اردو | العربیہ | English



اردو | العربیہ | English

امریکا افغانستان سے اپنی فوجیں نکالنے پر رضامند، الجزیرہ کا دعویٰ

نیب کا جن بوتل سے باہر


WhatsApp
319




تحریر : محمد جمیل راہی ایڈووکیٹ

احتساب کے بغیر معاشرے انارکی ،قانون شکنی ،ناانصافی ،ظلم اور انتشار کی آماجگاہ بن جاتے ہیں۔جب کہ جوابدہی کاخوف اسے متوازن رکھنے کے لیے ناگذیر ضرورت ہوتا ہے۔اسلامی ریاست کی کونپلیں احتساب کی مضبوط جڑوں ہی سے پھوٹتی ہیں۔احتساب اداروں کا قیام اب عالمی قوانین کی بھی ضرورت بن چکا ہے۔لیکن ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ان اداروں اور احتساب کی آڑ میں انسانیت سوزی اور اتنقام کی ذاتی وگروہی آگ کو ٹھنڈا کرنا بھی نہ صرف انصاف کا قتل اور المیہ کے مترادف ہے ۔پاکستان میں قائم قومی احتساب بیورو ا س کی مثال ہے جسے عرف عام میں نیب(NAB)کہا جاتا ہے۔
پاکستان میں قائم نیب کا ادارہ نہ صر ف جانبدار انہ و غیر منصفانہ ہے بلکہ مسلمہ عالمی اخلاقی وانسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر استوار ہے۔یہ ادارہ اپنی پیدائش کے روز ہی اس وقت متنازعہ بن گیا جب اسے اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف ایک موثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔جب اس کی پہلی اینٹ سیاسی تھی تو اس کا یہ نتیجہ برآمد ہوا کہ ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ کرنے والی قوتوں اور طالع آزماؤں نے بھی اسے خوب انداز میں جیب کی کھڑی اور ہاتھ کی چھڑی بنائے رکھا۔یہی وجہ ہے کہ ملک کی اعلیٰ عدلیہ بھی اس ادارے کی ناقص کارکردگی اور شکایات کی وجہ سے نہ صرف مایوس ہو چکی ہے بلکہ اسے سخت تنقید کا نشانبہ بناتی رہی ہے ۔گزشتہ کئی برسوں سے برسر اقتدار جماعتیں اس ادارے کو ختم کر کے ایک شفاف،غیر جانبدار اور منصفانہ بنیادوں پر احتساب کمیشن کے قیام کی کوششیں ہوتی رہی ہیں جو ہتوڑء نتیجہ چلی آرہی ہیں لیکن پانامہ کیس نے مردہ گھوڑے میں جان ڈال دی ہے اور یہی ادارہ احتساب کا نظام موثر بنانے کے لیے اسے فعال دکھ رہا ہے۔

؂ میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے تھے جس کے سبب
اسی اوتار کے لونڈے سے دوالیتے ہیں

یہی سپریم کورٹ اب تک سینکڑوں ہدایات ماتحت عدالتوں کو جاری فرما چکی ہے جس کی کوئی اہمیت نہیں رہ گئی۔ڈائیریکشن کیسز روزانہ کی بنیاد پر ست کہ فیصلہ کرنے کے احکامات کے باوجود سالہا سال سے مقدمات زیر استوار ہیں۔پہلی با ر گبن یعنی کروڑوں کی کرپشن کرو اور مک مکا کر کے چھوڑ جاؤ کا کالا قانون اب بھی موجود ہے اگر چہ اس کی نوعیت تبدیل کی گئی ہے لیکن انصاف کے تقاضے پرورے کرنا ابھی باقی ہے۔جس گھوڑے کو سپریم کورٹ مردہ قرار دے چکی ہے پانامہ کیس کی ’’کاٹھی‘‘پھر اس پر ڈال دی گئی ہے۔جوادارہ اپنی وقت کھوچکا تھا۔جس پر نالائقی ،سست روی ،جانبداری،اختیارات سے تجاوز کے الزمات تھے۔پھر اسے ہی قابل اعتبار گردانا گیا۔سالہا سال گڑھے مردے اکھاڑکر پرانے مقدمات (REOPEN)کے لیے جارہے ہیں۔پانامہ کیس کو سیاسی بنا کر پارلیمینٹ ہی میں اس کا گلا گھونٹنے کی بہت کوشش ہوئی لیکن اب اس کا ’’کٹا‘‘کھل چکا ہے۔سیاستدانوں نے اپنی نالائقی اور بد نیتی کی بنیا پر سیٹ کیس خود اعلیٰ عدلیہ کے حوالے کیا ہے۔اب یہ آئینی اختیار ہے کہ اس کا دائرہ وسیع کیا جائے اور کرپشن کی جڑیں کاٹنے کا موثر بندوبست ہو اور نظیریں قائم ہوں۔لیکن جو سب سے اہم بات یہ ہے کہ ادارے صرف قومی مفاد کے پیش نظر کام کرتے نظر آئیں اور انصاف ہوتا دکھائی دے۔قانون مساوات اور انصاف کا دامن نہ چھوڑے۔

1999ء کے احتساب ایکٹ کا باوا ہی نہ امر ہے۔اس میں جرم بے گناہی کا ثبوت الزامی یعنی مدعا علیہ کی ذمہ داری ہے ۔جو کہ عالمی اخلاقی قانون ورایات کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔1973ء کے آئین کے دفعہ 25پر پاکستانی کو یکساں اور مساوی حقوق کی ضمانت فراہم کرتی ہے اور کسی بھی شہری کے ساتھ امتیاز سلوک کرنے سے روکتی ہے۔کسی قدر ستم ظریفی ہے کہ قتل ،ڈکیتی ،منشیات فروشی اور دہشت گردی میں ملوث ملزمان کو تو ضمانت کا حق دیا گیا ہے جب کہ نیب کے ملزمان کو آرٹیکل 199کا سہا رالے کر ہائی کورٹ میں رٹ کا سہارا لینا پڑتا ہے۔اکثریت کی تو ضمانت منسوخ جب کہ قلیل تعداد میں منظوری ہوتی ہے۔(2)جرم ثابت ہونے تک نیب کی تحویل میں ریمانڈ کی مدت نوے یوم ہے دنیا میں اس کی مثا ل نہیں ملتی (3)نیب قانون بالکل واضح ہے کہ ریفرنس دائر ہونے کے بعد تیس دن میں فیصلہ ہونا لازمی ہے لیکن اس کی ایک بھی مثال موجود نہیں ۔کئی برس ریفرنس دائر کرنے میں لگا دئیے جاتے ہیں۔(4)تعزیرات پاکستان کی دفعہ 161کے تحت قائم مقدمات مجسٹریٹ کی سطح پر ہوں تو اس کی زیادہ سے زیادہ سزا(ان جرائم میں جو نیب کرتا ہے)تین برس ہے۔اگر سیشن جج کی عدالت ہوتو اس کی سزا سات برس ہے ۔اینٹی کرپشن ،بنکنگ کورٹ اور خصوصی عدالت میں بھی یہی سزا ہے جب کہ نیب میں دفعہ 9کی سزا جو دھوکہ وفراڈ وسیع پیمانے پر ہو اس جرم کی سزا چودہ برس تک رکھی گئی ہے۔اس پر بس نہیں کل واجب الادا رقم کے مساوی جرمانہ ،بصورت عدم ادائیگی الگ سزائیں ہیں جو چھ ماہ تا تین سال تک دی جاتی ہے۔(5)بصورت پہلی بار گیننگ ،مخصوص رقم کی واپسی،سرکاری ملازمت کے لیے نااہلی ،سرکاری عہدہ رکھنے پر پابندی ،10برس تک الیکشن میں حصہ لینے کی پابندی شامل تھی۔(اب اس میں کچھ ترمیم کی گئی ہے)اب رقم بھی نہیں کرنی ہوگی اور سزا بھی بھگتنا ہو گی جو عیب دکھائی دیتاہے۔

ہمارا معاشرہ ابھی انتا وسیع انطرف نہیں نبا کہ کسی اعلیٰ منصب در پزید عنوانی یا بد اخلاقی وکرداری کا محض الزام ہی لگے تو وہ اپنا عہدہ واختیار چھوڑ کر خود کو احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کردے۔یہاں کام میں سب سے ہیں۔سو چوہے اور سو پیا ز کھا کر ابھی شور مچاتے ہیں کہ ہم جمہوری بلوغت پارہے ہیں۔پانامہ کیس کا پہلا بڑا شکار وزیراعظم پاکستان بنایا گیا ہے۔آف شور کمپنیز کیس کو اعلیٰ عدلیہ کی کورٹ میں تو پیش کر دیا گیا ہے لیکن سیاستدان ایک مرتبہ پھر اپنی ہی ناکامیوں اور نا اہلیوں کا پنڈورا بکس کھول بیٹھے ہیں۔نیب اور اس کے قوانین سقم ۔سپریم کورٹ کے فیصلے پر حق اپیل کا ختم ہونا اور بنیادی حق سے محرومی کا سقم۔شفاف ،غیر جانبدار اور منصفانہ ادارے کے قیام میں ناکامی ان کے پول کھول رہی ہے کہ یہ محض مخالفین کا احتساب انتقام کی بنیاد پر لینے کے لیے نہ صرف یہ کہ نیب کو ختم نہ کر پائے بلکہ اپنے اپنے جرائم کی فائلیں غائب کراتے رہے اور مقدمات نمٹاتے رہے۔لیکن بکرے کی ماں کب تک خیر مناتی۔نیب کے چیئر مین کو جس ایکٹ کے تحت لامحدود اختیارات حاصل ہیں اور وہ کسی کو جوابدہ نہیں ہے ۔یہ بھی سیاستدانوں کی کارستانی ہی تو ہے۔ریکارڈپر موجود ہے کہ ایک ڈاکیہ اپنی پوری سزا حوالاتی مدت میں گزار کر گھر جا چکا ہے۔اس کا مقصد زیر استوار ہے۔ایک شخص کو عدالت نے گزشتہ دنوں کیس سے بری کر دیا جب کہ وہ اپنی سزا کاٹ کر گھر گیا اور بعد میں فوت ہو کر اپنی قبر میں ابدی نیند سورہا ہے۔یہ کیسا انصاف ہے جو زندوں کو تو نصیب نہیں البتہ مردوں کو دیا جارہا ہے۔یا پھر گڑھے مردے اکھاڑے جارہے ہیں۔

سیاستدانوں کے حوالے اگر یہ کہا جائے کہ محاورہ سچ ثابت ہورہاہے کہ ’’خود آپ اپنے دام میں صیاد آگیا‘‘ کی عملی تصویر دکھائی دینے لگی ہے۔ہر جانب سے یب پر الزامات اور شکایات کی بوچھاڑ اور ہاہاکار مچی ہوئی ہے۔یہ تو ہونا تھا۔یہ سیاستدان اپنی کاٹی ہوئی ۔۔۔ خود کاٹیں گے۔البتہ یہ بات مد نظر رہنی چاہیے کہ (Due prosess of law)سب کا حق ہے اور یہ ادارہ کسی ذاتی یا گروہی مفاد کی بجائے قومی مفاد کی بنیاد پر فعال ہوناچاہیے ۔اب بھی وقت ہے اور پارلیمینٹ آئین سازی کے لیے بااختیار ہے۔اس کے سقم دو ر کیے جائیں ۔اگر محض سیاسی بنیادوں پر مقدمہ بازی یا پراپیگنڈہ کی بجائے ٹھوس شہادتوں اور اختیارات کی حدود کے اندر رہ کر کام کیا جائے تو پھر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے گا۔کلیتاً سیاست اور جانبداری سے پاک ادارہ ہی کرپشن کی جڑیں کاٹ سکتا ہے۔جوبھی ادارہ اپنی کریڈیبلٹی خود خرا ب کرے گا وہ عوامی اعتماد سے محروم ہوجائے گا۔اگر تو نیب قومی سطح پر اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے نہ صرف یہ کہ بڑی اور چھوٹی مچھلی کی تمیز کو بالائے طاق رکھتے ہوئے گرینڈ آپریشن قوم کی معتبر اعلیٰ عدلیہ کی کورٹ میں ہے۔کئی برس سے احتساب کمیشن کے قیام کا معاملہ کھٹائی میں پڑا ہے۔اس کا سودہ سیاسی چالوں کی بھینٹ چڑھا ہوا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ غیر جانبدار ادارہ بنایا جائے جو سیاسی ہتھیار کے طورپر استعمال نہ ہو پائے ۔یہ ذمہ داری نیب کی ہے۔بااختیار طبقہ جوابدہ جب کہ خاموش لوگ گونگے شیطان کی صف میں کھڑے دکھائی دیں گے۔قوم کی آنکھ اور عوام کے وکیل میڈیا ذمہ دار اور اس وطن کی جغرافیائی ونظریاتی حفاظت کے دعویدار ایک ہی صف میں دکھائی دے رہے ہیں۔گھڑیال منادی دے رہا ہے۔یہ گھڑی گنوانے کی نہیں ہے۔انصاف ملتا ہے تو معاشرے نمو پاتے ہیں ۔وگرنہ مایوسی اور ناامیدی ڈیرے ڈال لیتی ہے۔جو انقلاب کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔باوقار قوموں کی صف بندی میں شمولیت کے لیے قانون کی حکمرانی کی بحالی ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔وہی معاشرے فلاح پاتے ہیں جہاں انقلاب کا بول بالا ہو۔


WhatsApp




متعلقہ خبریں
یہ رہی تمہاری تلاش ... مزید پڑھیں
اقوام متحدہ کے اجلاس کی روداد ... مزید پڑھیں
القدس اپنے محافظ کی تلاش میں ... مزید پڑھیں
یوم یکجہتی کشمیر کا تاریخی تعاقب و اہمیت ... مزید پڑھیں
بنیادی حقوق کا’’سراب‘‘ ... مزید پڑھیں
ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے ... مزید پڑھیں
سانپ اور سیڑھی کا کھیل ... مزید پڑھیں
استادِ محترم کو میرا سلام کہنا ... مزید پڑھیں
استعمای عزائم اور دفاع وطن کے تقاضے ... مزید پڑھیں
بچوں کا اغوا،ا عضاء فروشی اور افواہوں کا بازار ... مزید پڑھیں
کشمیر ۔۔۔۔۔آزادی کی صبح جلد طلوع ہونے والی ہے ... مزید پڑھیں
پھر نئے طالبان ... مزید پڑھیں
"سیاسی اصطبل کے گدھے " ... مزید پڑھیں
حقوقِ نسواں کا غلط استعمال ... مزید پڑھیں
’’34 ملکوں کا مذاق‘‘ ... مزید پڑھیں
اسلام میں عورت کا مقام ... مزید پڑھیں
متعلقہ خبریں
فاطمہ بنت پاکستان کا مقدمہ
یہ رہی تمہاری تلاش
اقوام متحدہ کے اجلاس کی روداد
القدس اپنے محافظ کی تلاش میں
یوم یکجہتی کشمیر کا تاریخی تعاقب و اہمیت
بنیادی حقوق کا’’سراب‘‘
ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے
سانپ اور سیڑھی کا کھیل
استادِ محترم کو میرا سلام کہنا
استعمای عزائم اور دفاع وطن کے تقاضے

مقبول خبریں
ویڈیو گیلری

آزادی کی تحریکوں کو دبایا تو جا سکتا ہے لیکن ختم نہیں کیا جا سکتا : پاکستانی ہائی کمشنرعبدالباسط

بھارتی اشتعال انگیزی کا ذمہ داری سے جواب دے رہے ہیں ،عاصم باجوہ

پاکستان اورسعودی عرب حقیقی بھائی ہیں،علما اکرام مسلم امت کے اتحاد میں کردار ادا کریں:امام کعبہ

بڈگام میں بھارتی فوج کی فائرنگ، مزید 8 کشمیری شہید، پاکستان کا شدید احتجاج

فرانس میں تیز رفتار گاڑی فوجیوں پر چڑھ دوڑی، 6 زخمی

سپورٹس
یوتھ اولمپکس؛ پاکستانی ریسلر عنایت اللہ نے امریکی حریف کو شکست دے دی
بیونس آئرس(ویب ڈیسک) پاکستانی ریسلر عنایت اللہ نے یوتھ اولمپکس مزید پڑھیں ...
ویب ٹی وی
ٹورازم
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔ posted by Abdur مزید پڑھیں ...
انٹرٹینمینٹ
کنگنا کا ایک بارپھرکرن جوہرپروار
ممبئی(ویب ڈیسک) بالی ووڈ میں تیزی سے مقبول ہوتی ’می مزید پڑھیں ...
مذہب
درود پر تنازع‘ جہلم ،مسجد کے منتظم پر توہینِ مذہب کا مقدمہ
جہلم ( ویب ڈیسک) پاکستان کے صوبۂ پنجاب کے ضلع جہلم کی مزید پڑھیں ...
بزنس
زرمبادلہ کے ذخائر 15 ارب ڈالر کی سطح سے نیچے آگئے
کراچی(ویب ڈیسک) رواں ہفتے زر مبادلہ کے ذخائر میں 10 کروڑ مزید پڑھیں ...