اردو | العربیہ | English



اردو | العربیہ | English

یورپی یونین سے انخلا کیلیے برطانیہ کو 31 جنوری تک مہلت مل گئی

عراقی کردستان :ایک آزاد ریاست کی کوشش


WhatsApp
509




مارچ کے آخر میں عراق کردستان کے صدر مسعود برزانی نے اقوم متحدہ کے سیکرٹری جنرل انگینیوگٹررز سے ملاقات کی اور ایک دفعہ پھر ان کی توجہ ایک متوقع ریفرینڈم کی طرف دلائی جس کا مقصد یہ ہے کہ اس خطے کو ’’حق خودارادیت ‘‘سے سرفراز کیا جائے۔کردوں کی طرف سے اپنے مستقبل کا خود تعین کرنے کی خواہش قابل فہم ہے۔آج تک تقریباً 20ملین کرد،مشرق وسطیٰ اور South Causasusممالک ترکی،شام،ایران اور آرمینیا میں رہتے ہے ہیں۔کردوں جیسے بہت بڑے نسلی گروہ جو دو عالمی جنگوں کے بعد بھی اپنا وطن نہیں حاصل کر پایا،کو اس وقت جغرافیائی اور سیاسی منفرد مظہر ہی سمجھا جاسکتا ہے۔

ان حالات کے نتیجے میں داعش کے ساتھ ساتھ کرد بھی حالیہ برسوں میں ایک ایسی انتہائی موثر قوت میں تبدیل ہو چکے ہیں جو کھلے عام ،ایک انتظامی علاقائی نظام کی حمایت کر رہی ہے جو دوسری جنگ عظیم اور نوآبادیات کے خاتمے کے بعد تخلیق ہوا۔آج یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عراقی کرد،آج کے اس زمانے میں کس قسم کے حالات میں سے گزر رہے ہیں اور کیا وجہ ہے کہ ایک آزاد وطن کا تصور ان کے لیے باعث کشش ہے؟
بعث حکومت کے خاتمے کے بعد عراق،ایک غیر منظم وفاق می تبدیل ہوگیا ۔عراقی وفاقیت پر اکثر ہی تنقید کی جاتی تھی کہ اس نے ایک نسلی گروہ کو دوسروں کی قربانی پر ترجیح دی جو اس وقت اقلیت میں ہے۔2005ء کے آئین کے مطابق 18عراقی صوبوں میں سے محض تین صوبے جن میں کرد آبادی موجودہے خود مختار کرد خطے کے باسی ہیں۔لیکن عراقی کردستان کی خود مختاری ،حقیقتاً لامحدود ہے اس کے حکومت کو حق حاصل ہے کہ اپنی مسلح افواج قائم کی جائیں ،آزاد خارجہ پالیسی اپنائی جائے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کودعوت دی جائے۔

عراق کے 15صوبے جن میں عرب رہتے ہیں کو اس قسم کی کوئی بھی چیز میسر نہیں جس کے باعث وہ بجا طور پر غیر مطمئن ہونے کے حق دار ہیں۔اس ضمن میں مشرق وسطیٰ کے پڑھے لکھے طبقوں اور سیاسی افراد میں جہاں فرد واحد کی طاقت بہت زیادہ مضبوط ہے ،عراقی وفاقیت کے تجربے کو اکثر ہی ناکامی سے تعبیر کیا جاتا رہا ہے۔طاقت واختیار کی مرکز گزیر نوعیت نے عراقی کردوں کے لیے آسانی مہیا کر دی ۔جو اس وقت ملک کی آبادی کا تقریباً 20فیصد ہیں کہ وہ وسط 2000ء کے ایجنڈے میں سے مکمل آزادی کا معاملہ ہٹادیں۔

وہ وفاق جو آزاد حکومت اور مشترکہ حکومت کو ملا دیتا ہے ،نے ایک ’’خوابیدہ‘‘خود مختاری کا تصور دیا۔جب کہ عراقی کردوں کی مکمل سیاسی خود مختاری ،کسی بھی طرح علاقائی سیاسی کھلاڑیوں کے لیے مفید نہیں ہوگی ،ایک ایسا نظام جس کے تحت ایک نیم آزاد Erbilجو ایک مشترکہ ریاست کے اندر ہو کہیں کم نقصان دہ ہے اور یوں علاقائی سلامتی کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند ثابت ہوگی۔

اندریں حالات یہ سوچ پیدا ہوتی ہے کہ نئے بہت بڑ ے بڑے منصوبے بنائے جائیں جن میں سے ایک یقینی طور پر ’’آزادی کا کھیل‘‘ہو سکتا ہے ۔
جہاں تک روس کا معاملہ ہے ۔یہ چال ممکن ہے کہ درست ثابت ہو اور حتیٰ کہ اس وقت بھی ٹھیک ہو کہ ملک میں ایک واحد نظام تشکیل دیا جائے لیکن کریمٹن ابھی تک اس خوشحال اور وسائل سے مالا مال جمہوریہ سے دوفوائد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں رہا جن کے حصو ل کے لیے روس گزشتہ پندرہ برس سے کوششیں کر رہا ہے ۔
اب صرف وقت ہی بتائے گا کہ کیا عراقی کردستان،آزادی کے اس کھیل میں کامیابی حاصل کر پائے گا؟اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سے پہلے ہی عراقی کردستان کو ایک آزاد وطن بنانے کے لیے بہت سی کوششیں کی جاچکی ہیں حالانکہ صدام حسین کے عہد میں عراقی کردوں کو اپنا الگ وطن بنانے کی کوششوں میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑاتھا۔
پھر جب عراق امریکہ اور برطانیہ نے جنگ مسلط کر دی ،عراق پر بموں کی برسات کر دی ،عراق میں ہر طرف تباہی کا سماں پیدا ہو گیا ،صدام حسین کو کچھ عرصے بعد دنیائے فانی سے کوچ کا پروانہ تھما دیا گیا تو عراقو میں فرد واحد کی حکومت کے خاتمے کے بعد عراقی کردوں کو بھی یہ امید بندھی کہ وہ اپنا ایک الگ وطن قائم کر سکیں گے۔
(بشکریہ :الجزائر ۔۔ترجمہ:ریاض محمود انجم)



WhatsApp




متعلقہ خبریں
عمران خان نے انیس سو انتالیس کے میونخ کا حوالہ ... مزید پڑھیں
بلوچستان سے خلائی سائینسدان کا ظہور ... مزید پڑھیں
ٹیم اور کپتان ... مزید پڑھیں
بھٹو کیوں زندہ ہے؟ ... مزید پڑھیں
شاہ سلمان کی آمد ۔۔۔بہار کی آمد ... مزید پڑھیں
افغان باقی، کہسار باقی ... مزید پڑھیں
اقلیتوں کا عالمی دن۔۔۔تجزیہ ... مزید پڑھیں
ارض حرمین پر منڈلاتی گھٹائیں ... مزید پڑھیں
سانپ اور سیڑھی کا کھیل ... مزید پڑھیں
اسرائیلی تاریخ ... مزید پڑھیں
آسیہ" نامی عیسائی عورت اور ہمارا قانون ... مزید پڑھیں
ارضِ حرمین پر منڈلاتی گھٹائیں ... مزید پڑھیں
حکمرانوں کے تابناک اور روشن کردار ... مزید پڑھیں
فاطمہ بنت پاکستان کا مقدمہ ... مزید پڑھیں
یہ رہی تمہاری تلاش ... مزید پڑھیں
اقوام متحدہ کے اجلاس کی روداد ... مزید پڑھیں
متعلقہ خبریں
سیاست کے کھیل کا بارہواں کھلاڑی
عمران خان نے انیس سو انتالیس کے میونخ کا حوالہ کیوں دیا؟
بلوچستان سے خلائی سائینسدان کا ظہور
ٹیم اور کپتان
بھٹو کیوں زندہ ہے؟
شاہ سلمان کی آمد ۔۔۔بہار کی آمد
افغان باقی، کہسار باقی
اقلیتوں کا عالمی دن۔۔۔تجزیہ
ارض حرمین پر منڈلاتی گھٹائیں
سانپ اور سیڑھی کا کھیل

مقبول خبریں
ویڈیو گیلری

آزادی کی تحریکوں کو دبایا تو جا سکتا ہے لیکن ختم نہیں کیا جا سکتا : پاکستانی ہائی کمشنرعبدالباسط

بھارتی اشتعال انگیزی کا ذمہ داری سے جواب دے رہے ہیں ،عاصم باجوہ

پاکستان اورسعودی عرب حقیقی بھائی ہیں،علما اکرام مسلم امت کے اتحاد میں کردار ادا کریں:امام کعبہ

بڈگام میں بھارتی فوج کی فائرنگ، مزید 8 کشمیری شہید، پاکستان کا شدید احتجاج

فرانس میں فائرنگ کرکے 3 افراد کوقتل کرنے والے حملہ آورکی ہلاکت کی تصدیق

سپورٹس
انٹرنیشنل کرکٹ چاہیے بھلے ’بی ٹیم‘ ہی سہی
اکتوبر 1990 میں نیوزی لینڈ کی ٹیم کو پاکستان کے دورے پہ مزید پڑھیں ...
ویب ٹی وی
ٹورازم
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔ posted by Abdur مزید پڑھیں ...
انٹرٹینمینٹ
وینا اداکاری سے گلوکاری کا سفر
وینا ملک کو زیادہ تر لوگ بطور اداکارہ و ماڈل جانتے ہیں مزید پڑھیں ...
مذہب
بیویاں شوہروں کو طلاق دے سکیں گی والا نکاح نامہ زیرغور نہیں، اسلامی نظریاتی کونسل
اسلام آباد(ویب ڈیسک) اسلامی نظریاتی کونسل کا کہنا ہے کہ مزید پڑھیں ...
بزنس
10 بینکوں کو80 کروڑ روپے سے زائد جرمانہ
10 بینکوں کو80 کروڑ روپے سے زائد جرمانہ، کون کونسے بینک مزید پڑھیں ...