اردو | العربیہ | English



اردو | العربیہ | English

امریکا میں پاکستانی سفارتکاروں کی نقل و حرکت پر پابندی کی تصدیق

ایران سے وفاداری ، سعودیہ سے جفاکاری


WhatsApp
232




اب تک کی اطلاعات کے مطابق سعودی عرب،متحدہ عرب امارات،بحرین ،مصر،یمن،لیبیا،مالدیپ سمیت سات ملکوں نے قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کردیے ہیں۔5جون2017کی صبح کو سعودی عرب کی خبرایجنسی واس نے خبر جاری کی،جس کے مطابق سعودی عرب نے داخلی امن وسلامتی کی خاطر قطر کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات منقطع کردیے۔اس خبر کے جاری ہونے کے کچھ ہی دیر بعد متحدہ عرب امارات،بحرین ، مصر،لیبیا،مالدیپ اوریمن نے بھی سعودی عرب کی حمایت میں قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کااعلان کردیا۔

سعودی حکومت کی جانب سے موقف اپنایاگیاکہ قطر چوں کہ مسلسل دہشت گرد تنظیموں،القاعدہ،داعش،اخوان المسلمین،حماس اوریمن میں حوثی باغیوں کی درپردہ حمایت اور مدد کررہاتھا اورخلیجی ممالک کے برعکس ایران کے ساتھ قربتیں بڑھارہاتھاجو نہ صرف سعودی امن وسلامتی کے لیے ایک خطرہ ہے بلکہ دیگر خلیجی ممالک کے متفقہ منشور سے ہٹ کرہے،اس لیے سعودی عرب نے مجبوراً طویل صبراور گہری سوچ وبچار کے بعد یہ قدم اٹھایا ہے۔اس فیصلے کے بعدسعودی حکومت نے قطرکے ساتھ زمینی،فضائی اور بحری راستے بندکرنے کے ساتھ قطر میں موجود سعودی سفارتی عملے،عام شہریوں اور مقیمین کوبھی ہدایات جاری کردیں کہ وہ جلد ازجلدقطرچھوڑدیں۔اس کے علاوہ سعودی عرب نے قطر کے ساتھ تمام سرحدیں بندکرتے ہوئے سعودی عرب میں موجود قطری شہریوں کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ چودہ دن کے اندرسعودی عرب سے نکل جائیں۔دوسری جانب متحدہ عرب امارات،بحرین،مصر اور یمن نے بھی الگ الگ بیان میں سعودی عرب کی حمایت کااعلان کیا اور اپنے سفارتی عملے اور شہریوں کو جلدازجلد قطر چھوڑنے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔

قطر کے سفارتی بائیکاٹ سے قطر کا مالی نظام درہم برہم ہوگیاہے۔ترکی اور امریکہ نے معاملے کو سلجھانے کے لیے ثالثی کی پیشکش کی ہے۔لیکن کیا خلیج اور قطر کے اختلافات ختم ہوجائیں گے؟اس کے لیے قطر اور خلیجی ممالک کے حالیہ اختلافات کی اصل کہانی کا جاننا ضروری ہے۔
قطر کے ساتھ خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب کے حالیہ اختلافات کی کہانی دراصل اس وقت شروع ہوئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب دورے کے موقع پر اسلامی کانفرنس میں سعودی عرب نے ایک قراردادمیں ایران کوعالمی دہشت گردی کاسردارقراردیا۔اس قرارداد کے دو دن بعدیعنی 23مئی 2017کو قطرکے بادشاہ تمیم بن حمدآل ثانی کی طرف منسوب ایک بیان قطر کی سرکاری نیوز ایجنسی سے نشر ہوا جس میں کہا گیا کہ" قطر میں امریکا نے فوجی اڈے قطر کو ہمسائیہ ممالک کے ممکنہ حملے سے بچانے کے لیے بنائے ہوئے ہیں اور ایران خطے کا ایک اہم ملک ہے جس کے ساتھ اختلافات رکھنا حکمت کے خلاف ہے"۔سعودی عرب نے جب قطرسے اس بیان کے بارے وضاحت طلب کی تو قطری حکومت کی طرف سے اس بیان کا انکارکیاگیا اور مؤقف اپنایاگیا کہ دراصل ہیکروں نے قطرکی نیوز ایجنسی کو ہیک کرکے قطر کے بادشاہ کی طرف منسوب یہ من گھڑت بیان نشرکیاہے۔لیکن سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اس وضاحت کو رد کردیا اور قطر کے خلاف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے صحافتی حلقوں کی جانب سے لفظی جنگ شروع کردی گئی۔دوسری طرف قطر کے صحافتی حلقے بھی دوبدواس جنگ میں حصہ لیتے رہے۔چنانچہ سعودی عرب کے ایک معروف اخبار نے ایک دن سرخی لگائی کہ " قطر نے خلیج کی صف کو پھاڑ دیا اورامت کے دشمنوں کو سپوٹ کرناشروع کردیا"۔اگلے دن قطر کے ایک اخبار نے شاہ سلمان کاہتک آمیز خاکہ بناکر سعودی عرب کی کلاس لی۔صحافتی کھینچاتانی میں معاملہ یہاں تک بھی پہنچا کہ قطر کے ایک اخبار نے یہ سرخی بھی جمائی کہ"تم جتناچاہو بھونک لو قطر کو اس کے حق سے نہیں روک سکتے"۔دوسری طرف سعودی عرب،بحرین،مصر اور عرب امارات نے قطرکے مشہور میڈیا گروپ الجزیرہ نیٹ ورک کی نشریات مکمل طور پر اپنے ملکوں میں بند کردیں۔ایک طرف دونوں ملکوں کے درمیان یہ صحافتی جنگ جاری تھی اور معاملہ ٹھنڈا نہیں ہونے پارہا تھا کہ قطر کے بادشاہ نے ایران کے حالیہ انتخابات میں دوسری مرتبہ کامیاب ہونے والے صدرحسن روحانی کوفون کال کرکے مبارک باد دیدی۔
چوں کہ یہ تہنیتی پیغام ایران کے خلاف دیگر خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب کے متفقہ منشور سے ہٹ کرتھا اس لیے سعودی عرب اور قطرمیں اختلافات شدید تر ہوگئے۔بعدازاں قطر نے سعودی ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ عبداللہ العتیبی(جس پر قطر میں غیرقانونی کاروبار کرنے کاالزام تھا )کو ملک بدرکردیا،جس پر سعودی عرب نے قطر سے شدید احتجاج کیا۔دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات کا یہ دور 12دن تک چلتارہا یہاں تک کہ 5جون 2017 کو سعودی عرب نے قطر کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات منقطع کردیے۔

قطر اور سعودی عرب کے تعلقات کی تاریخ کا جائز لیا جائے تو 2002تک دونوں ملکوں کے تعلقات ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ اچھے نہیں رہے۔چنانچہ 1913میں جب خلافت عثمانیہ کے بخیے ادھیڑے جارہے تھے تو سعودی عرب اور قطر کے امراء کے درمیان سرحدی تنازعہ کھڑا ہوا،جس میں سعودی عرب نے برطانیہ سے مطالبہ کیا کہ قطر سعودی عرب کے علاقے احساء کا حصہ ہے لہذا اسے سعودی عرب کے حوالے کیا جائے۔برطانیہ کے انکار کے دوسال بعد سعودی عرب نے نہ چاہتے ہوئے مجبوراًقطر کوآزاد ریاست تسلیم کرلیا۔لیکن وقتاً فوقتاً مختلف معاملات پر دونوں ملکوں میں نوک جھونک چلتی رہی۔یہاں تک کہ 2002 میں دونوں ملکوں نے نئے سرے سے تعلقات کا آغاز کیا،چنانچہ 2002کے بعدسے 2014تک دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی،اقتصادی اور سیاحتی تعلقات انتہائی شاندار رہے۔
2014 میں دونوں ملکوں کے درمیان اس وقت اختلافات پیدا ہوئے جب سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے مل کر قطر سے اپنے سفیر یہ کہہ کرواپس بلالیے کہ قطر ہمارے متفقہ معاہدات کی پاسداری نہیں کررہا۔8مہینے کی سردمہری کے بعد دونوں ملکوں میں تعلقات پھر بحال ہوگئے۔لیکن چوں کہ قطر اپنی خارجہ اور اقتصادی پالیسی میں آزادی کا خواہش مند ہے اس لیے قطر اپنے ہمسایہ ممالک اور دنیا کے دیگر ملکوں اورتنطیموں کے ساتھ سیاسی اور اقتصادی تعلقات بڑھانے میں دیگر خلیجی ملکوں کی خواہش کے برعکس آزاد فیصلے کرنے کا عادی ہوچکاہے۔چنانچہ ایک طرف قطرحماس ،اخوان المسلمین اور طالبان جیسی جماعتوں کے بارے دیگر خلیجی ممالک کی بہ نسبت نرم گوشہ اختیار کیے ہوئے ہے بلکہ حماس ،اخوان اور طالبان کو دوحا میں سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت بھی دے رکھی ہے، تو دوسری طرف ایران کے ساتھ بھی گہرے مراسم قائم کیے ہوئے ہیں۔میڈیا کی اور اظہار رائے کی آزادی اورعام مقیمین کے ساتھ بھی قطر کا رویہ دیگر عرب ملکوں کی بہ نسبت کافی اچھا ہے۔شاید اسی وجہ سے عرب دنیا کے دیگر ملکوں کی بنسبت قطر کو انسانی حقوق اور آزادی اظہاررائے کے حوالے سے دنیا میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے۔
بہرحال قطر اور خلیج کے مابین اختلافات کی اصل وجہ قطرکادیگر خلیجی ملکوں سے ہٹ کرایران کے ساتھ اچھے تعلقات استوارکرناہے۔ چنانچہ24فروری 2010کوقطر کے بادشاہ نے ایران کا دورہ کیا اورایران کے ساتھ دفاعی معاہدات کیے۔ان معاہدات کا ایک دور 2015 میں بھی چلا جس میں قطر نے ایران کے مشترکہ حدود کی حفاظت کے لیے دفاعی معاہدات کیے۔دیکھاجائے توقطر اور ایران کے تعلقات میں دراصل مشترکہ چیز طبعی گیس کے وہ کنوئیں ہیں جوایران اور قطر کی حدود میں واقع خلیج عربی میں 9700کلومیٹر مربع تک پھیلے ہوئے ہیں۔جن میں سے 6000 کلومیٹر مربع پر پھیلے کنویں قطر کی ملکیت ہیں اور باقی کے 3700 کلومیٹر مربع پر واقع کنوئیں ایران کے پاس ہیں۔یہ طبعی گیس دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے اتنا قریب لے آئی ہے کہ دونوں ملک اپنے اپنے دوستوں اور دشمنوں تک بھول گئے ہیں۔چنانچہ 2007 میں قطر نے خلیج کانفرنس میں دیگر خلیجی ممالک کے نہ چاہنے کے باوجود ایرانی صدر احمدی نژاد کو بطور مہمان بلایا۔اس کے علاوہ قطر ہی نے 2006ء میں ایران کے ایٹمی پروگرام پر پابندی کے وقت سلامتی کونسل کے15ارکان میں سے تنہاء سلامتی کونسل کی قراداد1696کی مخالفت میں تنہاووٹ دیا۔دوسری طرف ایران قطر کے سعودی عرب کے ساتھ اچھے تعلقات اور ایران مخالف قرادادوں پر آج تک خاموش ہے۔
مفادات کی اس سیاست کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہنا بجاہے کہ قطر اور خلیجی ممالک کے مابین حالیہ اختلافات محض مفاداتی ہیں جوبہت جلد ختم ہوجائیں گے۔ لیکن دوسری طرف المیہ یہ بن چکاہے کہ آج کے دور میں ہرملک اپنے مفادات کوترجیح دینے لگ گیاہے۔بالخصوص اسلامی ملکوں کے ہاں تونظریات ثانوی درجے کے ہو کررہ گئے ہیں۔مفادات کو سامنے رکھ کر خارجہ پالیسی بنانے سے قطعاًاختلاف نہیں ،مگر افسوس تب ہوتا ہے جب نظریات ، عقائد اورروایات کو بھلا کر مفادات ہی کو سب کچھ سمجھ لیا جائے۔امت مسلمہ کے زوال اور مغلوبیت کی اصل وجہ یہی بنی کہ امت مسلمہ نے نظریات کی جگہ مفادات کو ترجیح دیدی۔اگر مفاد اپنے بھائی کے قاتل سے بھی وابستہ ہوا تو کشادہ دلی کے ساتھ اسے گلے لگالیا اور جب کبھی نظریات اس بات پر مجبور کریں کہ اپنے مظلوم بھائی کے قاتل سے ظلم کاحساب لیاجائے توفوراًتاویلات اور مصلحت وحکمت کوگلے لگالیا۔امت مسلمہ میں انتشار وافتراق سے قرآن وسنت میں بہت ڈرایا گیا ہے۔اتحاد واتفاق نے امت مسلمہ کو جو شناخت دی تھی اسی میں آج عالم اسلام کی بھلائی ہے۔خلیجی ممالک ہوں یادیگر اسلامی ممالک سب کواپنے مشترکہ نظریات اورعقائد کی خاطر اتحاد کی رسی کومضبوطی سے پکڑنا چاہئے اور محض مفادات کی خاطر ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے سے گریز کرناچاہئے۔ اسی میں عالم اسلام اور امت کی بھلائی ہے۔

بشکریہ (غلام نبی مدنی روزنامہ پاکستان )

نوٹ: ٹا ئمز آف لاہور میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔


WhatsApp




متعلقہ خبریں
کشمیری لڑکی کے ریپ کامقدمہ لڑنے والی وکیل دپیکا سنگھ ... مزید پڑھیں
پاکستانی بحریہ نے آسٹریلوی خاندان کو بال بال بچالیا، کس ... مزید پڑھیں
دنیا بھر کی طرح پاکستان میں ’گُڈ فرائیڈے‘ کی تقریبات ... مزید پڑھیں
افغانستان میں امن و مصالحت کی کوششوں کے سلسلے میں ... مزید پڑھیں
طالبان کے مطابق ایران نے افغانستان میں عباسی کی تقریب ... مزید پڑھیں
رام مندر کے خلاف فیصلہ آیا تو انڈیا میں شام ... مزید پڑھیں
انڈیا پر خالصتان کا غیر ملکی بھوت ... مزید پڑھیں
پاکستان کو دہشت گردوں کی ‘واچ لسٹ’ میں ڈالنے کی ... مزید پڑھیں
پاک فوج کو گرفتاری دینے والے ٹی ٹی پی کے ... مزید پڑھیں
افغان طالبان کا امریکی عوام کے نام خط ... مزید پڑھیں
صدر ٹرمپ کا ایک اور معاشقہ سامنے آگیا ؟ ... مزید پڑھیں
ہندوستان کا چاہ بہار کی آڑ میں خفیہ منصوبہ بے ... مزید پڑھیں
ایک دہشت گردتنظیم اور تیل کے کنووں کی مالک، ... مزید پڑھیں
انڈین شخص سے امریکی شہریت کیوں چھین لی گئی ... مزید پڑھیں
درد بھری داستان زخمی حالت میں قید فلسطینی اسیرات ... مزید پڑھیں
جماعت الدعوۃ کے خلاف کریک ڈاؤن کے پیچھے امریکہ ... مزید پڑھیں
متعلقہ خبریں
مجھے را نے کہا تھا کہ نواز شریف کو اذیت پہنچاؤ۔۔بلوچ صحافی کا تہلکہ خیز انکشاف
کشمیری لڑکی کے ریپ کامقدمہ لڑنے والی وکیل دپیکا سنگھ کو قتل کر نے دھمکیاں
پاکستانی بحریہ نے آسٹریلوی خاندان کو بال بال بچالیا، کس جگہ اچانک مدد کے لئے پہنچ گئی؟
دنیا بھر کی طرح پاکستان میں ’گُڈ فرائیڈے‘ کی تقریبات
افغانستان میں امن و مصالحت کی کوششوں کے سلسلے میں ازبکستان میں کثیر ملکی کانفرنس شروع
طالبان کے مطابق ایران نے افغانستان میں عباسی کی تقریب پر حملے کا حکم دیا
رام مندر کے خلاف فیصلہ آیا تو انڈیا میں شام جیسے حالات ہو جائيں گے
انڈیا پر خالصتان کا غیر ملکی بھوت
پاکستان کو دہشت گردوں کی ‘واچ لسٹ’ میں ڈالنے کی تیاریاں
پاک فوج کو گرفتاری دینے والے ٹی ٹی پی کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان اس وقت کہاں ہیں؟

مقبول خبریں
سپریم کورٹ نے پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو معطل کردیا
امریکا میں پاکستانی سفارتکاروں کی نقل و حرکت پر پابندی کی تصدیق
’’بگ تھری ختم پیسہ ہضم ‘‘ بھارتی ڈھٹائی برقرار، تاخیر ی حربوں کا استعمال
پاکستان نے پہلے ٹی ٹوئنٹی میں ویسٹ انڈیز کو 9 وکٹوں سے شکست دے دی
"مجھے بھی ہراساں کیا گیا" مومنہ مستحسن می ٹو مہم میں شامل
"سیاسی اصطبل کے گدھے "
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
جن مردوں کے چہرے پر داڑھی ہےشاندار خوشخبری آگئی
مسلم خاتون ہاتھ نہ ملانے کی سزا ، فرانس کی شہریت سے محروم
چین میں گدھے کے گوشت سے بننے والے برگر میں ملاوٹ کا انکشاف
چین میں گدھے کے گوشت سے بننے والے برگر میں ملاوٹ کا انکشاف
پاکستانی جے ایف 17کو ریڈار نظام کیساتھ اپ گریڈ کیا جا ئیگا: چین کا اعلان
کنجوس کی بلی
درود پر تنازع‘ جہلم ،مسجد کے منتظم پر توہینِ مذہب کا مقدمہ
مجھے را نے کہا تھا کہ نواز شریف کو اذیت پہنچاؤ۔۔بلوچ صحافی کا تہلکہ خیز انکشاف
ویڈیو گیلری

آزادی کی تحریکوں کو دبایا تو جا سکتا ہے لیکن ختم نہیں کیا جا سکتا : پاکستانی ہائی کمشنرعبدالباسط

بھارتی اشتعال انگیزی کا ذمہ داری سے جواب دے رہے ہیں ،عاصم باجوہ

پاکستان اورسعودی عرب حقیقی بھائی ہیں،علما اکرام مسلم امت کے اتحاد میں کردار ادا کریں:امام کعبہ

بڈگام میں بھارتی فوج کی فائرنگ، مزید 8 کشمیری شہید، پاکستان کا شدید احتجاج

فرانس میں تیز رفتار گاڑی فوجیوں پر چڑھ دوڑی، 6 زخمی

سپورٹس
’’بگ تھری ختم پیسہ ہضم ‘‘ بھارتی ڈھٹائی برقرار، تاخیر ی حربوں کا استعمال
نئی دہلی (ویب ڈیسک) پاکستان سے کرکٹ تعلقات کے حوالے سے مزید پڑھیں ...
ویب ٹی وی
ٹورازم
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔ posted by Abdur مزید پڑھیں ...
انٹرٹینمینٹ
"مجھے بھی ہراساں کیا گیا" مومنہ مستحسن می ٹو مہم میں شامل
لاہور (نیوز ڈیسک) گلوکارہ مومنہ مستحسن بھی می ٹو مہم کا مزید پڑھیں ...
مذہب
درود پر تنازع‘ جہلم ،مسجد کے منتظم پر توہینِ مذہب کا مقدمہ
جہلم ( ویب ڈیسک) پاکستان کے صوبۂ پنجاب کے ضلع جہلم کی مزید پڑھیں ...
بزنس
پیٹرول کی قیمت کم ہونے کا امکان
اسلام آباد(ویب ڈیسک) اوگرا نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید پڑھیں ...