اردو | العربیہ | English



اردو | العربیہ | English

امریکا میں پاکستانی سفارتکاروں کی نقل و حرکت پر پابندی کی تصدیق

تنگ آمد بجنگ آمد شباب کشمیر کی گن برداری


WhatsApp
320





نصف صدی سے زائد عرصہ جو قوم سنگینوں کے سائے تلے غلامی ومحبوسی کی زندگی بسر کر رہی تھی اس کی نوجوان نسل نے بالاآخر گن اٹھانے کا فیصلہ کر لیا ۔ دنیا اس پر متضاد دعوے کررہی ہے لیکن حالات کا جبر یہی ہے کہ موجودہ صورتِ حال میں کسی بیرونی امداد کا سہارا لیے بغیرشباب سروں پہ کفن باندھ کر آزادی کی جنگ میں کود پڑے ہیں گزشتہ اتوا رکی صبح چار فدائی کاروائی کے لیے قصبہ اُڑی مقبوضہ کشمیر کے آرمی کیمپ میں داخل ہوئے اور اتنی بڑی فدائی کاروائی کرڈالی جس کے نتیجہ میں 20فوجی ہلاک اور100سے زائد شدید زخمی ہوئے۔ اس فدائی مشن نے انڈین فوج اور حکومت کو حواس باختہ کردیا ہے۔ان کو کچھ سجھائی نہیں دے رہا۔
ابھی یہ کاروائی جاری تھی کہ بھارتی حکومت کی جانب سے اس کا الزام پاک فوج کے ادارے آئی ایس آئی پر تھوپ دیا گیاجو عسکری دنیا میں اپنی مہارتوں کا لوہا منواچکی ہے۔ اس حملہ میں چاروں فدائین کی ہلاکت کا دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے۔
بتایا گیا کہ ان سے راکٹ لانچر، کلاشنکوف اور گرینڈ بھی برآمد ہوئے۔ فوج کے سربراہ جنرل دلبیر سنگھ نے اسے دہشت گردی کی کاروائی قرار دیا۔ اس میں بیرونی ہاتھ کے شامل ہونے کا بھی الزام لگایا۔بھارتی وزیر روس کے دورے پر روانہ ہونے والے تھے لیکن ان کا دورہ منسوخ کردیا گیا۔ انہوں نے اپنے طور پر سوشل میڈیا کی مدد سے پیغام چھوڑ ا’’ دنیا پاکستان کو دہشت گرد ریاست قرار دے کر الگ یا تنہا(ISOLATE)کر دے ‘‘وغیرہ۔
اسی طرح کی درفتنی منوھرپار کر وزیر دفاع نے بھی چھوڑی کہ اس کاروائی کے ذمہ دار(پاکستان) کے خلاف سخت ایکشن لیا جانا چاہیے۔ وزیر اعظم ہندو صدر سمیت پوری حکومت عالمی برادری کا رُخ پاکستان کی جانب موڑنے کی مہم کا حصہ بنے رہے۔
عین اس وقت جب یہ کاروائی جاری تھی میڈیا پر متضاد خبروں کا سلسلہ بھی جاری تھا۔ آرمی کا یہ ہیڈ کوارٹر محفوظ ترین بھی قرار دیا جا رہاتھا۔ یہاں تیل کا ڈپو بھی واقع تھا۔اسے کسی اچانک حادثے کا نتیجہ بھی قرار دیا جارہا تھا اور یہ خبریں بھی عالمی میڈیا پرچلتی نظر آئیں کہ پٹھان کوٹ کی طرز پر یہ اندورنی بغاوت بھی ہو سکتی ہے جو باغی فوجیوں نے خود کی ہو۔
انڈین بریگیڈ ہیڈ کوارٹرجس قدر دھماکوں کی آوازوں سے گونج رہا تھا اور آگ کے شعلے آسمان سے باتیں کر رہے تھے عین اسی وقت اس سب کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دیاجا چکا تھا۔دوسری جانب حکومتِ پاکستان کے ذمہ داران اس الزام سے قطعی انکاری تھے اور اسے اندرونی سازش قرار دے رہے تھے اوراس حملہ کو انڈیا کی جعلی کاروائی کہا جارہا تھا، کیونکہ ماضی میں دونوں جانب یہی روّیہ رہا ہے کہ فریقین ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے رہے ہیں۔ البتہ ہندوستان اس سلسلہ میں کئی بار جھوٹے الزامات بے بنیاد سطح پر لگا کر خفت اٹھا چکا ہے۔
راج بھارن سری نگر میں ہونے والی ایک اعلیٰ سطح کی میٹنگ میں وزیر اعلیٰ جموں کشمیر محبوبہ مفتی اور گورنر اور وزرانے بھی کچھ اسی طرز کے روّیے کا اظہار کرتے ہوئے توپوں کا رُخ پاکستان کی جانب موڑ دیا، لیکن اس بار زمینی حقائق قدرے متضاد دکھائی دئیے۔ کہا جارہا ہے کہ یو این او کا عالمی اجلاس منعقد ہونے جارہا تھا۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کی تازہ تحریک جو کاروائی کے روز 72ویں دن میں داخل ہو چکی ہے۔ اُس کاہندوستان پر دباؤ بہت زیادہ تھا۔ وزیر اعظم پاکستان یو این او کے فورم پر ہندوستان کا اصلی آمریت کا پردہ فاش کرنے ہی والے تھے کہ ہندوستانی حکومت نے دنیا کا سامنے کرنے سے بچنے کے لیے وزیر اعظم کی بجائے وزیر خارجہ سشماسوراج کو جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بھیج دیا اور عین اُس موقع پر ایک خود ساختہ دہشت گردی کی کاروائی کا ڈرامہ بھی رچا دیا گیا تاکہ پاکستان کی سفارتی مہم کو ناکام بنایا جاسکے۔
میڈیا کی آنکھ اب بین السطور حالات تک کی خبر گیری بھی رکھتی ہے۔ اب دنیا کو بے وقوف بنانا بہت دشوار ہوچکا ہے۔ پاکستان کی جانب سے ہمیشہ آزادی کشمیر کی تحریک کی حمایت کی جاتی رہی ہے اور عالمی سطح پر اس کا مقدمہ بھی لڑا جارہا ہے لیکن یہ سنگین زیادتی ہو گی اس تحریک سے صرفِ نظر کرنے سے جو برہان مظفر وانی اوراس کے ساتھیوں کی جولائی کی شہادت کے واقعہ کے بعد اٹھی ہے۔ جس نے نہ صرف پوری کشمیری قوم کوایک صف میں کھڑا کیا ہے بلکہ عالمی ضمیر کو بھی جھنجھوڑکر رکھ دیا ہے۔
زندگی کے تمام شعبہ جات سے تعلق رکھنے والوں کی
زبان پر آزادی کا نعرہ گونجنے لگا ہے۔ ان کی حمایت میں ہندوستان بھر سے آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ کشمیری قوم کو مسلسل دھواں ،بارود، زخموں، لاشوں اور کرفیو کا سامنا ہے۔ عیدالاضحی جیسے مذہبی تہوار پربھی کرفیو نہیں اٹھایاگیا۔ عرصہ حیات تنگ ترین کردیا گیا ہے۔ اسرائیل کی تیارکردہ کلسٹربم کی طرز کی پیلٹ گن نے اندھیر مچا رکھا ہے جس کا استعمال انڈین فوج بے دست وپا عوام پر کررہی ہے۔ جس کے نتیجہ میں براہ راست آنکھوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔100سے زائد نوجوان اپنی آنکھوں کی بینائی سے محروم اور 103شہادتیں ہو چکی ہیں چھ ہزار سے زائد کشمیری زخم خوردہ ہو کر ہسپتالوں میں پڑے ہیں۔ اب وزیرِ خارجہ راج ناتھ نے مرچوں والی گن استعمال کرنے کا حکم بھی جاری کردیا ہے۔ان کے سامنے نہتے عوام گولیوں کے جواب میں سنگ باری، نعرہ بازی پاکستانی پرچم اور اپنے شہدا ء کو پاکستانی پرچم لپیٹ کر آزادی سے کم کسی قیمت پر بات کرنے کے لیے ہرگزتیار نہیں۔
عالمی ادارے ، انسانی حقوق کے علمبردار، انسانیت کے دوست ہونے کے دعویدار اس تمام صورتحال پر نہ صرف خاموش ہیں بلکہ جدید معاہدوں پر دستخط ہورہے ہیں۔ جن کا مقصد اس اصولی ،زمینی حقائق پر مبنی اور مسلم تحریک آزادی کشمیر کو دہشت گردی سے نتھی کر کے ایک قوم کو صفحہ ہستی سے مٹانا دکھائی دیتا ہے، جبکہ یو این او ان کا حق آزادی انہیں’’ استصواب رائے‘‘ کی شکل میں کئی دھائیاں قبل دے کرچکاہے۔جس کی منظور شدہ قراردادیں اقوام متحدہ کی الماریوں میں پڑی سڑرہی ہیں۔ ہندوستان میں0 10سے زائد علیحدگی کی تحریکیں مقبوضہ وادئ کشمیر تا آسام وتامل ناڈوتک جاری ہیں۔ جن میں23باقاعدہ عسکری شکل میں اپنی جدوجہد کر رہی ہیں اور ہندوستان اندورنی سطح پر شکست وریخت کا اسی طرز پر شکار ہونے جارہا ہے جس طرح ماضی قریب میں روس ہو چکا ہے۔ ان شاء اللہ
کشمیری قوم اپنے مسلمہ حق آزادی سے اسی بنیاد پر محروم رکھی جا رہی ہے جس کا ذکر مذکورہ بالا سطور میں کیا گیا ہے۔موجودہ کاروائی سے دکھائی دے رہا ہے کہ کشمیر کی نوجوان نسل نے قلم برداری کی بجائے ہاتھوں میں گن اٹھانے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کا مظاہرہ اُڑی میں آرمی ہیڈ کوارٹر پر حملہ کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ یہ تنگ آمد بجنگ آمدہی کی صورت دکھائی دیتی ہے۔ اس میں بیرونی مداخلت یا اندورنی بغاوت کا پہلو اجاگر کرنا آزادی کشمیر کی اس اصولی تحریک کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ برہان وانی کی شہادت نے ہر طبقہ زندگی کو اپناموقف تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ پاکستان کی بائیں بازو کی لیڈر عاصمہ جہانگیربھی مجبور ہوئیں جو سری نگر میں کھڑی ہو کر ہندوستانی حکومت کو پیغام دے رہی ہیں کہ’’کشمیری نوجوان نسل نے ہندوستان سے اپنا منہ موڑ لیا ہے‘‘۔عمر فاروق عبداللہ جیسی شخصیت نے بھی وانی کی شہادت پر بالکل متضاد تبصرہ کیا ہے کہ اب یہ تحریک اس کی قبرسے اٹھے گی۔ان شاء اللہ
دنیاکو تسلیم کرنا ہوگا کہ نئی نسل نے عدم تشدد کا راستہ ترک کردیا ہے اوربندوق اٹھالی ہے اور ہر قیمت پر آزادی کے حصول تک جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
انڈین اربابِ بست وکشاد کو یہ نوشتۂ دیوار پڑھ لینا چاہیے کہ اب کشمیری قوم کو بزور قوت غلام رکھنا اس کے لیے ناممکن ہو چکا ہے۔ اس کا واسطہ اس کشمیری قوم سے ہے جس کی برسہا برس کی تاریخ جراأت و عزیمت کی داستانوں سے بھری پڑی ہے اور اب بھی جس کی قیادت سربکف نوجوانوں کے ہاتھ لگ گئی ہے۔ یہ نہ’’اٹوٹ انگ‘‘کا نظری ۂ تسلیم کرتے ہیں اور نہ خود کو بھارت کا حصہ سمجھتے ہیں۔ یہ جہاد با لقلم (جس میں سوشل میڈیا، دانشور اور یونیورسٹیوں کے طلباء کی تحریک بھی شامل ہیں) اور جہاد بالسیف دونوں کا آغاز کر چکے ہیں۔ مزید یہ کہ ہندو قیادت کو اب یہ نظریہ تبدیل کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کو اپنی طفیلی ریاست بنا لیں گے ۔
آج کا پاکستان جنرل گریسی کی حفاظت میں نہیں بلکہ’’ سپوت پاکستان ‘‘ جنرل راحیل شریف کی زیرِ کمان ایک مسلمہ ایٹمی قوت ہے۔ جس کے سالارِ پاکستان کو ناقابلِ تسخیر قرار دے چکے ہیں۔ جموں وکشمیر ہر لحاظ سے پاکستان کا تسلیم شدہ حصہ ہے اورتقسیم شدہ پاکستان کا ایجنڈا اب آخری مرحلے میں دکھائی دیتا ہے۔ ہر قسم کی مکارانہ سفارت کا انجام میڈیا ٹرائل اور بربریت منہ کی کھائے گی۔ خون سے سینچی گئی اس داستان کا آخری باب دکھایا جا رہا ہے۔ ان شا ء اللہ
عالمی برادری کو شباب کشمیر کی آواز سننا ہو گی۔ یو این او کی قرار دادوں کو عملی جامہ پہنانا ہوگاوگرنہ جماعت الدعوۃ کے امیرپروفیسر حافظ محمد سعید کی اس پیش گوئی پر غور کرنا ہوگا کہ’’ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بھارت کے لیے گورباچوف ثابت ہوگا۔‘‘ کشمیر کو بچانے کے نقیب اس منفی پہلو سے آنکھیں بند نہ کریں۔ وقت کا گھڑیال مسلسل منادی دے رہا ہے۔’’تنگ آمدبجنگ آمد‘‘







WhatsApp




متعلقہ خبریں
"سیاسی اصطبل کے گدھے " ... مزید پڑھیں
حقوقِ نسواں کا غلط استعمال ... مزید پڑھیں
’’34 ملکوں کا مذاق‘‘ ... مزید پڑھیں
اسلام میں عورت کا مقام ... مزید پڑھیں
غم کی طویل رات ... مزید پڑھیں
گنگو تیلی ... مزید پڑھیں
نیب کا جن بوتل سے باہر ... مزید پڑھیں
اقبال کا پا کستان ( لوہے کا چنا ) ... مزید پڑھیں
پاکستان میں چینیوں کی سیکورٹی، اولیں ذمے داری ... مزید پڑھیں
سی پیک کے بارے میں بدگمانیوں کا نیا سلسلہ ... مزید پڑھیں
پاکستان بمقابلہ حکومت پاکستان ... مزید پڑھیں
سازش ... مزید پڑھیں
برکس مشترکہ اعلامیہ میں لشکر طیبہ اور جیش محمد کی ... مزید پڑھیں
در پولیس کو سلام اور سیف سٹی پراجیکٹ کا نوحہ ... مزید پڑھیں
73 روپے کی زندگی ... مزید پڑھیں
پاکستان نے نریندر مودی کے اسرائیلی دورے پر تشویش کا ... مزید پڑھیں
متعلقہ خبریں
"سیاسی اصطبل کے گدھے "
حقوقِ نسواں کا غلط استعمال
’’34 ملکوں کا مذاق‘‘
اسلام میں عورت کا مقام
غم کی طویل رات
گنگو تیلی
نیب کا جن بوتل سے باہر
اقبال کا پا کستان ( لوہے کا چنا )
پاکستان میں چینیوں کی سیکورٹی، اولیں ذمے داری
سی پیک کے بارے میں بدگمانیوں کا نیا سلسلہ

مقبول خبریں
سپریم کورٹ نے پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو معطل کردیا
امریکا میں پاکستانی سفارتکاروں کی نقل و حرکت پر پابندی کی تصدیق
’’بگ تھری ختم پیسہ ہضم ‘‘ بھارتی ڈھٹائی برقرار، تاخیر ی حربوں کا استعمال
پاکستان نے پہلے ٹی ٹوئنٹی میں ویسٹ انڈیز کو 9 وکٹوں سے شکست دے دی
"مجھے بھی ہراساں کیا گیا" مومنہ مستحسن می ٹو مہم میں شامل
"سیاسی اصطبل کے گدھے "
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
جن مردوں کے چہرے پر داڑھی ہےشاندار خوشخبری آگئی
مسلم خاتون ہاتھ نہ ملانے کی سزا ، فرانس کی شہریت سے محروم
چین میں گدھے کے گوشت سے بننے والے برگر میں ملاوٹ کا انکشاف
چین میں گدھے کے گوشت سے بننے والے برگر میں ملاوٹ کا انکشاف
پاکستانی جے ایف 17کو ریڈار نظام کیساتھ اپ گریڈ کیا جا ئیگا: چین کا اعلان
کنجوس کی بلی
درود پر تنازع‘ جہلم ،مسجد کے منتظم پر توہینِ مذہب کا مقدمہ
مجھے را نے کہا تھا کہ نواز شریف کو اذیت پہنچاؤ۔۔بلوچ صحافی کا تہلکہ خیز انکشاف
ویڈیو گیلری

آزادی کی تحریکوں کو دبایا تو جا سکتا ہے لیکن ختم نہیں کیا جا سکتا : پاکستانی ہائی کمشنرعبدالباسط

بھارتی اشتعال انگیزی کا ذمہ داری سے جواب دے رہے ہیں ،عاصم باجوہ

پاکستان اورسعودی عرب حقیقی بھائی ہیں،علما اکرام مسلم امت کے اتحاد میں کردار ادا کریں:امام کعبہ

بڈگام میں بھارتی فوج کی فائرنگ، مزید 8 کشمیری شہید، پاکستان کا شدید احتجاج

فرانس میں تیز رفتار گاڑی فوجیوں پر چڑھ دوڑی، 6 زخمی

سپورٹس
’’بگ تھری ختم پیسہ ہضم ‘‘ بھارتی ڈھٹائی برقرار، تاخیر ی حربوں کا استعمال
نئی دہلی (ویب ڈیسک) پاکستان سے کرکٹ تعلقات کے حوالے سے مزید پڑھیں ...
ویب ٹی وی
ٹورازم
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔ posted by Abdur مزید پڑھیں ...
انٹرٹینمینٹ
"مجھے بھی ہراساں کیا گیا" مومنہ مستحسن می ٹو مہم میں شامل
لاہور (نیوز ڈیسک) گلوکارہ مومنہ مستحسن بھی می ٹو مہم کا مزید پڑھیں ...
مذہب
درود پر تنازع‘ جہلم ،مسجد کے منتظم پر توہینِ مذہب کا مقدمہ
جہلم ( ویب ڈیسک) پاکستان کے صوبۂ پنجاب کے ضلع جہلم کی مزید پڑھیں ...
بزنس
پیٹرول کی قیمت کم ہونے کا امکان
اسلام آباد(ویب ڈیسک) اوگرا نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید پڑھیں ...