اردو | العربیہ | English



اردو | العربیہ | English

یورپی یونین سے انخلا کیلیے برطانیہ کو 31 جنوری تک مہلت مل گئی

کشمیر کی آزادی کا بہترین موقع


WhatsApp
673




سوڈان اور مشرقی تیمور میں بھی وہی مسائل تھے جو کشمیر میں ہیں لیکن وہاں اقوام متحدہ نے اپنا اثر و رسوخ دکھایا اور مسئلہ حل ہوگیا، لیکن ناجانے کشمیر پر اقوام متحدہ کیوں اور کب تک خاموش رہے گا؟

آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیرکل جسے اہل نظر کہتے تھے ایران ضغیر (اقبالؒ)

کشمیری عوام کا شمار دنیا کی مظلوم ترین قوم میں ہوتا ہے۔ مظلوم کشمیری عوام گزشتہ سات دہائیوں سے جمہوری ہند سرکار کے مظالم برداشت کر رہی ہے اور اگر بھارت کو اِسی طرح بربریت کی اجازت دی گئی تو آئندہ بھی ان مظالم کے تھمنے کی کوئی امید نظر نہیں آرہی ہے۔ کشمیری عوام پر تشدد کا موجودہ سلسلہ نہ تو کشمیری عوام کے لیے کوئی نئی چیز ہے اور نہ ہی عالمی برادری بشمول مسلم دنیا کے لیے یہ فسادات کوئی نئی خبر ہے۔ کشمیری عوام نے سات دہائیوں میں مظالم کے ایسے متعدد سلاسل کو نہ صرف دیکھا ہے بلکہ ثابت قدمی سے برداشت بھی کیا ہے، اور یہی وہ ثابت قدمی ہے جس کی وجہ سے ہزاروں کشمیریوں کی شہادت، ماوں بہنوں کی عصمت دری اور ان گنت نوجوانوں کی گمشدگی کے باوجود یہ قوم آزادی کے نعرے سے پیچھے نہیں ہٹی۔
اگر موجود فسادات کی بات کی جائے تو اب تک ایک سو سے زائد نہتے کشمیری شہید ہوچکے ہیں، تقریباً دس ہزار کشمیری زخمی ہوچکے ہیں اور درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں کشمیری بیلٹ گن کی گولیاں لگنے کی وجہ سے اپنی ایک آنکھ یا دونوں آنکھوں سے جزوی یا مکمل طور پر محروم ہوچکے ہیں۔ گزشتہ دو ماہ سے لگاتار کشمیر کے تمام اضلاح میں کرفیو نافذ ہے، ریڈیو، انٹرنیٹ اور موبائل سروسز معطل ہیں، حتٰی کے عید کے ایام میں بھی کرفیو جاری رہا، مسلمانوں اور کشمیری رہنماؤں کو نہ صرف نماز عید ادا نہیں کرنے دی گئی بلکہ کشمیری عوام قربانی کا مذہبی فریضہ بھی ادا نہ کرسکے۔ جن پیلٹ گنوں کا استعمال کشمیر کے نہتے عوام پر کیا جارہا ہے عام طور پر ان کا استعمال جانوروں کے شکار کے لیے کیا جاتا ہے، لیکن ہندو سرکار کشمیر پر قبضے کو جائز ثابت کرنے کے لیے انسانی حقوق کو سرے سے بھول ہی چکی ہے۔
ابھی اِس جابرانہ تشدد کا سلسلہ چل ہی رہا تھا کہ اب بھارتی ظالم ریاست نے وہاں ’پاوا‘ نامی ہتھیار کے استعمال کی اجازت دے دی ہے۔ پاوا کو عام زبان میں مرچوں والا کارتوس کہا جاتا ہے، یعنی پاوا کو جس ہجوم پر بھی استعمال کیا جاتا ہے وہ وقتی طور پر بے حس و حرکت ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے گرفتاریوں میں آسانی ہوتی ہے۔ پاوا کے استعمال سے آنکھوں میں شدید جلن اور خارش پیدا ہوتی ہے، نیز اس سے جلد کی حساسیت میں اصافہ ہوجاتا ہے جس سے خارش اور جلد کی بیماریوں کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے۔ پاوا کے نقصانات کا دارومدار اس بات پر ہے کہ اُس کی تیاری میں کمیکل کتنی تعداد میں استعمال ہوا اور یہ کارتوس کتنے فاصلے سے چلایا جاتا ہے۔ اس کا منظور شدہ فاصلہ چار سے پانچ میٹر تک ہے، اگر اِس فاصلے کو مدنظر نہیں رکھا گیا تو نقصان بہت زیادہ بھی ہوسکتا ہے، ویسے عام خیال یہی ہے کہ اِس منظور شدہ فاصلے کا خیال نہیں رکھا جائے گا کیونکہ جب بھارتی فوج نے کسی ایک معاملے میں بھی اُصولوں کی پرواہ نہ کی تو وہ اب ایسا کیونکر کرے گی؟
اگر تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو کشمیری ریاست کا وجود تقسیم سے پہلے بھی موجود تھا، تقسیم کے وقت فوجی قوت پر کشمیر کو دو علیحدہ حصوں میں تقسیم کیا گیا اور کشمیر کے حتمی اور مستقل حل کے لیے عالمی ادارے اقوام متحدہ میں قراردادیں جمع کرائی گئی جن پر یہ فیصلہ دیا گیا تھا کہ کشمیر کی عوام کو حق خودارادیت کا اختیار دیا جائے، اور وہ جس کے ساتھ بھی رہنے کا فیصلہ کریں اُنہی کے ساتھ اُن کو شامل کیا جائے، لیکن چونکہ بھارت یہ بات اچھی طرح جانتا تھا کہ اگر یہ کام کاردیا گیا تھا اُن کے ساتھ سے مقبوضہ کشمیر باآسانی نکل جائے گا، اِس لیے وہ مسلسل اِس کام میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ لیکن المیہ یہ ہوا کہ دنیا کی تمام ہی طاقتیں اِس ظلم و ستم کے باوجود خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی ہیں حالانکہ ایسے ہی مسائل سوڈان اور مشرقی تیمور میں درپیش تھے جہاں اقوام متحدہ نے اپنا اثر و رسوخ دکھایا اور یوں مسئلہ پُرامن طور پر حل ہوگیا، لیکن ناجانے کشمیر کے معاملے میں اقوام متحدہ کیوں اور کب تک خاموش رہے گی۔
اِن تمام تر حالات میں پوری اسلامی دنیا اور اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیر کے موقف کو عالمی سطح پر اٹھانے میں واضح کردار ادا کریں۔ وکیل کشمیر پاکستان پر بھی لازم ہے کہ وہ محض بیان بازی پر اکتفا نہ کرے اور نہ  کشمیر کے مسئلے کو اٹھانے کے لیے اقوام متحدہ کے اجلاسوں کا انتظار کرے بلکہ روزانہ کی بنیاد پر کشمیر کا مقدمہ لڑا جائے۔ پاکستان اب یہ اعلان کرے کہ اگر بھارت پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار نہیں تو پاکستان بھی بھارت کے ساتھ اُس وقت تک ہندوستان کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں کرے گا جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوجائے۔ کیونکہ اگر آج بھی ہم نے وہی روایتی پالیسی اپنائی رکھی تو بعید نہیں کہ اگلے 70 سال بعد ہماری نئی نسل بھی یہی باتیں کررہی ہوگی جو آج ہم کررہے ہیں اور کشمیر میں پیلٹ اور پاوا کی جگہ کوئی نیا کمیائی ہتھیار لے لے اور معصوم کشمیری یونہی اپنی شہادتیں پیش کررہے ہوں۔
بشکریہ اعزاز کیانی (ادراہ ) ٹائمز آف لاہور


WhatsApp




متعلقہ خبریں
عمران خان نے انیس سو انتالیس کے میونخ کا حوالہ ... مزید پڑھیں
بلوچستان سے خلائی سائینسدان کا ظہور ... مزید پڑھیں
ٹیم اور کپتان ... مزید پڑھیں
بھٹو کیوں زندہ ہے؟ ... مزید پڑھیں
شاہ سلمان کی آمد ۔۔۔بہار کی آمد ... مزید پڑھیں
افغان باقی، کہسار باقی ... مزید پڑھیں
اقلیتوں کا عالمی دن۔۔۔تجزیہ ... مزید پڑھیں
ارض حرمین پر منڈلاتی گھٹائیں ... مزید پڑھیں
سانپ اور سیڑھی کا کھیل ... مزید پڑھیں
اسرائیلی تاریخ ... مزید پڑھیں
آسیہ" نامی عیسائی عورت اور ہمارا قانون ... مزید پڑھیں
ارضِ حرمین پر منڈلاتی گھٹائیں ... مزید پڑھیں
حکمرانوں کے تابناک اور روشن کردار ... مزید پڑھیں
فاطمہ بنت پاکستان کا مقدمہ ... مزید پڑھیں
یہ رہی تمہاری تلاش ... مزید پڑھیں
اقوام متحدہ کے اجلاس کی روداد ... مزید پڑھیں
متعلقہ خبریں
سیاست کے کھیل کا بارہواں کھلاڑی
عمران خان نے انیس سو انتالیس کے میونخ کا حوالہ کیوں دیا؟
بلوچستان سے خلائی سائینسدان کا ظہور
ٹیم اور کپتان
بھٹو کیوں زندہ ہے؟
شاہ سلمان کی آمد ۔۔۔بہار کی آمد
افغان باقی، کہسار باقی
اقلیتوں کا عالمی دن۔۔۔تجزیہ
ارض حرمین پر منڈلاتی گھٹائیں
سانپ اور سیڑھی کا کھیل

مقبول خبریں
ویڈیو گیلری

آزادی کی تحریکوں کو دبایا تو جا سکتا ہے لیکن ختم نہیں کیا جا سکتا : پاکستانی ہائی کمشنرعبدالباسط

بھارتی اشتعال انگیزی کا ذمہ داری سے جواب دے رہے ہیں ،عاصم باجوہ

پاکستان اورسعودی عرب حقیقی بھائی ہیں،علما اکرام مسلم امت کے اتحاد میں کردار ادا کریں:امام کعبہ

بڈگام میں بھارتی فوج کی فائرنگ، مزید 8 کشمیری شہید، پاکستان کا شدید احتجاج

فرانس میں فائرنگ کرکے 3 افراد کوقتل کرنے والے حملہ آورکی ہلاکت کی تصدیق

سپورٹس
انٹرنیشنل کرکٹ چاہیے بھلے ’بی ٹیم‘ ہی سہی
اکتوبر 1990 میں نیوزی لینڈ کی ٹیم کو پاکستان کے دورے پہ مزید پڑھیں ...
ویب ٹی وی
ٹورازم
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔ posted by Abdur مزید پڑھیں ...
انٹرٹینمینٹ
وینا اداکاری سے گلوکاری کا سفر
وینا ملک کو زیادہ تر لوگ بطور اداکارہ و ماڈل جانتے ہیں مزید پڑھیں ...
مذہب
بیویاں شوہروں کو طلاق دے سکیں گی والا نکاح نامہ زیرغور نہیں، اسلامی نظریاتی کونسل
اسلام آباد(ویب ڈیسک) اسلامی نظریاتی کونسل کا کہنا ہے کہ مزید پڑھیں ...
بزنس
10 بینکوں کو80 کروڑ روپے سے زائد جرمانہ
10 بینکوں کو80 کروڑ روپے سے زائد جرمانہ، کون کونسے بینک مزید پڑھیں ...