اردو | العربیہ | English



اردو | العربیہ | English

ٹوائلٹ میں بچہ جنم دینے والی ماں 18 ماہ قید کے بعد رہا

سی پیک کے بارے میں بدگمانیوں کا نیا سلسلہ


WhatsApp
357





کالم نگار | نصرت جاوید

بارہا اس کالم میں مختلف حوالوں سے میں نے یہ حقیقت اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے کہ گوادر میں جدید طرزِ رہائش والے وسیع وعریض رہائشی منصوبے آنے والے کئی برسوں تک ایک خواب ہی رہیں گے۔ دل موہ لینے والے اشتہارات اور انٹرنیٹ پر بنائی Citesکے ذریعے آپ کو اس شہر میں ”ساحل سمندر کے کنارے طلوع وغروب آفتاب کے دلکش مناظر“سے مالا مال رہائشی منصوبوں میں زمین کی خریداری پر اُکسانے والوں سے بچنا لہذا بہت ضروری ہے۔ شہروں کو رہائشی حوالوں سے پھیلانے اور بسانے کے لئے بنیادی ضرورت پانی کی وافر فراہمی کی ہوتی ہے۔گوادر میں زیر زمین پانی صدیوں سے تقریباًََ نایاب ہے۔ بارش ہوجائے تو اس کا پانی قدرتی طور پر بنے نالوں اور جھیلوں میں جمع ہوجائے تو وہاں پہلے سے موجود کنوﺅں میں بھی توانائی آجاتی ہے۔ اس پانی کو نہایت کفایت شعاری سے استعمال کرتے ہوئے مقامی آبادی اپنا گزارہ چلاتی رہی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ملک کے دیگر حصوں کی طرح گوادر کی آبادی میں بھی لیکن بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ فی کس اعتبار سے لہذا مقامی آبادی کے لئے پانی کی فراہمی بسااوقات مناسب بارشوں کے باوجود اطمینان بخش سطح تک نہیں پہنچ پاتی۔ پانی کی فراہمی کے حوالے سے عمومی بے ثباتی ہی نے تغلق جیسے بادشاہ کو جنوبی ہندوستان میں دولت آباد کو دلی کی بجائے برصغیر کا نیا دارالحکومت بنانے نہیں دیا تھا۔ جلال الدین اکبر جیسے ذہین حکمران کا پسندیدہ شہر آگرہ تھا۔ وہ فتح پور سیکری کودلی کی مانند بسانا چاہتا تھا۔ پانی کی عدم فراہمی کی وجہ سے ناکام ہوا اور بالآخر شا ہ جہاں کو آگرہ کو خیرباد کہنے کے بعد دلی ہی میں ”شاہجان آباد“ بسانا پڑا جہاں لال قلعہ ہے اوردلی کی جامع مسجد بھی۔

تیل اور گیس کی دولت سے مالا مال اسلامی جمہوریہ ایران کا تاریخی شہر اصفہان ہے۔ ایک زمانے میں اسے ”نصف جہان“ کہا جاتا تھا۔ پانی کی فراہمی اس شہر میں لیکن ناممکنات کی حدود میں داخل ہورہی ہے اور کئی برسوں سے لاکھوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود ایران ابھی تک اس شہر کو اپنی تاریخی آن وشان کے ساتھ ایک پُررونق شہر کی صورت آباد رہنے کو یقینی نہیں بنا پایا ہے۔تمام تر ٹھوس حوالوں کے باوجود ہمارے ہاں نوسربازوں کا ایک گروہ ہے جو گوادر میں طلوع اور غروب آفتاب کے ”دلکش مناظر“ سے بھرپور رہائشی منصوبوںکی مارکیٹ کرنے کے چکر میں مصروف رہتا ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے دوسرے دورِ حکومت سے جنرل مشرف کی حکومت کے اختتامی ایام تک گوادر میں کئی رہائشی منصوبے کاغذوں اور اشتہاروں میں ”مکمل“ ہوئے۔ لاہور،کراچی اور اسلام آباد کے کئی مکینوں نے ان منصوبوں میں پلاٹوں کی فائلیں خرید کر لاکھوں روپے برباد کئے۔

CPECکے ذکر کے بعد ایک بار پھر گوادر میں رہائشی منصوبوں کے تذکرے شروع ہوگئے ہیں۔بدقسمتی سے حکومتِ پاکستان نے کبھی ان ”منصوبوں“ کے پیچھے موجود نوسربازی کو بے نقاب کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔جعل سازوں کا احتساب تودور کی بات ہے۔چند روز قبل مگر حد ہوگئی۔ ایک معتبر انگریزی اخبار کے صفحہ اوّل پر اس کے لندن میں مقیم ایک محنتی اور عمومی طورپر پیشہ ور مانے نمائندے کی ایک خبر چھپی۔اس کی شہ سرخی دیکھ کر میرا ماتھا اسلام آباد میں بیٹھے ہی ٹھنک گیا۔ مذکورہ خبر میں اطلاع یہ تھی کہ انگلستان میں ”چائنا پاک ہلز“ نامی ایک کمپنیRoad Showsوغیرہ کررہی ہے۔اس کمپنی کا دعویٰ ہے کہ وہ 500ملین ڈالر کی خطیر رقم کی سرمایہ کاری کے ذریعے گوادر میں ایک رہائشی منصوبہ بنارہی ہے جو 2023تک مکمل ہوجائے گا۔ اس منصبوے میں زمین کی خریداری جدید طرز رہائش کی ضمانت اس لئے بھی ہوگی کیونکہ اس برس تک کم از کم 5000چینی ماہرین مجوزہ بستی میں رہائش اختیار کرچکے ہوں گے۔

5000چینیوں کی گوادر میں مستقل رہائش کی بات نے مجھے حقائق کو جانے بغیر ہی فکر مند کردیا۔ 70ءکی دہائی سے میں ”ناراض بلوچوں“ سے مسلسل رابطے میں رہا ہوں۔ ہمارے ان بھائیوں کا مجھ سے ہمیشہ شکوہ یہ رہا کہ ”پنجاب“ ان کے ”ساحل اور وسائل“ کو ”سامراجی“ انداز میں اپنے مفادات کے لئے استعمال کرنا چاہ رہا ہے۔ گوادر کو ترقی کے نام پر ایک نوآبادی بنایا جارہا ہے جہاں پاکستان کے دوسرے شہروں سے لوگ لاکر آباد کئے جائیں گے اور مقامی آبادی بالآخر ”ریڈانڈینز“ کی صورت اپنی ہی زمین میں ”اجنبی“ ہوجائے گی۔

ہمارے ناراض بھائیوں کے شکوے میں اکثر مبالغہ بھی ہوتا ہے۔ انہیں کھلے ذہن کے ساتھ کم از کم سننا مگر ضروری ہے۔ان کے شکوے سے شناسائی کی بدولت مجھے فوراََ فکرلاحق ہوگئی کہ”5000چینیوں“ کی گوادر میں ”مستقل رہائش“ والی شہ سرخی نے بلوچستان میں کئی زخموں کو ہرا کردیا ہوگا۔
وزارتِ منصوبہ بندی کے ڈاکٹر عاصم کا شکریہ۔ انہوں نے بروقت اور واضح الفاظ میں بیان کردیا ہے کہ ”چائنا پاک ہلز“ نام کی کوئی کمپنی حکومتِ پاکستان کے علم میں نہیں ہے۔ گوادر ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (GDA)نے بھی ایسی کسی کمپنی کو رہائشی منصوبے کے لئے کوئی NOCجاری نہیں کیا۔ایسی واضح تردید فقط حکومتِ پاکستان کی وزارتِ منصوبہ بندی کی جانب سے ہی جاری نہیں ہوئی جو CPECکے تحت چلائے تمام منصوبوں کی حتمی نگہبان ونگران ہے۔اسلام آباد میں قائم چینی سفارتخانہ روایتی اور تاریخی اعتبار سے ہمیشہ میڈیا سے دور رہا ہے۔ اس سے متعلقہ افراد نجی محفلوں میں بھی خارجہ امور پر تواتر سے لکھنے والے مجھ ایسے رپورٹروں کے ساتھ بھی ہمارے داخلی امور پر کوئی بھی تبصرہ کرنے سے ہمیشہ پرہیز کرتے رہے ہیں۔

2014کے بعد سے پاکستان اور چین کے مابین بڑھتے ہوئے معاشی تعلقات کو شکوک وشہبات کا نشانہ بنانے کی کوششیں شروع ہوئیں تو اس سفارت خانے سے متعلق LIJIAN ZHAOانٹرنیٹ کے ٹویٹ پلیٹ فارم پر متحرک ہوگئے۔ وہ چینی سفارت خانے کے سفیر محترم کے بعد ڈپٹی چیف آف مشن بھی ہیں۔ڈاکٹر عاصم کی جانب سے جاری ہوئی تردید کے بعد انہوں نے بھی مسلسل ٹویٹس کے ذریعے اس دعویٰ کی تردید کی ہے کہ ”چائنا پاک ہلز“ نامی کوئی کمپنی ہے جسے چین اور پاکستان کی حکومتوں نے گوادر میں ایک رہائشی منصوبہ بنانے کی اجازت دی یا اس کی سرپرستی کی اور یہ بھی کہ 2023تک پانچ ہزار چینی ماہرین کی گوادر میں ”مستقل رہائش“ کے ہرگز کوئی امکانات نہیں ہیں۔

بروقت تردیدیں جاری ہوچکی ہیں۔حکومتِ پاکستان کے لئے اب بھی مگر ضروری ہے کہ وہ ”چائنا پاک ہلز“ نامی کمپنی کے پیچھے کلاکاروں کا سراغ لگائے۔ ایسے کلاکاروں کی دونمبریاں محض نوسربازی کے ایک اور منصوبے تک محدود نہیں۔ حتمی مقصد ان کا CPECکے بارے میں بدگمانیاںپیدا کرنا ہے اور یہ سلسلہ منظم انداز میں شروع ہوچکا ہے۔


WhatsApp




متعلقہ خبریں
ارض حرمین پر منڈلاتی گھٹائیں ... مزید پڑھیں
سانپ اور سیڑھی کا کھیل ... مزید پڑھیں
اسرائیلی تاریخ ... مزید پڑھیں
آسیہ" نامی عیسائی عورت اور ہمارا قانون ... مزید پڑھیں
ارضِ حرمین پر منڈلاتی گھٹائیں ... مزید پڑھیں
حکمرانوں کے تابناک اور روشن کردار ... مزید پڑھیں
فاطمہ بنت پاکستان کا مقدمہ ... مزید پڑھیں
یہ رہی تمہاری تلاش ... مزید پڑھیں
اقوام متحدہ کے اجلاس کی روداد ... مزید پڑھیں
القدس اپنے محافظ کی تلاش میں ... مزید پڑھیں
یوم یکجہتی کشمیر کا تاریخی تعاقب و اہمیت ... مزید پڑھیں
بنیادی حقوق کا’’سراب‘‘ ... مزید پڑھیں
ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے ... مزید پڑھیں
سانپ اور سیڑھی کا کھیل ... مزید پڑھیں
استادِ محترم کو میرا سلام کہنا ... مزید پڑھیں
استعمای عزائم اور دفاع وطن کے تقاضے ... مزید پڑھیں
متعلقہ خبریں
اقلیتوں کا عالمی دن۔۔۔تجزیہ
ارض حرمین پر منڈلاتی گھٹائیں
سانپ اور سیڑھی کا کھیل
اسرائیلی تاریخ
آسیہ" نامی عیسائی عورت اور ہمارا قانون
ارضِ حرمین پر منڈلاتی گھٹائیں
حکمرانوں کے تابناک اور روشن کردار
فاطمہ بنت پاکستان کا مقدمہ
یہ رہی تمہاری تلاش
اقوام متحدہ کے اجلاس کی روداد

مقبول خبریں
ویڈیو گیلری

آزادی کی تحریکوں کو دبایا تو جا سکتا ہے لیکن ختم نہیں کیا جا سکتا : پاکستانی ہائی کمشنرعبدالباسط

بھارتی اشتعال انگیزی کا ذمہ داری سے جواب دے رہے ہیں ،عاصم باجوہ

پاکستان اورسعودی عرب حقیقی بھائی ہیں،علما اکرام مسلم امت کے اتحاد میں کردار ادا کریں:امام کعبہ

بڈگام میں بھارتی فوج کی فائرنگ، مزید 8 کشمیری شہید، پاکستان کا شدید احتجاج

فرانس میں فائرنگ کرکے 3 افراد کوقتل کرنے والے حملہ آورکی ہلاکت کی تصدیق

سپورٹس
یاسر شاہ نے ٹیسٹ کرکٹ کا 82 سالہ ورلڈ ریکارڈ توڑدیا
ابوظہبی(ویب ڈیسک) لیگ اسپنر یاسر شاہ نے نیوزی لینڈ کے خلاف مزید پڑھیں ...
ویب ٹی وی
ٹورازم
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔ posted by Abdur مزید پڑھیں ...
انٹرٹینمینٹ
بھارتی کے بجائے پاکستانی ہوتا توبہترتھا، سونونگم
ممبئی(ویب ڈیسک) بالی ووڈ کے مایہ ناز گلوکار سونو نگم کا مزید پڑھیں ...
مذہب
بیویاں شوہروں کو طلاق دے سکیں گی والا نکاح نامہ زیرغور نہیں، اسلامی نظریاتی کونسل
اسلام آباد(ویب ڈیسک) اسلامی نظریاتی کونسل کا کہنا ہے کہ مزید پڑھیں ...
بزنس
ملک میں سونے کی قیمت بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
کراچی(ویب ڈیسک) صرافہ مارکیٹ میں سونے کی فی تولہ قیمت 1 مزید پڑھیں ...