اردو | العربیہ | English



اردو | العربیہ | English

روس کے زیرانتظام کریمیا کے کالج میں بم دھماکے سے 18 افراد ہلاک

ناکام عا شقوں کے نام


WhatsApp
562




اس نے کھڑکی سے پردہ ہٹا کر فلک پر چاند کو ڈھونڈنا چاہا لیکن دھند نے ماحول پر اداسی کی چادر چڑھا کر چاند کو اپنے دامن میں روپوش کر لیا تھا ۔اس نے چند لمحے دھند کے پھیلے غلاف کو دیکھا اور پھر ایک نظر اپنے موبائل پر ڈالی ۔را ت کے بارہ بج چکے تھے ۔تاریخ بھی پچھلے ایک منٹ میں ایک فرلانگ بھر کر 28دسمبر ہو چکی تھی ۔دسمبر کی یخ بستہ راتیں یوں بھی شاعروں اور عاشقوں کے جذبات کو گرمانے کے لیے مشہور ہیں لیکن آج کی تاریخ تو اس کے لیے اور بھی کسی نسبت سے اہم تھی۔چند لمحے وہ موبائل کی سکرین آن کر کے تاریخ کو گھورتا رہا ،انسان حال کے دامن کو جتنی بھی مضبوطی سے تھام لے ۔کبھی کبھی ماضی کی دھند صاف ہونے لگ جاتی ہے اور کچھ دھندلے نقوش واضح ہونے لگ جاتے ہیں۔اس کے خیالوں کا رخ بھی یادوں کی پٹری پر سفر کرتے کرتے اسے ماضی کے روبرو لے آیا تھا۔ایسا تو نہیں تھا کہ وہ سب بھول چکا تھا لیکن یادوں کے اس راستے پر مسافت ترک کرنے میں خاصی حد تک کامیاب ہو گیا تھا۔
سیمل علی!ایک سال قبل آج کے دن اس کے تمام حق سلب کر لیے گئے تھے ۔جس لڑکی سے اس نے بے پناہ محبت کی تھی ۔ایک پل میں اس کا رشتہ کسی اور سے کر دیا گیا اور وہ کچھ نہ کر پایا۔وہ بھی بے بس تھی کیونکہ وہ کسی بھی نسبت سے اس کا تعارف گھر میں نہیں کروا سکتی تھی۔۔۔اور یہ بھی بے بس تھا کہ گھر میں خود سے بڑی دوجوان بہنوں کی موجودگی میں اپنے رشتے کی فرمائش پیش نہیں کر سکتا تھا۔وہ بہت روئی لیکن آنسوالفاظ کی دہلیز پر نہ پہنچ سکے اور بالآخر اسے سر جھکا کر ’’ہاں‘‘کہنی پڑی اور ازلان کو آخری پیغام دینا پڑا کہ میں ہار گئی ۔ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا ہمیشہ خوش رہنا۔

ازلان نے بھی اس حقیقت کو چارو ناچار تسلیم کر لیا اور فیصلہ کر لیا کہ اب سیمل سے کبھی رابطہ نہیں کر ے گا گو کہ یہ بہت مشکل تھا لیکن اس نے خود پر جبر کر لیا اور اس جبر کو آج ایک سال مکمل ہو چکا تھا۔وہ چند لمحے ساکت بیٹھا رہا اور خود سے سوال کیا۔وہ کیسی ہوگی ؟کیا کر رہی ہوگی؟پھر خود ہی ان سوالوں کے جواب ڈھونڈنے لگ گیا۔پھر موبائل کے ان باکس میں گیا اور سیمل سے ماضی میں کی گئی چیٹ کو پڑھنے لگ گیا ۔پھر وہ ٹائپ میسج تک گیا اور خاصی دیر کچھ لکھے بغیر موبائل کو دیکھتا رہا۔۔اس کا ضمیر آڑے آرہا تھا۔لیکن اس کا ضبط ٹوٹ گیا ۔اس نے پیغام لکھا۔’’میرے بغیر گزرنے والا ایک سال مبارک ہو‘‘چند لمحوں بعد ہی جواب آگیا۔۔۔’’آج تو رابطہ کر لیا ہے آج کے بعد نہ کرنا اب میں آپ کی زندگی میں نہیں ہوں‘‘لیکن وہ باز نہ آیا اور مسلسل پیغامات بھیجتا چلا گیا اور لڑکی کا سخت لہجہ بھی رفتہ رفتہ نرم پڑتا چلا گیا اور ان کی گفتگو شروع ہو گئی جو آنے والے دوگھنٹوں تک جاری رہی اور پھر اچانک سیمل کے پیغامات کا سلسلہ تھم گیا۔۔۔اس نے سوچا شائد سو گئی ہوگی۔
اس نے دوبارہ وہ ساری چیٹ پڑھنی شروع کردی جس میں سیمل نے اپنے جلد نکاح کا ذکر بھی کیا تھا اور بار بار اسے بھول جانے کی التجا بھی کی تھی۔۔۔بار بار گزری باتیں یاد نہ کروانے کی دہائی بھی دی تھی۔۔ازلان اس ساری گفتگو کو پڑھنے کے بعد سیڑھیاں چڑھ کر چھت پر آگیا۔دور تک پھیلی دھند میں اسے اپنا عکس واضح نظر آرہا تھا جو خاصی خفا نظروں سے اسے گھوررہا تھا۔اس کا عکس اس سے سوال کر رہا تھا ،پوچھ رہا تھا کہ ’’تم نے ایک ایسی لڑکی سے رابطہ کیوں کیا جس کا رشتہ طے ہو چکا ہے ؟جو کسی اور کی امانت ہے ؟کیا سوچ کر کس امید پر؟؟؟
ازلان اپنے عکس سے نظر یں نہیں ملا پارہا تھا لیکن اپنے دفاع میں اس نے جواب پیش کیا’’کبھی کبھی انسان کا سوچ کے حصار میں رہنا ممکن نہیں ہوتا ،امید کوئی بھی نہیں ہے میں تو صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ وہ ٹھیک ہے نا؟؟عکس نے تلخ لہجے میں جواب دیا’’بہت بری بات ہے سیمل کو اب تمہاری موجودگی کا احساس بھی نہیں دلانا چاہیے اب یہ بات محض دل کی نہیں ہے یہ اخلاقی طو ر پر بھی افسوس ناک ہے کہ تم ایک رشتہ شدہ لڑکی سے رابطہ کرو‘‘
اس کا عکس پھٹ پڑا تھا ہو بولتا چلا گیا’’اصولی طور پر اب تمہیں بھول کر بھی ایک ایسی لڑکی کے بارے میں نہیں سوچنا چاہیے جو کسی اور کے نام سے منسلک ہو چکی ہے ،مجھے تم سے اس قسم کی کمزور حرکت کی توقع نہیں تھی ازلان‘‘بہت ظلم کیا تم نے ۔۔اس لڑکی کو اب پتا نہیں کون کونسی باتیں یاد آرہی ہوں گی ۔۔ماضی کا وہ باب جو اس نے بمشکل بند کیا وہ آج تم نے دوبارہ کھول دیا ۔۔وہ تمہار ا اور اپنے ہونے والے شوہر کا موازنہ کرنے پر مجبور ہوگئی ہوگی ۔۔۔تمہیں اب سیمل کو یہ احساس بھی نہیں دلانا چاہیے کہ وہ تمہیں اب تک یاد ہے۔تم ایسے تو نہیں ہو سکتے ازلان ۔۔۔تم زندگی کے حقائق سے اچھی طرح واقف ہو۔تم جذبات کو سمجھتے ہو۔۔تم عورتوں کی عزت کرتے ہو۔۔تم لوگوں کی محرومیوں کو محسوس کرتے ہو اورتم غم سے نڈھال ہوکر ایک رشتہ شدہ لڑکی سے رابطہ کرنے کی حد تک جاسکتے ہو۔۔حد ہوگئی۔۔اب کہاں گئی تمہاری حقیقت پسندانہ سوچ جس کا درس تم لوگوں کو دیتے ہو؟تم خود تو ایسے نہیں ہو پر یہ حرکت بالکل گلی کے ناکام عاشقو ں والی تھی‘‘
ازلان نے خاموشی کے طویل دورانیے کو توڑتے ہوئے کہا’’یہ سب کہنے سے پہلے پوچھ تو لیتے کہ میں نے رابطہ کیوں کیا؟؟اس کے عکس کے لہجے میں اب حقارت آچکی تھی اس نے کرخت انداز سے کہا ’’کوئی بھی کیوں اس کی وجہ نہیں ہو سکتا ۔۔۔نہ کوئی عیادت ۔۔نہ کوئی تعزیت ۔۔۔نہ کوئی اور وجہ ۔۔۔وہ اب تمہاری کچھ نہیں ہے اور نہ تم اس کے کچھ ہو۔۔اس حقیقت کو بار بار چیلنج نہ کرو۔‘‘
بہت سی لڑکیاں آج اپنے شوہروں سے اور ماں باپ سے محروم ہوئی ہوں گی اور کچھ کو طلاق بھی ہوئی ہوگی ۔پر وہ سب تمہاری کچھ نہیں ہیں۔۔۔تم اگر ان میں سے کسی سے بات کر بھی لیتے تو تب بھی وہ تمہاری کچھ نہ ہوگی اور تب بھی یہی کہا جاتا اس غیر مر د سے بات کیوں کریں جب کہ ہمارے اپنے ابھی موجود ہیں۔اب بھی یہی کہا جارہا ہے کہ سیمل کے سب اپنے موجود ہیں اس کا خیال رکھنے والے ۔۔۔تم اپنے کام سے کام رکھو ۔۔۔

’’اور اگر تمہیں خود کوئی ایسی خاص تکلیف ہے جس کا ازالہ تمہارے خیال میں سیمل ہی کر سکتی ہے تو یہ ممکن نہیں ہے بلکہ ایک بے مقصد خیال ہے‘‘
’’اس لیے مجھے تم سے کوئی بھی ’’کیوں‘‘پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی‘‘
ازلان لاجواب ہوچکا تھا ۔اس کا جسم سخت سردی میں بھی پسینے سے بھیگ چکا تھا ۔ا س نے اپنے عکس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:
’’مجھے آج تم سے ایک بہترین سبق ملا ہے کوشش کروں گا کہ ایسے جتنے لوگوں کو جانتا ہوں جن کے بریک اپ ہو چکے ہیں انہیں بھی یہ سمجھا سکوں‘‘عکس اب دھند میں مدھم ہونا شروع ہو چکا تھا جاتے جاتے وہ مخاطب ہوا۔
’’دل کے رشتوں کا بریک اپ نہیں ہوتا ۔۔بریک اپ کا لفظ مغر ب کی ایجاد ہے ۔۔اگر یہ محبت تھی تو اس کے لیے بریک کا لفظ مناسب نہیں ہے ۔۔ چونکہ مغر ب میں لوگ بغیر شادی کے ساتھ رہتے ہیں اور جب ساتھ نہ رہ سکیں تو بریک اپ ہو جاتا ہے۔یہاں طلاق ہوتی ہے بریک اپ نہیں ۔کیونکہ گرل فرینڈ ایک چیپ لفظ ہے اور سیمل تمہاری گرل فرینڈ نہیں تھی۔تم اس سے شادی کرنا چاہتے تھے اور وہ نہیں ہو سکی۔اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہے وہ دل ہی میں ہے اور آئندہ یہ ہر گز لفظوں کی صورت اختیا نہ کرے‘‘
دھند کا حصار کمزور پڑچکا تھا ۔چاند نے اپنی موجودگی کا احساس دلانا شروع کردیا تھا۔ازلان نے موبائل کی سکرین آن کر کے تاریخ دیکھی ۔اب کی باروہ 28دسمبر کو ایک مختلف نسبت سے یاد رکھنے والاتھا۔ایک اچھی نسبت سے۔


WhatsApp




متعلقہ خبریں
فاطمہ بنت پاکستان کا مقدمہ ... مزید پڑھیں
یہ رہی تمہاری تلاش ... مزید پڑھیں
اقوام متحدہ کے اجلاس کی روداد ... مزید پڑھیں
القدس اپنے محافظ کی تلاش میں ... مزید پڑھیں
یوم یکجہتی کشمیر کا تاریخی تعاقب و اہمیت ... مزید پڑھیں
بنیادی حقوق کا’’سراب‘‘ ... مزید پڑھیں
ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے ... مزید پڑھیں
سانپ اور سیڑھی کا کھیل ... مزید پڑھیں
استادِ محترم کو میرا سلام کہنا ... مزید پڑھیں
استعمای عزائم اور دفاع وطن کے تقاضے ... مزید پڑھیں
بچوں کا اغوا،ا عضاء فروشی اور افواہوں کا بازار ... مزید پڑھیں
کشمیر ۔۔۔۔۔آزادی کی صبح جلد طلوع ہونے والی ہے ... مزید پڑھیں
پھر نئے طالبان ... مزید پڑھیں
"سیاسی اصطبل کے گدھے " ... مزید پڑھیں
حقوقِ نسواں کا غلط استعمال ... مزید پڑھیں
’’34 ملکوں کا مذاق‘‘ ... مزید پڑھیں
متعلقہ خبریں
حکمرانوں کے تابناک اور روشن کردار
فاطمہ بنت پاکستان کا مقدمہ
یہ رہی تمہاری تلاش
اقوام متحدہ کے اجلاس کی روداد
القدس اپنے محافظ کی تلاش میں
یوم یکجہتی کشمیر کا تاریخی تعاقب و اہمیت
بنیادی حقوق کا’’سراب‘‘
ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے
سانپ اور سیڑھی کا کھیل
استادِ محترم کو میرا سلام کہنا

مقبول خبریں
ویڈیو گیلری

آزادی کی تحریکوں کو دبایا تو جا سکتا ہے لیکن ختم نہیں کیا جا سکتا : پاکستانی ہائی کمشنرعبدالباسط

بھارتی اشتعال انگیزی کا ذمہ داری سے جواب دے رہے ہیں ،عاصم باجوہ

پاکستان اورسعودی عرب حقیقی بھائی ہیں،علما اکرام مسلم امت کے اتحاد میں کردار ادا کریں:امام کعبہ

بڈگام میں بھارتی فوج کی فائرنگ، مزید 8 کشمیری شہید، پاکستان کا شدید احتجاج

فرانس میں تیز رفتار گاڑی فوجیوں پر چڑھ دوڑی، 6 زخمی

سپورٹس
یوتھ اولمپکس؛ پاکستانی ریسلر عنایت اللہ نے امریکی حریف کو شکست دے دی
بیونس آئرس(ویب ڈیسک) پاکستانی ریسلر عنایت اللہ نے یوتھ اولمپکس مزید پڑھیں ...
ویب ٹی وی
ٹورازم
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔ posted by Abdur مزید پڑھیں ...
انٹرٹینمینٹ
علی ظفر معصوم بننے کی کوشش کررہا ہے، میشا شفیع
لاہور(ویب ڈیسک) گلوکارہ میشا شفیع نے علی ظفر پر جنسی مزید پڑھیں ...
مذہب
درود پر تنازع‘ جہلم ،مسجد کے منتظم پر توہینِ مذہب کا مقدمہ
جہلم ( ویب ڈیسک) پاکستان کے صوبۂ پنجاب کے ضلع جہلم کی مزید پڑھیں ...
بزنس
زرمبادلہ کے ذخائر 15 ارب ڈالر کی سطح سے نیچے آگئے
کراچی(ویب ڈیسک) رواں ہفتے زر مبادلہ کے ذخائر میں 10 کروڑ مزید پڑھیں ...