اردو | العربیہ | English



اردو | العربیہ | English

قطر عرب ممالک کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار

یہ سڑک آپ کو مہنگی پڑ سکتی ہے


WhatsApp
179






اس نے سفید جوڑا پہنا، خوشبو لگائی، بال بنائے، نئے جوتے پہنے اور آخری بار خود کوشیشے میں دیکھااور مسکرایاپھر باہر آگیا۔
اس نے اپنی بڑی بیٹی کو ہدایت کی کہ چھوٹی بہن کا خیال رکھے، اس کی بیٹی نے اسے جلد واپس آنے کی لیے کہا جس پر اس نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اورکہا: ’’فکر نہ کر پُترمیں بس فوراً آیا‘‘۔ اس نے موٹر سائیکل نکالی دروازے تک گیا اور مڑ کر اپنی بڑی بیٹی کو آواز لگائی: ثمینہ کِرن کا خیال رکھنا میں اندھیرا ہونے سے پہلے واپس آجاؤں گا۔
احمد دین آج بہت خوش تھا کیونکہ آج اس کی بہن نے اسے دعوت پر بلایا تھا اور وہ جانتا تھا کہ اس کی بہن باتوں باتوں میں ثمینہ کا رشتہ بھی مانگ لے گی اور یوں اس50سالہ باپ کے کاندھوں سے ایک بیٹی کی ذمہ داری کا بوجھ اتر جائے گا۔
وہ خوش تھا کہ ثمینہ جس کی ماں برسوں پہلے گزر گئی ، اسے اپنی پھپھو کے روپ میں ماں مل جائے گی، وہ خوش تھا کہ ثمینہ کو بھائی کا پیار نہیں ملا تو اب کزن کے روپ میں موجوددیور بھائی بن جائے گا۔
احمد دین گاؤں کی کچی سڑک سے میانوالی روڈ پرآیا، وہ سوچ رہا تھا کہ اسے بیٹی کے جہیز کے لیے کون کون سے ذرائع سے استفادہ حاصل کرنا چاہیے؟ اسے اپنی بیٹی کو کیا کیا دینا ہے؟ وہ اپنی سائیڈ پر موٹر سائیکل چلا رہا تھاکہ سامنے سے آتے ہوئے ایک ٹرک کو ایک بڑے ٹریلرنے اوور ٹیک کیا، یہ اوور ٹیک بہت خطرناک تھا وہ ٹریلر ایک دم احمد دین کے سامنے آگیا، یہ سب اتنا اچانک ہو اکہ احمد دین بروقت ری ایکٹ نہ کر پایا۔ ٹریلر کی اگلی سائیڈ احمد دین کے موٹر سائیکل سے ٹکرائی، وہ سڑک پر گرا اور اگلے ہی لمحے ٹریلر کا پچھلا ٹائر اس کے سر کو کچلتا ہوا آگے نکل گیا۔ چند لمحوں کی اذیت نے احمد دین کے جسم کو آخری بار تڑپایااور پھر وہ ٹھنڈا پڑگیا۔
جس دماغ سے وہ اپنی بیٹی کی شادی کے متعلق سوچ رہا تھا وہ اس کے جسم سے چند فٹ کے فاصلے پر پڑا تھا، نامعلوم وہ سوچیں کہاں چلی گئی ہوں گی۔
لوگ بھاگتے ہوئے آئے لاش کو اٹھایا ایک سائیڈ پر لے کر گئے اور اس پر چادر دے دی آس پاس موجود لوگوں کے چہروں پر افسوس اور رنج کا رنگ غالب تھا لیکن اتنے خوفناک حادثے پر جو وحشت طاری ہونی چاہیے وہ غائب تھی۔
کیوں؟؟؟؟
کیونکہ ایسے حادثات اس سڑک پر وہ بارہا دیکھ چکے تھے۔ ایسی متعدد لاشوں پر کپڑا ڈال چکے تھے۔ پے درپے حادثات نے ان کی وحشت پر معمول کی ایسی تہہ جمادی تھی جونجانے کب تلک قائم رہنے والی تھی۔
وہاں صرف میں تھا جو پسینے سے بھیگ رہا تھا اور جس کی آنکھوں میں خوف اور جسم پر لرزہ طاری تھا۔ میں اس حادثے کے5منٹ بعد وہاں پہنچا تھا نجانے اگر وہ حادثہ میں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتا تو مجھ پر کیا گزرتی۔
مجھے سڑک کی دوسری جانب ایک ہجوم نظر آرہا تھا۔ یہ لاشوں کا ہجوم تھا۔ وہ لاشیں جو گزرتے سالوں ، مہینوں اور دنوں میں اس سڑک سے اٹھائی گئی تھیں۔ اب اس جلوس میں احمد دین بھی جا کھڑا ہو اتھا۔
احمد دین کے ساتھ یہ حادثہ کیوں پیش آیا؟
اگر آپ یہ سوال کسی مقامی شخص سے پوچھیں تو وہ آپ کو بتائے گا کہ غلطی ٹریلر والے ڈرائیورکی ہے، کوئی احمد دین کو غلط کہے گا اور کوئی آپ کو بتائے گا کہ اس سڑک پر چڑیلوں کا بسیرا ہے جو یہ حادثات کرواتی ہیں۔ لیکن اگر آپ حقائق کو تلاش کریں تو آپ کو تین بڑی وجوہات ملیں گی جو ان حادثات کا سبب بنتی چلی آئی ہیں۔
پہلی وجہ یہ سڑک ہے، اگر آپ لاہور سے اسلام آباد کی جانب موٹر وے پر سفر کریں تو کلر کہار کے بعد ٹول پلازہ آتا ہے، اس ٹول پلازے کے دائیں جانب چکوال ہے جبکہ بائیں طرف تلہ گنگ اور میانوالی ہیں اور یہی بائیں جانب والاروڈخطرناک روڈہے۔اس سڑک پر آپ کو HTV گاڑیوں کی بہتات ملے گی لیکن یہ روڈ( ٹو وے )ہے اور اتناچھوٹا کہ دو بسیں آمنے سامنے سے آئیں تو درمیان میں کوئی جگہ نہیں رہتی۔
اس سڑک کو فوری طور پر( ون۔ وے) کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہاں بسیں، ٹرک، بڑے ٹریلر گزرتے ہیں جو آئے روز حادثات کا باعث بنتے ہیں۔
دوسری بڑی وجہHTVٹرانسپورٹ کے ڈرائیور حضرات ہیں۔ یہ اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے مسلسل گاڑی چلاتے ہیں، ان کی آنکھوں میں نیند کا تسلط ہوتا ہے اور مسلسل جاگنے سے یہ چڑچڑے ہوجاتے ہیں جس کے باعث ان کی ڈرائیورنگ میں احتیاط کا پہلو نظر نہیں آتا۔
ان ڈرائیورحضرات میں سے بعض آپ کو نشے کی حالت میں بھی ملیں گے اور ان کے نشے کے لیے باقاعدہ ہو ٹلز موجود ہیں جہاں رُک کر یہ نشہ کرتے ہیں اور پھر روانہ ہو جاتے ہیں۔
تیسری بڑی وجہ موٹر سائیکلوں تک رسائی کی آسانی ہے چند ہزار ایڈوانس دے کر اقساط میں موٹر سائیکل حاصل ہونے کی سہولت سے تلہ گنگ کے دیہاتیوں نے ہر گھر میں موٹر سائیکل کھڑے کر رکھے ہیں۔ ٹرانسپورٹ کی باقاعدہ سہولت نہ ہونے کے باعث موٹر سائیکل چلانے کی باقاعدہ تربیت کے بغیر بچے، بوڑھے اور جوان موٹر سائیکل لے کر اس خطرناک سڑک پر آجاتے ہیں جہاں اوپر بیان کی گئی دونوں وجوہات سے سامنا ہونے پر حادثات کا شکار ہوتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ لائسنس کے بغیر موٹر سائیکل چلانے والوں کا خلاف سخت ایکشن کیا جائے اور اس کے لیے مقامی ٹریفک پولیس کو حرکت میں لانا چاہیے جو آپ کو ہوٹلز میں بیٹھے چائے پیتے ہی نظر آتے ہیں۔
احمد دین کی لاش کو اس کے گھر بھیجا جا چکا تھا۔ میں رفتہ رفتہ اپنے گاؤں کی جانب روانہ ہوگیا۔ میں سوچ رہا تھا کہ اگر یہی حادثہ اورنج ٹرین منصوبے کی وجہ سے پیش آیا ہوتا تو کیا ہوتا؟ میڈیا، اپوزیشن کیسا واویلا مچاتے؟
حکومت احمد دین کی بچیوں کو کتنے لاکھ کا چیک دیتی؟
آہ!!!
لیکن یہ حادثہ تو تلہ گنگ میں پیش آیا تھا اور یہاں کفن دفن کے لیے بس ثمینہ کو ہی ہاتھ پھیلانے تھے۔
میاں برادران سے گزارش ہے کہ اس سڑک کو فوری (ون۔ وے ) کروائیں، بائیک والوں کے لیے سروس روڈ بنوائیں، لائسنس کے اجراء کا نظام شروع کریں اور ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل کروائیں۔ یہ آپ کے لیے ضروری ہے۔اگر آج نہیں تو کل ہوجائے گا۔ کیوں؟
کیونکہ اب تک اس سڑک کی نذر احمد دین جیسے لوگ ہوتے ہیں، کسان، مزدور، فوجی سپاہی ، طالبعلم اس لیے خاموشی چھا جاتی ہے اور پھر یہاں کے لوگوں کی معصومیت ہے کہ وہ الزام ڈرائیور پر ڈال دیتے ہیںیا اس چڑیل پر جو پولیس کے ڈرسے لوگوں کا دل کلیجہ نکالنے کے بجائے سڑک پر حادثات کرواتی ہے تا کہ وہ کسی کی نظروں میں نہ آئے۔
لیکن میاں صاحب! اس سڑک پر مرنے والوں کا ہجوم بڑھتا جارہا ہے۔ اگرکسی روز کوئی سیاستدان یا بڑا کوئی آدمی اس ہجوم میں شامل ہوگیا تو اس ہجوم کو ایک لیڈر مل جائے گا اور پھر یہ لاشیں اور ان لاشوں کے ورثاء اس لیڈر کے پیچھے چلتے ہوئے آگے بڑھیں گے۔ یہاں سے اسلام آباد بہت قریب ہے۔ انہیں وہاں پہنچنے میں وقت نہیں گے گا اور پھر تاریخ میں یہ الفاظ درج کئے جائیں گے :

’’سڑکیں بنانے والی حکومت کو ایک سڑک لے ڈوبی۔‘


WhatsApp



متعلقہ خبریں
73 روپے کی زندگی ... مزید پڑھیں
پاکستان نے نریندر مودی کے اسرائیلی دورے پر تشویش کا ... مزید پڑھیں
احساس خوشی ... مزید پڑھیں
مسلم ملٹری الائنس کی مخالفت کیوں ... مزید پڑھیں
بھارت کا شیطانیت کو شرماتا حیا سوز چہرہ ... مزید پڑھیں
’’ب‘‘ ضر ر ’ ’پ ‘‘ پاکستانی ... مزید پڑھیں
عراقی کردستان :ایک آزاد ریاست کی کوشش ... مزید پڑھیں
جیش العدل اور آخری راؤنڈ ... مزید پڑھیں
مسٹر ورسز ملا ... مزید پڑھیں
ناکام عا شقوں کے نام ... مزید پڑھیں
"دوقومی نظریہ ہی پاکستان کے استحکام اور تحریک آزادی کشمیرکی ... مزید پڑھیں
رپورٹ :مشرق وسطی ... مزید پڑھیں
کشمیر آتش فشاں کے دہانے پر ... مزید پڑھیں
اختر شیرانی کا حب’ رسول (صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وآلہ وَسَلَّم) ... مزید پڑھیں
کربلا والوں کے جانشین ... مزید پڑھیں
نیا سال پرانے لوگ ... مزید پڑھیں
متعلقہ خبریں
73 روپے کی زندگی
پاکستان نے نریندر مودی کے اسرائیلی دورے پر تشویش کا اظہار کیا ہے: رپورٹ
احساس خوشی
مسلم ملٹری الائنس کی مخالفت کیوں
بھارت کا شیطانیت کو شرماتا حیا سوز چہرہ
’’ب‘‘ ضر ر ’ ’پ ‘‘ پاکستانی
عراقی کردستان :ایک آزاد ریاست کی کوشش
جیش العدل اور آخری راؤنڈ
مسٹر ورسز ملا
ناکام عا شقوں کے نام

مقبول خبریں
ویڈیو گیلری

آزادی کی تحریکوں کو دبایا تو جا سکتا ہے لیکن ختم نہیں کیا جا سکتا : پاکستانی ہائی کمشنرعبدالباسط

بھارتی اشتعال انگیزی کا ذمہ داری سے جواب دے رہے ہیں ،عاصم باجوہ

پاکستان اورسعودی عرب حقیقی بھائی ہیں،علما اکرام مسلم امت کے اتحاد میں کردار ادا کریں:امام کعبہ

بڈگام میں بھارتی فوج کی فائرنگ، مزید 8 کشمیری شہید، پاکستان کا شدید احتجاج

کوئٹہ پولیس ٹریننگ سینٹر پر حملہ میں ملوث دہشت گردوں کی شناخت ہوچکی ہے ، وزیراعلیٰ بلوچستان

سپورٹس
پشاور زلمی اور لاہور قلندرز نے جنوبی افریقا کی ٹیمیں خرید لیں
لاہور (ویب ڈیسک) میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان سپر لیگ (پی ایس مزید پڑھیں ...
ویب ٹی وی
ٹورازم
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔ posted by Abdur مزید پڑھیں ...
انٹرٹینمینٹ
ہالی ووڈ اداکارہ سٹیفینی ڈیوس کی قابل اعتراض ویڈیو انٹرنیٹ پر لیک ہو گئی
ممبئی (ویب ڈیسک )ہالی ووڈ کی اداکارہ سٹیفینی ڈیوس کی انتہائی قابل مزید پڑھیں ...
مذہب
مذہب سے منسلک امریکی آمدنی، 15ممالک کی مجموعی آمدنی سے بھی زیادہ
(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا میں مذہب سے منسلک آمدنی گوگل مزید پڑھیں ...
بزنس
دنیا میں سونے کے آفیشل ذخائر 33425ٹن ہوگئے
کراچی /نیویارک(ویب ڈیسک)دنیا میں سونے کے آفیشل ذخائر33425ٹن ہوگئے، ورلڈ گولڈ کونسل مزید پڑھیں ...