اردو | العربیہ | English



اردو | العربیہ | English

ٹوائلٹ میں بچہ جنم دینے والی ماں 18 ماہ قید کے بعد رہا

اقبال کا پا کستان ( لوہے کا چنا )


WhatsApp
459




تحریر : جمیل راہی

14اگست 1947ء کو معرض وجود میں آنے والی مملکت خداد پاکستان کا خواب 87برس قبل 1930ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ جلسے منعقد اِلہ آباد نباض امت شاعر مشر ق علامہ اقبال ؒ نے پیش کیا تھا۔جس کی عملی تصویر آج 70برس گزرجانے کے باوجود دکھائی نہیں دیتی۔ستم ظریفی دیکھئے کہ اس کی سرحدوں سے باہر پنجہ ہنود میں جکڑی کشمیری قوم باجود غلامی کے اس خواب کی تکمیل کے لیے سر توڑ کوششوں میں لگی دکھائی دیتی ہے۔وادی کی گلی گلی کوچہ کوچہ اس نعرے سے گونج رہا ہے کہ ’’پاکستان سے رشتہ کیا؟لا الہ الا اللہ۔گویا پاکستان میں شامل ہو کر وہ اس تاریخی حقیقت پر مہر ثبت کرنا چاہتے ہیں کہ جو خواب شاعر مشرق نے برصغیر میں ایک آزاد اسلامی فلاحی ریاست کا دیکھا تھا اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا جب تک تقسیم پاکستان کے فارمولے پر عالمی قراردادوں کی روشنی میں عملدرآمد ہو کر وادی کشمیر پاکستان کا حصہ نہیں بن جاتی۔گویا یہ ایک ابدی تاریخی حقیقت ہے کہ جس وادی کو قائداعظم محمد علی جناح ؒ نے پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا بعینہ علامہ اقبال ؒ بھی اسے ’’جنت نظیر‘‘ہی کہتے تھے۔

اقبال نے جس سرزمین پاک کا خواب دیکھا تھا وہ حقیقی اسلامی فلاحی ریاست تھی جس کی عملی تعبیر قائداعظم محمد علی جناحؒ کی عظیم قیادت نے پائی۔آج ایک مرتبہ پھر عاقبت اندیش سکالرز،کالم نویسوں،مغربی اداروں کی امداد سے چلنے والے این جی اوزاور اساتذہ کی وہ جماعت جو یا تو مغرب سے پڑھ کر آئی ہے یا پھر انہیں مادیت اور نظریات سے بالکل بیگانگی ہے ۔ان کا ماٹو روشن خیالی (نام نہاد)خوشحالی ،ترقی،اور عالمی برادری میں شمولیت دیتا ہے۔یہی وہ طبقہ ہے جس نے نئی نسل کے نوجوانوں کو نظریہ پاکستان جو درحقیقت دوقومی نظریہ ہے سے شعوری طور پر بیگانہ بنانے کی تحریک برپا کیے ہوئے ہیں۔تحریک آزادی پاکستان جن بنیادوں پر استوار ہوئی تھی اس کی جڑیں کھوکھلی کرنا چاہتے ہیں۔پاکستان جو حقیقت میں مدینۃ النبی ﷺ کے بعد روئے زمین پر نظریاتی طور پر وجود میں آنے والی دوسری اسلامی ریاست ہے جس کی جڑیں مکہ سے اٹھنے والی اس تحریک سے پیوست ہیں جس نے دیگر تمام باطل نظاموں کو روند کر رکھ دیا تھا اور انسانیت کو حقیقی آزادی ،مساوات،انصاف اور حقوق سے روشناس کرایا تھا۔اسی بنیاد پر پاکستان کو مملکت خدادا کہا جاتا ہے۔اسی کا خواب علامہ اقبال ؒ نے دیکھا تھا۔؂
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
غلامی کی زنجیروں سے جکڑی قوم کو خواب غفلت سے جگانے ،انہیں آزادی کی شمع جلانے ،تاریخی ،تہذیبی ،ثقافتی اور نظریاتی بنیادوں پر استوار کرنے اور اپنی ملت کی نشاۃ ثانیہ کا راستہ دکھانے کا سہرا اقبا ل ہی کے سر ہے۔ان اللہ لا یغیر مابقوم الا یغیر مابا انفسھم۔(الرعد:13)
قرآنی نص کی شاندار تشریح مولانا ظفر علی خان کی شاعری میں جھلکتی دکھائی دیتی ہے۔
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال خود اپنی حالت کے بدلنے کا

جب تک باریک بینی اور غیر جانبداری سے انڈین مسلم لیگ کے دیگر اکابرین ،قائداعظم ؒ اور علامہ اقبال ؒ کے نظریات کا مطالعہ نہ کیا جائے اس وقت تک تحریک پاکستان ،آزادی کی قیمت ،دوقومی نظریہ اور جداگانہ قومیت کا تصور واضح نہیں ہوپاتا۔قائداعظم ابتدائی ایام میں ہندو مسلم اتحاد کے زبردست حامی تھے لیکن ہندو اکثریت کی تنگ نظری سے دلبرداشتہ ہوکر نہ صرف انڈین کا نگریس سے علیحدہ ہوگئے بلکہ ہندوستان ہی چھوڑدیا اور انگلستان میں وکالت شروع کردی۔یہ عظیم کارنامہ مسلمانان ہندپر احسان ہی تو تھا کہ ان کے دلائل سے متاثر ہو کر مسٹر محمد علی جناح جنہیں قوم نے قائداعظم کا رتبہ دیا ۔واپس ہندوستان تشریف لائے اور مسلم لیگ کی قیادت سنبھالی ۔1937ء میں علامہ صاحب کے جو خطوط قائد کے نام لکھے گئے وہ تاریخ کا حصہ ہیں اور انہی کی روشنی میں تحریک پاکستان آگے بڑھی ہے۔قائد کا وژن اسلامی بنیادوں پر مزید استوار ہوا ہے اور ایک حقیقی اسلامی ریاست کے خدوخال طے ہوئے ہیں۔انہی بنیادوں پر آپ کو بانی تصور پاکستان یا خالق تصور پاکستان کہا جاتا ہے۔
علامہ اپنے مکتوب بنام قائداعظم میں ارشاد فرمارہے ہیں کہ ’’اگر ہندوستان کے مسلمانوں کا مقصد سیاسی جدوجہد حوض آزادی اور اقتصادی بہبود اور حفاظت اسلام ہے تو اس مقصد کا عنصر وہ نہیں جیسا کہ آج کل کے قوم پرستوں سے معلوم ہے تو پھر مسلمان اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔‘‘

علامہ صاحب نے ہمیشہ اس خطے میں بسنے والی قوم کے لیے مسلمان ریاست کو ایک فلاح اسلامی ریاست کے طور پر دیکھا ہے اور یہاں آباد قوم کو ایک نظریاتی قوم ۔28مئی 1937ء کو قائداعظم کے نام اپنے ایک خط میں آپ نے مزید لکھا کہ ’’سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کی نمبریت کے مسئلے کا حل کیا ہے؟مسلم لیگ کا مستقبل اسی پر منحصر ہے ۔خوش قسمتی یہ ہے کہ اسلامی شریعت کے کسی موزوں شکل میں نفاذ کے ذریعے اس مسئلے کا حل کیا جاسکتا ہے۔اسلامی شریعت کے گہرے اور دقیق مطالعے اور طویل غورخوض کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ معاشی مسائل کا حل صرف اسلامی آئین کا نفاذ ہے۔اگر اس طرز آئین کو کماحقہ نافذ کردیا جائے تو کم ازکم ہر ایک کا حق معیشت محفوظ رہ سکتا ہے ۔لیکن اس ملک (ہندوستان)میں جب تک ایک آزاد مسلم ریاست یا مسلم ریاستیں معرض وجود میں نہیں آئیں گی۔اسلامی شریعت کا نفاذ ممکن نہیں ہوسکتا۔سال ہا سال سے میرا یہ عقیدہ رہا ہے اور میں اب بھی اس پر قائم ہوں کہ مسلمانوں کی روٹی اور ہندوستان کے امن وامان کا بہترین حل یہ سمجھتا ہوں کہ مسلمان ایک الگ ریاست قائم کر لیں اور اس میں اسلامی شریعت کو نافذ کر دیاجائے‘‘

مندرجہ بالا دوخطوط کی روشنی میں دیکھاجائے تو اقبال کا پاکستان ایک اسلامی فلاحی ریاست تھا۔جس میں مسلمان اپنی معیشت ،روایات،تاریخ اور تہذیب کا احیاء کر سکتے تھے۔آج کے دانشور جس پراپیگنڈے کی جگالی کر تے دکھائی دیتے ہیں کہ اقبال ؒ ہندوستان کے مسلمانوں کو محض سیاسی اور سماجی آزادی دلوانا چاہتے تھے اس بات کی واضح طور پر نفی ہوتی ہے ۔اور یہ جوکہا جاتا ہے کہ ’’پاکستان کا مطلب کیا ۔لا الہ الا اللہ‘‘کا نعرہ قائداعظم نے نہیں لگایاتھا۔اور ایک خاص ٹولہ قیام پاکستان کی مادی تشریح پر سر جوڑ کر محنت کر رہا ہے ۔یہ حقیقت میں اس تحریک کی نظریاتی اور روحانی تعبیرسے انحراف اور روگردانی ہے وہ جو قائدین آزادی نے چلائی تھی۔جب کہ علامہ اقبال کی تعبیر 1930ء کے خطبہ الہ آباد جاوید نامہ،ارمغان حجاز تک ہم دیکھتے ہیں کہ جابجا اسلامی ریاست کے خدوخال بیان کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔اس کے ساتھ ساتھ وہ اسلامی قیادت کی تیاری کے لیے اسلامی تعلیمات سے روشنی ڈالتے دکھائی دیتے ہیں۔
اپنی ملت پہ قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی

آپ مسلمان قوم کو ایک نظریاتی قوم کے طور پر دیکھتے ہیں اور اس کا موازنہ کسی دیگر قوم سے کرنے کے لیے تیار نہ ہیں۔آپ کے ارشادات کی روشنی میں دیکھا جائے تو آپ نے متعدد مقامات پر اپنے نظریات کا کھل کر اظہار فرمایا ہے۔ایک موقع پر آپ نے فرمایا ’’فی الحقیقت جس چیز کو اہمیت حاصل ہے وہ آدمی کا عقیدہ ،اس کی تہذیب اور تاریخی روایات ہیں۔‘‘مزید فرماتے ہیں کہ ’’یہ چیزیں ہی اس قابل ہیں کہ جن کے ساتھ آدمی کا جینا اور مرنا ہے نہ کہ وہ زمین کا ٹکڑا جس کے ساتھ عارضی تعلق ہے۔‘‘

1945ء دوسری جنگ عظیم کے بعد ڈیڑھ سو سے زائد ممالک کو آزادی نصیب ہوئی ہے اور یہ تمام تحریکات آزادی ہی کا نتیجہ ہے۔موجودہ دور میں صرف دو تحریکیں ایسی برپا ہیں جو محض اس لیے زندہ ہیں کہ ان کی جڑیں اندر سے مضبوط ہیں۔اور یہ نظریاتی تحاریک ہیں۔ایک فلسطین کی آزادی کی تحریک جبکہ دوسری کشمیرکی آزادی کی تحریک۔علامہ اقبال نے اپنی شاعری میں دونوں خطوں کی تاریخی،ثقافتی اور نظریاتی شناخت کا تذکرہ کیا ہے۔70سال گزرنے کے باوجود یہ دونوں تحریکیں کامیابی سے دور ہیں جس کی وجہ سامراجی ،استبدادی قوتوں کا گٹھ جوڑ ہے۔جو خواب علامہ نے خطبہ الہ آباد میں پیش کیا تھا ۔کشمیر اس کا حصہ ہے۔اور تکمیل پاکستان کا خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا جب تک کشمیر پاکستان کا حصہ نہیں بن جاتا۔کسی مفکر نے کیا خوب کہا تھا کہ’’ جو قوم اپنی تاریخ بھلا دیتی ہے اس کا جغرافیہ بھی بدل جاتا ہے ۔‘‘اقبال کے نظریات سے روگردانی کی سزا ہم نے بہت کڑی پائی ہے۔آج افغانی،عراقی اور افریقی ممالک بھی کسی حد تک اپنے آباء کا طریق چھوڑنے اور تاریخی ونظریاتی رشتوں کی کمزوری کی سزا پارہے ہیں۔پاک وہند ثقافتی تحائفوں کی تبدیلیاں اور بلا شرط تجارت کی خواہش پالنے والے چاہتے ہیں کہ قومی سوچ کی تشکیل نو کی جائے۔علامہ نے جس قسم کی قیادت کی دستیابی کی جانب توجہ دلائی تھی اس سے روگردانی کی سزا قوم کو مسلسل مل رہی ہے۔لا الہ الا اللہ کی بنیا پر قائم وطن کرپشن کی وباء سے تڑپ رہا ہے۔دوقومی نظریہ بیگانگی کا شکار ہے۔

سونے کی چڑیا ،ناقابل شکست وطن،جدید ایٹمی قوت،محنت کش عوام اور قدرتی وسائل سے مالا مال پاکستان ہی علامہ کا خواب تھا۔
ضرورت محض اس امر کی ہے کہ اسے شریعت کا پیراہن پہنا دیاجائے۔اسلام کی قلعہ کہلانے والی یہ ریاست نہ صرف مظلوم مسلمانوں کی آخری پناہ گاہ ہے بلکہ دیگر مظلوم انسانیت کی نجات دہندہ بن سکتی ہے۔یواین او کی طرز پر اسلامی مشترکہ دولت اسلامی کے قیام کا نظریہ علامہ نے بہت پہلے پیش کر دیا تھا۔سورج کی پہلی کرن کی طرح تحلیل ہوجانے کی باتیں کرنے والے اور ٹکڑوں میں بانٹنے کی خواہش پالنے والے دشمن منہ کی کھائیں گے۔ضرورت محض نظریاتی وتاریخی ادراک کی ہے۔

پاکستان’’تعبیر مصور پاکستان ‘‘لوہے کا چنا بن چکا ہے اور حقیقی اسلامی فلاحی ریاست بننے کے دہانے پر کھڑاہے۔ماہ نومبر احیاء نظریات بھی ہے اور علامہ کا قرض اداکرنے کاوقت بھی۔۔
صورت شمشیر ہے دست قضاء میں وہ قوم
کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب


WhatsApp




متعلقہ خبریں
ارض حرمین پر منڈلاتی گھٹائیں ... مزید پڑھیں
سانپ اور سیڑھی کا کھیل ... مزید پڑھیں
اسرائیلی تاریخ ... مزید پڑھیں
آسیہ" نامی عیسائی عورت اور ہمارا قانون ... مزید پڑھیں
ارضِ حرمین پر منڈلاتی گھٹائیں ... مزید پڑھیں
حکمرانوں کے تابناک اور روشن کردار ... مزید پڑھیں
فاطمہ بنت پاکستان کا مقدمہ ... مزید پڑھیں
یہ رہی تمہاری تلاش ... مزید پڑھیں
اقوام متحدہ کے اجلاس کی روداد ... مزید پڑھیں
القدس اپنے محافظ کی تلاش میں ... مزید پڑھیں
یوم یکجہتی کشمیر کا تاریخی تعاقب و اہمیت ... مزید پڑھیں
بنیادی حقوق کا’’سراب‘‘ ... مزید پڑھیں
ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے ... مزید پڑھیں
سانپ اور سیڑھی کا کھیل ... مزید پڑھیں
استادِ محترم کو میرا سلام کہنا ... مزید پڑھیں
استعمای عزائم اور دفاع وطن کے تقاضے ... مزید پڑھیں
متعلقہ خبریں
اقلیتوں کا عالمی دن۔۔۔تجزیہ
ارض حرمین پر منڈلاتی گھٹائیں
سانپ اور سیڑھی کا کھیل
اسرائیلی تاریخ
آسیہ" نامی عیسائی عورت اور ہمارا قانون
ارضِ حرمین پر منڈلاتی گھٹائیں
حکمرانوں کے تابناک اور روشن کردار
فاطمہ بنت پاکستان کا مقدمہ
یہ رہی تمہاری تلاش
اقوام متحدہ کے اجلاس کی روداد

مقبول خبریں
ویڈیو گیلری

آزادی کی تحریکوں کو دبایا تو جا سکتا ہے لیکن ختم نہیں کیا جا سکتا : پاکستانی ہائی کمشنرعبدالباسط

بھارتی اشتعال انگیزی کا ذمہ داری سے جواب دے رہے ہیں ،عاصم باجوہ

پاکستان اورسعودی عرب حقیقی بھائی ہیں،علما اکرام مسلم امت کے اتحاد میں کردار ادا کریں:امام کعبہ

بڈگام میں بھارتی فوج کی فائرنگ، مزید 8 کشمیری شہید، پاکستان کا شدید احتجاج

فرانس میں فائرنگ کرکے 3 افراد کوقتل کرنے والے حملہ آورکی ہلاکت کی تصدیق

سپورٹس
یاسر شاہ نے ٹیسٹ کرکٹ کا 82 سالہ ورلڈ ریکارڈ توڑدیا
ابوظہبی(ویب ڈیسک) لیگ اسپنر یاسر شاہ نے نیوزی لینڈ کے خلاف مزید پڑھیں ...
ویب ٹی وی
ٹورازم
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔ posted by Abdur مزید پڑھیں ...
انٹرٹینمینٹ
بھارتی کے بجائے پاکستانی ہوتا توبہترتھا، سونونگم
ممبئی(ویب ڈیسک) بالی ووڈ کے مایہ ناز گلوکار سونو نگم کا مزید پڑھیں ...
مذہب
بیویاں شوہروں کو طلاق دے سکیں گی والا نکاح نامہ زیرغور نہیں، اسلامی نظریاتی کونسل
اسلام آباد(ویب ڈیسک) اسلامی نظریاتی کونسل کا کہنا ہے کہ مزید پڑھیں ...
بزنس
ملک میں سونے کی قیمت بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
کراچی(ویب ڈیسک) صرافہ مارکیٹ میں سونے کی فی تولہ قیمت 1 مزید پڑھیں ...