اردو | العربیہ | English



اردو | العربیہ | English

برطانوی پارلیمنٹ فیکٹ فائنڈنگ مشن مقبوضہ کشمیر بھیجے گی

’’ب‘‘ ضر ر ’ ’پ ‘‘ پاکستانی


WhatsApp
209






مجھے اپنے ’’ آسٹریلیا پلٹ ‘‘ ہونے کا چرچا کرنا زیادہ مناسب نہیں لگتا، لیکن اکثر ، بات میں اضافی وزن پیدا کرنے کے لیے یہ حماقت کر بیٹھتا ہوں۔ 2012ء میں میں سالانہ دورے پر پاکستان آیا تو اس دوران منڈی بہاؤالدین میں ایک سرکاری ادارے اور ایک تلخ حقیقت سے واسطہ پڑ ا۔ شناختی کارڈ کی تاریخ تنسیخ قریب تھی ، چنانچہ اپنی قومی شناخت کا دوبارہ اجراء کرانے کاا رادہ کر لیا ۔ والدِ محترم نے گرمی ، وقت کی بچت یا غالباً اس خیال سے کہ میں گریڈ 20 کے سرکاری ڈاکٹر کی ایک ممی ڈیڈی اولاد ہوں ، میرے ساتھ ایک مدد گار روانہ کر دیا۔ اس نے قطار، ضوابط اور ٹوکن کی بے جا صعوبتوں سے بچا کر مجھے سیدھا کھڑکی کی دوسری طرف پہنچا دیا۔ ایک خاتون اہلکار نے فوراً سے پیشتر فارم، مہر اور دیگر مراحل طے کروائے۔ سب کچھ ٹھیک چل سکتا تھا، صرف دو امور نے اس تجربے کا Air-conditioned مزا کرکرا کر دیا۔ اول تو میں والد صاحب کے ان مقاصد سے بے خبر تھا کہ وہ میرے ساتھ ایسا ترجیحی سلوک روا رکھوائیں گے، دوسرا یہ کہ کھڑکی کے اس طرف ایک بزرگ پر نظر پڑ گئی جوضعیف تھے،پسینے سے شرابور تھے اور باری پر ہونے کے باوجود میری وجہ سے تاحال منتظرتھے۔ گھر جا کر میں اور میرا ضمیر بیک وقت ابا جان سے لڑ پڑے کہ مجھ میں ایسا کیا خاص تھا جو مجھ سے تین گنا زیادہ عمر کے لوگ مجھ سے تیس گنا زیادہ وقت لگا کر بھی انتظار اور لنچ بریک کی آگ میں جھونک دئیے گئے ؟ وہ ہنس دئیے اور کہنے لگے ’’ یارI am impressed ، معاف کرنا، میں تمہیں پاکستانی سمجھا تھا۔‘‘ یہ بات میرے ضمیر اور وجود پر ایک اور بڑی ’’ قومی‘‘ ضرب تھی کیوں کہ میں خود کو پورا پاکستانی سمجھتا تھا اور اسی لیے شناخت کے سرکاری عمل سے گزر کر بھی آیا تھا ۔ لیکن ابا جان کے خیال میں میں اس معیار پر پورا نہیں اترتا تھا۔ لہذا مجھے تاکید کی گئی کہ میں کبھی مستقل طور پر’ پاکستانیت ‘ برقرار رکھنے کو ترجیح نہ دوں اور بیرون ملک ہی مقیم رہوں : ’’ تم ایمان دار ہو ، تمہارا یہاں گزارا نہیں ہونا ۔‘‘

انسان کو ہمیشہ کسی نئے چیلنج کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ لیکن جو امتحان خود چن کر دئیے جائیں ان کے نتائج ناگہانی امتحانات کے نتائج سے زیادہ سبق آموز ہوتے ہیں۔ میں نے بھی کچھ عرصہ بعد پاکستان واپس آنے اور مستقل طور پر پورا پاکستانی بننے کی ٹھان لی ۔ اس کار خیر میں پے درپے بہت سے لوگوں اور واقعات نے راستے کا تعین کرنے میں میری مدد کی ۔ 15 اپریل2015 کو میں طویل علالت اور غیر حاضری کے بعد جب یونیورسٹی گیا تو ادارہ علوم ابلاغیات نے مجھے بطور ریگولر طالب علم تعلیم جاری رکھنے کی اجازت نہ دی۔ پہلا سمسٹر گزر چکا تھا اور دوسرے کا آغاز تھا۔ سوچا کہ آخری دن ہی سہی، ایک بار یہ مضمون پڑھ کر دیکھنا چاہیے۔ یہ میڈم سویرا شامی کی کلاس تھی جس میں وہ Development Communication' ‘کی بجائے اخلاقیات کا درس دے رہی تھیں۔ سننے میں آیا تھا کہ وہ نظم و ضبط کی پابند ہیں اور خدا جانتا ہے کہ میں نے آج تک طلباء و طالبات کو اتنا خاموش نہیں دیکھا جتنے خاموش وہ میڈم کے درس پر تھے۔ شاید ضمیر جھنجھوڑ رہا تھا یا Absentلگنے کا خوف تھا۔ وہ کہہ رہی تھیں ’’ بدعنوانی ہم سے ہی شروع ہوتی ہے ، ہر وہ شخص جو اپنی ذمہ داریوں سے انصاف نہیں کرتا بدعنوانی کا مرتکب ہوتا ہے۔ سٹوڈنٹ لیکچر کے دوران موبائل استعمال کرے، کلاس کی بجائے کیفے میں بیٹھا رہے،C.Rاگر Proxyلگائے تو یہ سب بدعنوانی کے زمرے میں آتا ہے اور پھر ہمارے لیڈر بھی ہم میں سے بنتے ہیں تو وہ بدعنوان کیوں نہیں ہوں گے؟ ‘‘ میں نے خدا کا شکر ادا کیا کہ میں C.R بھی نہیں ہوں اور لیڈر بھی نہیں ، کیوں کہ لفظ بدعنوانی سے مجھے شدید کوفت تھی، بس یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ محض لغوی کوفت ہے یا پھر اصطلاحی۔
قریباً چھے ماہ بعد اسی کمرے کی نئی Replicaمیں بطور C.Rرضائے الہٰی سے میرا انتخاب ہو گیا۔ کل کم راع، والد صاحب کی باتیں اور میڈم سویرا شامی کا تاریخی خطاب سب کچھ دل و دماغ میں کہیں محفوظ تھا۔ ہم جماعتوں کی پر امید استفساری نظریں اور میری نرم دلی، ادارے کی چند بے قاعدگیاں اور میری بے ضرر اقربا پروری ، سب کے نجی مسائل اور میری ولولہ انگیز تقریر، اساتذہ کا میری ایمانداری پر ایمان اور ہم جماعتوں کا Proxy لگانے پر اصرار ، اس سب میں میری Diplomacyنے عنقریب مجھے بہت عزت اور ’’ ہر طرح کی ‘‘ شہرت عطا فرمائی ۔ بہت جلد میں اساتذہ سے جھوٹ بولنے میں ماہر ہو گیا۔ کسی طالب علم کو بیمار بتایا، کسی کو برسر روز گار بتایا، کسی کی خاندانی مشکلات گھڑ کر سنائیں، کسی کو خوشحال لاہوری ہوتے ہوئے بھی اقتصادی زبوں حالی کا شکار hostelied قرار دیا، غرضیکہ ستر میں سے ستر ہم جماعتوں کو ’ حاضر‘ قرار دلانا میرا اولین فریضہ بن گیا۔ تھوڑا تھوڑا پاکستانی سا ہو گیا تھا میں ۔

رمضان المبارک کی چھٹیوں میں قوم کے ساتھ ساتھ میرا بھی مذہبی جوش و خروش عروج پر تھا۔ کلاس کی ایک Assignmentکی تاریخ ملتوی کروانے کے لیے مجھے حالت روزہ میں کیپٹن (ریٹائرڈ) ارشد نامی بزرگ استاد کو جھوٹ بول کر آمادہ کرنا پڑا اور اس کے ساتھ ہی میرے ضمیر نے حالتِ روزہ میں استعفیٰ دے دیا۔ خود کو بدعنوان سمجھنا شاید پھر بھی آسان ہوتا لیکن وکلکم مسؤول عن رعیتہ سے خوفزدہ ہو گیا۔ چھٹیوں کے بعد پہلے ہی دن میں نے کاغذی استعفیٰ دے کر اپنا ضمیر مطمئن کر لیا۔

ایک عزیز ہم جماعت نے شاید بے دھیانی میں بہت پہلے کسی جگہ لکھ دیا کہ کلاس میں لیڈر شپ کی کمی ہے۔ جب کہ مجھے تو اپنے آپ میں بیک وقت کئی لیڈر نظر آتے تھے۔ جب مجھ پر اقربا پروری کا الزام لگا تو میرا ضمیر مجھے ’گو نواز گو‘ بول رہا تھا، جب اپنی اشتعال انگیز تقریر کے بعد میں خودProxy لگانے لگ گیا تو اپنا آپ ’’ یوٹرن خان‘‘ سا محسوس ہوا، ضرورت پڑنے پر مخالف نظریے کے لوگوں سے ہاتھ ملا ملا کر اپنے دانت نکالتا تھا تو ’’مسٹر ''10 Percent'' بھی بن گیا، بات میں زور پیدا کرنے کے لیے جب اسلام کا سہارا لیا تو بہت سی مذہبی سیاسی جماعتیں ذہن میں آئیں۔ میڈم سویرا شامی نے صحیح کہا تھا، لیڈر ہم میں سے ہی بنتے ہیں۔ گزشتہ روز کچھ لوگ میری محبت اور ہمدردی میں میرے استعفیٰ کو غلط قرار دے رہے تھے۔ جب وہی ہم جماعت بدعنوانی پر نواز شریف سے استعفےٰ کی امید کرتے ہیں تو بہت مضحکہ خیز لگتا ہے۔ شاید اسی لیے کہ وزیر اعظم کی بدعنوانی سے نقصان پہنچتا نظر آتا ہے اور نمائندہ جماعت کی بدعنوانی بظاہر بے ضرر ہے۔ حالانکہ مجھے لگتا ہے کہ کوئی بھی بدعنوانی ضرر سے خالی نہیں ہوتی، کچھ سے پاکستانیت کو نقصان پہنچتا ہے اور زیادہ تر سے ضمیر کو۔ اور میں نے ذاتی حد تک اس نقصان کو روکنے کے لیے وہ فیصلہ کیا تھا تاکہ کہیں میں وہ نہ بن جاؤں جسے ’’ پورا پاکستانی‘‘ کہتے ہیں۔

میں اپنی کسی بھی تقریر اور تحریر کا نتیجہ اخذ کرنے میں یقین نہیں رکھتا ۔ کیوں کہ نتائج سامعین اور قارئین پر چھوڑنا زیادہ آسان رہتا ہے۔ تاہم ہمیں ایک قومی مرض ضرور لاحق ہے کہ ہم اپنی ہرروش اور مصیبت کا الزام اپنے سے اوپر کے درجے پر دھر دیتے ہیں۔ سٹوڈنٹ کہے گا کہ نمائندہ جماعت کا قصور ہے، نمائندے کی نظر میں کلرک قصور وار ہے ، کلرک اساتذہ پر الزام ڈالے گا ، اور پھر ڈائریکٹر، Dean، VC ، وزیر تعلیم، وزیر اعلیٰ سے ہوتے ہوئے وزیر اعظم تک پہنچ کر ہم اپنے ضمیر کو مطمئن کر لیتے ہیں۔ ایک اور عام سی قومی وجہ یہ بھی ہے کہ ’’ سب کرتے ہیں ، ہم کیوں نہ کریں؟‘‘ اس کے جواب میں فرانسیسی مفکروں نے بہت پہلے جو فرمایا اسے پاکستانی زبان میں کچھ یوں کہیں گے: ’’ اگر دس لاکھ لوگ ایک غلط کام کریں تب بھی وہ غلط کام ہی رہے گا۔‘‘ میرے خیال میں فرانس کی آبادی ذرا کم ہے ۔ اللہ جانے اس قول کا اطلاق بیس کروڑ پاکستانیوں پر ہوتا ہے یا نہیں ۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ اگر غلط کام مجھ سمیت کروڑوں پاکستانی کریں تو وہ غلط بھی نہیں رہتا اور ضرر رساں بھی نہیں؟ میں ذرا مزید سمجھ لوں تو قارئین کو ضرور آگاہ کروں گا۔
طلحہ فاروق


WhatsApp



متعلقہ خبریں
73 روپے کی زندگی ... مزید پڑھیں
پاکستان نے نریندر مودی کے اسرائیلی دورے پر تشویش کا ... مزید پڑھیں
احساس خوشی ... مزید پڑھیں
مسلم ملٹری الائنس کی مخالفت کیوں ... مزید پڑھیں
بھارت کا شیطانیت کو شرماتا حیا سوز چہرہ ... مزید پڑھیں
’’ب‘‘ ضر ر ’ ’پ ‘‘ پاکستانی ... مزید پڑھیں
عراقی کردستان :ایک آزاد ریاست کی کوشش ... مزید پڑھیں
جیش العدل اور آخری راؤنڈ ... مزید پڑھیں
مسٹر ورسز ملا ... مزید پڑھیں
ناکام عا شقوں کے نام ... مزید پڑھیں
"دوقومی نظریہ ہی پاکستان کے استحکام اور تحریک آزادی کشمیرکی ... مزید پڑھیں
رپورٹ :مشرق وسطی ... مزید پڑھیں
کشمیر آتش فشاں کے دہانے پر ... مزید پڑھیں
اختر شیرانی کا حب’ رسول (صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وآلہ وَسَلَّم) ... مزید پڑھیں
کربلا والوں کے جانشین ... مزید پڑھیں
نیا سال پرانے لوگ ... مزید پڑھیں
متعلقہ خبریں
73 روپے کی زندگی
پاکستان نے نریندر مودی کے اسرائیلی دورے پر تشویش کا اظہار کیا ہے: رپورٹ
احساس خوشی
مسلم ملٹری الائنس کی مخالفت کیوں
بھارت کا شیطانیت کو شرماتا حیا سوز چہرہ
’’ب‘‘ ضر ر ’ ’پ ‘‘ پاکستانی
عراقی کردستان :ایک آزاد ریاست کی کوشش
جیش العدل اور آخری راؤنڈ
مسٹر ورسز ملا
ناکام عا شقوں کے نام

مقبول خبریں
ویڈیو گیلری

آزادی کی تحریکوں کو دبایا تو جا سکتا ہے لیکن ختم نہیں کیا جا سکتا : پاکستانی ہائی کمشنرعبدالباسط

بھارتی اشتعال انگیزی کا ذمہ داری سے جواب دے رہے ہیں ،عاصم باجوہ

پاکستان اورسعودی عرب حقیقی بھائی ہیں،علما اکرام مسلم امت کے اتحاد میں کردار ادا کریں:امام کعبہ

بڈگام میں بھارتی فوج کی فائرنگ، مزید 8 کشمیری شہید، پاکستان کا شدید احتجاج

کوئٹہ پولیس ٹریننگ سینٹر پر حملہ میں ملوث دہشت گردوں کی شناخت ہوچکی ہے ، وزیراعلیٰ بلوچستان

سپورٹس
پشاور زلمی اور لاہور قلندرز نے جنوبی افریقا کی ٹیمیں خرید لیں
لاہور (ویب ڈیسک) میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان سپر لیگ (پی ایس مزید پڑھیں ...
ویب ٹی وی
ٹورازم
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔ posted by Abdur مزید پڑھیں ...
انٹرٹینمینٹ
ہالی ووڈ اداکارہ سٹیفینی ڈیوس کی قابل اعتراض ویڈیو انٹرنیٹ پر لیک ہو گئی
ممبئی (ویب ڈیسک )ہالی ووڈ کی اداکارہ سٹیفینی ڈیوس کی انتہائی قابل مزید پڑھیں ...
مذہب
مذہب سے منسلک امریکی آمدنی، 15ممالک کی مجموعی آمدنی سے بھی زیادہ
(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا میں مذہب سے منسلک آمدنی گوگل مزید پڑھیں ...
بزنس
دنیا میں سونے کے آفیشل ذخائر 33425ٹن ہوگئے
کراچی /نیویارک(ویب ڈیسک)دنیا میں سونے کے آفیشل ذخائر33425ٹن ہوگئے، ورلڈ گولڈ کونسل مزید پڑھیں ...