اردو | العربیہ | English



اردو | العربیہ | English

ترک صدارتی انتخابات میں رجب طیب اردگان فتح یاب

"دوقومی نظریہ ہی پاکستان کے استحکام اور تحریک آزادی کشمیرکی کامیابی کاضامن ہے"


WhatsApp
455




ہندو مسلم الگ الگ نظریات کی حامل دو قومیں ہیں۔ دونوں کے مفادات الگ ، خیالات و نظریات الگ ، رجحانات جدا جد ۔ تاریخ و تمدن ، آداب و رسوم، اطوار و اخلاق، خوراک و پوشاک، مساوات اور اسکا تصور، سرمایہ اور اس کا استعمال مختلف غرض یہ کہ ہر مادی اور روحانی جز جو کہ زندگی پر کسی طریق سے اثر ڈال سکتا ہے، ہندوؤں سے مختلف ہے۔ مسلمانوں کی دنیا الگ ہے اور ہندو کا سنسار جدا۔ تخلیق آدمیت سے لے کر اب تک اسی چیز کا نام حق و باطل یعنی دوقومی نظریہ ہے۔ اسی جذبہ پر لاکھوں مسلمانوں نے تقسیم برصغیر کے وقت جام شہادت نوش کیا ۔ طرح طرح کے ظلم و ستم کو سینے سے لگایااور ہندوستان کے تین کروڑ مسلمانوں کو اپنا سب کچھ لٹا کر ایک نئے ملک ’’پاکستان‘‘ کی طرف ہجرت کی۔

یہی وہ دو قومی نظریہ ہے جو پچھلے 130 سالوں سے کشمیریوں کی طاقت بنا ہوا ہے۔ کشمیر کے لوگ مسلمان ہیں اور اسلام پر جان نچھاور کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ انڈین فوج کے ظلم و جبر نے کشمیر یوں کے دلوں سے خوف کے سائے چھین کر انہیں ایمان و یقین کا علمبردار بنا دیا ہے۔ اگر آج کشمیری یہ اعلان کر دیں کہ ہمیں پاکستان سے الحاق نہیں کرنا ہے اور نہ ہی ہمیں اسلام کی بنیادوں پر آزادی چاہیے ہمیں انڈیا کے ساتھ رہنا منظور ہے۔ تو انڈیا کشمیر میں دودھ کی نہریں بہا دے گا۔ مگر کسی ایک کشمیری نے بھی دنیوی عیش و آرام کو اسلام، آزادی اور دو قومی نظریہ پر ترجیح دی ہو یا اپنے ایمان سے دغا کر کے ہندوؤں کی آغوش میں پناہ لی ہو۔ وہ کون سی ایسی قربانی ہے جو کشمیریوں نے اسلام کی خاطرنہیں دی؟ وہ کون سا ایسا ظلم ہے جو کشمیریوں نے حق کی خاطر برداشت نہیں کیا ۔ وہ کون سا ایسا قہر ہے جو ان پر پاکستان سے الحاق کے جرم میں ڈھایا نہ گیا ہو۔ وہ کون سی ایسی وحشت ہے جس کا سامنا کشمیریوں نے اسلام کے لیے نہ کیا ہو۔ چٹان کی طرح ڈٹے ہوئے کشمیریوں کا ایک ہی نعرہ ہے کہ ’’ پاکستان سے رشتہ کیا لاالہ الا اللہ محمد رسول ﷺ اللہ‘‘ اور ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کشمیریوں کا یہ نعرہ آج سے نہیں ہے ۔ یہ تب بھی تھا جب 1944ء میں قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیر کا دورہ کیاتھا۔ قرارداد لاہور کو پاس ہوئے صرف چار سال ہوئے تھے اور مسلم لیگ کی کارکردگی تسلی بخش جارہی تھی کہ کشمیرکی دو سیاسی جماعتوں نیشنل کانفرنس اور مسلم کانفرنس نے دورہ کشمیرکے لیے قائد اعظم کو دعوت دی۔ قائد اعظم متحدہ ہندوستان کے پہلے اور واحد لیڈر تھے جنہیں ریاست جموں و کشمیر کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے دورے کے لیے دعوت دی تھی۔ یہ ہی نہیں کشمیری حکومت کے وزیراعظم سربینی گالی نرسنگ راؤ نے بھی سرکاری سطح پر قائد اعظم کو دعوت نامہ بھیجا۔ پھر قائد اعظم کا کشمیر پہنچے پر جو شاندار استقبال کیاگیا وہ اس بات کی واضح دلیل تھا کہ کشمیر کی عوام بھی اپنے آپ کو فقط پاکستانی کہلوانا چاہتی ہے۔ چنانچہ سوچیت گڑھ سے جموں تک اور جموں میں قیام کے بعد بانہال سے سری نگر تک قائد اعظم کا جو شاندار استقبال ہوا وہ اب تک کشمیر کے راجہ، مہاراجہ یا انگریز سرکار کے کسی افسر کے حصے میں نہیں آیا تھا۔ اس استقبال کے بعد ایک غیر ملکی مبصر نے لکھا تھا کہ اگرچہ گاندھی اور نہرو بیرونی دنیا میں ہندوستان کی تحریک کے علمبردار سمجھے جاتے ہیں لیکن حقیقت میں ہندوستان کے سیاسی سٹیج پر مقبول اور زور دار شخصیت محمد علی جناح کی ہی ہے۔ اپنے استقبال میں قائد اعظم نے ایک ایسا جملہ کہا جس نے کشمیریوں کو پاکستان کے حق میں یک جان و یک قالب کر دیا۔ قائد اعظم نے کہا ’’ کشمیر کے لوگو! آپ نے استقبال محمد علی جناح کا نہیں کیا بلکہ ہندستان میں مسلمانوں کی آزادی کی نمائندہ جماعت آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر کا کیا ہے۔‘‘ اس جلسہ میں سری نگر سے باہر میر پور، پونچھ، مظفرآباد، گلگت ، لداخ، جموں اور کشمیر کے گردو نواح سے بھی لوگ آئے تھے۔ اخبارات کی اطلاعات کے مطابق جلسہ میں ایک لاکھ افراد شریک ہوئے تھے۔ کشمیر کی تاریخ میں پہلی بار کسی جلسے میں عورتیں بھی شریک ہوئیں جن کی تعداد بھی ہزاروں میں تھی۔ یہ بھی اطلاع ملی کہ سری نگر کے تمام سرکاری ملازم مسلم پارک کے ارد گرد پرائیویٹ مکانوں میں قائد اعظم کی تقریر سن رہے تھے۔ اس جلسے کا اثر اتنا گہرا ہوا کہ وہ لوگ جنہوں نے اب تک پاکستان کے ساتھ الحاق کے بارے میں کوئی خاص ذہن نہیں بنایا تھا وہ بھی پاکستان کے حامی بن گئے۔ قائد اعظم نے کشمیر کے لوگوں میں جذبہ آزادی اُبھارتے ہوئے فرمایا تھا کہ ’’ ہمارا اللہ ایک، ہمار رسول ﷺ ایک، کتاب ایک اور دین ایک تو ہماری تنظیم اور قائد بھی ایک ہونا چاہیے۔ قائد اعظم کے اس جلسہ سے لے کر آج تک کے تمام جلوسوں میں کشمیری حریت قائدین کا ایسے ہی استقبال کرتے ہیں۔ جلسہ گاہ میں ان کی تعداد اسی قدر ہوتی ہے سامعین کے آزادی کے نعرے بھی اسی جوش و خروش سے ہوتے ہیں آزادی کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔آج قائدین کی تقریروں میں جذبات اور پیغام بھی وہی ہوتے ہیں۔

دشمن آج پھر نظریہ پاکستان پر حملہ آور ہے۔ اس کے ہرکارے اپنے آقاؤں کی جانب سے کیے جانے والے پراپیگنڈے کو وطن عزیز میں پھیلانے میں مصروف عمل ہیں۔ دشمن کے ہاتھوں استعمال ہونے والے یہ جانتے ہی نہیں کہ وہ عظیم نظریاتی ریاست پاکستان کا کتنا بڑا نقصان کر رہے ہیں۔ مسئلہ کشمیر کو سرد خانے میں ڈالنے کی سر توڑ کوششیں جاری ہیں۔ اللہ کے فضل سے وہ ایسا نہیں کر پائیں گے کیوں کہ کشمیر کی ’’ک‘ ‘ شہ رگِ پاکستان ہے ۔ خونی لکیر (LOC) کے دونوں جانب بسنے والے لوگ اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ کشمیر کے بغیر پاکستان ادھورا ہے ۔ تحریک آزادی کشمیر در اصل تکمیل پاکستان کی تحریک ہے۔ کشمیری صرف اسلام کی وجہ سے پاکستان سے محبت کرتے ہیں اور اسی وجہ سے پاکستان ہی سے الحاق چاہتے ہیں۔ یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ نظریہ پاکستان ہی بقائے پاکستان ہے۔ اقوام متحدہ نے 1948ء میں جو کشمیریوں سے حق خود ارادیت کا کہا تھا۔ اقوام متحدہ اور عالمی قوتیں مل کر مظلوم و مقہور کشمیریوں کو وعدہ کے مطابق ان کا حق دلائے۔ یہ اقوام متحدہ کی ذمہ داری بھی ہے اور عہد کی پاسداری بھی۔ اللہ تعالیٰ کشمیریوں کو جلد آزادی کی نعمت عطاء فرمائے ۔ آمین


WhatsApp




متعلقہ خبریں
بچوں کا اغوا،ا عضاء فروشی اور افواہوں کا بازار ... مزید پڑھیں
کشمیر ۔۔۔۔۔آزادی کی صبح جلد طلوع ہونے والی ہے ... مزید پڑھیں
پھر نئے طالبان ... مزید پڑھیں
"سیاسی اصطبل کے گدھے " ... مزید پڑھیں
حقوقِ نسواں کا غلط استعمال ... مزید پڑھیں
’’34 ملکوں کا مذاق‘‘ ... مزید پڑھیں
اسلام میں عورت کا مقام ... مزید پڑھیں
غم کی طویل رات ... مزید پڑھیں
گنگو تیلی ... مزید پڑھیں
نیب کا جن بوتل سے باہر ... مزید پڑھیں
اقبال کا پا کستان ( لوہے کا چنا ) ... مزید پڑھیں
پاکستان میں چینیوں کی سیکورٹی، اولیں ذمے داری ... مزید پڑھیں
سی پیک کے بارے میں بدگمانیوں کا نیا سلسلہ ... مزید پڑھیں
پاکستان بمقابلہ حکومت پاکستان ... مزید پڑھیں
سازش ... مزید پڑھیں
برکس مشترکہ اعلامیہ میں لشکر طیبہ اور جیش محمد کی ... مزید پڑھیں
متعلقہ خبریں
استعمای عزائم اور دفاع وطن کے تقاضے
بچوں کا اغوا،ا عضاء فروشی اور افواہوں کا بازار
کشمیر ۔۔۔۔۔آزادی کی صبح جلد طلوع ہونے والی ہے
پھر نئے طالبان
"سیاسی اصطبل کے گدھے "
حقوقِ نسواں کا غلط استعمال
’’34 ملکوں کا مذاق‘‘
اسلام میں عورت کا مقام
غم کی طویل رات
گنگو تیلی

مقبول خبریں
انتخابی امیدواروں کی حتمی فہرستیں جاری، انتخابی نشان کی بھی الاٹمنٹ
ترک صدارتی انتخابات میں رجب طیب اردگان فتح یاب
اوپننگ میں 17واں تجربہ بھی کامیاب نہ ہوسکا
پاکستان نے پہلے ٹی ٹوئنٹی میں ویسٹ انڈیز کو 9 وکٹوں سے شکست دے دی
ماہ نور بلوچ کی تصاویر سوشل میڈیا پر ایک بار پھر وائرل
استعمای عزائم اور دفاع وطن کے تقاضے
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
انسانی جسم میں 2 دماغ ہوتے ہیں،ماہرین کاانکشاف
امریکہ میں ایسا بل منظور ہو گیا کہ فاحشاؤں نے ٹوئٹر کا استعمال ہی بند کر دیا، اب کون سا سوشل میڈیا استعمال ہوگا ؟
لاہور چڑیا گھر میں جانوروں کی گرمی بھگانے کا دیسی نسخہ؟
لاہور چڑیا گھر میں جانوروں کی گرمی بھگانے کا دیسی نسخہ؟
دو سورج نگلنے والا بلیک ہول
شرح پیدائش پنجاب میں کتنی ہے اور خیبر پختونخوا میں کتنی؟ اعدادوشمار سامنے آگئے
درود پر تنازع‘ جہلم ،مسجد کے منتظم پر توہینِ مذہب کا مقدمہ
انڈیا کی نصف آبادی کو پانی کے بحران کا سامنا
ویڈیو گیلری

آزادی کی تحریکوں کو دبایا تو جا سکتا ہے لیکن ختم نہیں کیا جا سکتا : پاکستانی ہائی کمشنرعبدالباسط

بھارتی اشتعال انگیزی کا ذمہ داری سے جواب دے رہے ہیں ،عاصم باجوہ

پاکستان اورسعودی عرب حقیقی بھائی ہیں،علما اکرام مسلم امت کے اتحاد میں کردار ادا کریں:امام کعبہ

بڈگام میں بھارتی فوج کی فائرنگ، مزید 8 کشمیری شہید، پاکستان کا شدید احتجاج

فرانس میں تیز رفتار گاڑی فوجیوں پر چڑھ دوڑی، 6 زخمی

سپورٹس
اوپننگ میں 17واں تجربہ بھی کامیاب نہ ہوسکا
عباس رضا / اسپورٹس رپورٹر ہفتہ 9 جون 2018 لاہور: گزشتہ 6 مزید پڑھیں ...
ویب ٹی وی
ٹورازم
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔ posted by Abdur مزید پڑھیں ...
انٹرٹینمینٹ
ماہ نور بلوچ کی تصاویر سوشل میڈیا پر ایک بار پھر وائرل
کراچی (ویب ڈیسک) پاکستان کی معروف اور سدا بہار اداکارہ ماہ نور مزید پڑھیں ...
مذہب
درود پر تنازع‘ جہلم ،مسجد کے منتظم پر توہینِ مذہب کا مقدمہ
جہلم ( ویب ڈیسک) پاکستان کے صوبۂ پنجاب کے ضلع جہلم کی مزید پڑھیں ...
بزنس
حکومت کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ
اسلام آباد: حکومت نے 7 جون تک پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے مزید پڑھیں ...