی ذمہ داری کو انجام دیتے رہیں گے۔ اس ذمہ داری سے دست بردار ہونے کو کوئی بھی غیرت مند مسلمان آمادہ نہیں ہے۔ افغان باشندے گزشتہ چار دہائیوں سے مسلط جنگوں کی آگ میں جھلس رہے ہیں۔ وہ امن اور عادلانہ نظام کے پیاسے ہیں۔ وہ آپ کی جنگ پسند حکومت کے مقابلے میں شرعی، دینی، دفاعی اور ملی مزاحمت سے کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انہوں نے تاریخ میں کبھی بھی اپنی دینی اقدار اور آزادی کے تحفظ سے کنارہ کشی نہیں اختیار کی۔
افغانستان وہ ملک ہے، جو اپنی تاریخ کے ہر دور میں ہمیشہ خودمختار رہا ہے۔ حتی کہ انیسویں اور بیسویں صدیوں کے دوران، جب عالم اسلام کے بیشتر ممالک یورپی استعمار کے قبضے میں تھے، افغانستان واحد ملک تھا، جس نے اپنی خودمختاری محفوظ رکھی۔ انگریز 80 سالہ کوشش کے باوجود افغانوں سے اپنا لوہا منوانے پر قادر نہ ہو سکا۔ یہ کوئی مبالغہ نہیں ہے۔ تمام دنیا جانتی ہے کہ کئی افغان باشندے امریکی و نیٹو فوج کے خلاف فدائی حکلے کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔اُن کا مقصد افغانستان میں اسلامی نظام کا قیام اور غیرملکی قبضے کا خاتمہ ہے۔

اس جہاد میں آئے روز پیش رفت ہو رہی ہے۔ کئی علاقے امریکا کی غلام حکومت سے واپس لے لیے گئے ہیں۔ اس وقت ’سیگار‘ کے سربراہ اعتراف کر رہے ہیں کہ ’افغانستان کے 60فیصد رقبے پر امارت اسلامیہ کا کنٹرول ہے۔‘ 2001ء میں افغانستان پر امریکی جارحیت کے دوران دنیا کے بعض ممالک امریکی حکمرانوں کے جنگی پروپیگنڈوں کے زیر اثر صدربش کے حمایتی بن گئے تھے۔ اب ہم عملاً دیکھ کررہے ہیں کہ امریکی حکومت عالمی حمایت کھو چکی ہے۔ حتی آپ کے جنگی اتحاد میں شامل بیشتر ممالک نے حقائق کا ادراک کرتے ہوئے افغانستان سے اپنی فوج نکال کر سیاسی افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کیا ہے۔ عالمی برادری امریکی جارحیت کے خلاف افغان عوام کے برحق مطالبے کی حمایت کر رہی ہے۔ اگر امریکی حکومت مزید خودساختہ بہانے تراشتے ہوئے افغانستان میں جنگ کو طویل دینے پر اصرار کرتی ہے تو اس سے امریکا کی عالمی ساکھ کومزید نقصان پہنچے گا۔

اے امریکی عوام !
جیسا کہ مشہور ہے امریکی حکام کو منتخب کرنے کا اختیار عوام کے پاس ہے۔اس لیے امارت اسلامیہ افغانستان کے عوام کا مطالبہ امریکی عوام کے سامنے رکھتی کہ ڈونلڈٹرمپ انتظامیہ کو دباؤ میں لے کر افغانستان سے قبضہ ختم کیا جائے۔ افغانستان میں جنگ کو طول دینے اور یہاں بدعنوا

ن اور بےاختیار نظام کی حکمرانی خطے اور مجموعی طور پر امریکی امن و سلامتی کے لیے خطرناک نتائج کی حامل ہے۔ افغان باشندے اس پر افسوس کر رہے ہیں کہ امریکی عوام کے بااختیار لوگ چند جنگ پسند افراد کی خاطر اپنا مال اور جان کیوں قربان کر رہے ہیں؟ آپ کے ماہرین، امریکی کانگریس میں امن پسند نمائندے اور عوامی تنظیموں کے خودمختار ذمہ دار حضرات اپنی حکومت کے عہدے داروں سے پوچھیں کہ امریکی عوام اپنے تمام رعب کے باوجود اپنے گھر اور بیرون ممالک میں غیرمحفوظ اور نفرت زدہ کیوں ہیں؟ آپ کا ملک اور آپ کی اولادیں کب تک شرپسند حکمرانوں کے مفادات کے لیے قربانی دیتے رہیں گے؟! اس جنگ پسند سیاست کا کوئی فائدہ ہے؟

اے امریکی عوام!
صدر ڈونلڈٹرمپ اور ان کے جنگی مشیر پر اب بھی افغانستان میں طاقت کی زبان بول رہے ہیں۔ حتی کہ جنگ سے متعلق اپنے مفاد میں جھوٹے اور من گھڑت اعدادوشمار نشر کرتے رہتے ہیں۔ وہ دنیا کی آنکھوں میں دُھول جھونکنے کی کوشش کرتے ہیں۔موجودہ دور میں کامیابی کے لیے طاقت کے بجائے سیاست اور افہام و تفہیم کا راستہ اپنانا چاہیے۔ صرف گزشتہ ستمبر میں ٹرمپ کی نئی پالیسی کی رُو سے امریکی فوج نے افغانستان اپنی تمام قوت کو بروئے کار لاتے ہوئے 751 فضائی حملے کیے۔ آپ کو امریکی حکام سے پوچھنا چاہیے کہ وہ اتنی طاقت کے استعمال کے بعد اب تک کتنے فیصد رقبےپر قبضہ قائم کر سکے ہیں؟ اگر آپ کو صدر ٹرمپ اور ان کے جنگجو مشیروں کی بےتجربہ سیاست کا علم نہیں ہے تو صرف ایک بیت المقدس سے متعلق فیصلہ دیکھ لیں، جس نے امریکا کو دنیا بھر کی نظر میں مطعون کیا ہے۔ یہ امریکا کے لیے انتہائی شرم کی بات ہے۔

امارت اسلامیہ نے ابتداء سے امریکا کو بتایا تھا کہ اپنے مسائل کو امارت اسلامیہ کے ساتھ گفتگو کے ذریعے حل کیا جائے۔ طاقت آزمائی کے نتائج بُرے ہوتے ہیں۔ آپ نے افغانستان پر امریکی تجاوز کے بُرے نتائج کو دیکھ لیا ہوگا۔ اگر مزید سو سال تک قوت آزمائی کا تجربہ جاری رہا تو بھی نتیجہ یہی رہے گا۔ ہمارے خیال میں اب بھی وقت ہے، امریکی عوام کو ادراک کرنا چاہیےکہ امارت اسلامیہ اپنے مسلم عوام کی نمائندگی کے حوالے سے ہر متنازع پہلو کو سیاست اور گفتگو کے ذریعے حل کرنا چاہتی ہے۔ غیرمعقول طاقت کا استعمار مسئلے کو مزید پیچیدہ کرتا ہے۔ امارت اسلامیہ علاقے میں وہ قوت ہے، جسے طاقت کے ذریعے کمزور نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی پختہ جڑیں ہیں۔ البتہ بات چیت کے مواقع موجود ہیں۔ امارت اسلامیہ کی طرف سے گفتگو کا راستہ اختیار کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم کمزور ہیں یا ہمارا عزم کمزور پڑ چکا ہے۔ ہمارا مؤقف یہ ہے کہ جنگ سے قبل عقل و منطق کو بروئے کار لانا چاہیے۔ جو کچھ بات چیت کے ذریعے حاصل سکتا ہے، اس کے لیے طاقت کا استعمال مناسب نہیں ہے۔ امارت اسلامیہ نے اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے امریکی عوام کے سامنے حقائق کو کھول کر رکھ دیا ہے۔

واضح رہے امارت اسلامیہ افغانستان کی خودمختاری کے لیے جائز جدوجہد کر رہی ہے۔ ظلم و جبر سے پاک افغانستان ہمارا حق ہے۔افغانستان کی آزادی اور اسلامی نظام کیا قیام کسی قانون میں دہشت گردی تصور نہیں کیا جا سکتا۔ قابل ذکر ہے کہ ہم دیگر ممالک میں تخریبی کارروائیوں کا ایجنڈا نہیں رکھتے۔ ہم نے گزشتہ ستره سالوں کے دوران عملی طور پر ثابت کیا ہے کہ دیگر ممالک میں ہم نے کسی قسم کی مداخلت نہیں کی ہے۔ اسی طرح کسی کو بھی اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ افغان سرزمین کو دیگر ممالک کے خلاف استعمال کرے۔ جنگ ہمارا انتخاب نہیں ہے، بلکہ وہ ہم پر مسلط کی گئی ہے۔ ہماری ترجیح یہ ہے کہ افغان مسئلے کو پُرامن طریقے سے حل کیا جائے۔امریکا کو چاہیے کہ جارحیت ختم کرے اور افغان عوام کواپنے عقیدے کے مطابق حکومت سازی کرنے دے۔ ہم اپنی آزادی اور خودمختاری کے بعد پڑوسیوں سمیت دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ مثبت اور تعمیری تعلقات چاہتے ہیں۔ افغانستان کی تعمیرنو اور ترقی میں اُن کی امداد کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ ہم خطے اور دنیا کے امن و امان کے لیے بہتر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ہم اپنے عوام کے لیے اعلی، معیاری تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ ہم اپنے مردوں، خواتین اور بچوں کو انسانی اور شرعی حقوق دے سکتے ہیں۔ہماری عمل داری میں افغان نوجوان منشیات اور اخلاقی فساد سے بچ جائیں گے۔ ہمارا دستور یہ ہے کہ ہر کسی کو اپنے ملک میں روزگار کے ایسے مواقع میسر ہوں کہ اسے اپنا وطن چھوڑ کر دیگر ممالک کی جانب نہ دیکھنا پڑے۔

اے امریکی عوام!
افغانستان میں جنگ کو طول دینے پر اصرار اور یہاں امریکی فوج کی موجودگی امریکا سمیت کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔ یہ عمل دنیا کے امن کو خطرے سے دوچار کرتا ہے۔ یہ واضح حقیقت ہے کہ صرف امریکی مغرور حکمرانوں نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔ اگر آپ افغانوں اور مجموعی طور پر عالمی برادری سے پُرامن افہام وتفہیم کے خواہاں ہیں تو اپنے صدر، کانگریس اور پینٹاگون کے جنگجو حکمرانوں کو یہ حقیقت سمجھانی چاہیے۔ انہیں فغانستان سےمتعلق معروضی سیاست اپنانے پر مجبور کیا جائے۔ یہ بجائے خود آپ، افغانوں اور دنیا کی سلامتی کے لیے سب سے بہترین اقدام ہے۔ وما علینا الا البلاغ
امارت اسلامیہ افغانستان
۲۸/۵/۱۴۳۹هـ ق
۲۵/۱۱/۱۳۹۶هـ ش ــ 2018/2/14م


WhatsApp




متعلقہ خبریں
آپریشن دوارکا: پاک بحریہ کی ایک آبدوز نے پوری انڈین ... مزید پڑھیں
بھارت میں بیوی کرائے پر دستیاب ... مزید پڑھیں
یوم فضائیہ؛ پاکستانی شاہینوں کا دن ... مزید پڑھیں
انڈین سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستی کو قانونی قرار ... مزید پڑھیں
انڈیا کی نصف آبادی کو پانی کے بحران کا سامنا ... مزید پڑھیں
فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس کا چھ روزہ اجلاس پیرس میں ... مزید پڑھیں
پاکستان مخالف پراپیگنڈہ آپریشنز کابل سے چلائے جانے کا انکشاف ... مزید پڑھیں
آرمی چیف کا دورہ ماسکو , پاکستان ، روس کا ... مزید پڑھیں
مجھے را نے کہا تھا کہ نواز شریف کو اذیت ... مزید پڑھیں
کشمیری لڑکی کے ریپ کامقدمہ لڑنے والی وکیل دپیکا سنگھ ... مزید پڑھیں
پاکستانی بحریہ نے آسٹریلوی خاندان کو بال بال بچالیا، کس ... مزید پڑھیں
دنیا بھر کی طرح پاکستان میں ’گُڈ فرائیڈے‘ کی تقریبات ... مزید پڑھیں
افغانستان میں امن و مصالحت کی کوششوں کے سلسلے میں ... مزید پڑھیں
طالبان کے مطابق ایران نے افغانستان میں عباسی کی تقریب ... مزید پڑھیں
رام مندر کے خلاف فیصلہ آیا تو انڈیا میں شام ... مزید پڑھیں
انڈیا پر خالصتان کا غیر ملکی بھوت ... مزید پڑھیں
متعلقہ خبریں
استاد: آجر و اجیر کی زنجیروں میں جکڑا مقدس رشتہ
آپریشن دوارکا: پاک بحریہ کی ایک آبدوز نے پوری انڈین نیوی کے چھکے چھڑا دیئے
بھارت میں بیوی کرائے پر دستیاب
یوم فضائیہ؛ پاکستانی شاہینوں کا دن
انڈین سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستی کو قانونی قرار دے دیا
انڈیا کی نصف آبادی کو پانی کے بحران کا سامنا
فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس کا چھ روزہ اجلاس پیرس میں شروع
پاکستان مخالف پراپیگنڈہ آپریشنز کابل سے چلائے جانے کا انکشاف , ہاؤس نمبر 644، سٹریٹ نمبر 11،کابل ، تہلکہ خیز انکشافات
آرمی چیف کا دورہ ماسکو , پاکستان ، روس کا فوجی تعاون بڑھانے پر اتفاق
مجھے را نے کہا تھا کہ نواز شریف کو اذیت پہنچاؤ۔۔بلوچ صحافی کا تہلکہ خیز انکشاف

مقبول خبریں
سعودی عرب سے امدادی پیکیج کے حوالے سے علم نہیں، ترجمان دفترخارجہ
جنوبی و شمالی کوریا کے درمیان’جوہری ہتھیار تلف کرنے کے معاہدے‘ پر دستخط
ایشین چیمئنز ٹرافی میں پاکستان ہاکی ٹیم کی شرکت کے امکانات روشن
پاکستان نے پہلے ٹی ٹوئنٹی میں ویسٹ انڈیز کو 9 وکٹوں سے شکست دے دی
مومنہ مستحسن یوٹیوب پر 100 ملین ویوز حاصل کرنےوالی پہلی پاکستانی گلوکارہ
استعمای عزائم اور دفاع وطن کے تقاضے
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
رولر کوسٹر کی سواری کیجیے، گردے کی پتھری سے چھٹکارا پائیے
امریکہ میں ایسا بل منظور ہو گیا کہ فاحشاؤں نے ٹوئٹر کا استعمال ہی بند کر دیا، اب کون سا سوشل میڈیا استعمال ہوگا ؟
پانی کی پائپ لائن ، جس نے پاکستانی گاؤں میں امن قائم کردیا
پانی کی پائپ لائن ، جس نے پاکستانی گاؤں میں امن قائم کردیا
جرمنی میں ہائیڈروجن سے چلنے والی دنیا کی پہلی ٹرین کا افتتاح
شرح پیدائش پنجاب میں کتنی ہے اور خیبر پختونخوا میں کتنی؟ اعدادوشمار سامنے آگئے
درود پر تنازع‘ جہلم ،مسجد کے منتظم پر توہینِ مذہب کا مقدمہ
استاد: آجر و اجیر کی زنجیروں میں جکڑا مقدس رشتہ
ویڈیو گیلری

آزادی کی تحریکوں کو دبایا تو جا سکتا ہے لیکن ختم نہیں کیا جا سکتا : پاکستانی ہائی کمشنرعبدالباسط

بھارتی اشتعال انگیزی کا ذمہ داری سے جواب دے رہے ہیں ،عاصم باجوہ

پاکستان اورسعودی عرب حقیقی بھائی ہیں،علما اکرام مسلم امت کے اتحاد میں کردار ادا کریں:امام کعبہ

بڈگام میں بھارتی فوج کی فائرنگ، مزید 8 کشمیری شہید، پاکستان کا شدید احتجاج

فرانس میں تیز رفتار گاڑی فوجیوں پر چڑھ دوڑی، 6 زخمی

سپورٹس
ایشین چیمئنز ٹرافی میں پاکستان ہاکی ٹیم کی شرکت کے امکانات روشن
لاہور(ویب ڈیسک) ایشین چیمئنز ٹرافی میں پاکستان ہاکی ٹیم کی عدم مزید پڑھیں ...
ویب ٹی وی
ٹورازم
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔ posted by Abdur مزید پڑھیں ...
انٹرٹینمینٹ
مومنہ مستحسن یوٹیوب پر 100 ملین ویوز حاصل کرنےوالی پہلی پاکستانی گلوکارہ
نامور پاکستانی گلوکارہ مومنہ مستحسن ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ یو ٹیوب پر مزید پڑھیں ...
مذہب
درود پر تنازع‘ جہلم ،مسجد کے منتظم پر توہینِ مذہب کا مقدمہ
جہلم ( ویب ڈیسک) پاکستان کے صوبۂ پنجاب کے ضلع جہلم کی مزید پڑھیں ...
بزنس
حکومت کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ
اسلام آباد: حکومت نے 7 جون تک پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے مزید پڑھیں ...