اردو | العربیہ | English



اردو | العربیہ | English

یورپی یونین سے انخلا کیلیے برطانیہ کو 31 جنوری تک مہلت مل گئی

مسٹر ورسز ملا


WhatsApp
1018





ویسے میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ انگریز بہت شاطر تھا ۔ہندوستان سے جاتے جاتے بھی ہمارے ساتھ کتنا بڑا ہاتھ کر گیا۔۔۔پوچھیئے کیسے!!!وہ ایسے کہ ہمیں ایسا تعلیمی نظام دے گیا جس نے ہمارے معاشرے کودو واضح حصوں میں تقسیم کر دیا ۔
’’ایک مسٹر اور دوسرا ملا‘‘

آگے چل کر یہ دونوں حصے ایک دوسرے کی ضد بن گئے اور معاشرے کی اکثریت ان دو انتہاؤں میں منقسم ہوگئی۔معیانہ رو لوگوں کی تعداد دن بدن کم ہوتی چلی گئی۔ مسٹر طبقے نے پوری طرح انگریز کو اپنا آئیڈیل بنا لیا اور

آقا کی طرح اسے پوجنے لگا۔لیکن علامہ محمد اقبال کا وہ تجزیہ بھول گیا کہ:
ؔ برا نہ مان ذرا آزما کے دیکھ اسے
فرنگ دل کی خرابی خرد کی معموری

یہاں مجھے بے ساختہ حبیب جالب صاحب کے وہ الفاظ یاد آگئے جوانہوں نے مسٹر طبقے کی شان میں کہے تھے
ؔ فرنگی کا جومیں دربان ہوتا
مرے بچے بھی امریکہ میں پڑھتے
مری انگلش بھی بلا کی چست ہوتی
سر جھکا کے جو ہوجاتا سر میں
زمینیں مری ہر صوبے میں ہوتیں
تو جینا کس قدر آسان ہوتا
میں ہر گرمی میں انگلستان ہوتا
بلا سے جو نہ میں اردو دان ہوتا
, تو لیڈ ر بھی عظیم الشان ہوتا
میں واللہ صدر پاکستان ہوتا
لارڈ میکالے کے پیش کردہ اس تعلیمی نظام کے بارے میں ہی اقبال ؒ نے فرمایاتھا کہ :

ؔ تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو
ہو جائے ملائم تو جدھر چاہے اسے موڑ
اب جب کہ مسٹر طبقے نے معاشرے میں کچھ غلبہ حاصل کر لیا تو دوسرے طبقے یعنی’’ ملا ‘‘کو اپنی فکر لاحق ہوئی ۔لہذا وہ دین پر قبضہ جما بیٹھا ۔لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوئی۔اصل مسئلے کی شروعات ہی ادھر سے ہوتی ہے۔مسٹر طبقے میں آہستہ آہستہ کچھ دین بیزار قسم کے لوگوں نے جنم لیا اور پھر اظہار رائے کی آزادی کا لبادہ اوڑھ کر وہ گھناؤنا کھیل کھیلا کہ بیان کرنا محال ہے۔تحریر وتقریر کی آزادی کا بے جا اور ناجائز استعمال کرتے ہوئے نہ صرف جان سے بھی بڑھ کر عزیز ملک پاکستان اور اس ملک کا مخلص ترین ادارہ جو ہر وقت قربانی کے لیے تیار رہتا ہے یعنی پاک فوج ۔اسے بھی زچ اور رسوا کرنے کی کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ بلکہ دین اسلام ،اللہ رب العزت ،حضور پور نور ﷺ کی ذات،صحابہ ،امہات المومنین اور اولیا اللہ کی ذات کو نشانہ بنایا

جس کا واضح ثبوت آپ کو سلمان حید ر ،وقاص گورایا اور دیگر انتہا پسند سیکولرز کی تحریر وتقریر سے مل جائے گا۔تو جناب آپ خود فیصلہ کیجئے کہ پھر ممتاز قادری جیسے لوگ کیسے نہیں پیدا ہوں گے حضور والا!معاشرے میں یہ تصویر تھی مسٹر طبقے کی انتہا پسندی کی۔اب چلتے ہیں ملا طبقے کی انتہا پسندی کی طرف۔اگر آپ ماضی بعید میں جائیں اور اس دور کا جائزہ لیں ۔جب مسلمان دنیا کی سپر پاور تھے۔تو ان کا تعلیمی نظام کیساتھا؟میں تفصیل سے بچتے ہوئے صرف اتنا عرض کرتاچلوں کہ اس وقت ان کا نظام تعلیم بہترین تھا ،جس میں نہ صرف دین کی تمام تر ضروری تعلیم دی جاتی تھی بلکہ جدید سائنسی علوم کو بھی بڑی اہمیت دی جاتی تھی ۔جس کا واضح ثبوت جابر بن حیان ،ابن الہیثم ،ابن جوزی،الخوارزمی ،عمر خیان،الفارابی ،ابن سینا ،ابن بطوطہ ،الرازی،الغزالی ،الکندی،ابن خلدون،ابوالقاسم زاہروی اور البیرونی وغیر ہ جیسے بڑے بڑے عظیم المرتبت اور فقید المثال لوگ ہیں۔پھر بتدریج امت مسلمہ زوال کی تمام تر منازل طے کرتی ہوئی خلافت عثمانیہ کےخاکمتے تک پہنچ گئی اور تب سے اب تک ایک متفقہ مرکز سے محروم ہے۔

قارئین محترم!’’ذرا حالات کی ستم ظریفی تو ملاحظہ کیجئے کہ ایک وقت تھا جب برصغیر میں مسلمان قوم کو ایک وطن کی ضرورت تھی اور آج اس وطن کو ایک قوم کی ضرورت ہے۔‘‘
قارئین کرام!ہو سکتا ہے کہ آپ میں سے کسی کو میری کسی بات پر اعتراض ہو مگر میرا ناقص مطالعہ یہ کہتا ہے کہ دین اسلام اہل کردار لوگوں کی بلنداخلاقی صفات کے ذریعے پھیلا ہے نہ کہ فقط زبانی جمع تفریق سے ۔اب ذرا موازنہ کیجئے کہ کیا آج کے دور میں بھی تبلیغ دین اسی طریقے سے کی جارہی ہے؟؟بڑی معذرت کے ساتھ مگر اب ایسا نہیں ہے ۔کیوں؟؟؟کیونکہ اولاًمسلمان صاحب کردار ہی نہیں ہیں ،دوم مختلف گروپوں ،جماعتوں اور فرقوں میں تقسیم در تقسیم ہوتے چلے گئے اور ہر فرقہ ہر جماعت اپنے آپ کو صحیح اور حق پر ثابت کرنے کے لیے دوسرے فرقے یا جماعت سے جانی دشمنوں سے بھی بد تر سلوک کرنے لگا۔اسلام کے نمائندے بھی اسلام کا بنیادی آموختہ بھول گئے جس سے حضور ﷺ کے پوری زندگی عبارت ہے۔یعنی حسن سلوک اور حسن اخلاق ۔ؔہے مملکت پاکستان میں اک طرفہ تماشااسلام ہے محبوس مسلمان ہے آزادبات کفر کے فتووں سے آگے بڑھی تو ان جماعتوں سے کچھ مسلح گروہ برآمد ہوئے۔جنہوں نے دوسرے فرقے کے لوگوں کے خون سے ہاتھ رنگنے کو باعث ثواب قرار دیا۔بحیثیت مسلمان صحافی میں کسی بھی گروہ یا جماعت کا نام اس لئے نہیں لے رہا کیونکہ میرا دین مجھے دوسروں کی دل آزاری سے منع کرتا ہے اور میرا پیشہ مجھ سے غیر جانبدار یت کا تقاضا کرتا ہے ورنہ مثالوں کا میرے پاس ایک انبار ہے۔بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ملا ازم کے اس کلچر نے ہمارے دین کی تصویر اس قدر الجھا دی ہے کہ ایک غیر مسلم بھی اسلام قبول کرنے سے پہلے پوچھتا ہے کہ سر۔۔۔میں کونسا مسلمان بنو؟(شیعہ،سنی،دیوبندی یا وہابی!!!)اور یہ کوئی فرضی جملہ نہیں بلکہ میری آپ بیتی ہے۔
ایک بات بالکل واضح کر دوں کہ میں کسی کی بھی وکالت کرنے کے لیے قلم کشائی نہیں کرتا ۔ہمیشہ غیر جانبدار رہ کر حقائق سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔حضرت اگر انتہا پسندی موم بتی مافیا کی طرف سے دیکھنے میں آتی ہے تو کم کچھ مولوی حضرات بھی نہیں کرتے۔لیکن ایک بات ہے ۔۔الحمدللہ ۔اب بھی میرے وطن عزیز میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے کچھ اہل علم وعقل اور صاحب کردار لوگ بھی موجود ہیں مگر انہیں منظر عام پر لایا ہی نہیں جاتا۔دین کی الجھی ہوئی تصویر پیش کرنے میں ہمارے میڈیا کا بھی برابر کا ہاتھ ہے جو صاحب علم وعقل لوگوں کی بجائے چند مخصوص جہلا (جو عالم کم اور ایکٹر زیادہ ہوں)کو اپنے پروگراموں میں بلا کر لڑواتا ہے۔کشتی کرواتا ہے اور زیادہ سے زیادہ ریٹنگ حاصل کرتا ہے۔خدارا اس حقیقت کو تسلیم کرنے کی سعی کریں کہ ایک ہی وقت میں دومختلف نظریات رکھنے والے لوگ صاحب کردار ہو سکتے ہیں۔ایک دوسرے کی بات برداشت کرنے کی بجائے کب تک ایک دوسرے کے گلے کاٹتے رہو گے بھائی!!!بس کر دو اب بہت ہو چکا ۔۔۔دل خون کے آنسو رو رتا ہے جب اس طرح کے واقعات دیکھنے سننے کو ملتے ہیں کہ کسی مشال پر گستاخی کا الزام لگا یا پھر اپنی ہی عدالت لگائی اور اسے سزائے موت سنا دی ۔اوئے اسلام کی غلط تصویر پیش کرنے والو !اوئے اسلام کو اپنے ناپاک اور گندے عزائم کے لئے استعمال کرنے والو !کیا میرے رب نے ارشاد نہیں فرمایا کہ’’ جب کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کر لو،ایسا نہ ہو کہ تم نادانی میں کسی کا نقصان کر بیٹھو اور پھر تمہیں اپنے کئے پر ندامت ہو۔(حجرات۔6)

قطع نظراس کے کہ وہ گستاخ تھا یا نہیں ۔میں تم سے پوچھتا ہوں کہ تمہیں کس نے اختیار دیا کہ قانون اپنے ہاتھ میں لے کر فساد فی الارض پھیلاؤ۔اور سب سے زیادہ غصہ تو مجھے اپنی انتظامیہ اور عدلیہ پر ہے جو شاید بھنگ پی کر سو رہی ہے ۔جس ملک میں قانون کے دوہرے معیار ہوں گے ۔وہاں ایسے ہی خود ساختہ عدالتیں لگنا شروع ہوجائیں گی ۔جس عدالت نے ایان علی،شرجیل میمن اور ڈاکٹر عاصم جیسوں کو رہا کر دیا ۔پانامہ کیس پر مستقل چپ سادھے رکھی ۔سات آٹھ سال آسیہ ملعونہ کی پھانسی پر عملدارآمد نہیں کروایا ،اس سے کسی خیر کی امید بے سود ہے۔

مجھے رہ زنی کا ڈر نہیں ،تیری رہبری کا سوال ہے!!!
ؔ ڈرو خدا سے ہوش کر و کچھ مکروریا سے کام نہ لو
یااسلام پہ چلنا سیکھو یا اسلام کا نام نہ لو
ڈرتا ہوں میں کہ کہیں تاریخ اپنا وہ واقعہ پھر سے نہ دہرا دے کہ بغداد میں مسلمانوں کے بڑے بڑے مجمعوں میں مناظرے چل رہے تھے اور ہلاکو خان نے سب کو تہہ تیغ کر دیا ۔اس کی تلوار نے کسی سے نہیں پوچھا تم شعیہ ہو کے سنی ۔





WhatsApp




متعلقہ خبریں
عمران خان نے انیس سو انتالیس کے میونخ کا حوالہ ... مزید پڑھیں
بلوچستان سے خلائی سائینسدان کا ظہور ... مزید پڑھیں
ٹیم اور کپتان ... مزید پڑھیں
بھٹو کیوں زندہ ہے؟ ... مزید پڑھیں
شاہ سلمان کی آمد ۔۔۔بہار کی آمد ... مزید پڑھیں
افغان باقی، کہسار باقی ... مزید پڑھیں
اقلیتوں کا عالمی دن۔۔۔تجزیہ ... مزید پڑھیں
ارض حرمین پر منڈلاتی گھٹائیں ... مزید پڑھیں
سانپ اور سیڑھی کا کھیل ... مزید پڑھیں
اسرائیلی تاریخ ... مزید پڑھیں
آسیہ" نامی عیسائی عورت اور ہمارا قانون ... مزید پڑھیں
ارضِ حرمین پر منڈلاتی گھٹائیں ... مزید پڑھیں
حکمرانوں کے تابناک اور روشن کردار ... مزید پڑھیں
فاطمہ بنت پاکستان کا مقدمہ ... مزید پڑھیں
یہ رہی تمہاری تلاش ... مزید پڑھیں
اقوام متحدہ کے اجلاس کی روداد ... مزید پڑھیں
متعلقہ خبریں
سیاست کے کھیل کا بارہواں کھلاڑی
عمران خان نے انیس سو انتالیس کے میونخ کا حوالہ کیوں دیا؟
بلوچستان سے خلائی سائینسدان کا ظہور
ٹیم اور کپتان
بھٹو کیوں زندہ ہے؟
شاہ سلمان کی آمد ۔۔۔بہار کی آمد
افغان باقی، کہسار باقی
اقلیتوں کا عالمی دن۔۔۔تجزیہ
ارض حرمین پر منڈلاتی گھٹائیں
سانپ اور سیڑھی کا کھیل

مقبول خبریں
ویڈیو گیلری

آزادی کی تحریکوں کو دبایا تو جا سکتا ہے لیکن ختم نہیں کیا جا سکتا : پاکستانی ہائی کمشنرعبدالباسط

بھارتی اشتعال انگیزی کا ذمہ داری سے جواب دے رہے ہیں ،عاصم باجوہ

پاکستان اورسعودی عرب حقیقی بھائی ہیں،علما اکرام مسلم امت کے اتحاد میں کردار ادا کریں:امام کعبہ

بڈگام میں بھارتی فوج کی فائرنگ، مزید 8 کشمیری شہید، پاکستان کا شدید احتجاج

فرانس میں فائرنگ کرکے 3 افراد کوقتل کرنے والے حملہ آورکی ہلاکت کی تصدیق

سپورٹس
انٹرنیشنل کرکٹ چاہیے بھلے ’بی ٹیم‘ ہی سہی
اکتوبر 1990 میں نیوزی لینڈ کی ٹیم کو پاکستان کے دورے پہ مزید پڑھیں ...
ویب ٹی وی
ٹورازم
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔ posted by Abdur مزید پڑھیں ...
انٹرٹینمینٹ
وینا اداکاری سے گلوکاری کا سفر
وینا ملک کو زیادہ تر لوگ بطور اداکارہ و ماڈل جانتے ہیں مزید پڑھیں ...
مذہب
بیویاں شوہروں کو طلاق دے سکیں گی والا نکاح نامہ زیرغور نہیں، اسلامی نظریاتی کونسل
اسلام آباد(ویب ڈیسک) اسلامی نظریاتی کونسل کا کہنا ہے کہ مزید پڑھیں ...
بزنس
10 بینکوں کو80 کروڑ روپے سے زائد جرمانہ
10 بینکوں کو80 کروڑ روپے سے زائد جرمانہ، کون کونسے بینک مزید پڑھیں ...