اردو | العربیہ | English



اردو | العربیہ | English

ایرانی صدر نے بھارت کیلئے تاریخ کا سب سے بڑا اعلان کردیا

جیش العدل اور آخری راؤنڈ


WhatsApp
258




بدھ 27اپریل کی شب کو ایران کے جنوب مشرقی صوبے’’ سیستان بلوچستان‘‘ میں ایرانی مسلح گروپ جیش العدل نے حملہ کر کے 10ایرانی سرحدی محافظوں کو ہلاک کر دیا ۔ جس کی جتنی مذمت کی جائے اتنی ہی کم ہے ۔اس موقع پر ایران کے صدر محترم حسن روحانی کے اس بیان پر ’’ اس حملے میں ارض پاک استعمال ہوئی ہے ‘‘ سے مجھ سمیت ہر اس پاکستانی کو دلی رنج ہوا جو پڑوسی ملک کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنے کا خواہاں ہے ۔

محترم روحانی کے اس بیان سے مجھے ماضی کا ایک واقعہ یاد آگیا ۔ فروری2014 کو پڑوسی ملک کے سیکورٹی زون سے 5سیکورٹی اہلکاروں کو اغو کر لیا گیا ،جس کے ساتھ ہی پڑوسی ملک کے میڈیا کی توپوں کا رخ اچانک پاکستان کی طرف ہو گیا ۔ تب اس ملک کے ذمہ دار اداروں کی جانب سے ختم نہ ہونے والے بے بنیاد الزامات کا سلسلہ شروع ہوگیا کہ اس اغوا میں پاکستان کی بعض دہشت گرد تنظیمیں ملوث ہیں ، اور دنیا کو یہ باور کرانے کی ناکام کوشش کی گئی کہ بالواسطہ یا بلاواسطہ ان تنظیموں کو حکومت پاکستان کی سپورٹ حاصل تھی ۔ اسی آڑ میں کبھی پاکستان کو دھمکیاں دی گئی تو کبھی پاکستان کے اندرSurgical Strike کا عندیہ دیا گیا ۔ پڑوسی ملک کی جانب سے بے جا الزامات کا سلسلہ کئی ہفتوں تک جاری رہا۔ جس سے ایران اور پاکستان کے تعلقات سخت تناؤ کا شکار ہو گے تھے۔ راقم کی رائے میں محترم روحانی صاحب کو اپنے ملک کے ایسے انتہا پسندبھارت نواز حلقوں کا سختی کے ساتھ نوٹس لینا چاہیے جومملکت اسلامیہ پاکستان اور ایران کے دیرینہ تعلقات کو سبوتاژ کرنے کی گھناؤنی سازش کرتے رہتے ہیں ۔

جیش العدل مکمل طورپر ایرانی عسکری تنظیم ہے ۔جس کا قیام ایرانی صوبے’’ سیستان بلوچستان‘‘ میں 2012میں عمل میں آیا تھا ۔ جس کا پاکستان یا پاکستان کے سیکورٹی اداروں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ درحقیقت پچھلے 35سالوں سے جب سے پڑوسی ملک میں ایک مخصوص طبقے نے اقتدار حاصل کیا ہے ، تب سے وہاں کے اہل سنت کے بنیادی ، انسانی و مذہبی حقوق کو سختی کے ساتھ پامال کیا جا رہا ہے ، آخرکار جیش العدل اپنی شخصی آزادی اور مذہبی حقوق نہ ملنے کی وجہ سے یہ راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوگئی۔ یہودی جو ایران کی کل آبادی کا ایک فیصد بھی نہیں مگر ان کے 3 ممبر آف پارلیمنٹ بن سکتے ہیں . لیکن اہل سنت جو ایران کی آبادی کا 20%ہیں انکا ممبر آف پارلیمنٹ بننا تقریباََ ناممکن بنا دیا گیا ہے ۔ اسی طرح ایران کے 31صوبوں میں سب سے زیادہ پس ماندہ یہی صوبہ سیستان ہے جہاں 20لاکھ سے زائد اہل سنت بستے ہیں ۔ دنیا میں بہت کم لوگوں کو اس بات کا علم ہے کہ پاکستان کی طرح ایران میں بھی ایک صوبہ’’ سیستان بلوچستان‘‘ کے نام سے موجود ہے ، جو پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے ملحقہ ہے . لیکن بڑے دکھ کے ساتھ عرض کر نا پڑرہا ہے کہ جب بھی ایرانی سیستان صوبہ میں کوئی بھی چھوٹا بڑا واقعہ رونما ہوتا تو پڑوسی ملک کا میڈیا ان واقعات کو مملکت اسلامیہ پاکستان کے بلوچستان سے نتھی کر کے دنیا بھر میں کچھ اس قسم کا تاثر دینے کی کوشش کرتا ہے کہ ان واردات میں پاکستانی گروپس ملوث ہیں ۔ ایرانی جیش العدل کے چیف عبد الرؤف سے جب میڈیا نے سوال کہ کیا آپ کا پاکستان کے ساتھ کوئی تعلق ہے ؟ تو اس نے کہا کہ ہمارا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں بلکہ ہم حیران ہیں کہ ہمارا ملک ( ایران ) کا میڈیا ہمیں زبردستی پاکستانی شہری بنانے پر تلا ہوا ہے ۔ بلکہ ہماری ہمدریاں پاکستانی بلوچستان کے ان علیحد گی پسندوں کے ساتھ ہیں جو اپنے حقوق کے حصول کے لیئے ہتھیار اٹھا کر حکومت پاکستان کے خلاف لڑ رہے ہیں ،کیونکہ وہ بھی ہماری طرح مظلوم ہیں ۔یہاں سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ جیش العدل ہمارے ملک کے بارے میں کتنے منفی خیالات رکھتی ہے ۔
جب بھی ہم سچ لکھنے یا بولنے لگتے ہیں یار دوست کچھ زیادہ ہی ناراض ہوجاتے ہیں ۔ آخر کار6اپریل کو ایرانی مغوی اہلکار ، ایرانی حکومت اور ایرانی علماء کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بعد رہا کیئے گے تھے ۔اور پھر ان مغویوں کو ایرانی سرحدوں جو افغانستان سے ملتی ہیں سے بازیاب کرایا گیا . جھوٹ آخر جھوٹ ہوتا ہے ایک دن ظاہر ہو ہی جاتا ہے ۔ مختصراََ جیش العدل نے ان فوجیوں کی رہائی کے لیئے ایرانی حمایت یافتہ اور اپنی ہی قوم کے سفاک قاتل نصیری بشار فورسز کی تحویل میں 300 مسلمان خواتین کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا . جس کی وجہ سے ایران کی اس وقت بین الاقوامی سفارتی سطح پر خاصی سبکی ہوئی تھی۔

دراصل کچھ پس پردہ ہاتھ مملکت اسلامیہ پاکستان اور سعودیہ کے بڑھتے ہوئے تعلقات اورمسلم ملٹری اتحاد کو بنیاد بنا کر ایران اور پاکستان کے تعلقات کو خراب کرکے خطے کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتے ہیں ۔ مارچ 2014کو نئی دہلی میں CIAکی سرپرستی میں ہونے والے اجلاس جس میں ، اسرائیل کی’’ Mossad‘‘ افغانستان کی ’’ Khad ‘‘ ایران کی ’’ Vevak ‘‘ اور انڈیا کی ’’ Raw‘ نے بھرپور شرکت کی تھی کہ جس کا ایجنڈہ تھا کہ دنیا بھرمیں پاکستان و سعودیہ کو بطور دہشت گرد ممالک بدنام کیا جائے اور یہ باور کروایا جائے کہ دنیا بھر میں جتنی بھی دہشت گردی ہو رہی ہے ان کے پیچھے انہی دو ممالک کا ہاتھ ہے ۔

حقیقت تو یہ ہے کہ اس وقت کئی ممالک کی خفیہ ایجنسیاں خطے میں اثر انداز ہونے کی کوشش کررہی ہیں ۔ اور ان کی پوری کوشش ہے کہ کسی طرح لاالہ الا اللہ کے نام پر معرضِ وجود میں آنے والی مملکت اسلامیہ پاکستان کو سیاسی ، مذہبی ، معاشی اور عسکری طورپر عدم استحکام کا شکارکر کے اسے مزید ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ اسی سلسلے کی کڑی کے طور پر 9اپریل 2014کو دہلی میں نئی دہلی پالیسی گروپ میں دو تجزیاتی رپورٹ کا افتتاح کرتے ہوئے سیکریٹری خارجہ سجاتا سنگھ نے کہا کہ’’ بھارت افغانستان میں ایک طویل عرصے تک قیام کرنے کی منصوبہ بندی کر چکا ہے اوروہاں سے نکلنے کی کوئی اسٹریجی نہیں ہے ‘‘ اس موقع پر افغانستان کے سارے پڑوسیوں کے سفیر موجود تھے جنہوں نے اس پالیسی کی حمایت کی تھی ۔بہرحال ایک بات طے شدہ ہے ،پاک سیکورٹی ادارے ،کشمیری جہادی قیادتوں کاخاتمہ ،ایٹمی اثاثہ جات اور پاکستان کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنا صہیونیوں اور ان کے گماشتوں کی ترجیحات میں شامل ہے۔ راقم نے 12 اپریل کو اسلام آباد میں ایک بڑے غیر سرکاری تھینک ٹینک سے صاف صاف کہہ دیا تھاکہ امریکہ افغانستان میں عبداللہ عبداللہ اور انڈیا میں مودی کو لائے گا ، کیونکہ مملکتِ اسلامیہ کے خلاف آخری راؤنڈ میں اسلام دشمن طاقتیں کوئی بھی رسک لینے کے لیئے تیار نہیں ۔


WhatsApp




متعلقہ خبریں
حقوقِ نسواں کا غلط استعمال ... مزید پڑھیں
’’34 ملکوں کا مذاق‘‘ ... مزید پڑھیں
اسلام میں عورت کا مقام ... مزید پڑھیں
غم کی طویل رات ... مزید پڑھیں
گنگو تیلی ... مزید پڑھیں
نیب کا جن بوتل سے باہر ... مزید پڑھیں
اقبال کا پا کستان ( لوہے کا چنا ) ... مزید پڑھیں
پاکستان میں چینیوں کی سیکورٹی، اولیں ذمے داری ... مزید پڑھیں
سی پیک کے بارے میں بدگمانیوں کا نیا سلسلہ ... مزید پڑھیں
پاکستان بمقابلہ حکومت پاکستان ... مزید پڑھیں
سازش ... مزید پڑھیں
برکس مشترکہ اعلامیہ میں لشکر طیبہ اور جیش محمد کی ... مزید پڑھیں
در پولیس کو سلام اور سیف سٹی پراجیکٹ کا نوحہ ... مزید پڑھیں
73 روپے کی زندگی ... مزید پڑھیں
پاکستان نے نریندر مودی کے اسرائیلی دورے پر تشویش کا ... مزید پڑھیں
احساس خوشی ... مزید پڑھیں
متعلقہ خبریں
"سیاسی اصطبل کے گدھے "
حقوقِ نسواں کا غلط استعمال
’’34 ملکوں کا مذاق‘‘
اسلام میں عورت کا مقام
غم کی طویل رات
گنگو تیلی
نیب کا جن بوتل سے باہر
اقبال کا پا کستان ( لوہے کا چنا )
پاکستان میں چینیوں کی سیکورٹی، اولیں ذمے داری
سی پیک کے بارے میں بدگمانیوں کا نیا سلسلہ

مقبول خبریں
ویڈیو گیلری

آزادی کی تحریکوں کو دبایا تو جا سکتا ہے لیکن ختم نہیں کیا جا سکتا : پاکستانی ہائی کمشنرعبدالباسط

بھارتی اشتعال انگیزی کا ذمہ داری سے جواب دے رہے ہیں ،عاصم باجوہ

پاکستان اورسعودی عرب حقیقی بھائی ہیں،علما اکرام مسلم امت کے اتحاد میں کردار ادا کریں:امام کعبہ

بڈگام میں بھارتی فوج کی فائرنگ، مزید 8 کشمیری شہید، پاکستان کا شدید احتجاج

فرانس میں تیز رفتار گاڑی فوجیوں پر چڑھ دوڑی، 6 زخمی

سپورٹس
وسیم اکرم اورشنیرا کی خوبصورت تصاویر وائرل
لاہور (ویب ڈیسک) وسیم اکرم اپنی اہلیہ شنیرا کے ساتھ سیاحت کا مزید پڑھیں ...
ویب ٹی وی
ٹورازم
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔ posted by Abdur مزید پڑھیں ...
انٹرٹینمینٹ
ماہرہ خان کی ساحل سمندر پرنئی تصاویر وائرل
لاہور(یو این پی )پاکستان اداکارہ ماہرہ خان کی ساحل سمندر پر تصاویر مزید پڑھیں ...
مذہب
درود پر تنازع‘ جہلم ،مسجد کے منتظم پر توہینِ مذہب کا مقدمہ
جہلم ( ویب ڈیسک) پاکستان کے صوبۂ پنجاب کے ضلع جہلم کی مزید پڑھیں ...
بزنس
اتحاد اور ایمریٹس ایئر لائن کا پی آئی اے کی خریداری میں دلچسپی کا اظہار
اسلام آباد (ویب ڈیسک) حکومت نے انتخابات سے قبل پی آئی مزید پڑھیں ...