اردو | العربیہ | English



اردو | العربیہ | English

سلامتی کونسل میں پاکستان اور امریکی مندوبین کے درمیان لفظی جنگ

وائٹ ہاؤس کے بعد زندگی کیسے گزارتے ہیں؟


WhatsApp
92




واشنگٹن(ویب ڈیسک) امریکہ کے صدر کے دفتر میں آٹھ برس گزارنے کے بعد براک اوباما نے صدارت کا عہدہ اپنے جانشین ڈونلڈ ٹرمپ کے سپرد کر دیا ہے۔
اگرچہ براک اوباما مذاقاً کہہ چکے ہیں کہ اب وہ آن لائن میوزک کپمنی ’سپوٹیفائی‘ کے لیے کام کرنا شروع کر دیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ سیاسی طور پر فعال رہنے کا عزم کر چکے ہیں۔
اکثر لوگوں کو توقع ہے کہ وہ جلد ہی کوئی کتاب لکھیں گے، ٹی وی پر انٹریوز وغیرہ دیں گے۔ تاہم خود براک اوباما نے ہلکا سا اشارہ دے دیا ہے کہ وہ اصل میں کیا کرنے جا رہے ہیں۔
کیا وہ ان 42 حضرات کی ریٹائرمنٹ کی زندگی سے کچھ سیکھ سکتے ہیں جو ان سے پہلے امریکہ کے صدر رہ چکے ہیں؟

ان ایڈمز (1797 تا 1801)

چار سال تک امریکہ کے دوسرے صدر کے طور پر کام کرنے کے بعد، جان ایڈمز سیاسی اور سماجی منظر سے دور ہٹ گئے تھے اور انھوں نے زندگی اپنی اہلیہ کے ساتھ خاموشی سے گزاری۔
وہ مزید 25 برس تک زندہ رہے اور اس دوران اپنے خاندان کے ساتھ رہے۔ تاہم انھوں نے اس عرصے میں بہت سا وقت لکھنے لکھانے میں گزارا۔
جون ایڈمز کا انتقال 4 جولائی 1826 کو اسی دن ہوا جب امریکہ کے تیسرے صدر تھامس جیفرسن نے دنیا سے کوچ کیا۔

جیمز میڈیسن (1809 تا 1817)

جیمز میڈیسن کئی باغات کے مالک تھے اور عہدہ صدارت سے مستعفی ہونے کے بعد وہ اپنی زمینوں پر چلے گئے تھے جہاں انھوں نے باغات میں کام کے لیے غلام رکھے ہوئے تھے۔
اس کے علاوہ وہ ’امیریکن کالونائزیشن سوسائٹی‘ نامی ایک متنازع تنظیم میں بھی خاصے سرگرم رہے۔ اس تنظیم کی کوشش تھی کہ سیاہ فام غلاموں کو واپس افریقہ بھیج دیا جائے۔

ولیم ہینری ہیریسن (1841)

امریکہ کے نویں صدر ولیم ہینری ہیریسن کی ایک وجہ شہرت یہ بھی ہے کہ وہ امریکہ کے سب سے کم عرصے تک رہنے والے صدر تھے اور پہلے صدر تھے جن کا انتقال دور صدارت میں ہوا۔
ابھی انھیں دفتر سنبھالے صرف 32 دن ہوئے تھے کہ وہ دنیا سے چل بسے۔ کہا جاتا ہے کہ انھیں نمونیا ہو گیا تھا۔
لوگوں میں مشہور ہے کہ انھیں نمونیا ہونے کی وجہ یہ تھی کہ وہ بہت دیر تک شدید سردی میں کھڑے رہے اور انھوں نے بطور صدر اپنی افتتاحی تقریر بہت طویل کر دی تھی۔ لیکن اس مفروضے کے حق میں دلائل کم ہی ہیں۔

گروور کلیولینڈ (1885 تا 1889 اور 1893 تا 1897)

گروور کلیولینڈ امریکی تاریخ کے وہ واحد صدر ہیں جو صدارت کی ایک مدت پوری کرنے کے کچھ سال بعد دوبارہ صدر بن گئے تھے۔
اپنی دوسری مدتِ صدارت ختم ہونے کے بعد انھوں نے خاندان کی کفالت کے لیے بازار حصص کا رخ کیا جہاں وہ بہت کامیاب رہے اور انھوں نے خاصی دولت بنائی۔
(چونکہ گروور کلیولینڈ کچھ عرصے بعد دوبارہ صدر بن گئے تھے اسی لیے براک اوباما کو امریکہ کا 43واں کی بجائے 44واں صدر کہا جاتا ہے)

تھیوڈر روزویلٹ (1901 تا 1909)

تھیوڈر روزویلٹ نے دو مرتبہ صدر رہنے کے بعد سنہ 1912 میں تیسری مرتبہ بھی صدارتی انتخاب لڑا تھا لیکن انھیں وُڈرو وِلسن کے ہاتھوں شکست ہو گئی تھی۔ یاد رہے کہ سنہ 1951 سے پہلے اس پر کوئی پابندی نہیں تھے کہ کوئی شخص کتنی مرتبہ صدر بن سکتا ہے۔
عہدۂ صدارت کی دوسری مدت ختم ہونے کے بعد تھیوڈر روزویلٹ اپنے بیٹے کو ساتھ لے کر برازیل کے مشہور دریا ’ریور آف ڈاؤٹ‘ کے سیر کو نکل گئے تھے۔
اس مہم کے دوران نہ صرف ان کی ٹانگ زخمی ہو گئی تھی بلکہ انھیں اتنا شدید ملیریا ہو گیا تھا کہ وہ مرتے مرتے بچے۔
کچھ امریکی یہ بات نہیں مانتے کہ اتنا زیادہ بیمار ہو جانے کے بعد انھوں نے اصل میں یہ مشکل مہم مکمل کی بھی تھی یا نہیں۔

رچرڈ نکسن (1969 تا 1974)

صدر نکسن کو جس چیز نے صدارت سے استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا تھا وہ مشہور زمانہ ’واٹر گیٹ سکینڈل‘ تھا۔
ان کی انتظامیہ پر الزام تھا کہ صدر کے کارندوں نے حزب مخالف کی ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان کی گفتگو خفیہ طور پر ریکارڈ کی تھی اور اسے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا تھا۔
اس تنازعے کے بعد رچرڈ نکسن کو مالی مسائل کا سامنا بھی رہا، جس دوران انھوں نے اپنی یاد داشتیں فروخت کر دیں اور معاوضہ لے کر انٹریوز دیے اور ایک مرتبہ پھر عالمی سیاسی منظر پر نمایاں ہو گئے۔

جمی کارٹر (1977 تا 1981)

جمی کارٹر کو اکثر بہترین مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ امریکہ کے صدر کو عہدۂ صدارت ختم ہو جانے کے بعد کیا کرنا چاہیے۔
خارجہ پالیسی کے لحاظ سے جمی کارٹر کے دورِ صدارت کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا، لیکن صدارت کے بعد کے برسوں میں وہ نہ صرف انسانی فلاح کے کاموں میں مصروف رہے ہیں بلکہ بین الاقوامی سفارتکاری کے لیے بھی کام کرتے رہے اور کئی کتابیں بھی تصنیف کیں۔
سنہ 2002 میں جمی کارٹر کو امن کا نوبیل انعام بھی دیا گیا اور آج 92 برس کی عمر میں بھی وہ کئی خیراتی منصوبوں کے ساتھ منسلک ہیں جن کا مقصد پسماندہ لوگوں کے لیے گھر تعمیر کرنا ہے۔
ہمیں پتہ ہے کہ اوباما اور مشیل کیا کریں گے

براک اور مشیل نے اعلان کر دیا ہے کہ کچھ عرصہ چھٹیاں گزارنے کے بعد وہ شکاگو کے جنوب میں ’سینٹر فار سٹیزنز‘ کے نام سے شہریوں کے لیے ایک مرکز قایم کریں گے۔
یاد رہے کہ امریکہ کے ریٹائرڈ صدور کی مراعات میں شامل ہے کہ وہ سرکاری خرچ پر اپنی آبائی ریاست میں ایک صدارتی لائبریری قائم کر سکتے ہیں۔
لیکن براک اوباما کا کہنا ہے کہ جو لائبریری وہ بنانے جا رہے ہیں وہ ایک ایسا شہری مرکز ہوگا جہاں لوگوں سے پوچھا جائے گا ان کے خیال میں ایسے نوجوان لیڈر اور تنظیمیں کون سی ہیں جن کی انھیں مدد کرنا چاہیے۔
بشکریہ : بی بی سی


WhatsApp




متعلقہ خبریں
سلامتی کونسل میں پاکستان اور امریکی مندوبین کے درمیان لفظی ... مزید پڑھیں
پی ایل او کا فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کرنے ... مزید پڑھیں
بھارت ایسے اقدامات سے باز رہے جن سے صورتحال خراب ... مزید پڑھیں
بھارت ،اسرائیل گٹھ جوڑ دونوں کے درمیان 9 معاہدوں ... مزید پڑھیں
ترکی میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات ... مزید پڑھیں
میانمار کے فوجی سربراہ نے مسلمانوں کے قتل کا اعتراف ... مزید پڑھیں
پاکستان کی مدد کے بغیر امریکی فوج افغانستان میں ساحل ... مزید پڑھیں
ٹرمپ پاکستان سے منہ پھیرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے ، ... مزید پڑھیں
امریکا کا پاکستان کی مالی اور فوجی امداد روکنے کا ... مزید پڑھیں
ترکی ہرقسم کےحالات میں پاکستان کے ساتھ ہے : طیب ... مزید پڑھیں
پاکستان کو 255 ملین ڈالر فوجی امداد بحال نہیں کی ... مزید پڑھیں
چین نے ٹرمپ کا پاکستان مخالف بیان مسترد کردیا ... مزید پڑھیں
ایران میں حکومت مخالف مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد 12 ... مزید پڑھیں
ایران میں پرتشدد مظاہروں میں 4 افراد ہلاک ،سوشل میڈیا ... مزید پڑھیں
امریکا کا پاکستان کی 255 ملین ڈالر فوجی امداد روکنے ... مزید پڑھیں
اسرائیل مسجد اقصیٰ کے قریب ریلوے اسٹیشن ٹرمپ سے موسوم ... مزید پڑھیں
متعلقہ خبریں
سلامتی کونسل میں پاکستان اور امریکی مندوبین کے درمیان لفظی جنگ
پی ایل او کا فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کرنے تک اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار
بھارت ایسے اقدامات سے باز رہے جن سے صورتحال خراب ہو: چین
بھارت ،اسرائیل گٹھ جوڑ دونوں کے درمیان 9 معاہدوں پر دستخط
ترکی میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات
میانمار کے فوجی سربراہ نے مسلمانوں کے قتل کا اعتراف کرلیا
پاکستان کی مدد کے بغیر امریکی فوج افغانستان میں ساحل پر پڑی وہیل کی طرح ہوگی:رچرڈ اولسن
ٹرمپ پاکستان سے منہ پھیرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے ، نیویارک ٹائمزکا انتباہ
امریکا کا پاکستان کی مالی اور فوجی امداد روکنے کا اعلان
ترکی ہرقسم کےحالات میں پاکستان کے ساتھ ہے : طیب اردگان

مقبول خبریں
ویڈیو گیلری

آزادی کی تحریکوں کو دبایا تو جا سکتا ہے لیکن ختم نہیں کیا جا سکتا : پاکستانی ہائی کمشنرعبدالباسط

بھارتی اشتعال انگیزی کا ذمہ داری سے جواب دے رہے ہیں ،عاصم باجوہ

پاکستان اورسعودی عرب حقیقی بھائی ہیں،علما اکرام مسلم امت کے اتحاد میں کردار ادا کریں:امام کعبہ

بڈگام میں بھارتی فوج کی فائرنگ، مزید 8 کشمیری شہید، پاکستان کا شدید احتجاج

فرانس میں تیز رفتار گاڑی فوجیوں پر چڑھ دوڑی، 6 زخمی

سپورٹس
محمد حفیظ 6 ہزار رنز مکمل کرنیوالے 10ویں پاکستانی کرکٹر بن گئے
نیلسن(ویب ڈیسک) قومی کرکٹ ٹیم کے آل راو¿نڈر محمد حفیظ ون مزید پڑھیں ...
ویب ٹی وی
ٹورازم
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔
پاکستان میں خوبصورت اور دلکش مناظر کی کمی نہیں ہے۔ posted by Abdur مزید پڑھیں ...
انٹرٹینمینٹ
بالی ووڈ خانز کا اسرائیلی وزیر اعظم سے ملاقات پر انکار
ممبئی(ویب ڈیسک) بالی ووڈ پر تین دہائیوں سے راج کرنے والے خانز مزید پڑھیں ...
مذہب
درود پر تنازع‘ جہلم ،مسجد کے منتظم پر توہینِ مذہب کا مقدمہ
جہلم ( ویب ڈیسک) پاکستان کے صوبۂ پنجاب کے ضلع جہلم کی مزید پڑھیں ...
بزنس
اتحاد اور ایمریٹس ایئر لائن کا پی آئی اے کی خریداری میں دلچسپی کا اظہار
اسلام آباد (ویب ڈیسک) حکومت نے انتخابات سے قبل پی آئی مزید پڑھیں ...